وہ اپنی ذات میں ایک انجمن تھے معروف اسلامی اسکالر پروفیسر انیس چشتی بھی نہیں رہے
محمد قمر الزماں ندوی
اپنی زندگی میں عصری تعلیم یافتہ لوگوں میں ،سب سے زیادہ جن لوگوں میں دینی مزاج اور دینی رنگ کو نمایاں پایا اور جو علماء اور اہل اللہ سے قریب رہے اور ان کی نششت و برخواست میں شامل رہے ، ان کے رازوں کے امین و محافظ اور ان کی سرگرمیوں میں شریک اور رفیق و معاون رہے ، نیز اپنی شباہت کو علماء کی شباہت سے قریب رکھا، نیز عصری علوم کی تشریح کی جہاں ضرورت پڑی، یا علاقائی و صوبائی زبان و بیان کی ضرورت پڑی وہاں خادمانہ انداز میں معاونت کے لیے تیار نظر آئے، ان میں ایک اہم نام اور نمایاں شخصیت مشہور اسلامک اسکالر جناب پروفیسر انیس چشتی مرحوم کی بھی ہے، جن کا گزشتہ کل ۵/ اپریل ۲۰۲۱ء شام پانچ بجے انتقال ہوگیا اور وہ اپنے مالک حقیقی سے جاملے۔۔ میں نے ہمیشہ ان کو علماء ربانین اور اہل اللہ کے جلو اور صحبت میں دیکھا، میانہ قد، گندمی رنگ ، گول مدور چہرہ، وجیہ و شکیل،خوش مزاج اور خوش گفتار و شگفتہ مزاج، متحمل باوقار،ہمیشہ چہرے پر مسکراہٹ، لیکن اس تبسم اور مسکراہٹ میں بھی فکر امت پوشیدہ اور پنہاں، یہ تصویر تھی اور یہ جغرافیہ تھا مرحوم پروفیسر انیس چشتی صاحب مرحوم کا۔۔۔
ندوہ میں دوران طالب علمی اور فراغت کے بعد بھی ان سے بارہاں ملنے اور ان کے علمی و سائنسی محاضرات سے استفادہ کا موقع ملا، وہ مجھے بہت چاہتے تھے،حوصلہ بڑھاتے تھے، مہمیز لگاتے تھے مفید مشوروں سے نوازتے تھے، جب بھی ملاقات ہوئی اپنے سینے سے لگایا اور خوب دعائیں دیں۔ میں نے اپنی کتاب *انسانی عظمت کے تابندہ نقوش* جب ان کو علی گڑھ میں رسم اجراء کے موقع پر ہدیہ کیا، بہت خوش ہوئے اور انہوں نے دوران سیمنار پوری کتاب پڑھ لی اور بہت دعاوں سے نوازا۔۔ فضیلت سال دوم میں ندوہ میں ایک مناقشہ ہوا تھا جس کا عنوان تھا۔۔ ملک کے لیے یکساں سول کوڈ مفید یا غیر مفید؟ میں مفید والی ٹیم میں تھا اور جزوی طور پر قیادت بھی کر رہا تھا۔۔ میری ٹیم کو ظاہری طور پر جیت ملی تھی، اس مناقشہ میں وہ بھی اسٹیج پر شریک محفل تھے ۔۔۔ ندوہ کے تین انتہائی قابل اور لائق و فائق استاد حکم تھے، مناقشہ کا ریزلٹ اور نتیجہ نہ سنانا ہی بہتر تھا اور یہی رائے تھی حضرت مولانا برہان الدین صاحب سنبھلی رح کی لیکن پھر بھی سنا دیا گیا۔۔۔
اس مناقشہ کے وقت ہی سے پروفیسر چشتی مرحوم کو قریب سے جانا اور ان سے تعلق اور تعارف ہوا۔ بارہا ان سے ملاقاتیں رہیں۔ وہ بہت مخلص، سنجیدہ باوقار اور ذہین اور باصلاحیت انسان تھے، علم فلکیات، سائنس اور جغرافیہ ان کا خصوصی موضوع تھا، وہ جب بھی ندوہ آتے ان کا فلکیات اور سائنس پر وقیع محاضرہ ہوتا اور پورا ہال کچھا کھچ بھرا رہتا، وہ اسکرین پر نجوم و فلک اور آفتاب و ماہتاب کے بارے میں حیرت انگیز معلومات فراہم کرتے۔۔۔