حضرت مولانا ولی رحمانی کا انتقال ایک عظیم سانحہ
مولانا فہیم اختر قاسمی
صدر تنظیم امارت شرعیہ بسفی بلاک
یوں تو ہر آدمی کی جدائی اس کے متعلقین اور اعزہ و اقارب کیلےسوہان روح ہے مگر بعض انسان ایسے بھی ہوتے ہیں کہ انکے اس دنیا سے چلے جانے کے بعد بہت سے علمی مجلسیں سونی ہوجاتی ہے فکر و تدبر کے بہت سے دروازے بند ہو جاتےہیں وعظ و تقریر اور بیعت وارشاد کے ایوانوں میں طویل مدت کیلئے سناٹا چھا جاتا ہے مفکر اسلام حضرت مولانا ولی رحمانی کی وفات سے یہی سب کچھ ہواان کی کمی اور غیر موجودگی کو شدت سے محسوس کیا جا تا رہےگا حضرت کی ذات علم و عمل زہد وتقوی فہم وفراست احسان وسلوک جرات و بیباکی تصنیف و تالیف تقریر وخطابت اور قاءدانہ صلاحیت کے حسین امتزاج کی مالک تھی آپ نے اپنی تعلیمی ملی سماجی خدمات کے حوالہ سے بڑے گہرے انمٹ نقوش چھوڑے ہیں حضرت کے کاموں اور خدمات کا اگرجاءزہ لیا جائے اور ان کی ہزار رنگ زندگی کے مختلف پہلوؤںجاگر کیا جائے تو کی ضخیم جلدیں بھی شاید پورا حق ادا نہ کر سکیں حضرت کا شمار بلا شبہ ان ہی افراد میں ہے جن کی پوری زندگی سعی و محنت جد وجہد اور عزم و ارادے کی ایسی داستان ہے جس کے ہر ورق اور ہر صفحہ پر ایک مرد مومن کی زندگی کا عکس جھلکتا ہے اور ایک درمند انسان کے نقوش ابھرتے ہیں ایک ایسے مرد مومن کی جھلکیاں جو رات کو شب بیدار اور دن میں بیدار مغز رہتا ہے حضرت کی زندگی کے مطالعہ کا حاصل یہی سامنے آتا ہے کہ خود کو دین اور ملت کیلئے وقف کر دیا تھا ملت کوجس رہنمائی کی ضرورت ہوتی وہ آگے بڑھتے ہوئے نظر آتے ہیں میں یہ نہیں کہتا کہ بہت سوں کو پیچھے چھوڑ دیا لیکن یہ لکھنے میں حقیقت سے قطعی انحراف نہیں ہے کہ انہوں نے بہت سوں کو یہ ضرور بتایا اور سکھایا ہے کہ کام اس طرح کے جاتے ہیں اور خدا داد صلاحیتوں کا استعمال اس طور پر ہوتا ہے
Comments are closed.