"مزدور ، مستری اور ٹھیکیدار”

 

 

مکرمہ ذوالفقار (سیالکوٹ)

 

عنوان کو پڑھ کر یقیناً آپ کے اذہان تعمیراتی شعبہ کی جانب ہی مبذول ہوئے ہوں گے۔ مگر نہیں میرا آج کا موضوع تعمیراتی شعبہ نہیں بلکہ میں قوم کے مزدور، مستری اور ٹھیکیدار کی بات کررہی ہوں۔شاعر لکھتے ہیں:

 

شیخِ مکتب ہے اک عمارت گر

جس کی صنعت ہے روحِ انسانی

 

ہماری قوم کا المیہ یہ ہے کہ جس طرح ہر چوراہے پر ہمیں محنت کش طبقہ مزدوروں کا نظر آتا ہے بالکل یوں ہی ہر گلی محلے میں ہمیں ایک استاد لازم ملے گا۔بلکہ ایک ایک گلی میں اب چار سے پانچ استاد بھی با آسانی دستیاب ہیں۔

مگر ان کی تعلیمی قابلیت بالکل اسی طرح ہے جس طرح سے مزدور کی صلاحیت ہوتی ہے۔

جس طرح ایک مزدور سارا دن مرمت، ٹھکائی اور توڑ جوڑ والے کام سر انجام دینے کے بعد مزدوری کے لیے منت سماجت کرتا ہے اسی انداز سے اب استاد بھی اپنا جائز معاوضہ وصول کرنے کے لیے والدین اور بچوں کی سماجت کرتے نظر آتے ہیں۔

ہاں استاد ہونا کہاں آسان ہے۔بات یہاں کب ختم ہوتی ہے۔ استاد کے مرتبے کی بات کی جائے تو آج یعنی دور حاضر میں چنیدہ طالب علم ہی باقی ہیں جو شعور رکھتے ہیں۔ان کے علاوہ سب اسی گدھے کی مانند ہیں کہ جس پر روزانہ کتب رکھ کر اس کو ہانکا جاتا ہے۔اب آپ ہی بتائیے کیا گدھے پر کتب لادنے سے گدھا پڑھا لکھا ہو جایے گا؟ نہیں ناں۔۔!

اس دور کے طالب علم بھی یہی سمجھتے ہیں کہ اس مزدور کو ہم نے پیسے دینے ہیں اور اس معاوضہ کے عوض ہم نے ان سے ان کی عزت نفس بھی خرید لی ہے۔

یہ تو تھی استاد ارے معذرت! قوم کے مزدور کی بات جو اس قوم کی نئی نسل کو پروان چڑھانے میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔عنوان کے مطابق اب بات کریں گے مستری کی۔ مستری یعنی اساتذہ کا وہ طبقہ جو مزدور سے قدرے زیادہ با صلاحیت ہوتا ہے۔ جی میں یہاں ان اساتذہ کی ہی بات کررہی ہوں جو ہماری قوم کے بڑے مجاہدوں کو تربیتی نشست سے نوازتے ہیں۔مطلب ہائی سٹینڈرڈ کے ٹیچر جو بورڈ کے امتحانات میں شاندار کارکردگی دکھانے کے لیے بچوں کو اپنے تجربے کی بناء پر تیار کررہے ہیں۔اساتذہ کا یہ طبقہ اول الذکر سے قدرے زیادہ عزت و تکریم سے نوازا جاتا ہے۔لیکن یاد رہے اس کی بھی اجرت بیچارے کو یوں ہی منت سماجت سے ہی نوازی جاتی ہے ظاہر ہے اب گھر کا راشن، بجلی کا بل، گیس کا بل، پانی کا بل، کیبل کا کرایہ، انٹرنیٹ کا پیکج اور کچھ ذاتی خریداری کے بعد اگر ماہانہ بجٹ صحیح رہا تبھی اس کو پیسے ملیں گے ناں۔۔۔ ورنہ کوئی بات نہیں ماہ کے آخر میں ہی سہی!