ندوہ کے طلبہ ان سے ان موضوعات پر سوالات کرتے اور وہ تفصیلی جواب دیتے ، غرض ندوہ میں ان کے قیام کو طلبہ غنیمت جانتے اور ان سے استفادہ اور کسب فیض کرتے۔۔ شریف، متواضع، ملنسار، خوش مزاج و خوش طبع تھے، مزاج میں سادگی تھی لیکن ظرافت بذلہ سنجی بھی تھی، اہل محفل کو زندہ رکھنے کا فن اور ملکہ بھی خوب تھا تاریخ و قصص اور سیرت و سوانح پر بھی گہرا مطالعہ تھا۔ تعمیر حیات کے ایک خصوصی اشاعت میں مولانا اسحاق جلیس ندوی مرحوم پر ان کا مضمون طالب علمی کے زمانے میں پڑھا تھا، اسی وقت سے میں ان کی تحریری صلاحیت سے متاثر تھا۔ اچھا لکھتے تھے اور خوب لکھتے تھے، انداز نگارش عمدہ ،اسلوب سہل اور آسان لیکن تحریر بہت پر اثر اور پرکشش تھی۔۔ وہ حضرت مولانا علی میاں ندوی رح، مولانا عبد الکریم صاحب مرحوم اور ڈاکٹر اشتیاق حسین قریشی سے بہت قریب تھے اور پیام انسانیت کے کاموں میں دل کھول کر حضرت مولانا رح کا تعاون کرتے تھے، اس کے لیے کثرت سے اسفار کرتے برادران وطن کے درمیان ان ہی کی زبان لہجہ اور اسلوب میں گفتگو کرتے تھے۔ تقریری اور تحریری دونوں میدان کے ہیرو اور شہسوار تھے۔۔۔ حضرت مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی مدظلہ العالی اور ندوہ کے دیگر ذمہ داران سے ان کے اچھے اور گہرے روابط تھے۔۔ اور باہم ایک دوسرے کا بہت ہی خیال و احترام تھا۔۔
وہ اپنے اخلاق کی جاذبیت، حسن تقریر کی طلاقت، اپنی آنکھوں کی مروت و شرافت، اپنے اسلوب اور لہجہ کی عذوبت اور اپنے تبسم کی حلاوت، اپنے دل کی آفاق در آغوش وسعت، اپنے مزاج کی بے نظیر شرافت اپنے کردار کی نجابت کے اعتبار سے ایک مثالی انسان تھے۔ ایسے ہی لوگوں کے بارے میں شاعر کا یہ شعر ہے۔۔ کہ
مت سہل ہمیں جانو پھرتا ہے فلک برسوں
تب خاک کے پردے سے انسان نکلتا ہے
ملتے کہاں ہیں ایسے پراگندہ طبع لوگ
افسوس تجھ کو میر کی صحبت نہیں ملی
وہ عصری تعلیم یافتہ تھے، لیکن مزاج ماحول اور تربیت دینی تھی، جس کا اثر تھا کہ کالج میں لکچرر ہونے کے باوجود وہ تمام دینی ملی، علمی، دعوتی اور سماجی کاموں اور سرگرمیوں میں پیش پیش رہتے تھے اور تحریک پیام انسانیت فورم کے اہم مرکزی ذمہ داروں میں تھے۔۔ وہ ندوہ کے شورہ اور مجلس انتظامی کے رکن تھے اور بلا ناغہ اس شوریٰ کے اجلاس میں شریک ہوتے تھے، مفکر اسلام حضرت علی میاں ندوی رح کے تربیت یافتہ تھے اور ان کے دست راست تھے، ان کے مجاز اور خلیفہ بھی تھے۔ اقبالیات کے ماہر تھے، فن خطاطی کے استاد تھے، ماہر تعلیم تھے، کئی زبانوں کے ماہر تھے، مراٹھی زبان پر بھی عبور حاصل تھا اور اس زبان میں بھی لکھتے اور تقریر کرتے تھے۔ وہ اچھے انسان،قابل استاد خوش بیان مقرر تھے، اعلیٰ افسران کے تربیتی اداروں کے پینل میں شامل گیسٹ لکچرار تھے۔ جنگ آزادی میں مسلمانوں کی خدمات اور دیگر موضوعات پر بے شمار کتابیں شائع ھوکر داد و تحسین حاصل کر چکی ہیں۔ کئی ملکوں میں انکی ترتیب کردہ اردو اور انگریزی زبان کی کتابیں اسکول اور کالجوں کے نصاب میں شامل ہیں۔ پروفیسر انیس چشتی کا انتقال ایسے وقت میں ھوا کہ رمضان کی آمد آمد ہے۔ ہر رمضان میں مراٹھی روزنامہ سکاڑ، لوکمت پونا ایڈیشن رمضان سے متعلق، قران اور اسلامی تعلیمات پر مشتمل ان کے مضامین بلا ناغہ شائع ہوا کرتے تھے. انیس چشتی کو تعلیم و تصنیف اور دیگر کئی امور میں ان کی خدمات پر کئی ایوارڈس بھی مل چکے ہیں۔ وہ کئی ملکی و غیر ملکی تعلیمی و تربیتی اداروں کے ممبر اور گیسٹ لیکچر تھے. خصوصاً مہاراشٹر اسٹیٹ بورڈ،
انڈین انسٹیٹیوٹ آف ایجوکیشن، کالج آف ملٹری انجنئیرنگ میں فوجیوں کو تربیت دیا کرتے تھے.. اسی طرح IAS, IPS اور IFS کو توسیعی خطبات کے لیے جایا کرتے تھے.. چالیس سے زائد ملکوں کا سفر کیا ہے.. سعودی عرب، امریکا، انگلینڈ، کناڈا، فرانس، روس، اٹلی، آسٹریلیا اور دیگر کئی اسلامی ممالک شامل ہیں..
پسماندگان میں ایک بیٹی ہے اور تین بھائی ہیں.. انیس چشتی کے خاص تربیت یافتہ شاگرد مرزا عبدالقیوم ندوی اورنگ آباد نے بتایا کہ انیس چشتی کی پیدائش 6/فروری 1943کو پونہ میں ہوئی آپ کے والد شکیل احمد چشتی مجاہد آزادی تھے، ابتدائی تعلیم پونہ میں ہوئی اعلی تعلیم سولاپور اور ہونہ میں ہوئی آپ ہونہ کے مشہور اسکول مولدینہ اردو ہائی اسکول میں معلم تھے اور مفکر اسلام مولانا سید ابوالحسن علی ندوی کے کہنے پر تحریک پیام انسانیت کے لیے ایک قبل از ریٹائرمنٹ لے لیا تھا اور پوری طرح اپنے آپ کو اس تحریک کے لیے وقف کردیا تھا.. آپ کے خاص رفیق مفسر قرآن مولانا عبدالکریم پاریکھ صاحب کے ساتھ ملک بھر دورہ کیا.. (مرزا عبد القیوم ندوی کی تحریر سے مستفاد)
غرض پروفیسر انیس چشتی مرحوم گوناگوں صفات کے حامل تھے ، بہت ہی خوش اخلاق تھے، ہمیشہ اور ہر ایک سے خندہ پیشانی سے ملتے تھے۔ان کی شخصیت بہت ہمہ جہت تھی اور وہ ہر پہلو سے اپنی مختلف النوع ذمہ داریوں کو پورا کرتے تھے۔ تعلیم کی ضرورت کا خواہ دینی ہو یا دنیاوی ان کو ہمیشہ شدید احساس رہا کہ مسلمانوں کو اس میدان میں بہت آگے آنا چاہیے۔ ان کا صریح اور صاف ذہن اور مسلک تھا کہ پیام انسانیت کے جذبہ کو فروغ دیا جائے اور محبت و اتفاق اور امن و شانتی کی فضا پیدا کرنے میں کوئی کسر اٹھا کر نہ رکھی جائے، مرحوم نے اس کے لیے بساط بھر کام کیا۔ ان کی سوچ تھی کہ مصلحانہ اور برادرانہ انداز تمام انسانی رشتوں پر حاوی رہنا چاہیے۔
اب وہ ہمارے درمیان نہیں رہے، مگر وہ ہمیشہ نظروں میں رہیں گے اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے جنت الفردوس میں جگہ دے اور متعلقین و وارثین اور پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے آمین
Comments are closed.