صاحب ”الیانع الجنی“ کے دیار میں! شیخ محسن بن یحیی ترہتی: حیات و خدمات! (پہلی قسط)

 

لقمان عثمانی

چمنستانِ علم و فضل پر غائرانہ نگاہ ڈالی جائے تو ان میں کتنے ہی ایسے گلہائے سرسبد آنکھوں کو نور و نکہت اور دل کو سرور و فرحت کا سامان مہیا کرتے نظر آئینگے جو صدیوں سے بلندی کے ہمالے پر کِھلے ہوئے ہیں اورجن کی خوشبوؤں سے آج بھی ایک دنیا فیض یاب ہو رہی ہے ـ اس حوالے سے ہمارا ملک بڑا خوش قسمت واقع ہوا ہے جہاں کتنے ہی ایسے کارواں گزرے جو آج بھی آسمانِ علم و فضل پر کہکشاں بن کر چمک رہے ہیں، اس دھرتی نے کتنی ہی ایسی ہستیوں کو جنم دیا جنہوں نے اپنی علمیت کے آگے پوری دنیا کو چشمِ اعتراف خم کرنے پر مجبور کردیا اور جنہوں نے کتنے ہی ایسے علمی کارنامے انجام دیے جن کی کہیں نظیر نہیں ملتی؛ گویا علم و حکمت کا جو چشمہ مدینہ منورہ سے پھوٹا تھا وہ خراسان و ماوراء النہر ہوتے ہوئے ملتان اور لاہور کے راستے سے دہلی تک پہنچا اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے پورے ہندوستان میں جاری ہوگیا؛ چناں چہ کبھی دہلی علم کا مرکز رہا تو کبھی جونپور نے اس کی باگ ڈور سنبھالی، کبھی لکھنؤ نے اس فریضے کو انجام دیا تو کبھی یہ خوش بختی بہار کے حصے میں آئی اور عہد بہ عہد علمی جولان گاہوں میں وسعت کے ساتھ ساتھ خدمات کا دائرہ بھی وسیع تر ہوتا گیا ـ
ہندوستان کے صوبہ بہار میں واقع سرزمین بیگوسرائے بھی اس حوالے سے بڑی زرخیز رہی ہے؛ چناں چہ اس دھرتی نے ایسے ایسے سپوتوں کو جنم دیا ہے جنہوں نے ہر محاذ پر نمایاں کارنامے انجام دیے اور جو در حقیقت ”در کفے جامِ شریعت و در کفے سندانِ عشق“ کے حقیقی مصداق تھے؛ لیکن ان میں سب سے نمایاں ترین نام عالمِ نبیل، محدثِ جلیل، ماہرِ اسماءالرجال علامہ شیخ محسن بن یحی ترہتی رح (صاحبِ ”الیانع الجنی فی اسانید الشیخ عبدالغنی“) کا ہے جو ہندوستان کے چوٹی کے علما میں سے ایک تھے اور جن کا تعلق شہر بیگوسرائے کی علمی و روحانی بستی خضرچک سے تھا ـ
میں نے شیخ محسن رح کا نام اور انکی خدمات کا تذکرہ سب سے پہلے مشفق و مکرم حضرت مفتی محمد خالد حسین نیموی قاسمی (سابق معین مدرس دارالعلوم دیوبند) سے سنا اور اسکے بعد دارالعلوم دیوبند میں دورانِ تعلیم اساتذۂ گرامی قدر حضرت مفتی ابوالقاسم نعمانی اور مفتی سعید احمد پالنپوری رح وغیرہ سے بھی بارہا سنتا اور دل میں حد درجہ فرحت و انبساط کی کیفیت محسوس کرتا کہ جس شخصیت کے حوالے دیے جا رہے ہیں وہ ہماری ہی سرزمین کے قابلِ فخر سپوت تھے؛ لیکن ساتھ ہی اپنی اس محرومیت پر کفِ افسوس بھی ملتا کہ اسی شہر میں بہت ہی معمولی فاصلے پر رہنے کے باوجود بھی کبھی اس بستی میں حاضری کا موقع نصیب نہیں ہوسکا جہاں شیخ محسن شب تاب کرنوں کی طرح طلوع ہوئے تھے، جہاں کی فضائیں کبھی شیخ کے انفاس سے معطر تھیں، جہاں شیخ نے اپنی پاک ہستی پر عظمتوں کی شاہراہ تعمیر کرنے کی ابتدا کی تھی اور جہاں انہوں نے ایک عظیم الشان لائبریری کو بھی وسعت بخشی تھی جس میں کتابوں کا ایسا نایاب ذخیرہ تھا جو ہندوستان