آج کا استاد

 

 

آمنہ جبیں( بہاولنگر)

جیسے ہی ذہن میں استاد کا نام گونجتا ہے روح تک سکوں سرائیت کرنے لگتا ہے۔ یوں لگتا ہے کسی ایسی ہستی کا نام لے لیا ہو جس کے بغیر زندگی ادھوری ہے راستے دشوار ہیں ۔جس کے بغیر منزل کا کوئی نشان نہیں کیونکہ استاد روحانی والدین ہیں اسلام نے استاد کو عزت کا جو تاج پہنایا ہے جو سکندری اسلام نے استاد کو دی ہے وہ ناقابل فراموش اور حیران کن ہے ۔کیا ایک استاد کا اس سے بڑا کوئی مقام کوئی اور رتبہ ہو سکتا ہے کہ اس کی نسبت اللہ پاک کے پیارے محبوب حضرت محمد مصطفی صلی اللہ ھو علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ جڑ جاتی ہے ۔ عزت وقار اور مقام کا جو جھنڈا اسلام نے استاد کے ہاتھوں میں تھمایا ہے اسے دیکھ کر عقل دھنگ رہ جاتی ہے۔

 

لیکن بات حیرانگی کی یہ ہے کہ اسلام نے استاد کو اتنا بلند وبالا مرتبہ دیا ہے لیکن کس وجہ سے؟یہ سوچ دماغ کی کھڑکی میں بار بار جھانکتی ہے ۔ کیونکہ آج کا استاد وہ خصوصیات نہیں رکھتا وہ ان جزبوں سے بلکل عاری ہے جو اسے اعلیٰ مرتبے پہ فائز کرتے ہیں ۔ آج استاد کے منہ سے یہ الفاظ سننے کو ملتے ہیں کہ طلباء بہت بدتمیز بداخلاق اور عزت کے دائروں سے نکلے ہوئے زخمی پرندے ہیں ۔ لیکن ماں باپ کے بعد طلباء کے کردار اخلاق اور رویوں کو سنوارنے میں دوسرا ہاتھ استاد کا ہی ہے ۔ جہاں آج ماں باپ بچوں کو اخلاقیات کا درس نہیں دے پا رہے ان کے کردار میں خوشبوؤں کا جام نہیں گھول پا رہے وہیں پہ آج کا استاد بھی اپنی دھن میں مگن کتابوں کے صفحات کو کھنگال کر اپنی تجوری بھر رہا ہے ۔ آج استاد اور شاگرد کا تعلق صرف کتابوں کے ساتھ محدود ہو کر رہ گیا ہے اس کے علاؤہ استاد اور شاگرد کا کوئی واسطہ دور دور تک نظر نہیں آتا ۔سو میں سے چند ایک استاد ایسے ہیں جو نصاب سے ہٹ کر بچوں کے اخلاقیات کو بہتر کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔ یہ بات ایک استاد کے سمجھنے کی ہے کہ استاد اور شاگرد کا تعلق صحرا اور پانی کی مانند ہے ۔استاد جس طرح کے پانی سے اپنے شاگرد کے پیاسے صحرائی دل کو سیراب کرے گا ویسے ہی پھول اور باغات اس دل میں اگتے جائیں گے۔

 

ایک استاد اور شاگرد میں مضبوط اور پختہ تعلق ہونا بہت ضروری ہے ۔سب سے اہم بات ہی استاد اور شاگرد کا آپس میں تعلق اور رشتہ ہے ۔دیکھیے استاد ایک ڈیوٹی آفیسر نہیں ہے وہ ڈیوٹی نہیں نبھاتا بلکہ وہ ایک رشتہ نبھاتا ہے اپنے طلباء کے ساتھ نہ ختم ہونے والا پراسرار، سچا ،کھرا ،محبت والا پیار والا اخلاقیات والا بندھن نبھاتا ہے۔ چاہے پھر وہ سائنس پڑھائے یا انگلش اردو کے قوائد سمجھائے یا اسلام کی زندگی کو دل کے ویران کونے تک پہنچائے استاد سب سے پہلے ایک رشتہ نبھاتا ہے اپنے شاگرد کے ساتھ پھر وہ ڈیوٹی پوری کرتا ہے ۔ اگر استاد اپنے شاگردوں کے ساتھ قائم رشتہ نبھانے میں اس کے اصولوں پر پورا اترنے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔ تو نصاب پڑھانے والی اس کی ڈیوٹی پلک جھپکتے پوری ہو جاتی ہے۔

