مولانا سید محمد ولی رحمانی اسم بامسمی شخصیت

 

ولادت: 5 جون 1943 وفات:3 اپریل 2021 بمطابق ۲۰ شعبان المعظم ١٤٤٢

ازقلم:راشد اسعد ندوی (امام و خطیب مسجد عمر فاروق ڈونگری ممبئی)

*وہ ولی کس کام کا جس کے ساتھ محمد نہ ہو*
یہ وہ جملہ ہے جو ہمارے مرحوم و مغفور امیر شریعت پیر طریقت حضرت مولانا محمد ولی رحمانی نور اللہ مرقدہ نے ایک اجلاس عام کے موقع پر فرمایا تھا اور اس وقت گفتگو کا آغاز اسی جملہ سے کیا تھا دراصل ناظم اجلاس نے حضرت کو جملہ القاب کے ساتھ یہ کہہ کر مسند خطابت پر جلوہ افروز ہونے کے لیے بلایا تھا کہ اب ہمیں حضرت *مولانا ولی رحمانی صاحب دامت برکاتہم* خطاب فرمائیں گے گویا حضرت نے اس بات کو گوارا نہیں کیا کہ ان کے نام سے محمد جیسے بابرکت و پر عظمت لفظ کو جدا کیا جائے؛ میں سمجھتا ہوں کہ یہ حضرت مرحوم کی ذات نبوی اور اسم محمد سے والہانہ وارفتگی اور بے پناہ محبت کی نشانی ہے اور کیوں نہ ہو بقول شاعر:

*محمد کی محبت دین حق کی شرط اول ہے===اسی میں ہو اگر خامی تو ایماں نا مکمل ہے*

اگر مولانا سید محمد ولی رحمانی کی کتاب زندگی کے ابواب کا جائزہ لیا جائے اور آپ کی شبانہ روز تگ و دو اور مسلسل جد و جہد کا مطالعہ کیا جائے تو ہر شخص بآسانی اس بات کو محسوس کر سکتا ہے کہ آپ کو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات والا صفات کے ساتھ ربط وتعلق، عشق ومحبت اور عقیدت و وارفتگی کا ایک خاص مقام حاصل ہے یہی وجہ ہے کہ آپ کے اقوال و اعمال،تقریر و تحریر، رفتار و گفتار، چال ڈھال اور طور و طریق میں اسم محمد کی تجلی نمایاں محسوس ہوتی تھی نیز اسی وجہ سے آپ کے سلسلہ عالیہ نقشبندیه میں مرید ہونے والوں کو درود شریف کی کثرت کی تلقین کی جاتی ہے بلکہ مصائب و مشکلات سے دو چار افراد کے لیے یہی نسخہ شفاء *ہر درد کی دوا صل علی محمد* تجویز کیا جاتا ہے
یہیں سے اس بات پر یہ یقین اور پختہ اور مضبوط ہوجاتا ہے کہ اچھے ناموں کے مسمی اور شخصیت پر نیک اثرات مرتب ہوتے ہیں؛ تاریخ میں بے شمار علماء و محدثین محمد نام کے گزرے ہیں اور ان کے نمایاں کارنامے اور علمی خدمات سیرت و تراجم کی کتابوں میں آج بھی محفوظ ہیں اور ان کے روح پرور تذکرے اہل شوق کی مجالس کی زینت ہیں قابل ذکر بات ہے کہ سمرقند میں محمد نامی فقہاء و محدثین کا ایک قبرستان (مقبرة المحمدين) ہے جس میں چار سو وہ قدسی صفات شخصیات آسودہ خاک ہیں جن کا نام محمد تھا میں سمجھتا ہوں کہ ہمارے مولانا سید محمد ولی رحمانی نور اللہ مرقدہ اسی سلسلۃ الذھب کی ایک مبارک کڑی تھے جس کے تسلسل کو برقرار رکھنا اور اسے آگے بڑھانا ہم سب کی ذمہ داری ہے

