عظیم روحانی قدروں کا مرکز: خانقاہ رحمانی۔۔۔۔۔۔۔روشن نقوش ،تابناک تاریخ/قسط/۳

 

✍? :عین الحق امینی قاسمی

امیر شریعت رابع حضرت مولانا سید شاہ منت اللہ صاحب رحمانی ؒ : قطب عالم مولانا محمد علی مونگیری کی چوتھی اولاد ،تیسرے سجادہ نشیں حضرت مولانا سید شاہ منت اللہ صاحب رحمانیؒ 9جمادی الثانی 1332ھ مطابق ۵ مئی 1912ء کوپیدا ہوئے۔ کچھ ہوش سنبھالنے پر اپنے ہی والد ماجد سے دینیات، عربی فارسی تک کی بنیادی تعلیم حاصل کی۔ مزید حصول علم کے لئے 1342ھ میں پہلا تعلیمی سفر حیدرآباد کے لئے کیا۔ بعد میں اعلیٰ تعلیم کے لئے 1925 تا 1928 دارالعلوم ندوة العلماءلکھنو میں قیام فرمایا وہاں سے فراغت کے بعد 1930 میں دارالعلوم دیو بند میں داخلہ لیا اور یہاں کی دینی و علمی فضاءمیں مستقل 1934 تک مقیم رہے۔ اس طرح سے کل 20/22 سال کی قلیل مدت میں آپ نے علوم عالیہ اور آلیہ دونوں طرح کے علوم سے فراغت حاصل کرلی۔
عام طور پر اس وقت ”خانقاہ“ اور ”خانقاہی“ کے لفظ سے خانقاہوں میں پرورش پانے والی موجودہ سرگرمیاں اور خانقاہی کا لفظ بولتے ہی پیر زادہ اور دیگر سجاد گان کا تصور ذہن و دماغ پر چھا جاتا ہے لیکن حضرت امیرشریعت خانقاہ سے جڑے ہوئے ہونے اورپکے خانقاہی ہونے کے باوجود منفرد اور ممتاز شخصیت کے مالک تھے۔ آپ کا تعلق مدارس و مساجد سے بھی تھا اور اسکول و کالج سے بھی جس طرح آپ بیعت و ارشاد سے وابستہ تھے، اسی طرح فقہ و فتاویٰ اور مسلم مسائل سے بھی آپ کو ایک خاص لگاﺅ تھا۔ مکتبوں اور مدرسوں میں بیٹھ کر جس طرح دینیات و احادیث رسول کا درس دیا کرتے تھے، ریاست کی اسمبلی میں بھی آپ کی صدائے حق گونجتی رہتی تھی۔ جس طرح آپ علماءو صلحاءکی علمی و عملی مجلسوں اور نجی میٹنگوں میں تشریف لے جاتے اسی طرح دانشوروں اور عصری اداروں کی صدر نشینی بھی کرتے دیکھائی دیتے تھے۔ آپ صرف جامعہ رحمانی مونگیر کے سرپرست اور خانقاہ رحمانی کے سجادہ نشین ہی نہیں تھے بلکہ آل انڈیا مسلم پرسنل لابورڈ کے بے باک بانی و ترجمان اور امارت شرعیہ بہار و اڑیسہ کے فعال منتظم بھی تھے۔جس طرح ایشیاءکا عظیم ادارہ دارالعلوم دیو بند کی مجلس شوریٰ کی ریڑھ کی ہڈی معتمد خاص، سنجیدہ، باوقار، ذی رائے، حق گو، انصاف پسند اور قابل قدرممبر تھے، اسی طرح آپ عصری و دینی علوم کا واحد ادارہ دارالعلوم ندوة العلماءلکھنوکے فعال و متحرک رکن رکین بھی تھے۔ ملک کے کسی حصے پر کبھی کسی وقت کسی طرح کی بجلی گرتی آپ فوراً اس کا نوٹس لیتے اور ریاست کے متعلقہ افسران و ذمہ داران کےساتھ ساتھ مرکز کے اعلیٰ عہدے داروں تک کی خبر لینے میں کوئی دقیقہ اٹھا نہیں رکھتے۔ جس طرح آپ مسلمانوںکے مسائل کے حل کےلئے سرگرم و کوشاں رہتے، ضرورت پڑنے پر ملت کے تحفظ و بقاءکے حوالے سے بھی آپ بے چین و بے قرار نظر آتے، بالخصوص فسادات کے موقع پر فساد زدگان کی داد رسی اور فریاد رسی کےلئے رات دن ایک کرتے اور حتی الامکان ان کی مدد اور تعاون علی البرّ والتقویٰ کے جذبہ سے سرشار ہوکر جس طرح مسلسل فکر مندرہتے وہ اپنی مثال آپ ہے
پختہ تر ہے گردش پیہم سے جام زندگی
ہے یہی اے بے خبر! راز دوام زندگی

حضرت امیر شریعت رابع ؒکا طریقہ بیعت :
حضرت مولانا سید شاہ لطف اللہ صاحب کے انتقال کے بعد 1942 میں آپ خانقاہ رحمانی کے عظیم المرتبت تیسرے سجادہ نشیں کی حیثیت سے مسند نشیں ہوئے اور پھر اس کے بعد سے مسلسل پچاس سال تک آپ نے بحیثیت پر ومرشد خانقاہ کے نظام کو مرتب فرمایا اور اللہ کے بندوں کو اسم ذات و صفات کی تعلیم دی اور تصوف وسلوک کی راہ سے گذار کر لاکھوں جویائے حق ومعرفت کو کندن بنانے کا کام کیا اور آج تک اس کا فیضان جاری و سا ری ہے ۔ مولانا منت اللہ رحمانی نے نقشبندیہ سلسلے سے لوگوں کی روحانی تربیت کا کام شروع فرمایا ،وہ اپنے والد مولانا محمد علی مونگیری کے دست گرفتہ تھے اور انہیں سے خلافت واجازت بیعت بھی حاصل تھی،مولانا منت اللہ رحمانی کے دست حق پرست پر تقریبا سولہ لاکھ لوگوں نے اپنے گناہوں سے توبہ کی اورمابقیہ زندگی کو اپنے رب کی خوشنودی کے ساتھ گذارنے کا عہد وپیماں کیا ۔
حضرت امیر شریعت کا معمول رہا کہ عام طور پر بیعت توبہ کراتے تھے ،کلمہ طیبہ کی تلقین اور اقرار رسالت کے ساتھ تعلیمات نبوی ﷺ پر عمل پیرا ہونے کی ہدایت کرتے اور سماجی واخلاقی برائیوں سے ہمیشہ کے لئے عہد کراتے تھے۔ ایک جگہ حضرت امیر شریعت ؒ ،ایک سوال کے جواب میں اپنے طریقہ بیعت پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھتے ہیں :
” عام طور پر بیعت توبہ کراتا ہوں اور سب سے پہلے کلمہ کی تلقین ،اس کے بعد رسول اللہ ﷺ اور ماجاءبہ لنبی ﷺپر ایمان کا اقرار،اس کے بعد تمام برائیوں بالخصوص شرک وبد عات سے اور اللہ کی نافرمانیوں سے توبہ ،پھر ارکان اربع پر عمل کرنے اور منہیات اربع ( چوری ،جھوٹ ،بدکاری،شراب نوشی ) سے مکمل پرہیز کا اقرار ،آخر میں جس سلسلے میں بیعت لی جارہی ہے اس کانام اور دعائے استقامت اور مغفرت“(امیر شریعت مولانا منت اللہ رحمانی،ص:241 )

جامعہ کی نشآة ثانیہ:
حضرت امیر شریعت مولانا منت اللہ رحمانی ؒکی زندگی کی مختلف جہتیں ہیں ،اُن جہتوں میں دینی،تعلیمی ،سماجی ،اصلاحی اور سیاسی خدمات کی پرتَیں کا فی دبیز ہیں ،،مولانا منت اللہ رحمانی نے اپنی سجادہ نشینی کے بعد تعلیم کے لئے اپنے والد محترم کے ہاتھوں قائم ادارہ جامعہ رحمانی (قائم شدہ 1927 جو1934 تک بالکل بند ہوگیا تھا)کو ازسر نو 1942ءمیں زندہ کیا،مسند سنبھالتے ہی انہوں نے تعلیم کی طرف خاصی توجہ دی ،گویا خانقاہوں میں تزکیہ کایہ کام اُن کی نظر میں تعلیم کے ساتھ ہی ضر وری تھا، اسی لئے وقتی دشواری کے باوجود انہوں نے خانقاہ کے احاطے میں ہی تعلیمی نظام کو 2942ءسے1959تک جاری رکھا اور پہلے ناظم کے طور پر مولانا محمد عارف رحمانی ؒ فاضل دارالعلوم دیوبند کو منتخب فرماکراس جد وجہد سے اُسے دوبارہ کھڑا کیا کہ آج وہ ادارہ جامعہ رحمانی کی شکل میں شجر سایہ دار بن کر ممتاز مقام حاصل کرچکا ہے ۔اس جامعہ سے آپ کو اس درجہ قلبی لگاؤ اور دارین میں کامیابی پر اتنا اطمینان تھا کہ ایک موقع سے آپ نے فرمایا : کل قیامت کے روز اللہ مجھ سے پوچھے گا کہ منت اللہ دنیا سے کیا لائے ہو ؟ تو میں عرض کروں گا ” جامعہ رحمانی “مفتی نوید اقبال رحمانی صاحب زید مجدہ، مرتب وجامع ”مکتوبات رحمانی “کے نام ایک خط میں امیر شریعت سابع مولانا محمد ولی رحمانیؒ ،جامعہ رحمانی کی ابتدائی حالت پر کچھ اس طر ح روشنی ڈالتے ہوئے لکھتے ہیں: جامعہ رحمانی کے بانی حضرت مونگیری ہیں ،خانقاہ رحمانی کے اتری حصے میں (جہاں اساتذہ کے کوارٹر بنے ہیں اور نئی تعلیم گاہ کی عمارت بننے والی ہے) جو زمین ہے اس پر ایک عمارت 34 کمروں کی تھی،یہ خانقاہ کا حصہ تھی اور ہے،اسی میں جامعہ رحمانی کی ابتدا ہوئی ،حضرت مولانا عبد الصمد رحمانی اس کے بالکل ابتدائی دور کے اساتذہ میں تھے،،انہوں نے اس عمارت میں 1929 ءتک پڑھایا ،پھر وہ خانقاہ سے چلے گئے،1934ءکے زلزلے میں وہ پوری عمارت شکست وریخت کا نشان بن گئی اور صرف پانچ کمرے رہ گئے ،میں نے وہ پانچ کمروں کی عمارت دیکھی ہے یہ زمین اور یہ عمارت اصل میں وقف برائے امور تعلیم ہے،یہ ہماری منجھلی دادی جو عالمہ تھیں کے پیسے سے خریدی گئی تھی اور ان کی منشاءکے مطابق حضرت مونگیری ؒنے اسے وقف برائے امور تعلیم کیا اور اسی میں جامعہ رحمانی قائم فرمایا ،اب وہاں اساتذہکے کوار ٹر ہیں جو حال کے تین برسوں میں بنے ہیں اور نئی تعلیم گاہ کا کام بھی ان شاءاللہ دو ماہ میں شروع ہوگا ( دنش گاہ کے نام سے چھ منزلہ عمارت بن کر تیار ہوچکی ہے اور بحسن وخوبی تعلیمی نظام جاری ہے، الحمد للہ )چاہتا ہوں کہ وہ پوری زمین جو اصلاً وقف برائے امور تعلیم ہے ،تعلیمی مقاصد کے لئے کام میں آئے،اس لئے ارادہ ہے کہ اساتذہ جامعہ کے کوارٹر (سولہ عدد) بیس درسگاہیں،لیب ،اور مناسب لائبریری بنادی جائے ( بحوالہ دیار مرشد میں چند روز،ص: 40/41)