تب تک گھسیٹا جا سکتا ہے۔ مستری صاحب اگرچہ رعب و دبدبے کے مالک ہوتے ہیں اس لیے اپنی اجرت کے لیے مالکان سے خود کبھی رابطہ نہیں کرتے بس التجا کرکے صبر کا میٹھا پھل منہ میں رکھتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ اکثر و بیشتر طلبہ و طالبات اور ان کے والدین کی کاوش ہوتی ہے کہ تعلیمی سال کے اختتامی ماہ کی اجرت کو ہضم کر لیا جائے تاکہ نتیجہ اچھا آنے کی صورت میں مٹھائی کا ڈبہ استاد کو تھما کر احسان جتایا جا سکے کہ ہم بہت مہذب لوگ ہیں۔

خیر خصائص تو اور بھی بہت ہیں اس معاشرے کے مگر اب بڑھتے ہیں اپنے اگلے عنوان کی جانب جی ہاں اب بات کی جائے گی "ٹھیکیدار” کی۔

ہمارے تعلیمی نظام میں ٹھیکیدار وہ شخص ہے جو اپنے ہوادار کمرے میں خوبصورت میز کے سامنے پرسکون کرسی پر سوٹ پہن کر کسٹمر کے لیے شہد رکھے ہوئے اور مزدوروں کے حق میں قصائی کا کردار ادا کررہا ہوتا ہے۔ جس کی زبان کی چاشنی اور ہر دوسرے روز اک نئے مزدور کی تلاش والی عقابی نگاہیں اسے لاکھوں میں پہنچا چکی ہوتی ہیں۔ یہ جدید دور کے نئے روپ میں ایسے سرمایہ دار ہیں کہ جو اپنی دولت کے عوض مزدوروں سے اور حتیٰ کہ قابل مستریوں سے بھی ان کا خون پسینہ مانگتے ہیں۔ اگرچہ بہترین استاد وہی ہے جو اپنے طالب علم کو پوری لگن اور دلجوئی کے ساتھ پڑھائے اور ایک بہترین انسان بنائے۔ مگر اس تعمیراتی، سرمایہ دارانہ نظام تعلیم سے مستقبل میں قوم کے باصلاحیت افراد کم اور مزدور، بے روزگار، پڑھے لکھے جاہل، کند ذہن، پڑھے لکھے مجرم اور نا اہل سیاستدانوں کی تعداد زیادہ ہو گی۔

اس لیے ہمیں چاہیے کہ استاد کو استاد سمجھیں اور اس کی عزت کے ساتھ ساتھ اس کا ادب کرنا بھی سیکھیں۔ معلم کوئی مزدور، مستری یا آپ کا ملازم نہیں ہوتا بلکہ آپ کو شناخت دینے والا روحانی باپ ہوتا ہے۔نبی آخر الزماں حضرت محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

"جو شخص ہمارے بڑوں کی عزت نہ کرے،ہمارے چھوٹوں پر رحم نہ کرے اور ہمارے عالم کا حق نہ پہنچائے وہ میری امت میں سے نہیں۔” (بحوالہ: مجمع الزوائد لل طبرانی)

علم حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے ہم سب اس فرض سے شناسائی تو حاصل کر چکے ہیں۔ لیکن کیا ہم اس علم پر عمل پیرا بھی ہیں؟ یا کیا ہم اس علم کی روشنی سے اپنی زندگی سے جہالت کے اندھیروں کو دور کر سکے؟ کیا وجہ ہے کہ تعلیم کی اہمیت تو بڑھتی جارہی ہے مگر ادب ہماری نسلوں سے ختم ہوتا جارہا ہے۔۔۔؟

اگر ہم چاہتے ہیں کہ مستقبل میں ہمیں چور حکمرانوں سے، جہالت سے اور اس عالمِ نفسانفسی سے نجات مل جائے تو سب سے پہلے ہمیں اسلامی تعلیمات پر عمل کرنا ہوگا اور اپنے محسن اپنے معمار اور اپنے باپ یعنی استاد کا احترام کرنا سیکھنا ہوگا۔ وہی قومیں کامیاب ہیں جن کا معیار تعلیم کتابوں سے استفادہ کرنے اور اساتذہ سے سیکھنے پر منحصر ہے نہ کہ نمبروں اور رٹے کی ریس میں گدھوں کی طرح سے ہانکتے ہی چلے جانا۔

رب العالمین سے دعا ہے کہ وہ مجھ سمیت سب کو صراط مستقیم پر چلائے اور ہمارے ملک پر اپنا کرم کرے۔ آمین یارب العالمین۔

Comments are closed.