سب سے اچھا عمل کون سا ہے؟

 

 

محمد صابر حسین ندوی

Mshusainnadwi@gmail.com

7987972043

 

 

انسانی زندگی کا کوئی حصہ نہیں ہے جو عمل سے خالی ہو، شب و روز کا دورانیہ عملی ایکٹیویٹی پر منحصر ہے، انسان خواہ بازاروں میں چلتا پھرتا ہو، گھروں میں اہل و عیال کے درمیان ہو، مساجد یا دیگر عبادت گاہوں، یا گناہوں کے اڈوں پر ہو، بلکہ اگر وہ تنہا ہے، زمین و آسامب کے بیچ سوائے اس کے کوئی نہیں دکھائی دیتا، تب بھی وہ عملی طور پر متحرک ہے، کبھی کبھی انسان کا سوچنا، غور و فکر کرنا بھی عمل یا اس کی تمہید اور دیباچہ بن جاتا ہے، صحیح بات تو یہ ہے کہ ہر عمل کی تحریک ہی انسانی دماغ کی اُپَج اور نتیجہ ہے، حدیث میں تو یہ بنیادی بات کہہ دی گئی ہے کہ اعمال کا دور وم دار نیت پر ہی ہے (صحیح بخاری: ١) ان حقائق کو سامنے رکھ کر شاید کوئی عقلمند نہ ہوگا جو انسان کو کسی بھی وقت بنا عمل و تحریک کے قرار دے! مگر ان سب میں سب سے اچھا عمل کونسا ہے؟ کسے اعمال میں بہتر قرار دیا جائے؟ یہ امتیاز بہت مشکل کام ہے، واقعہ یہ ہے کہ ایمان کے بعد قرآن مجید میں بہت سے اعمال کو ممتاز اور احسن قرار دیا گیا ہے، ویسے بھی جب انسانی اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہوتا ہے، تو کبھی کبھی ایک عمل جو اپنے آپ میں بہت پرکشش، اعلیٰ اور مستحسن سمجھا جاتا ہو اور ایسا لگتا ہو کہ یہ عمل عامل کیلئے باعث نجات ہوگا، اللہ تعالی کی رضامندی کا موجب ہوگا، جہنم سے خلاصی اور جنت کا پروانہ ہوگا؛ لیکن اس میں نیت کی کھوٹ، ریا کاری، شہرت اور لالچ کا عنصر اسے بے کار، معطل بلکہ باعث رحمت ہونے کے بجائے باعث زحمت اور گلے کا طوق بن جاتی ہے، میزان میں اس کا وزن کچھ نہیں ہوتا، اسے نظر رحمت سے بھی نہیں دیکھا جاتا، اسی کے بالمقابل بعض اعمال وہ بھی ہوتے ہیں جو بہ ظاہر وزن دار نہیں لگتے، کبھی کبھی دیکھنے اور کرنے والے کو بھی خفت محسوس ہوتی ہے؛ لیکن اللہ تعالی کی نگاہوں میں وہ کہیں بلند تر ہوتے ہیں، بلاشبہ انسان کے اعمال کا سب سے بہتر حصہ وہ جس سے اللہ تعالی کی خوشنودی و رضامندی حاصل کئے جانے کی نیت سے ہو، اگرچہ جنت کا حصول اور جہنم سے خلاصی والے اعمال بھی قابل قدر ہیں؛ لیکن رضی اللہ عنھم و رضوا عنہ کا مقام کچھ اور ہی ہے، انسان صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی مرضی کیلئے تمام تکالیف برداشت کرے، وہ کوئی بھی عمل کرے بس صرف اتنا خیال رکھے کہ اس سے اس کا رب راضی ہوجائے، اس کی خوشنودی حاصل ہوجائے اور وہ رضی اللہ عنھم و رضوا عنہ کا مقام پالیں، اس پس منظر میں مولانا وحیدالدین خان زید مجدہ کی ایک اہم تحریر قابل مطالعہ ہے، آپ اپنے ایک – الرسالۃ- ایڈیشن میں "احسن العمل کون؟” کے عنوان پر فرماتے ہیں:

"قرآن کی ایک آیت ان الفاظ میں آئی ہے: الَّذِی خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَیَاةَ لِیَبْلُوَکُمْ أَیُّکُمْ أَحْسَنُ عَمَلًا (67:2)۔اس آیت کے مطابق، تخلیقِ انسانی کا مقصد پوری تاریخ سے ایسے افراد کا انتخاب ہے، جو عمل کے اعتبار سے احسن ہونے کا ثبوت دیں۔ یہاں عمل کا لفظ اپنے جامع معنی میں ہے، یعنی عمل کی ہر قسم کے اعتبار سے احسن۔ انسان کو عمل کے کن پہلوؤں کے اعتبار سے احسن ثابت ہونا چاہیے۔ یہ بات قرآن کی دوسری آیتوں پر غور کرنے سے سمجھ میں آتی ہے۔ مثلاً یہ کہ اس انتخابِ افراد کا مقصد کیا ہے۔ قرآن کی دوسری آیتوں کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ آخرت کی دنیا میں خدا کی ایک قربت گاہ (التحریم، 66:11) ہوگی۔ جس کیلئے پوری تاریخ سے بہترین افراد کا انتخاب کیا جائے گا۔ اس قربت گاہ کو بتانے کے لیے دوسری جگہ یہ الفاظ آئے ہیں: إِنَّ الَّذِینَ قَالُوا رَبُّنَا اللَّہُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَیْہِمُ الْمَلَائِکَةُ أَلَّا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَبْشِرُوا بِالْجَنَّةِ الَّتِی کُنْتُمْ تُوعَدُونَ ۔ نَحْنُ أَوْلِیَاؤُکُمْ فِی الْحَیَاةِ الدُّنْیَا وَفِی الْآخِرَةِ وَلَکُمْ فِیہَا مَا تَشْتَہِی أَنْفُسُکُمْ وَلَکُمْ فِیہَا مَا تَدَّعُونَ۔ نُزُلًا مِنْ غَفُورٍ رَحِیمٍ (41:30-32) ۔ یعنی جن لوگوں نے کہا کہ اللہ ہمارا رب ہے، پھر وہ ثابت قدم رہے، یقیناً ان پر فرشتے اترتے ہیں اور وہ ان سے کہتے ہیں کہ تم نہ اندیشہ کرو اور نہ رنج کرو اور اس جنت کی بشارت سے خوش ہوجاؤ جس کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے۔ ہم دنیا کی زندگی میں تمہارے ساتھی ہیں اور آخرت میں بھی۔ اور تمہارے لیے وہاں ہر چیز ہے جس کا تمہارا دل چاہے اور تمہارے لیے اس میں ہر وہ چیز ہے جو تم طلب کرو گے۔ بخشنے والے، مہربان کی طرف سے مہمانی کے طور پر۔ اس سے معلوم ہوا کہ یہ قربت گاہ جنت ہوگی،جو گویاخدائی ضیافت (hospitality) کا مقام ہوگا۔یہاں انسان کو ہر قسم کا فل فلمنٹ (fulfilment) حاصل ہوگا۔ یہ اعلیٰ اقامت گاہ فرشتوں کے انتظام میں بنے گی۔ قرآن کی دوسری آیتوں کو ملا کر دیکھا جائے تو یہ بھی معلوم ہوجاتا ہے کہ ان منتخب افراد کی صفات کیا ہوں گی۔ اس سلسلے میں چند آیتیں یہ ہیں:

1۔ احسن باعتبار معرفت : مِمَّا عَرَفُوا مِنَ الْحَقِّ(5:83)

2۔ احسن باعتبار کلام:وَجَادِلْہُمْ بِالَّتِی ہِیَ أَحْسَنُ (16:125)

3۔ احسن باعتبار اخلاق :ادْفَعْ بِالَّتِی ہِیَ أَحْسَنُ (41:34)

4۔ احسن باعتبار ہمسائگی:وَحَسُنَ أُولَئِکَ رَفِیقًا (4:69)

5۔ احسن باعتبار سلوک:لَا یَسْمَعُونَ فِیہَا لَغْوًا وَلَا تَأْثِیمًا (56:25)، وغیرہ۔

اس قسم کی صفات جنت میں جاکر انسان کے اندر پیدا نہیں ہوں گے، بلکہ اسی دنیا میں انسان کو اپنے اندر یہ صفات پیدا کرنا ہے۔ یعنی ان پہلوؤں کے اعتبار سے جو لوگ موجودہ دنیا کی زندگی میں احسن العمل ثابت ہوں، وہ اللہ کی نظر میں قابلِ انتخاب افراد ہیں۔ فرشتوں کے ریکارڈ کے مطابق، ایسے لوگوں کو منتخب کرکے ایک ایسی دنیا میں جمع کیا جائے گا، جو ابدی ہوگی، اور عَرْضُہَا السَّمَاوَاتُ وَالْأَرْضُ (3:133)کی مصداق ہوگی۔ یعنی جس کی وسعت آسمانوں اور زمین کے برابر ہے۔ اہلِ سائنس نے ارض و سماء کی جو تاریخ دریافت کی ہے، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ خالقِ کائنات نے ایک عالم کی تخلیق کی۔ اس عالم میں وہ ساری خوبیاں موجود تھیں، جو انسان جیسی کوئی مخلوق سوچ سکتا ہے۔ لیکن اس وسیع دنیا میں بظاہر رہنے والے لوگ موجود نہ تھے۔ اس کے بعد خالق نے انسان کو پیدا کیا۔ انسان کو مکمل آزادی دے کر سیارۂ ارض پر بسنے کا موقع دیا۔ آزاد ماحول کی یہ دنیا گویا ایک عظیم انسانی نرسری (nursery) تھی۔ اس میں ہر عورت اور مرد کو یہ موقع دیا گیا کہ وہ اپنے آپ کو گرو (grow) کرے، اور یہ ثابت کرے کہ وہ مطلوب معیار کے مطابق پورا اترتا ہے یا نہیں۔ یہ کام فرشتوں کی نگرانی میں پوری تاریخ میں جاری رہا۔ اس تاریخ کے آخر میں یہ ہوگا کہ تمام پیدا ہونے والے عورتوں اور مردوں کو اکٹھا کیا جائے گا، اور فرشتوں کے ریکارڈ کے مطابق، ان میں سے مطلوب افراد کا انتخاب ہوگا، اور ان کو یہ موقع دیا جائے گا کہ وہ جنت کے باغوں میں داخل ہوجائیں، اور ابدی طور پر وہاں ایک ایسی دنیا میں رہیں، جہاں ان کے لیے نہ حزن ہوگا اور نہ خوف۔ (یونس: 10:6)“ ﴿الرسالہ ستمبر:2019﴾

Comments are closed.