تبدیلیاں ہمیشہ دبے پاؤں آتی ہیں:
سیاسی اور سماجی سطح پر بھی آپ نے براہ راست سماج کے بیچ جا کر نہ صرف ان کو مذہبی و سماجی ضرورتوں کا احساس کرایا ،بلکہ ایک مسیحا اور فرستادہ کے طور پر جوکھموں کے بیچ کمزور وں اور غریبوں کی مدد کے لئے بھی سامنے آئے ، ارباب سیاست کو خطوط لکھے اور ضرورت پڑی تواُن سیاست دانوں سے آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دوٹوک لہجے میں گفتگو فرمائی اور مسائل کو حل کرنے میں تاریخی رول ادا کیا ۔ حوصلوں کے ساتھ ذیل میں ایک جھلک اُن خدمات وکرادار کو بھی پڑھئے !جسے حافظ محمد امتیاز رحمانی صاحب نے( جو خانقاہ رحمانی میں نشر واشاعت کے سکریٹری ہیں اورحضرت امیر شریعت رابعؒ کے تحریری خطبات کے مجموعہ کو ’ ’ نقوش تاباں “کے نام سے )کافی محنت اورسلیقے سے ترتیب بھی دیا ہے ،اُس دستاویزی مجموعے میں مذکور ایک اقتباس سے حضرت امیر شریعت کی دور اندیشی اور ملت کے تئیں اُن کی بے چینی کو صاف صاف محسوس کیا جا سکتا ہے:
”قوموں کی تاریخ بتا تی ہے کہ ان کے ذہنوں میں تبدیلیاں ہمیشہ دبے پاو¿ں آتی ہیں اور پچاسوں برس بعد اس کے نتائج سامنے آتے ہیں ،عام طور پر جس چیز کو لوگ انقلاب کہتے ہیں وہ انقلاب کے مظاہر ہوتے ہیںجو بہت بعد کو سامنے آتے ہیں ،ذہین اور زندہ امت کا فرض ہے کہ وہ ہمیشہ چوکنا رہے اور ان عوامل ومؤثرات پر نگاہ رکھے جو ابھی معمولی محسوس ہوں،لیکن برسہا برس کے بعد ہماری اجتماعی زندگی کو کسی عظیم تبدیلی سے دوچار کرنے والے ہوں ،اگر ابتدائی حالات میں ان عوامل موثرات پر نگاہ نہیں رکھی گئی اور امت کا ذہن آنے والے حالات کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار نہیں کیا گیا تو وقت آنے پر سوائے کف افسوس ملنے کے اور کوئی حاصل نہیں ہوگا اور آنے والی تبدیلی کے طوفان کو پھر روکا نہیں جا سکے گا “(نقوش تاباں ،ص:36)
حضرت امیر شریعت ؒ کو فرقہ پرستوں سے جو خدشہ تھا اور جن خطروں کی نشاندہی انہوں نے بہت پہلے کی تھی، وہ سارے خدشات وخطرات موجودہ ماحول میں حرف بحرف صحیح ثابت ہورہے ہیں ،مسلمانوں میں عدم تحفظ کا احساس کا معاملہ ہو ،نوکریوں سے بے دخلی ،روزگار سے دور رکھنے،یا تعلیم کا بھگوا کرن کرنے جیسے مسائل ہوں یا ہندو مسلمانوں کے بیچ کھائی پیدا کر کے مسلمانوں کی زمین تنگ کردینے کی بات ہو ،ہر جگہ اور ہر شعبہ زندگی کو اٹھا کر دیکھ لیجئے آج مسلمانوں کے ساتھ جو ہورہا ہے اُس سے نہ صرف فرقہ پرستوں کے ناپاک منصوبوں کی حقیقت ابھر رہی ہے ،بلکہ حضرت امیر شریعت ؒنے جس تبدیلی اور ملک میں فکری آوارگی پر قابو پانے کی حکمت عملی بتلائی ہے اس سے ان کی بے چینی اورہوا کے رُخ کو بھانپ لینے کے فہم وتدبرکا بھی بخوبی اندازہ ہوتا ہے۔
