جہیز نہیں، علم دیجیے۔

 

 

 

آمنہ جبیں ( بہاول نگر، پاکستان)

 

جہیز عربی زبان کے لفظ ”جھاز“ سے نکلا ہے۔ جس کے معنی سازو سامان یا اطلاق کے ہیں۔ وہ سازو سامان جس کی مسافر کو دوران سفر، عورت کو گھر سنبھالنے اور میت کو قبر تک پہنچانے کے لیے ضرورت ہوتی ہے۔ باقی دو باتوں کا تو معلوم نہیں؛ لیکن یہ جو لڑکی کی رخصتی پہ اسے جہیز دیا جاتا ہے۔ یہ کچھ عجیب سی بات ہے۔ ٹھیک ہے جب بچی کی شادی ہوتی ہے۔ تو ماں باپ اپنی خوشی سے تحفے کے طور پر بیٹی کو کچھ ساز وسامان دیتے ہیں۔ جسے اسلام سے منسوب کرنا بالکل غلط ہے۔ اسلام میں جہیز کا کوئی تصور نہیں۔ یہاں تک کہ شادی کا کسی قسم کا خرچ بھی عورت یا اس کے گھر والوں پہ عائد نہیں ہوتا۔ اسلام میں مرد کو برتری دی گئی ہے تو اس برتری کی ایک وجہ مرد کا عورت پر مال خرچ کرنا۔ عورت سے شادی پہ اسلام نے کچھ طلب نہیں کیا بلکہ عورت کو مرد کی جانب سے دینے کا طریقہ بتایا۔ یعنی اس کے لیے حق مہر مقرر کیا گیا۔

"مرد عورتوں پر محافظ ومنتظم ہیں؛ کیوں کہ اللّٰہ نے ان میں سے بعض کو بعض پہ فضیلت دی ہے۔اور اس وجہ سے(بھی) کہ مرد ( ان پر) اپنا مال خرچ کرتے ہیں۔(النساء: 34.4)

اسلام میں جہیز کا کوئی تصور نہیں ہے۔ اگر ہوتا تو قرآن میں ذکر ہوتا احادیث سے ثابت ہوتا کہ جہیز دین اسلام کا حصہ ہے۔ یہ ہندوؤں کی ایک رسم ہے۔کیوں کہ ہندوؤں میں لڑکی کا وراثت میں کوئی حصہ نہیں ہوتا تھا؛ اس لیے لڑکی کی شادی پہ باپ اسے خوش کرنے کے لیے چند گھریلو سازو سامان دے دیتا۔ اور پھر لڑکی گھر واپس نہیں آ سکتی تھی۔ اگر چہ اس کی ساس سسر سے لڑائی ہو جائے۔ اور نہ ہی علاحدہ گھر میں رہ سکتی تھی۔ نہ باپ کی وراثت سے حصہ پا سکتی تھی۔ اگر اس کا شوہر مر جاتا تو یا تو وہ شوہر کے ساتھ جل کر مرے یا پھر عمر بھر بیوگی میں رہے۔ یہ تمام ہندوؤں کا رواج ہے۔ لیکن آج مسلمانوں نے اسے اتنا ترویج دیا ہے۔ کہ اسے اسلام کا حصہ ماننے لگے ہیں۔ اور ایک غلط فہمی جس کی وجہ سے جہیز کو شریعت کا حصہ مانا جاتا ہے۔ وہ یہ ہے کہ لوگ کہتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت بی بی فاطمہ کو بھی رخصتی کے وقت ایک پیالہ، جائے نماز اور چند ضرورت کی اشیاء جہیز کے طور پر دی تھیں۔ بالکل نہیں! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت بی بی فاطمہ کو یہ سب چیزیں دیں ضرور تھیں۔ مگر ہم اسے جہیز نہیں کہہ سکتے۔ حضرت علی اور فاطمہ رضہ اللہ تعالیٰ عنہما کی شادی کا ذکر کرتے ہوئے مولانا شاہ معین الدین ندوی لکھتے ہیں: ”کہ جب حضرت علی نے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم سے حضرت فاطمہ رضی اللّٰہ عنہا سے شادی کی درخواست کی۔ تو رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا تمہارے پاس حق مہر کے لیے کیا ہے؟ انہوں نے کہا کچھ نہیں آپ نے فرمایا: تمہاری ” حطمی زرہ” کہاں ہے۔؟ اسے فروخت کر دو۔ چنانچہ حضرت علی نے حضرت عثمان رضی اللّٰہ عنہ کو 480 درہم میں وہ زرہ فروخت کر دی۔ بعض روایات کے مطابق وہ زرہ حضرت عثمان نے خریدی اور بعد میں حضرت علی کو ہدیہ کر دی۔ حضرت علی نے زرہ کی قیمت لے کر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں پیش کی۔ آپ نے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللّٰہ عنہ کو حضرت سلمان فارسی اور حضرت بلال رضی اللّٰہ عنہ کو بلوایا۔ اور کچھ رقم انہیں دے کر کہا کہ حضرت فاطمہ رضی اللّٰہ عنہا کے لیے گھر کی ضروری اشیا خرید لاؤ۔ اور اس میں سے کچھ درہم حضرت اسماء رضی اللّٰہ عنہا کو دیے کہ اس سے خوشبو اور عطر مہیا کر دو۔ اور جو درہم بچے وہ ام سلمہ رضی اللّٰہ عنہا کے پاس رکھ دیے گئے”

