آسام الیکشن: کنگ میکر کون؟
نازش ہما قاسمی
ملک کی پانچ ریاستوں میں اسمبلی انتخابات جاری ہیں جن کے نتائج ۲ مئی کو آئیں گے. اُس وقت ہی پتہ چل پائے گا کہ کون فاتح ہے اور کون ناکام، اس سے قبل ہم حالات کو پیش نظر رکھتے ہوئے صرف تجزیہ کرسکتے ہیں کہ کونسی پارٹی کہاں فاتح ہوسکتی ہے۔ اس بار کے الیکشن میں بھی بی جے پی وہی پرانے راگ الاپ رہی ہے جس کے سہارے دو بار لوک سبھا الیکشن جیت چکی ہے کہ وہی وعدے جو نفرت پر مبنی ہیں ہندومسلم منافرت کی چنگاری مزید بھڑکائی جارہی ہے۔ عوام کو پھر بے وقوف بنانے کی تیاریاں چل رہی ہیں؛ لیکن اس بار ریاستی عوام شاید بے وقوف نہ بنیں، اگر انہیں سات برسوں کا تجربہ ہوگا تو وہ اپنی علاقائی پارٹیوں کے ہی ہاتھ مضبوط کریں گے، مندر مسجد ہندو مسلم این آر سی، سی اے اے بنگلہ دیشی پاکستانی دراندازوں وغیرہ مسائل سے کسی بھی قوم کا پیٹ نہیں بھرنے والا ہے، مندر مسجد کی سیاست سے ملک کے عوام اوب چکے ہیں، انہیں روزی روزگار چاہئے، انہیں امن و سکون چاہیئے، یہی وجہ ہے کہ اب ملک کا وہ نوجوان طبقہ جس نے بڑے جوش و جذبے کے ساتھ مودی حکومت کو پہلی بار اقتدار سونپا تھا اس گمان میں کہ ہر سال کئی کروڑ نوجوانوں کو روزگار فراہم ہوگا وہ ان چھ سات برسوں میں بھی بے روزگار ہی رہے اور جن لوگوں کے روزگار تھے وہ بھی روزگار سے ہاتھ دھوبیٹھے، ملک کا نوجوان طبقہ، کسان طبقہ، متوسط طبقہ، عام آدمی، غریب پریشان حال سبھی ہندومسلم نفرت کے سہارے زندہ نہیں رہ سکتے، انہیں کھانے پینے کی اشیاء کی ضرورت ہے انہیں روزی و روزگار کی ضرورت ہے، انہیں اپنی فصلوں کے مناسب قیمتوں کی ضرورت ہے، انہیں آزادی کے ساتھ تجارت کی ضرورت ہے۔ آج بھی ہندوستان کی آبادی کا اکثر حصہ بنیادی سہولتوں سے محروم ہے، کورونا وبا اور اس کے بعد لاک ڈاؤن نے تو ان غریب مجبور مزدور متوسط طبقوں کی کمر توڑ دی ہے، ایسے میں انہیں جبکہ گزشتہ وعدے پورے نہیں کئے گئے دوبارہ وہی خواب دکھانا انہیں مزید بے وقوف بنانے کے مترادف ہے اس کے برعکس بی جے پی مخالف پارٹیاں قومی ترقی کی بات کررہی ہیں، انہیں حتی الامکان قومی ترقی سے منسک کرنے کی باتیں کررہی ہیں، جہاں جہاں بی جے پی حکومت ہے وہاں کا موازنہ ان ریاستوں سے کرلیا جائے تو بہتر ہوگا کہ دیکھیں یوپی میں کیا حال ہے جنگل راج ہے اور بنگال کو بے حال کہنے والے وہاں غیر بی جے پی نے کیا ترقیات کی ہیں. اس کا اندازہ لگالیں تو عوام پر یہ چیز عیاں ہوجائے گی کہ بی جی پی کے اقتدار والی ریاستوں میں عوامی استحصال زوروں پر ہے آسام، کرناٹک، مدھیہ پردیش ، گجرات اترپردیش سبھی جگہ لاء اینڈ آرڈر پر سوالیہ نشان ہے، ماؤں، بیٹیوں کی عصمت تک محفوظ نہیں، بیٹی پڑھاو بیٹی بچاؤ کا نعرہ دینے والی بی جے کے ممبران اسمبلی ممبران پارلیمنٹ پر ہی بیٹیوں کی عصمت لوٹنے کا الزام ہے۔ ایسے میں ان پانچ ریاستوں کے عوام اگر بی جے پی کو اقتدار سونپیں تو یہ گڈھے میں خود گرنے کے مترادف ہوگا۔
