​ایم ڈی (MD) اور نامِ محمد: تحقیقی و فقہی جائزہ

 

عبدالوالی منانی غفرلہ

​نام "محمد” کامل است و "ایم ڈی” ہرگز نبود

این پیامِ عزت و عظمت رساں بر عالَمے

​نامِ محمد مسلمانوں کے ہاں سب سے مقدّس اور پسندیدہ ناموں میں شمار ہوتا ہے۔ اسلامی تعلیمات، احادیث اور فقہی ذخیرے میں اس نام کی فضیلت، برکت اور اس کے آداب پر تفصیلی روشنی ڈالی گئی ہے۔ موجودہ دور میں نامِ محمد کی جگہ انگریزی مخفف "MD” یا "MOHD” کے استعمال کا رواج عام ہو گیا ہے، جس پر علمائے کرام نے شرعی اور ادبی لحاظ سے تنبیہ کی ہے۔

​اسلامی روایات میں نامِ محمد رکھنے کی ترغیب دی گئی ہے اور اس کے دنیوی و اخروی فوائد بیان کیے گئے ہیں:معجم طبرانی کی ایک روایت میں ہے کہ جو شخص اپنے بیٹے کا نام محمد رکھے گا آپﷺاس کے سفارشی ہوں گے۔

امام مالک رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ اہل مکہ کا یہ معمول تھا کہ جس گھر میں محمد نام والا شخص ہوتا، وہ گھر پھلتا پھولتا ہے اور اس کی برکت سے پڑوسیوں کو بھی رزق دیا جاتا ہے (بحوالہ کتاب الشفاء)۔

​فقہی کتاب رد المحتار کے مطابق، کلمہ حمد سے مشتق ناموں میں "محمد” اور "احمد” اللہ تعالیٰ کے نزدیک تمام ناموں میں سب سے زیادہ محبوب و پسندیدہ ہیں۔

نبی کریم ﷺ نے خود بھی کئی بچوں کا نام "محمد” رکھا اور نومسلموں کے نام تبدیل کر کے ان کا نام محمد رکھا (مثلاً محمد بن خلیفہ، محمد بن طلحہ وغیرہ)۔ آپ ﷺ نے امت کو ترغیب دی کہ ان کے گھروں میں ایک، دو یا تین محمد نامی افراد کا ہونا باعثِ برکت ہے۔

​علمائے کرام اور دار الافتاء کے اداروں (جیسے دار العلوم دیوبند) اور مختلف دارالافتاء کے فتاویٰ کے مطابق، نامِ محمد کو مخفف کر کے "MD” یا "MOHD” لکھنا درج ذیل وجوہات کی بنا پر نامناسب اور خلافِ ادب ہے:

​جس طرح فقہاء کرام کے نزدیک اسمِ گرامی "محمد” کے بعد صلاۃ و سلام کی علامت کے طور پر صرف "ص” یا "صلعم” لکھنا خلافِ ادب قرار دیا گیا ہے، اسی طرح نامِ محمد کو مکمل لکھنے کے بجائے انگریزی مخفف "MD” لکھنا ادابِ رسالت کے منافی اور محبت کی کمی کی دلیل ہے۔

دینی کتب میں مستعمل مخففات (جیسے رح، رض، ص) کو جب قاری پڑھتا ہے تو اس کی زبان پر بے ساختہ رحمتہ اللہ علیہ یا ﷺ جاری ہو جاتا ہے؛ اس کے برعکس "MD” پڑھنے سے زبان پر نامِ محمد جاری نہیں ہوتا۔

علمائے محققین کا مؤقف ہے کہ تاریخی طور پر ناموں کے اس طرح کے مخففات کے استعمال نے معاشرے میں اصل اسلامی نام لکھنے اور پکارنے کے رجحان کو کمزور کیا ہے، اس لیے ضروری ہے کہ تحریر و گفتگو میں نام مکمل لکھا اور بولا جائے۔

 

​معاشرتی اصلاح اور ناموں کا انتخاب

​معاشرے میں بعض اوقات بے مقصد یا غیر معیاری ناموں (جیسے پپو، منو، ٹنکو، گڈو وغیرہ) کا رواج بڑھ جاتا ہے، یا پھر اصل اسلامی نام کو نظر انداز کر کے صرف مخفف پر اکتفا کیا جاتا ہے۔ علمائے دین کی یہ رائے ہے کہ بچوں کے اچھے اور باوقار نام رکھے جائیں، بالخصوص نامِ محمد کو اس کے پورے ہجے کے ساتھ تحریر و تعامل میں لایا جائے تاکہ اس کی برکات اور عظمت برقرار رہے۔

نام احمد زندہ کن در ہر مکان و ہر زمان

تا بپاشد گوہر رحمت بہ سر ہر عالمے

گفت عبد والی اینک بر ہمہ اہل جہاں

نام احمد حرز جاں کن تا بپائی عالمے

عبدالوالی منانی غفرلہ

خادم التدریس مدرسہ امدادیہ اشرفیہ راجوپٹی سیتامڑھی

کارگزار صدر جمعیت علماء سیتامڑھی

Comments are closed.