 

کیونکہ جتنی محنت استاد نصاب کی کتابوں کو سمجھانے سکھانے میں لگاتا ہے اگر اس وقت میں سے آدھا وقت بھی طلباء کے اخلاق سنوارنے ان کو مستقبل کی اخلاقی شمع بنانے میں لگائے تو اخلاقیات کو پا کر طلباء خود بخود نصاب کی کتب کو اپنے اندر ضم کرنے لگتے ہیں۔ اخلاقیات کا سب سے پہلا درس عزت ہے اور جس انسان کی عزت دل کے گوشوں میں سرائیت کر جائے اس کی باتوں کا ٹالنا اس کے حکم کو پورا نہ کرنا ناممکن سی بات لگتی ہے۔جی ہاں اخلاقیات کا درس دے کر استاد کو اپنے لیے وہ عزت کمانی ہے جو صرف اور صرف شاگرد کے دل سے اٹھے اور وہ اس عزت کی لاج رکھنے کو استاد کی پڑھائی جانے والی نصابی کتب کو آسانی سے سمجھ سکے آسانی سے ازبر کر سکے۔ اور معاشرے میں مثبت کردار ادا کرنے کے قابل ہو سکے

 

استاد صرف ایک طالب علم کو پڑھاتا نہیں ہے بلکہ اس کی شخصیت اور اخلاقی رویوں کی تعمیر بھی کرتا ہے۔جی ہاں یہ سچ ہے کہ استاد بچوں کی بدتمیزی بداخلاقی پہ انہیں ڈانٹتے ہیں ۔ ان کو اپنے رویوں کو سہی کرنے کا کہتے تو ہے لیکن وہ اپنے اخلاق کی تعمیر کریں تو کیسے جب استاد کے ہی لفظوں رویوں اور اعمال میں تضاد آ گیا ہے۔جب ایک استاد ایک ادارے میں جاتا ہے تو اس کے طلباء سب سے پہلے استاد کی شخصیت اس کے چال چلن اخلاقی رویوں سے سیکھتے ہیں ۔ اگر میں یہاں یہ بات اس طرح سمجھاؤں کہ فرض کریں کہ کہ ایک استاد بچے کی غلطی پہ غصے میں اس کی سرزنش کرتا ہے تو استاد نے اپنی طرف سے تو اپنا کام پورا کر دیا لیکن اس رویے کا کیا جس میں بچے کو ڈانٹا گیا ہے وہ رویہ بچے کی شخصیت پہ گہرا اثر ڈالے گا اور وہی رویہ اور غصہ استاد کی شخصیت کی عکاسی کرتا ہے۔ جب استاد ہی اپنی شخصیت کے منفی پہلوؤں کو اجاگر کر رہا ہے تو اس کے طلباء کیسے مثبت ہو سکتے ہیں۔ کیونکہ اگر استاد سکھانا چاہتا ہے تو سب سے پہلے اسے اپنی شخصیت اس طرح بنانی ہو گی کہ واقعی وہ لگے کہ وہ کچھ سکھانے کے قابل ہے۔ کورس کی کتابیں پڑھانا کچھ سکھانا یا پڑھانا نہیں ہوتا اصل بات کردار اور اخلاق سازی ہے ۔

 

