دولت فکرفرداکےامین اورتبدیلی کی جدوجہد

 

مفتی احمدنادرالقاسمی

اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا

 

دنیاکے کسی بھی خطے اورقوم میں رونماہونے والی تبدیلیوں اورانقلاب کی تاریخ بتاتی ہے کہ تبدیلیاں ہمیشہ قوم کے نوجوانوں کےجوش. ان کی فکرمندی.فکرفرداکی طاقت.اورحالات بدلدینے کےپختہ عزائم کی مرھون منت ہوتی ہیں .فکرفرداکاشعور ہی دراصل انقلابی تحریکوں میں ریڑھ کی ہڈی ہوتی ہے اوراسی نے ہمیشہ قوموں کے حالات بدلے ہیں .اس لئیے کہاجاتاہےکہ تبدیلیاں تو نوجوان کے تازہ خون اورحوصلے سے آتی ہیں. اورقوم کےبزرگ توصرف رہنمائی اورسرپرستی کافریضہ انجام دیتےہیں.نئے خون میں حالات سے تکراجانے کاحوصلہ ہوتاہے.بھوک اورپیاس کی شدت برداشت کرنے کی طاقت ہوتی ہے… اس وقت ایشیائی ملکوں میں خاص کر مسلم امہ کے شباب میں ایک بزمردگی ہے. .مستقبل کےاہداف اندھیرے میں ہیں فکرفرداسے محرومی ہے.اس کی وجہ یہ ہےکہ گذشتہ ایک صدی سے.تعلیم.تربیت اورتعلیمی اداروں کے ذریعہ ان کونفسانی خواہشات کا غلام بنانے کی کوشش کی گئی ہے. تعلیمی اداروں میں ایساماحول کیریٹ کیاگیاہے.کہ نوجوانوں کادائرہ فکر اسی نفسانی خواہشات کی تکمیل کی چہاردیواری میں قیدہوکررہ جائیے. .اورانقلابی شعور ذہن ودماغ سے محوکردیاجائے. انھیں اپنی قوم کی تعمیرواستحکام کے بارے میں سوچنے کاموقعہ ہی نہ مل سکے.جن ملکوں اوراداروں نے اس راہ میں مزاحمت اورمخالفت کی اسے آزادی اورفریڈم کا دشمن بتاکر راستےسے دیاگیا. نتیجہ یہ ہواکہ نوجوان کسی انقلاب اورتبدیلی کی طرف بڑھنےکی بجائے پارکوں. قہوہ خانوں.کینٹینوں.نائٹ کلبوں اورریسٹوراں کی رنگین دنیا آباد کرنےکے عادی ہوگئے. اورزندگی کادائرہ بس اچھی آمدنی حاصل کرکے وقتی پرمسرت زندگی جینے تک محدودہوکررہ گیا.ان سے فکرفرداکی دولت چھین لی گئی.ملٹی نیشنل کمپنیوں.اونچی اونچی عمارتوں .کرکٹ.فٹبال.اور دونوں اجناس کےبھانت بھانت کے برہنہ کھیلوں میں زورآزمائی اورایک کھلی دنیاکوپروان چڑھانے میں ان کی ذہنی اورفکری صلاحیت کو جکڑ دیاگیا…اورجب فکرفرداہی نہ رہی تومتاع حیات بھی ہاتھوں سے جاتارہا. تحریکی اورانقلابی کوششوں کے شعلے مدھم ہوگئے. اقتدارپرقابض طاقتوں نے انھیں یہیں تک کاانسان بناکررکھ دیا.کہ کھاو پیواورلکزری لایف انجوائے کرو.اوروہ اسی کے ہوکررہ گئیے. اوراس سے الگ سوچ رکھنے والے نوجوانوں کوپسماندہ اورنکماکہاجانے لگا.اس وقت ضرورت اس بات کی ہےکہ نوجوانوں کے ذہن ودماغ اوران کے حقیقی مستقبل کے درمیان اس اونچی دیوار اورحصار کو منہدم کیسےکیاجائیے. میں ایک بار پھر اپنے مسلم امہ کے نوجوانوں اوربیٹیوں سے یہ کہوں گاکہ یہ بات یاد رکھئے کسی بھی قوم کامستقبل اس کی نئی اورنوجوان نسل کے کندھوں پر ہوتاہے.آج کی ہوس پرست دنیا نے بڑی چالاکی سے اوردنیاکی شیطانی رنگیوں کے جال میں پھنساکر آپ کے ذہن ودماغ کی سمت کوبدلاہے. وہ جس رخ پہ آپ کولے جارہے ہیں وہ آ پ کی منزل اورمنتہا نہیں ہے. فکرفرداکی دولت کے آپ امین ہیں.آپ ہی وقت اورحالات کے دھاراووں کوبدل سکتےہیں.آپ کی محبت میں نہ جانے کتنی آنکھیں اشکبار رہتی ہیں.میں اپناتجربہ آپ سے شئیرکرتاہوں. میں ایک بار 2013میں عمرہ کے سفرپہ تھا.اورطواف کررہاتھا .میزاب کراس کرکے غلاف کعبہ تک پہونچا.میں بھی غلاف کعبہ سے چمٹ کر محودعاتھا. میرے بغل میں ایک خاتون غالبافلسطینہ تھی.وہ بھی غلاف کعبہ سے چمٹی اسے زور زورسے جھنجھورتی تھی اوربس اس کی زبان سے یہی الفاظ نکلتے تھے.”یااللہ الشباب .یااللہ الشباب” وہ اپنے رب سے کہ رہی تھی اے رب کعبہ.اے غلاف کعبہ کے محافظ۔ ہمارے نوجوانوں کی حفاظت فرما. ہمارے نوجوانوں کو صراط مستقیم کی دولت عطاکردے۔انھیں دنیاکی مکاریوں اورپرفیبیوں سے بچالے.اس کی جان اورعزت وآبروکی حفاظت فرما.ان کو اپنے مقصد اوردین کاسپاہی بنا. میں آپ کو بتانہیں سکتا.وہ خاتون تونوجوانوں کے مستقبل کے لئیے رب ذوالجلال سے بھیک مانگ ہی رہی تھی. اورمیں اس کے قیمتی الفاظ سن سن کر غلاف کعبہ پکڑکے روئے چلاجارہاتھا. دیر تک یہی صورت حال رہی .اورپھر طوافین کی بھیڑ آئی اورہم آگے بڑھ گئیے.آپ اندازہ لگائیے وہ ہماری اورآپ کی ماں نہیں تھی.وہ توصرف قوم کی ایک بیٹی اوراللہ کی نیک بندی تھی جو آپ کے تڑپ رہی تھی .وہ نہ بیٹامانگ رہی تھی.نہ بیٹی اوردنیاکی کوئی اورچیز وہ صرف آپ کی خیرخواہی چاہ رہی تھی. دنیامیں ہزاروں ایسے نیک دل ہیں جو اپنی ملت کے نوجوانوں کےلئیے راتوں کو آنسوبہاتے ہیں.اس لئیےنہیں کہ آپ سے کوئی دنیاوی فائدہ ان کو حاصل ہوجائیے. صرف دین کی خاصر صرف ملت کاقیمتی ثاثہ سمجھ آنسوبہاتے ہیں. نوجوانوں کے مربی اعظم اقبال آپ کو فکرفرداکااحساس دلارہے ہیں. "کبھی اے نوجواں مسلم تدبربھی کیاتونے..وہ کیاگردوں تھا توجس کاہے اک ٹوٹاہواتارا”

Comments are closed.