(ندوی معین الدین، سیر الصحابہ،ج1، 256. ادارہ اسلامیات لاہور)

آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نے چار بیٹیوں کی شادیاں کیں اور کسی کو بھی جہیز نہیں دیا صرف حضرت فاطمہ کو کچھ ساز و سامان دیا جو کہ حضرت علی کی مہر مبارک کی رقم میں سے تھا۔ اگر جہیز اسلام میں ہے اور حضرت بی بی فاطمہ کو دیا گیا ہوتا۔ تو آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی دوسری بیٹیوں کو بھی دیا جاتا۔ اس کے علاوہ بچپن میں ہی آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی کو اپنی سرپرستی میں لے لیا تھا۔ اور آپ کے وہ چچا زاد بھائی بھی تھے۔ آپ بچپن سے ہی حضرت علی کی کفالت کرتے آئے تھے۔اس لیے بطور سرپرست آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی یہ زمہ داری بھی بنتی تھی کہ تمام سازو سامان مہیا کریں۔ آپ نے وہ سازو سامان پھر حضرت علی کی زرہ سے مہیا کیا۔ لہذا اسلام میں جہیز کا کوئی تصور نہیں ہے۔ اپنی بیٹی کو خوشی سے دینا گناہ نہیں ہے۔ مگر اسے اسلام کا حصہ مان کر معاشرے کے غریبوں پہ بوجھ ڈالنا غلط ہے۔ آج اس لیے بھی بیٹیوں کو جہیز دیا جاتا ہے کہ وراثت میں انہیں حق نہ دینا پڑے، بس وہ جہیز لے کر چپ ہو جائیں۔ جب کہ جہیز نہیں وراثت میں ان کا حق ہے۔ جو کہ سلب کر لیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ آج کی بڑھتی ہوئی مادیت پرستی کی ہوس نے لوگوں کو اتنا اندھا کر دیا ہے۔ کہ لڑکے والے خود جہیز کی ڈیمانڈ کرتے ہیں۔ کتنی شرم کی بات ہے ایک مرد ہو کر جب عورت اور اس کے گھر والوں کے آگے جہیز کے لیے ہاتھ پھیلاتا ہے۔ یہ مردانگی کی بھی توہین ہے۔ ماں باپ کنگال ہو جاتے ہیں۔ پہلے اولاد کو پالتے پوستے ہیں۔ پھر ان کے لیے قرضہ لے کر معاشرے کی روایت پوری کرنے کے لیے جہیز دیتے ہیں۔ اور پھر عمر بھر اس قرض کے بوجھ سے خود کو نکالنے میں لگے رہتے ہیں۔ غریب کی بچی تو کئی سال باپ کی چوکھٹ پہ رہتی ہے۔ جو جہیز بھی نہیں خرید سکتے اور قرض بھی نہیں لے سکتے۔ ماں باپ کی کمر ٹوٹ جاتی ہے جہیز اکھٹا کرتے کرتے۔ شادی ایک مقدس رشتہ ہے یہ اتنا مشکل نہیں تھا جتنا آج اسے بنا دیا گیاہے۔ کہیں نہ کہیں وجہ یہ جہیز ہے۔ زندگی سب کے لیے ہے سب کو اسے جینے کا حق ہے۔ ہم کیوں دوسروں کی بیٹیوں کو جینے کا حق نہیں دیتے۔ کیوں ان کے گھر بسانے میں رکاوٹ ہیں۔ کہاں جاکر روئیں بات صرف یہ ہے کہ ہم بس دوسروں کے ساتھ چلتے ہیں۔ دوسروں کی روایت اقدار کو اپنے اوپر اوڑھنے میں لگے ہوئے ہیں۔ ہم ابھی بھی دوسروں کے پیچھے بھاگتے ہیں۔ ٹھیک ہے غلطیاں ہو جاتی ہیں۔ انسان نہ چاہتے ہوئے بھی دوسروں کی ڈگر پہ چل پڑتا ہے۔ لیکن اس ڈگر پہ چلتے ہی رہنا اور چلتے چلتے اتنے ضم ہو جانا کہ وہ راستہ آپ کو اپنے اسلام اور تہذیب کا حصہ لگنے لگے بہت خطرناک بات ہے۔ آج ہم نے اسے کم کیا کرنا ہے۔ ہر طرف سے اس روایت کو ہوا دے رہے ہیں۔ پہلا اسٹیپ کسی کو تو اٹھانا ہی ہوتا ہے۔ ہم وہ پہلا اسٹیپ اٹھانے سے جب تک ڈرتے رہیں گے معاشرے سے اس لعنت کو ختم نہیں کر سکتے۔ اور عورت کے لیے سب سے خوبصورت ساز وسامان تو تعلیم ہے تربیت ہے اخلاق ہے۔ جو لڑکی اس زیور سے آراستہ ہے۔ اسے کسی جہیز کی ضرورت نہیں۔ عورت نے اگلی نسل سنوارنی ہوتی ہے۔ جو اس سازو سامان سے نہیں بلکہ علم و ادب اور تربیت سے ہی سنواری جا سکتی ہے۔ اور اگر آپ اپنی بیٹی کو جہیز دیں گے تو اگلی نسل کے ذہن میں مادیت پرستی بھر دیں گے۔ جبکہ اگر آپ وہی سب سادہ اور مرد کی طرف سے ہو گا تو بچوں میں مال و زر کی محبت نہیں آئے گی۔ کیونکہ ان کو جو رہن سہن دیا گیا وہ سادہ تھا۔ جہیز آج ہمارے معاشرے کا ناسور بن گیا ہے۔ اسے ہم نے خود ہی ختم کرنا ہے۔ کوئی اور اس کے لیے آواز نہیں اٹھا سکتا۔ جب تک ہم مسلمان ہو کر اس کے خلاف کھڑے نہیں ہوں گے۔ ایک بیٹی کے لیے علم سے بڑھ کر تربیت سے بڑھ کر ماں باپ کی طرف سے کوئی تحفہ نہیں ہے۔ آج ماں باپ بچی کے پیدا ہوتے ہی جہیز تو اکھٹا کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ مگر اس پہ تعلیم کے دروازے بند کر دیتے ہیں۔ جیسے اس نے اس جہیز کے سہارے عمر گزارنی ہو۔اسی لیے پھر بیٹیوں کے گھر اجڑ جاتے ہیں۔ زندگی کی کشیدگیاں بڑھ جاتی ہیں۔ کیونکہ انہیں اپنی زندگی کو سنوارنے کی سمجھ بوجھ ہی نہیں ہوتی۔ بچوں کے تربیت سے ان کا کوئی واسطہ نہیں ہوتا۔ پھر سارا دن کام میں لت پت اس جہیز کی صفائی میں لگی رہتی ہیں۔ جتنا زیادہ سازو سامان ہو گا عورت کی اتنی مصروفیت بڑھے گی۔ اور جتنی عورت کی مصروفیت بڑھے گی نسل اتنی ہی اندھیرے میں اور گھر بربادی میں جائے گا۔ اس لیے صرف ضرورت کا سامان ہو وہ بھی لڑکے والوں کی طرف سے انتظام کیا گیا ہو۔ تاکہ لڑکی کے ماں باپ پہ اس کا بوجھ نہ پڑے۔ ارے جب لڑکے والے جہیز مانگتے ہیں۔ تو میں ہمیشہ ایک بات سوچتی ہوں کہ کیا اس لڑکی اس بیٹی سے بڑھ کر بھی کچھ ہے جو وہ ماں باپ آپ کو دے دیں۔ اپنی کوکھ سے جنم دے کر بغیر کسی سوال کے آپ کے ہاتھ میں تھما دیتے ہیں۔ اور اسے خود سے بیگانہ کر دیتے ہیں۔ کیا یہ قربانی کم ہے کہ اس معاشرے میں لڑکے والے منہ پھاڑ کر جہیز کی ڈیمانڈ کرتے ہیں۔ موٹر سائیکل، کار ،ٹی وی، جنریٹر اور پتہ نہیں کیا کچھ مانگ لیتے ہیں۔ کیوں؟ کیا آپ معزور ہو آپ کے ہاتھ پیر نہیں ہیں۔ جو ایک عورت کے کندھوں پہ بوجھ لادتے ہو۔ اللّٰہ نے مرد کو اس لیے برتری نہیں دی ہے۔ برتری کی ایک وجہ سازو سامان کی فراہمی بھی ہے۔ مگر آج مرد رعب جھاڑتا ہے اپنی برتری کا لیکن کوئی کام ایسا ہے نہیں جس سے برتری قائم کرنے کا حق استعمال کر سکے۔ خدارہ! کسی کی بیٹی کے ساتھ ساتھ ان ماں باپ کی رگوں سے خون مت چوسو انہیں عمر بھر کے قرضے کے تلے مت دباؤ۔ دنیا فانی ہے۔ چار دن کی زندگی میں اس جہیز اور سازو سامان کی کوئی وقت نہیں ہے۔ اس لیے اس روایت کو اس گندی رسم کو اپنے دل ودماغ سے ہمیشہ کے لیے باہر نکال دو۔ ماں باپ کو چاہیے بچی کو تعلیم کا زیور دیں۔ اور لڑکے والوں کو بھی چاہیے کہ ان کی ترجیح جہیز نہیں بلکہ عورت کا پڑھا لکھا اور تربیت یافتہ ہونا چاہیے۔ جو کہ اصل ضرورت ہے۔ جہیز دے کر عورت کو وراثت سے بےدخل کر دینا بہت بڑا جرم ہے۔ اللّٰہ کے ہاں اس کی بڑی سخت پوچھ گچھ ہو گی۔ اس لیے عورت کو وراثت میں حصہ ضرور دو کیونکہ یہ اسکا شرعی حق ہے۔اور جہیز کو خدارہ سر پہ سوار نہ کیجیے اور اسے اسلام سے منسوب مت کریں۔ کیونکہ یہ اسلام کا حصہ بالکل بھی نہیں ہے۔اللہ ہمیں اتنا شعور دے کہ سچ حق بات کو مان کر اس کا ساتھ دے سکیں۔( آمین ثم آمین)

Comments are closed.