بنگال کے بعد ملک کے عوام کی نظریں اس بار آسام الیکشن پر زیادہ مرکوز ہیں، وہاں نفرت کی سیاست زیادہ عروج پر ہے؛ لیکن عوام کو اس بار تھوڑی آس اس لئے ہے کہ دھوکے باز کانگریس نے اس بار مولانا بدر الدین اجمل صاحب کی پارٹی سے اتحاد کرلیا ہے اور مولانا کی عوامی مقبولیت، بلاتفریق مذہب و ملت خدمت انسانی کا جذبہ انہیں آسام کا کنگ میکر بنائے ہوا ہے۔ ان کی مقبولیت کو دیکھتے ہوئے بی جے پی بوکھلاہٹ کا شکار ہے اور اول فول بیانات کے ذریعے آسامی عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ وزیر داخلہ، وزیر اعظم سمیت دیگر بی جے پی لیڈران ان پر طنز کررہے ہیں طرح طرح کے بے ہودہ الزامات عائد کررہے ہیں؛ لیکن مولانا اجمل ان سب سے بے پروا ہوکر اپنے مشن میں منہمک ہیں اور مکمل پر عزم ہیں کہ گزشتہ مرتبہ کانگریس کی ناکامی اور ناعاقبت کی وجہ سے جو ریاست ہاتھ سے چلی گئی تھی اس بار کانگریس کے ساتھ اتحاد کی وجہ سے ان شاء اللہ نہیں جائے گی۔ گزشتہ روز ہی امیت شاہ نے کہا ہے کہ اگر ہماری حکومت آسام میں بن جاتی ہے تو ہم انسان تو دور پرندوں کو بھی ریاست میں داخل نہیں ہونے دیں گے۔ ان پانچ برسوں میں کتنے لوگ ریاست میں داخل ہوئے اور کتنے بے دخل کئے گئے این آرسی اور سی اے اے کا عفریت نکال کر کتنے بنگلہ دیشی ہندوں کا فائدہ کیا، کتنے پاکستانی ہندو مہاجرین کو شہریت دی گئی، یہ سب سوالات بنگال آسام اور دیگر ریاستوں کے ہندو کررہے ہیں انہیں بھی دھوکہ کھانے کا علم ہوچکا ہے کہ یکے بعد دیگرے یہ ہمیں مسائل میں الجھا کر اپنی سیاست کرنا چاہتے ہیں، ہم اب مزید بے وقوف نہیں بنیں گے، ملک کی ترقی کے لیئے ہندومسلم اتحاد ضروری ہے اسی اتحاد کے ذریعے انگریزوں کو ملک بدر کیا گیا تھا اور اب اسی اتحاد کے ذریعے فرقہ پرست موقع پرست عوام دشمن پارٹیوں کو سبق سکھایا جائے گا، جو پارٹی عوامی فلاح و بہبود کے وعدے نہیں؛ بلکہ کام کرے گی اسے موقع دیا جائے گا جو نفرت کی بات کرے گی اسے نفرت کی بھینٹ چڑھاکر اقتدار سے دور رکھا جائے گا، ملک ہندوستان کثرت میں وحدت کے لئے جانا جاتا ہے، اس کی گنگا جمنی تہذیب کو مٹنے نہیں دیا جائے گا۔ یہاں گنگا سے جس طرح پہلے مسلمان وضو کرتے تھے اور ہندو آرتی اتارتے تھے اسی طرح مستقبل میں بھی کرتے رہیں گے یہی ہمارے ملک کی خوبصورتی ہے۔
Comments are closed.