ایک استاد کی شخصیت سر تا پا ایسی ہونی چاہیے کہ اس کے طلباء اس سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکیں اور وہ اپنے استاد کی شخصیت کے سانچے میں ڈھلنے کی کوشش کریں ۔ دیکھیے کورس کے کونسپٹ کلیر کرنے کو آج کل بہت سے وسائل ہیں وہ کلیر ہو ہی جاتے ہیں۔ لیکن اخلاق اور شخصیت کے کونسپٹ کو کلیر کرنے کے لیے استاد کی شخصیت کا بہتر اور پروقار ہونا ضروری ہے ۔ کچھ وقت کو رک جائیے۔ اپنے پیسے کی تجوری اور ڈیوٹی کی سوچ کو اکھاڑ دیجیے۔ ایک لمحے کو سارے کورس بند کر دیجیے شاگرد کو کچھ نہ پڑھائیں ۔ کچھ وقت کے لیے بس اپنے طلباء کو اخلاقیات کی چند سطریں پڑھا دیجیے ۔ کیونکہ ایک طالب علم استاد کے ہر عمل پہ نظر رکھتا ہے کہ استاد کیسے کھاتا پیتا کیسے اٹھتا بیٹھتا کیا بولتا اور کیا سنتا ہےاسے دیکھ کر سیکھتا ہے۔جب استاد خود کہتا کچھ ہے کرتا کچھ ہے تو طلباء بھی معمولی رویوں کا اظہار کرتے ہیں اور استاد کو استاد سمجھنے کی بجائے اپنے جیسا انسان سمجھ کر بدتمیزی اور بد اخلاقی کی حدیں پار کر دیتے ہیں ۔اور اپنے استاد کی شخصیت کے مطابق اسے عزت اور مقام دیتے ہی ۔

 

ایک استاد پہ بہت بڑی زمہ داری ہوتی ہے ۔ ایک قوم کی تعمیر میں نوجوانوں کا اور نوجوانوں کی تعمیر میں استاد کا ہاتھ ہوتا ہے۔ استاد کو چاہیے اپنے فرض سے اور اپنے عہدے سے منافقت نہ کرے پیسے کے لیے اس شعبے کو مت چنے بلکہ نئی نسل کی بنیاد کو خوبصورت بنانے کے لیے کوشاں رہے اپنے فرض سے اپنے کام سے عشق کرے اور اپنے اس محترم کام کا حق ادا کرے۔

 

میں نے بہت سے کچی بستیوں میں بنے ہوئے سکولوں کے استاد دیکھیں ہیں۔ جو صرف پیسے کی آڑ میں سکولوں کا کالجوں کا رخ کرتے ہیں۔اور بہت سے طلباء اپنی قسمت کو روتے ہوئے شکایت کرتے ہیں کہ ان کے استاد سکول میں سوتے رہتے ہیں موبائل پہ گیمز کھیلتے ہیں ہائے کیا ہو گیا اس دیس کے ساتھ اس کے باسیوں اور مسلمانوں کی ترجیحات اتنی بے معنی کیوں ہو گئیں ۔ آج نبی صلی اللہ ھو علیہ وآلہ وسلم سے نسبت رکھنے والا استاد پیسوں کے لالچ میں اپنی زمہ داری کی حساسیت کو سمجھنے سے قاصر ہے۔ نہیں نہیں ایسا نہ کئجیے معلمی ایک معتبر پیشہ ہے اس میں فرض پورا کرنا اور اس پیشے کا حق ادا کرنا سب سے پہلے ضروری ہے پھر کہیں تنخوا اور پیسے کی بات آتی ہے۔ لیکن افسوس آج پیسوں کی تنخواہ کی طلب استاد کی پہلی ترجیح ہے ۔ سب کو اپنی تجوریاں بھرنے کی فکر ہے۔ اس قوم کو کون سنبھالے گا اگر اس قوم کا استاد ہی بھٹک گیا تو ان معصوم کلیوں کو کون کھلائے گا جو استاد کی نگاہوں کی منتظر کھلنے کو ترس رہی ہیں۔

 

خدارہ ہمیں سمجھنا ہو گا ۔ کہ استاد محظ ایک استاد نہیں ایک عظیم انسان ہوتا ہے ۔ اس پہ عائد ذمہ داری بہت بڑی ہوتی ہے ۔ اسے ایمانت داری دیانت داری اور سچے دل سے اس زمہ داری کو پورا کرنا ہے۔ استاد کو اپنے کام سے وفا کرنی ہے عشق کرنا ہے۔ اپنے اوپر اللہ کی طرف سے عائد کی گئی زمہ داری کا حق ادا کرنا ہے ۔ تاکہ اس قوم کی نوجوان نسل کو اپنے آپ کو تباہی اور اخلاقی پستیوں میں گرنے سے بچا سکے اور اسلام کی لاج قائم رہ سکے ۔

Comments are closed.