میں کسی شخص کو تو درکنار، کسی ادارے کو بھی شاید ہی میسر ہو، یہی وجہ ہے وہ لائبریری مولانا مناظر احسن گیلانی رح اور علامہ سید سلیمان ندوی رح جیسے کتنے ہی نابغۂ روزگار ہستیوں کا مستقر اور علمی و تحقیقی کاموں کے حوالے سے انکی توجہات و ترجیحات کا مرکز تھی اور اکثر ریسرچ و تحقیق کی غرض سے یہ حضرات وہاں تشریف لے جایا کرتے تھے؛ چناں چہ اس لائبریری سے متعلق حضرت مولانا سید منت اللہ رحمانی رح مکاتیبِ گیلانی میں رقم طراز ہیں:
”حجاز کے کتب خانوں میں جو نایاب کتابیں تھیں انکی نقلیں کرائیں اور مطبوعہ کتابیں بازار سے لیں اور جب ہندوستان واپس آئے تو قیمتی کتب خانہ اپنے ساتھ لائے جسے اپنے مکان واقع خضر چک میں مرتب کیا اور سجایا ـ ایک روایت کے مطابق کتب خانہ میں کتابوں کی تعداد تقریبا تیس ہزار تھی، تعداد جو کچھ بھی ہو لیکن کتب خانہ وسیع اور قیمتی تھا ـ خصوصا فن حدیث کا بہترین اور متداول اور نایاب ذخیرہ یہاں موجود تھا“ (مکاتیبِ گیلانی، ص: 374)
لیکن مرورِ ایام کی ستم ریزی کہیے یا اغیار کی ریشہ دوانیوں کی نتیجہ خیزی جانیے کہ سنہ 1900ء میں چند اختلافات کی بنیاد پر ہندؤوں نے خضرچک پر حملہ کردیا تھا جس کے نتیجے میں کتابیں بھی دریا برد کردیں، باغات بھی نذرِ آتش کردیے اور درختیوں کو بھی کاٹ دیا؛ تاہم تقریبا پانچ ہزار کتابیں رہ گئی تھیں جن سے لوگ استفادہ کرنے کیلیے میلوں کا سفر طے کرکے حاضر ہوا کرتے تھے ـ
بہر حال جوں جوں اس علمی و روحانی و تاریخی بستی سے واقفیت بڑھتی اور حضرت شیخ محسن رح کی حیات و خدمات سے آشنائی ہوتی گئی توں توں ہمارے نہاں خانۂ دل میں اک ہلچل سی مچنے لگی اور جذبات کے سمندر میں شوقِ سفر کا طوفان برپا ہونے لگا؛ چناں چہ 8 فروری 2021 کی وہ پر بہار صبح تھی جب ہمیں مفتی محمد خالد حسین نیموی قاسمی جیسی شخصیت کی امارت اور مولانا صابر نظامی قاسمی اور مفتی عین الحق امینی قاسمی جیسی ہستیوں کی مصاحبت میں خضرچک جانے کا مژدۂ جاں فزا سنایا؛ تا آں کہ ہم اگلے دن ہی خضرچک کی آغوش میں تھے ـ
خضرچک، بیگوسرائے کی ایک علمی و روحانی اور تاریخی بستی ہے جو بالان ندی کے کنارے واقع ہے، اس کی اہمیت و تاریخی حیثیت بیان کرنے کیلیے یہی کیا کم ہے کہ شیخ محسن بن یحیی ترہتی رح کا تعلق اسی بستی سے تھا ـ خضرچک میں ہی شیخ محسن رح نے 1870ء میں ”جامعہ شیخ محسن خضرچک“ کے نام سے ایک دینی ادارہ بھی قائم کیا تھا جو ہندو مسلم فسادات و دیگر وجوہات کی بنا پر سست روی کا شکار ہوگیا تھا؛ جس کے تنِ مردہ میں روح ڈالنے اور اسکی نشأۃ ثانیہ کا کام 2018ء میں انہیں کے خانوادے کے چشم و چراغ سید مصباح الدین اشرف صاحب نے مفتی خالد حسین نیموی کی نگرانی و رہنمائی میں انجام دیا اور ساتھ ہی پرانی مسجد کو شہید کرکے ایک نئی عالی شان مسجد بھی تعمیر کرائی، جہاں پہنچ کر عہدِ رفتہ کے نقوش یاد آنے لگتے ہیں اور جسے دیکھ کر دل کے احساسات زبان پر مچلنے لگتے ہیں کہ:
دو چار امیدوں کے دیے اب بھی ہیں روشن
ماضی کی حویلی ابھی ویران نہیں ہے!

جاری…….

Comments are closed.