اللہ کے شیروں کو آتی نہیں روباہی:
جب ۵۳۹۱ءحضرت مولانا ابو المحاسن محمد سجاد علیہ الرحمہ نے صوبہ بہار میں مسلم انڈیپنڈینٹ پارٹی قائم کی تو آپ نے1935ءمیں اسی پارٹی کے ٹکٹ پر الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا اور ایسی شاندار کامیابی درج کرائی کہ مخالف امیدواروں کی ضمانت تک ضبط ہوگئی ،بہار اسمبلی میں آپ کی مضبوط نمائندگی 1936ءسے1938 ءتک رہی ،مگر اس درمیان آن رکارڈ آپ کی جو تقریریں دستیاب ہوسکیں وہ بہت محدود ہے ،لیکن اُس کمیت کے باجود آپ کے سیاسی ،سماجی اور قومی افکار کا زبردست اندازہ ہوتا ہے اور وہاں بھی آپ نے مرعوب ہوئے بغیر حکمراں جماعت کے پسینے چھڑانے اوراُنہیں اُن کے جغرافیہ علم کا احساس کرانے میں اپنی بھر پور صلاحیت کا استعمال کیا ہے،بتے دنوں کے ساتھ آج بھی اُن خطبات کی قانونی و تاریخی معنویت قائم ہے ،بالخصوص زرعی زمین پر ٹیکس کے معاملے میں جب ایڈووکیٹ جنرل حکومت بہار مسٹر بلدیو سہائے نے مسلمانوں سے یہ کہتے ہوئے چیلنج کیا کہ قرآن مجید اور حدیث میں یہ کہیں نہیں لکھا ہے کہ اوقاف پر تیکس لگانا غلط ہے ،حالاںکہ اسلامی اوقاف پر خمس کی شکل میں ٹیکس لگایاجاتا تھا ،یہ اسلامی ٹیکس ہی تو ہے جو اوقاف سے وصول کیا جاتا تھا ۔ اِس پرحضرت امیر شریعت ؒنے جو نپا تلا بلکہ جچا تلا دوٹوک علمی جواب دیا ہے وہ پڑھنے کی چیز ہے ۔ ا س سلسلے کی مزید تفصیلات کومشہور قلم کار ،دفتر آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نئی دہلی کے آفس سکریٹری جناب ڈاکٹر محمد وقار الدین لطیفی ندوی زید مجدہ نے اپنی مایہ ناز کتاب ”سوانح حضرت امیر شریعت “ میں بہت ہی خوبصورتی کے ساتھ پیش کیا ہے ،ایک جگہ وہ لکھتے ہیں:
میں ادب کے ساتھ ایڈووکیٹ صاحب کی خدمت میںعرض کرنا چاہتا ہوںکہ مجھ کو ان کی تقریر سے سخت حیرت ہوئی ،میں سمجھتا تھا کہ ان کو اپنی ذمہ داری کا احساس ہوگا،،لیکن تعجب ہے کہ حکومت کا اتنا بڑا ذمہ دار انسان اسمبلی میں اس قدر غیر ذمہ دارانہ تقریر کرسکتا ہے،مجھ کو معلوم نہیں ہے کہ انہوں نے قرآن پڑھا ہے یا نہیں،یا اس کا ترجمہ دیکھنے کی بھی تکلیف فرمائی یا نہیں اگر انہوں نے قرآن پڑھا ہے تو میں کہوں گا کہ وہ اس کا دوبارہ مطالعہ کریں،کیوں کہ ان کی تقریر سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ قرآن مجید کو نہین سمجھے،اور انہیں اسلامی قوانین کی بالکل بھی خبر نہیں ہے کہ اسلامی قوانین کی بنیاد کن چیزوں پر ہے
