اور قافلہ میں قافلہ سالار بھی تھا ذکر ایک روشن ضمیر اور روشن دماغ مرد درویش کا

 

محمد قمر الزماں ندوی

 

میں اپنے لیے یہ سعادت سمجھتا ہوں اور اپنی خوش نصیبی بھی کہ مجھے بھی آج بتاریخ ۴/ اپریل ۲۰۲۱ء کو امیر شریعت حضرت مولانا محمد ولی رحمانی صاحبؒ کے جنازے میں شرکت کا موقع ملا، میری زندگی کی یہ سب بڑی نماز جنازہ تھی ، جس میں،میں اب تک شریک ہوا۔ ایک اندازے کے مطابق لاکھوں لوگوں سے زیادہ لوگ شریک تھے۔ بس یہ محسوس ہو رہا تھا امڈتا ہوا سیلاب ہے،جدھر دیکھو سر ہی سر نظر آرہا تھا۔ اور لوگ زبان حال سے کہہ رہے تھے کہ:

 

”عاشق کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے“

 

صبح دس بجے سے پہلے ہی خانقاہ رحمانی کے اندونی حصہ میں داخل ہوگیا ، میرے ساتھ جو قافلہ اور وفد تھا سبھوں نے ہمت کرکے حضرت امیر شریعتؒ کی آخری زیارت کی،اور دیدار سے مشرف ہوئے ، لیکن خاکسار بہت ہمت کرکے بھی وہاں تک پہنچنے سے محروم رہا، ہمت نے جواب دے دیا تو برآمدے میں رک گیا اور تین گھنٹے کھڑا رہا، بیچ میں کچھ دیر کے لیے زمین پر ہی بیٹھ گیا۔ اس جم غفیر کو دیکھ کر حضرت امیر شریعتؒ کی مقبولیت اور محبوبیت کا صحیح اندازہ ہوا۔ لوگوں کو روتے بلکتے اور سسکیاں لیتے ہوئے بھی دیکھا اور برادران وطن میں سے مرد اور عورت کی زبان سے ان کی خوبیوں کا ذکر سنا۔ سچ پوچھیے تو میں اس منظر کی صحیح تصویر کشی کرنے سے اپنے کو قاصر پاتا ہوں اس سفر کے روداد کو لکھنے کی اس وقت خاکسار کو ہمت اور سکت بھی نہیں ہے۔ بس اتنا عرض کروں گا کہ:

 

”کبھی فرصت سے سن لینا عجب ہے داستاں ان کی“

 

امیر شریعتؒ کے تئیں لوگوں کی وارفتگی، دیوانگی اور شیفتگی کو دیکھ کر میرا دل، دماغ اور میرا قلب جو کچھ محسوس کر رہا تھا اس کو الفاظ کا جامہ پہنانا مشکل ہی نہیں مشکل تر اور دشوار گزار ہے۔

مولانا مرحوم کی عظمت و بلندی اور ان کی مرکزیت و مقبولیت کو دیکھ کر جو اشعار اس وقت خانقاہ رحمانی کے اندر ذہن میں گردش کر رہے تھے اس کو صفحہ قرطاس پر لانا اپنی ذمہ داری اور امانت سمجھتا ہوں۔

 

جہاں بانی سے ہے دشوار تر کار جہاں بینی

جگر خوں ہو تو چشم دل میں ہوتی ہے نظر پیدا

ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے

بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا

 

اور یہ اشعار بھی حافظہ میں آرہے تھے:

کمال عاشقی ہر شخص کو حاصل نہیں ہوتا

ہزاروں میں کوئی مجنوں کوئی فرہاد ہوتا ہے

 

مدت کے بعد ہوتے ہیں پیدا کہیں وہ لوگ

مٹتے نہیں دہر سے جن کے نشاں کبھی

ہندوستان کے جن علمی خاندانوں اور خانوادوں نے دین و ملت کی عظیم اور گراں قدر خدمات انجام دی ہیں اور وقت کی رفتار پر اپنا نہ مٹنے والا نشان و نقش چھوڑا ہے ان میں سرزمین بہار کے خانوادہ رحمانی کو ایک امتیازی شان اور مقام حاصل ہے۔ کل جب دوپہر کے بعد تین اپریل کو امیر شریعت مولانا محمد ولی رحمانی صاحبؒ کے سانحہ ارتحال کی خبر سنی تھی تو ایسا محسوس ہوا تھا کہ

 

کدام غمکدہ را روز ماتم است امروز

کہ موت عالم چوں موت عالم است امروز

 

آج شدت کے ساتھ اس کا احساس ہوا کہ علم و عرفان اور قدیم صالح اور جدید نافع کی ایک ایسی شمع گل ہوگئی جس سے ہزاروں قلوب میں احترام شریعت کے چراغ روشن تھے۔ جنہوں نے بزم رحمانی کی شمع کو ایک عرصے سے جلائے رکھا تھا اور چراغ سے چراغ جلنے کا سلسلہ جاری تھا۔ انہوں نے گنجینہ فضل رحمانی کی بزم رفتہ کی یاد کو تازہ اور زندہ رکھا تھا۔

