عظیم روحانی قدروں کا مرکز: خانقاہ رحمانی۔۔۔۔۔۔۔روشن نقوش ،تابناک تاریخ(۲)

٭ تحریر: عین الحق امینی قاسمی

حضرت مولانا سید شاہ لطف اللہ صاحب رحمانی ؒ :خانوادہ مولانا محمد علی مونگیری ؒ کے امتیازی خصوصیات ایسے ہیں جس پر لکھنے کو بہت کچھ ہے،اس خانوادے کا جس طرح ماضی تابناک رہا ہے،بعد کے دنوں کے روشن خدمات وکردارنے حال کو قابل اعتراف بنا کر مستقبل کو بھی پر امید وسہارا بنا دیا ہے،چنانچہ مولانا محمد علی مونگیریؒ کے بعدبھی یکے بعد دیگرے ایک سے بڑھ کر ایک لعل وگہر، رشد وہدایت کے افق پر چمکتے رہے اور خلق خدا کی ایک بڑی تعداد کو علم ومعرفت کا جام پلاکر اللہ اور اس کے رسولﷺ کی راہ دکھلاتے رہے ،انہیں میں سے دوسرے سجادہ نشیں صاحب بصیرت حضرت مولانا سید شاہ لطف اللہ رحمانی ؒ ،قطب عالم حضرت مولانا سید محمد علی مونگیری کے بڑے صاحبزادے تھے، 1927ء سے1942ءتک وہ سجادہ نشیں رہے ۔علم وفکر اور دیدہ وری میں فائق تھے ،سنجیدہ ،متین اور رحم دل انسان تھے ، والد ماجد کی خصوصی تربیت کے نتیجے میں دینی رنگ گہرا چڑھا تھا ،علمی جلالت اوراعتبار ووقار کی حامل شخصیت کے طور پر متعارف تھے ،علوم ظاہری وباطنی اپنے والد ماجد صاحب سے خصوصی طور پر لیا تھا ،وہ ایک اچھے خوش اخلاق عالم دین تھے۔ (م:1942)نے بھی پندرہ سال تک خانقاہ رحمانی کے مزاج وروایات کو من وعن نہ صرف قائم رکھا ، بلکہ خانقاہ رحمانی کے سجادہ نشیں رہ کر ارشاد و تلقین اور بیعت و تربیت کامشغلہ بھی جاری رکھا،دم آخر تک وہ دین وشریعت کی خدمت ،جرئت وعزیمت کے ساتھ کرتے رہے۔ مزید برآں سادگی، بے نفسی اور خورد نوازی وخودداری نے ان کی شخصیت کو پرکشش بنا دیا تھا ۔ خانقاہ رحمانی کا یہ دور یعنی 1927ءسے 1942 کا زمانہ ان کے لئے کافی مصروف ترین تھا ،بلکہ کہہ لیجئے کہ حضرت قطب عالم نے اپنی زندگی کے آخری پڑاؤ میں خانقاہ رحمانی کو جو مقام ،منہج اور اعتبار وقار بخشا تھا اور جس بلندی پر وہ خانقاہ کو چھوڑ کر رخصت ہوگئے تھے ،جملہ خصوصیات کے ساتھ ُاس مرکزیت کو حضرت مولانا سید شاہ لطف اللہ صاحب رحمانی رحمہ اللہ نے نہ صرف اپنی روحانی فہم وبصیرت سے بچاکر رکھا ،بلکہ نئے پرانے حلقوں کو جوڑ کر سلسلة الذھب کی اِس کڑی سے امت کو منتشر ہونے سے بھی محفو ظ رکھا ۔
مولانا کی شخصیت کا ایک باوقارپہلو وہ بھی ہے جب وہ امیر شریعت ثانی حضرت مولانا سید شاہ محی الدین قادریؒ کے انتخابی اجلاس منعقدہ ۸۔۹ ربیع الاول 1334ھ میں بحیثیت صدرتشریف لے گئے اور اہم تاریخی خطبہ دیا تھا ،جس میں انہوں نے علماءکی ذمہ داریاں ،باہمی اختلافات کے نقصانات،جماعتی زندگی کی اہمیت،مسئلہ امارت اور مسلمانوں پر اپنے امیر کی سمع و طاعت جیسے مسائل کو واضح لفظوں میں بیان کر مجمع عام کو ایک امیر کے ماتحت اور ان کے سائے میں زندگی گذارنے کی دعوت دی تھی،بعد کے دنوں میں الحمد للہ جس کے گہرے اثرات محسوس کئے گئے تھے،اس لئے یہاں یہ سمجھ لینا بھی ضروری ہے کہ دیگر خدمات کے علاوہ اُن کی خدمتوں کی یہی پرتیں ،ان کی بہت سی خدمات پر کئی جہتوں سے بھاری ہیں ،اسی لئے ہم فی الوقت حضرت کے تعلق سے یہ کہہ کر آگے بڑھتے ہیں کہ :
تذکرہ میں کیسے کروں تری دانائی کا
میری حد میں نہیں رتبہ تری بالائی کا
……………………………………………………..
٭ ناظم معہد عائشہ الصدیقہ ،رحمانی نگر، کھاتوپور
بیگوسرائے ،

Comments are closed.