میں ڈوب بھی گیا تو شفق چھوڑ جاؤں گا..
نور اللہ نور
اس ناپائدار جہاں میں کسی ذی نفس کو پائداری اور دوام نہیں ، ہر آمد کے ساتھ رفت مقرر ہے، صاحب حشم اور تنگ دست میں کوئی امتیاز نہیں ہر ایک لقمہ اجل ہوتے ہیں.
مگر عظیم ہیں وہ لوگ جو بقید حیات اپنی خداداد صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے عوام میں انمٹ نقوش چھوڑ جاتے ہیں ، اپنی شبانہ روز کاوشوں کو امت اور عوام کی خدمت کے لئے وقف کر دیتے ہیں اور تاریخ کے اوراق میں ہمیشہ کے لیے زندہ و تابندہ ہوجاتے ہیں.
ان کی صلاحیتیں ، استعداد و کمالات ساری کی ساری چیزیں عوام اور امت کے مفاد کے لئے ہوتے ہیں ، اور وہ اپنی قلیل المیعاد عمر میں وہ کارنامے کر گزرتے ہیں جو صدیوں بعد بھی ان کی قدرو منزلت کی دلیل اور نشانی ہوتی ہے.
ابھی حال ہی میں ہمیں داغ مفارقت دینے والے ، اس جہان فانی کو الوداع کہنے والے ہم سب کے مشفق و مربی سابق امیر شریعت سید محمد ولی رحمانی علیہ رحمہ ان ہی عظیم اور نایاب و کمیاب لوگوں میں سے ایک تھے جنہوں نے اپنی جرات و بے باکی سے امت کے بیشتر مسائل کا دفاع کیا ، اسلام اور مخالف اسلام کے درمیان ایک سنگ گراں بنے ہوئے تھے.
حضرت نے ہر جہت اور ہر پہلو سے امت کی خدمت ، اس کے روشن مستقبل اور اس کے تحفظ کے لئے کارہائے نمایاں انجام دیئے، درس و تدریس سے تشنگان علم کو سیراب کیا ، خانقاہ رحمانی میں سجادہ نشیں ہوکر اپنے اکابر کی روایت کو قائم رکھا ، اور خانقاہ سے نکل کر ایوان بالا تک رسائی حاصل کی اور رسم شمشیر کو بھی بخوبی انجام دیا ، برے وقت اور مصائب کے وقت اعلاء کلمتہ اللہ کے لئے سینہ سپر رہے.
کسی بھی قوم کا عروج و زوال تعلیم و تربیت پر منحصر ہوتا ہے حضرت اس بات کو بخوبی سمجھتے تھے اور حضرت کی دور رس نگاہ نے یہ اندازہ کر لیا تھا نامساعد حالات کا مقابلہ تعلیم تربیت سے ہی ممکن ہے.
اسی کو ملحوظ رکھتے ہوئے انہوں نے بے شمار تعلیمی ادارے کا قیام ڈالا اور ہمہ جہت خوبیاں رکھنے کے باوجود خود درس و تدریس سے منسلک رہے ایک عرصے تک طالبان علوم نبوت کو سیراب کرتے رہے اور تعلیمی جال پورے خطے میں پھیلا دیا.
ان کی تعلیمی تحریک میں ” رحمانی 30″ رحمانی کمپیوٹر اکیڈمی اور بیشتر اسکول کا قیام نمایاں ہے تاکہ ہمارے نونہال دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ عصری مقابلے میں بھی فائق رہیں اور آج کے اس مسابقتی دور میں ہمارے بچے بھی ڈاکٹر انجینئر کے امتحانات با آسانی پاس کر سکیں اور ملک و ملت کی خدمت انجام دیں.
یقیناً وہ سن و سال میں سن رسیدگی کی دہلیز پر تھے مگر ان کی جرات و بے باکی ہنوز جوان تھی ان کی موجودگی کا ایک فایدہ یہ بھی تھا کہ جب بھی کسی نے کسی بھی طرح شریعت میں مداخلت کی کوشش کی اور شعائر اسلام کی طرف نگاہ اٹھائ تو بڑی بے باکی اور جواں مردی سے اس کا دفاع کیا.
اسی سلسلے میں ان کی صدارت میں منعقد ہونے والا دو روزہ ” تحفظ شریعت کانفرنس ” تاریخ کے زریں باب میں رقم ہوگا جس میں لاکھوں کی تعداد میں عوام نے شرکت کر کے حکومت وقت کو یہ میسج دیا تھا کہ شرعی امور میں مداخلت قطعاً برداشت نہیں ہے.
انہوں نے اپنی صلاحیتوں سے بھر پور استفادہ کرتے ہوئے اپنے آپ کو صرف علمی حلقوں میں محدود نہیں رکھا بلکہ سیاسی میدان میں بھی زور آزمائی کی اور مسلسل تین یا چار سال تک ” ایم ایل سی ” بھی رہے اور اس سیاسی میدان میں رہ کر امت کے لئے بیشمار خدمات انجام دیں.
ان ہی خوبیوں کے بنا پر بہت سارے سرکاری اعزازات سے نوازا گیا اور بہت سارے ایوارڈ بھی حضرت کے حصے میں آئے.
یقیناً حضرت اپنے آپ میں ایک جامع اور با کمال شخصیت تھے اور اپنی عمر عزیز کو امت کی فلاح وبہبود کی خاطر نذر کردیا.
یقیناً حضرت اب ہمارے درمیان نہیں رہے اور ان کی وفات کے ذریعہ ہونے والا خلاء پر نہیں ہوسکتا مگر حضرت کی شخصیت کی ایک آفتاب کی سی تھی جو غروب ہونے کے بعد بھی اپنی شفق چھوڑ جاتا ہے اور غروب ہونے کے بعد بھی اس کی رمق باقی رہتی ہے.
حضرت بھی اسی طرح دنیا سے تو رخصت ہوگئے ہیں مگر ان کے کئے ہوئے کارنامے اور ان کی کی گئی خدمات انہیں ہمیشہ کے لئے لوگوں کے دلوں میں زندہ و تابندہ رکھیں گی اور یہ علم و عمل کا آفتاب غروب ہونے کے بعد بھی اپنی شفق چھوڑ گیا ہے۔
Comments are closed.