ایڈووکیٹ جنرل کو چاہئے تھا کہ وہ حکومت کو مشورہ دیتے کہ وقف پر ٹیکس لگانے کا تعلق مسلمانوں کے مذہب سے ہے،لہذا اس کو صوبہ بہار کی مذہبی جماعت امارت شرعیہ یا جمعیة علماءسے باضابطہ دریافت کیا جائے اور دریافت کرنے کے بعد اسلامی قانون اسمبلی میں بیان فرماتے،لیکن صحیح علم حاصل کئے بغیر اسلامی قانون کو غلط طریقے پر اسمبلی میں بیان کرنا ناجائز ونامناسب جرئت وجسارت ہے،یہ درست ہے کہ ایڈووکیٹ صاحب نوکر شاہی حکومت کے قانون کے سب سے بڑے ماہر ہیں ،لیکن انہیں اسلامی قانون کی واقفیت نہیں ہے ،اس لئے نہ ان کو حق ہے اور نہ ان کے لئے مناسب ہے کہ اسلامی مسائل پرفتوی دیں۔(از:سوانح حضرت امیر شریعت )
اسی طرح ایک موقع تھا جب بنگلہ دیش ،مکتی واہنی کے سہارے اپنی آزادی کےلئے جد وجہد کررہا تھا ، وہیںمکتی واہنی کے نام پر ہندی فوج ،پاکستان سے اپنی پرانی رنجش کا بدلہ سدھار ہی تھی،تب بنگلہ دیش کی یک طرفہ حمایت میں اس وقت کے وزیر اعظم شری جے پرکاش نارائن نے بنگالی برادارن کے تعاون کے نام پر دراصل اپنی حکومت کی حمایت کے لئے حضرت امیر شریعت ؒ کو ایک خط لکھا،تاکہ اُن جیسے رہنماوں کا سپورٹ ہندی فوج کو مزید اُتپات مچانے کے لئے جواز فراہم کر سکے،مگر امیر شریعت ” اتقوا فراست المومن فانہ ینظر بنور اللہ “ کی عملی تفسیر تھے وہ کہاںدھوکہ کھانے والے تھے چنانچہ انہوں نے حالات کی نزاکت کو بھانپتے ہوئے بے لاگ ولپیٹ وزیر اعظم کو نہ صرف خط کا دوٹوک جواب عنایت کیا بلکہ ایک ذمہ دار شہری ہونے کے ناطے اپنا فرض نبھاکر حکومت کو پائدار اور ملکی مفاد میںکامیاب مشورہ بھی دیا، انہوں نے لکھا کہ : ” انسانی برادری کو اس مسئلے میں نہ الجھا ئیں،انسانی برادی ایک سماجی اور اصلاحی ادارہ ہے،سیاسی نہیںاور بنگلہ دیش کا مطالبہ صحیح ہے یا غلط اور حکومت ہند اسے تسلیم کرے یا نہیں ،ایک خالص سیاسی مسئلہ ہے ،اس لئے بنگلہ دیش کی حمایت میں کچھ کہنا انسانی برادری کے موضوع سے باہر کی بات ہے انسانی برادری کو دوسرے ممالک کے مسائل اور بنگلہ دیش کی حمایت سے توجہ ہٹا کر ہندوستان کے مسائل کی طرف توجہ دینی چاہئے“(از: سوانح حضرت امیر شریعت ، مطبوعہ مجلس گیارہ ستارے انڈیا)
(جاری)

……………………………………………………
رابطہ:
ناظم معہد عائشہ الصدیقہ ،رحمانی نگر ،کھاتوپور۔بیگوسرائے

Comments are closed.