مسلم نوجوانوں میں فیشن پرستی و مغربی کلچر کا بڑھتا ہوا رجحان : { لمحہ فکریہ }!

 

 

?️: مفتی فہیم الدین رحمانی ۔

میڈیا ترجمان : جمعیت علماء ہند شہرِ لونی

_____====_____

محترم قارئین کرام :

فیشن دور حاضر کا وہ سجاد ھجا نام ہے جس کی آڑ میں ہر طرح کی بےہودگی، کمینگی، بےحیائی، فحاشی، عریانیت، دہریت اور مادیت کو فروغ دیا جارہا ہے ۔ فیشن پرستی کے اس طوفان بلا خیز میں نوجوان نسل اپنے تابناک ماضی کو فراموش کر کے حسن پرستی، غیروں کی نقالی اور اپنی زندہ تابندہ دینی روایات و تہذیب کی دھجیاں اڑاتی نظر آتی ہے ۔ اس کے اندر مزہب سے لاتعلقی اور شریعت کی پابندی سے اعلانیہ بغاوت ٹپکتی ہے ۔ ان کا دل و دماغ مغربیت کے بہاؤ میں بہہ چکا ہے ۔ ان کی زبان پر بھلے ہی محاسن اسلام ہوں لیکن ان کا جسم مکمل طور پر مغربیت کی زد میں ہے ۔ آج ہمارے معاشرے، سماج اور سوسائٹی کے بعض نوجوان اسلامی ثقافت اور تہذیب کو پس پشت ڈالکر فیشن پرستی اور مغرب پرستی کے دلدل میں پھس کر اپنے آپ کو ماڈرن اور تہذیب یافتہ سمجھ رہے ہیں ۔ آج فیشن پرستی کا عام تو یہ ہے کہ لڑکیاں زرق برق لباس میں مکمل لڑکوں والا حلیہ بنائے خود پر فخر محسوس کرتی ہیں ۔ تو وہیں لڑکے ہاتھوں میں کنگن ڈالے کانوں میں بالیاں سجائے، انگلیوں میں چھلے پہنے ہوئے، گردن میں چین لٹکائے عورت کو مات دیتے نظر آتے ہیں ۔ یہ فیشن پرستی اور اسکی نحوست ہی تو ہیکہ انسانی معاشرہ حیوانیت اور درندگی کی راہوں پر گامزن ہے ۔ فیشن پرستی کے نشہ میں چور انسان جہاں غرور و تکبر کی چادر اوڑھے ہوتا ہے وہیں دوسری طرف ڈپریشن، مایوسی، فضول خرچی، آخرت سے بیزاری، خود فراموشی و خدا فراموشی کا عملی نمونہ بھی ہوتا ہے ۔ اس لئے نوجوان نسل کی تباہی پوری قوم کی تباہی ہے ۔ اگر نوجوان نسل بے راہروی کا شکار ہو جائے تو قوم سے راہ راست پر رہنے کی امید ہے کار ہے اس لئے کہ ان کا ” رول ماڈل” نبی اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نہیں بلکہ آج کے یہ فیشن پرست ہیرو، ہیروئین ہیں ۔ انہیں تفریحی مشاغل سے فراغت اور فیشن پرستی سے فرصت ہی نہیں ۔ بس مغربی تہذیب ان کے لئے لائق تقلید ہے ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہم سب کو ان تمام خرافات سے گریز کرنے کی توفیق دے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک ایک سنت پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین ثم آمین یا رب العالمین : ::::::::::::::

Comments are closed.