اللہ تعالیٰ نے حضرت امیر شریعتؒ کو بے پناہ صلاحتیں ودیعت کی تھیں۔ امیر شریعت کا لقب ان پر حرف بحرف جچتا تھا، یہ دو حرفی لقب جس میں فکری اور عملی تعینات کی دنیا پوشیدہ ہے، یہ ہرکس و ناکس کو زیب نہیں دیتا ہے، یہ مسند صرف اس شخص کو زیب دیتی ہے، جو ملت کے دینی، سیاسی اور دنیاوی مسائل کے حل میں میں بے پناہ بصیرت رکھتا ہو اور جو اپنی اجتہادی صلاحیتوں کو کام میں لاکر نہ صرف مسائل کا حل پیش کرنے پر قدرت رکھتا ہو بلکہ نامساعد اور مشکل حالات میں عزم و ہمت کے ساتھ عزیمت کا بھی ثبوت دیتا ہو۔۔ یہ کمالات،یہ اوصاف یہ خوبیاں اور یہ صلاحیتیں بہت مشکل سے کسی شخص میں جمع ہوتی ہیں اور جب یہ خوبیاں اور اوصاف کسی میں اکھٹا ہوجاتے ہیں تو وہ شخص منفرد المثال اور نابغہ روز گار بن جاتا ہے۔ ایسا شخص آنے والے حوادث اور آثار کا عکس اپنے آئینہ ادراک میں محسوس کرلیتا ہے اور پھر فضائے بسیط میں یہ آوازہ اور پکار بلند ہونے لگتی ہے کہ:

 

”ہوا ہے گو تند و تیز لیکن چراغ وہ اپنا جلا رہا ہے

وہ مرد درویش جس کو حق نے دیے انداز خسروانہ

 

یقیناً مولانا مرحوم پر یہ شعر ہر طرح سے صادق آتا تھا۔ اب وہ ہمارے درمیان نہیں رہے، لیکن انہوں نے جو علم و تحقیق کی شمعیں روشن کی ہیں، چاہے وہ رحمانی تھرٹی کی شکل میں ہو یا جامعہ رحمانی کی نشاتِ ثانیہ کی شکل میں ہو یا تحفیظ کا نیا معیاری شعبہ ہو یا پرسنل لا بورڈ کی خدمات ہوں یا امارت شرعیہ کا نظام اور امارت کو چلانا ہو، ان شاء اللہ قیامت کی صبح تک خدا کی ذات سے امید ہے کہ یہ شمعیں روشن رہیں گی اور یہ قندیلیں جلتی رہیں گی۔ دل ان کے بارے میں کہہ رہا ہے اور گواہی دے رہا ہے کہ:

”تمہیں مردہ کون کہتا ہے؟ تم تو زندوں کے زندہ ہو

تمہاری خوبیاں باقی، تمہاری نیکیاں باقی

 

کسی صاحب دل عالم نے امیر شریعت حضرت مولانا محمد منت اللہ رحمانیؒ کی وفات کے بعد ان کے بارے میں لکھا تھا ، وہ تحریر آج حرف بحرف حضرت امیر شریعت مولانا محمد ولی رحمانی صاحبؒ پر فٹ آرہی ہے۔ بس نام بدل کر وہی الفاظ اور اقتباس،آج حضرت امیر شریعتؒ کے بارے میں لکھ رہا ہوں کہ:

امیر شریعت مولانا محمد ولی رحمانیؒ خوبیوں کا نام تھا، عظمت کردار اور بلندی فکر کا نام تھا۔ علم و حلم، زہد و تقوی، فکر و نظر، بصیرت و عزیمت، رعب و دبدبہ اور جہد مسلسل کا نام تھا اور وہ نام تھا، شجاعت کا، شرافت کا، وقار کا، جرات کا، ہمت کا، توازن اور اعتدال کا، دکھ کو سمجھنے اور درد کی چارہ جوئی کا، نوازنے اور نوازتے رہنے کا، نبھانے اور نبھاتے چلے جانے کا، اور سب سے بڑی بات یہ کہ وہ نام تھا خدا کے سامنے رونے اور گڑگڑانے کا، رسول ﷺ کی بے پناہ محبت دل میں رکھنے اور بڑے سے بڑوں کو خاطر میں نہ لانے کا۔

مولانا مرحوم کی عجیب شخصیت تھی، وہ موم سے زیادہ نرم بھی تھے اور وقت پر لوہے سے زیادہ سخت بھی، حلقہ یاراں میں ریشم کی طرح نرم بھی اور اغیار میں فولاد کی طرح گرم اور سخت بھی۔ آج وہ ہمارے درمیان نہیں رہے لیکن ان کا سراپا نگاہوں میں گھوم رہا ہے، ان کی پاتیں اور ان کا پیغام اور مشن یاد آرہا ہے۔ لوگ ان کی زندگی، کارنامے، حیات و خدمات کے مختلف گوشوں پر لکھیں گے، قلم اٹھائیں گے اور خامہ فرسائی کریں گے اور یقینا ایسا کرنا چاہیے ، کیونکہ ان کی خدمات اور کارنامے ہیں ہی اس قدر کہ ان پر لکھا جائے اور خوب لکھا جائے اور ان کے مشن اور پیغام کو زیادہ سے زیادہ عام کیا جائے۔ مولانا مرحوم کو خراج عقیدت پیش کرنے کی سب سے بہتر شکل اور صورت یہی ہے، اور اس کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ ان کے جانشین اور وارثین سے بھی اسی طرح سے محبت کی جائے اور ان سے خلوص اور محبت کا تعلق رکھا جائے اور مولانا رحمانیؒ کے لگائے ہوئے علمی اور عملی گلشن اور گلستان کو باقی اور تروتازہ رکھا جائے، اس کی سب سے بہتر شکل یہ بھی ہے کہ اس خانوادہ کو پہلی ہی جیسی محبت دی جائے، ان سے عقیدت و محبت کو قائم اور استوار رکھا جائے اور عملی مشن کو جاری ساری رکھنے کے لیے ان کے جانشینوں کی دامے، درمے قدمے اور سخنے مدد کی جائے تاکہ چراغ سے چراغ جلنے کا عمل، کام اور سلسلہ ہمیشہ کے لیے باقی رہے۔

Comments are closed.