مسلمانوں کی دل آزاری کرنے والوں کے خلاف ہمارا ردعمل

 

 

تحریر : مسعود جاوید

 

آپ کو ایسا نہیں لگتا کہ اس وطن عزیز میں بعض عناصر کی جانب سے فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو نقصان پہنچانے کی دانستہ کوشش کی جا رہی ہے! انتخابات کے لئے فرقہ وارانہ لام بندی پولرائزیشن ناگزیر سمجھ لیا گیا ہے۔ جسے تھوڑی سی بھی عقل و شعور ہے وہ خوب سمجھتا ہے کہ حقیقت سے اس طرح کے بیانات کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ دین حنیف اسلام، اہانت رسول صلی اللہ علیہ وسلم ، سابق صدر جمہوریہ میزائل مین ابوالفاخر عبدالکلام اور مسلمانان ہند کے خلاف زہر آلود بیانات سے نہ صرف مسلمانان ہند بلکہ ہر انصاف و امن پسند شہری کی دل آزاری ہوتی ہے۔

ایسی صورتحال میں ہمارا ردعمل کیسا ہو ؟؛ ظاہر ہے ہم اس ملک کے ڈنہ دار شہری ہیں اس لئے ہمارا ردعمل ذمہ دارنہ قانون کے دائرے میں ہونا چاہیے۔ ہمیں پرامن احتجاج کرنے کا حق ہمارے دستور نے دیا ہے۔ اشتعال انگیز بیان بازی قطعا مفید نہیں ہے بلکہ اس کے ذریعے ہم امن دشمن عناصر کے کاز کو مدد کرتے ہیں۔ وہ ہمارے مثبت ردعمل کو بھی توڑ مڑوڑ کر پیش کر کے ہمیں ہی امن دشمن قرار دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ اسلام اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی شان میں گستاخی کرنے والوں کے خلاف ہم ایف آئی آر اور احتجاج درج کرائیں نہ کہ جیسے کو تیسا tit for tat یا ایسے کسی بد زبان کی گردن کاٹنے والے کو انعام کا اعلان کریں۔ یہ مہذب طریقہ نہیں تصادم کی راہ ہے۔

ہم قرآن مجید کی ان آیات کی تشہیر کریں کہ جن میں اللہ نے ہمیں بتایا ہے کہ مختلف المذاھب inclusive society میں پر امن بقائے باہمی peaceful coexistence کے حصول کے لیے ہمارا رویہ کیسا ہو۔ ہم غیر مذہب والوں کو بتائیں کہ ہمارے اللہ نے قرآن مجید میں ہمیں دوسرے مذاھب کے دیوی دیوتاؤں کے لئے अपशब्द اہانت آمیز کلمات کہنے سے منع کیا ہے۔ ہم انہیں بتائیں کہ ہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے غیر مسلموں کی عبادت گاہوں کو نقصان پہنچانے سے، ان کے مذہبی پیشواؤں پر حملہ کرنے سے منع کیا ہے۔

دوسری بات یہ کچھ لوگ اپنے آقاؤں کی خوشنودی حاصل کرنے، سستی شہرت حاصل کرنے کے لئے یا کسی سیاسی یا مالی مفاد کے حصول کے لیے ہماری دل آزاری کرتے ہیں ہم ان کے بیانات کو اہمیت دے کر انہیں ہیرو بناتے ہیں اور بدطینت ٹی وی اینکرز کو غیر ضروری ڈیبیٹ کے لئے مواد فراہم کرتے ہیں۔۔۔۔۔ ہر ایرے غیرے کی بات کا جواب نہیں دیا جاتا۔۔۔۔۔

Comments are closed.