آپ کے نام کا ایک حصہ ولی ہے یاد پڑتا ہے میرے ندوہ کے طالب علمی کے زمانہ میں مولانا مرحوم کے عقیدت مندوں کے درمیان یہ بات مشہور تھی کہ *حضرت مولانا علی میاں ندوی رحمۃ اللہ علیہ نے کسی موقع پر آپ کے بارے میں کہا یا لکھا ہے محمد ولی رحمانی پیدائشی ولی ہیں*
علاوہ ازیں آپ کی زندگی کے شب و روز آپ کی شان ولایت پر شاہد عدل ہیں آپ کی تحریر و تقریر میں
اَلَاۤ اِنَّ اَوۡلِیَآءَ اللّٰہِ لَا خَوۡفٌ عَلَیۡہِمۡ وَ لَا ہُمۡ یَحۡزَنُوۡنَ
(یا درکھو کہ جو اللہ کے دوست ہیں ان کو نہ کوئی خوف ہوگا نہ وہ غمگین ہوں گے ) کی نمایاں جھلک محسوس کی جاتی تھی
تفسیر کا علم رکھنے والے جانتے ہیں کہ آیت مذکورہ بالا میں *اللہ تعالیٰ کے ولیوں اور دوستوں کے لیے جہاں آخرت میں غم و اندیشہ سے حفاظت کی بشارت ہے وہیں دنیوی زندگی میں بھی من جانب اللہ خوف و حزن سے بچنے کی خوش خبری ہے*
یہی وجہ ہے کہ حضرت مرحوم اپنی تحریروں اور تقریروں میں بلا خوف لومۃ لائم حق کی آواز کو بڑی بے باکی کے ساتھ؛ امت کی مضبوط نمائندگی کرتے ہوئے بلند کرتے رہے اور حق کو حق اور باطل کو باطل سمجھنے اور اس کے بر ملا اظہار کا فریضہ دو ٹوک انجام دیتے رہے دراصل یہی آپ کی زندگی کا نمایاں وصف تھا جس کی وجہ سے سے قائدین کی صف میں بھی آپ ممتاز مقام پر فائز تھے یہ وصف خاص جہاں آپ کو اپنے والد بزرگوار مولانا سید منت اللہ رحمانی سے ورثہ میں ملا تھا وہیں آیت قرآنی کی روشنی میں کہا جا سکتا ہے کہ ان کے نام *ولی* کا بھی اثر تھا

رحمانی بھی آپ کے نام نامی کا جزو لا ینفک ہے بلکہ کہنا چاہیے کہ آپ کے اسم گرامی مرتبت کا تکمیلی عنصر ہے؛ رحمانی کا معنی و مطلب کون نہیں جانتا! رحمن والا اور رحمن کے معنی ہوتے نہایت شفیق و مہربان اگر غور کریں تو مولانا مرحوم میں اسم رحمن کی تجلی بھی نمایاں تھی گو کہ بسا اوقات اس کے برخلاف بھی بشری تقاضوں کی وجہ سے واقعات کا ظہور ہوتا تھا تاہم مجموعی طور سے آپ کی زندگی کی تمام بہاریں امت پر رحمت و شفقت اور کرم و مہربانی سے عبارت ہے؛ جامعہ رحمانیہ، خانقاہ رحمانی، رحمانی 30،امارت شرعیہ اور مختلف تنظیموں اور بورڈوں سے وابستگی اور ان کی سرپرستی و سربراہی قوم و ملت کے ساتھ جذبات شفقت و ہمدردی اور کرم و مہربانی کی ہی تو کرشمہ سازیاں ہیں

یاد رکھیں کہ جو شخص بھی اللہ اور اس کے رسول فداہ ابی و امی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اپنے دل کے تار کو جوڑ لیتا ہے اور اسے ذکر کی کثرت، طاعت کا دوام اور سنتوں کا اہتمام نصیب ہوجاتا ہے تو وہ اللہ کا ولی بن جاتا ہے اسے دیکھ کر خدا یاد آتا ہے اور اس کی مجلس میں سکون محسوس ہوتا ہے اور پھر یہی ولی جب یاد الھی میں دامن شب کو آنسوؤں کے تاروں سے سجا سنوار کر انجمن بنا لیتا ہے اور خلق خدا کی نفع رسائی کے لیے اپنے آپ کو وقف کر دیتا ہے تو منجانب اللہ قیادت کے اعلی منصب پر فائز ہو کر امیر شریعت، رہبر طریقت اور سید القوم بن جاتا ہے تو یہ ہوئے ہمارے ممدوح سید محمد ولی رحمانی نور اللہ مرقدہ و برد مضجعہ و جعل الجنة مثواه
حضرت مولانا سید محمد ولی رحمانی صاحب کو مدتوں جام و پیمانہ روتے رہیں گے؛ دلوں پر دستک دینے والی آپ کی پکار اور حق کی للکار یاد آتی رہے گی قدر داں عارفين و کاملین کے قلوب آپ کی حسین صورت، پاکیزہ سیرت، عمدہ ودل نشیں خطابت رواں و شگفتہ قلم، بلند ہمتی، عالی حوصلگی اور بے باک قیادت و سیادت کی یادوں سے آباد و معمور رہیں گے
بعد از وفات تربت ما در زمیں مجو
در سینہائے مردم عارف مزار ما ست

Comments are closed.