صاحب ”الیانع الجنی“ کے دیار میں! شیخ محسن بن یحیی ترہتی: حیات و خدمات! (دوسری اور آخری قسط)

 

لقمان عثمانی

 

شیخ محسن بن یحیی رح کی ولادت 1805 میں بیگوسرائے کے موضع خضرچک میں ہوئی، آپ نے ابتدائی تعلیم کلکتہ میں حاصل کی جبکہ انتہائی تعلیم کیلیے دہلی تشریف لے گئے اور وہاں کے مختلف اکابر علما سے استفادہ کیا نیز علامہ فضل حق خیر آبادی رح سے بھی شرفِ تلمذ حاصل کیا؛ لیکن علم کے رسیاؤں کو کب سیرابی مل پاتی ہے، سمندر کی چاہ رکھنے والے کب قطروں پر اکتفا کر پاتے ہیں؛ چناں چہ علم کی اسی تلاش و جستجو نے ہندوستان کے کبارِ علما سے استفادے کے بعد حرمین شریفین کے شیوخ کے سامنے زانوئے تلمذ تہہ کرنے پر مجبور کیا اور اسکے بعد جامعہ ازہر قاہرہ مصر میں بھی ایک عرصے تک علمی تشنگی بجھاتے رہے نیز حضرت شاہ عبدالغنی محدث دہلوی رح سے بھی مدینہ منورہ میں ہی استفادے کا موقع ملا؛ چناں چہ آپ شاہ عبدالغنی محدث دہلوی رح کے ارشدِ تلامذہ میں سے تھے، بہاری لال فطرت نے حضرت شیخ کے اس تعلیمی سلسلے کو بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ”مولوی محمد محسن پسر منشی غلام یحیی ساکن خضرچک، پرگنۂ ملکی: انکو بہت بڑا علم تھا، مولوی فضلِ حق خیرآبادی سے لکھنؤ میں علم معقولات پڑھا تھا، بعد اسکے حرمین شریفین جاکر مکہ مدینہ میں بھی علم حاصل کیا تھا اور پھر مصر جاکر علمائے مصر سے حاصل کیا، آدمی جوان تھے، نہایت ذہین و فطین و محقق و مقرر تھے“ (آئینۂ ترہت، ص: 112)

تعلیم و تعلم سے فراغت کے بعد درس و تدریس کو اپنامشغلہ بنایا اور مکہ مکرمہ میں مقیم ہوگئے اور مسلسل سات سالوں تک تشنگانِ علومِ دینیہ کے آگے علم و آگہی کے جام لنڈھاتے رہے، ساتھ ہی تصنیف و تالیف کا کام بھی شروع کردیا؛ چناں چہ حرم شریف میں قیام کے دوران ہی اپنے استاذِ مکرم حضرت شاہ عبدالغنی محدث دہلوی رح اور انکے شیوخ کے حالات و اسانید پر”الیانع الجنی فی أسانید الشیخ عبدالغنی“ کے نام سے ایک نہایت جامع کتاب لکھی جو انکے علمی رسوخ و ذہنی نبوغ کا منہ بولتا ثبوت ہے ـ حضرت مولانا محمد اسحاق قاسمی رح (سابق صدر جمعیت علمائے بیگوسرائے) کے اس قول سے اسکی اہمیت و افادیت کا بہ خوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ”شیخ محسن بن یحیی رح چوں کہ اسماء الرجال کے ماہر اور اس سمندرِ باکمال کے شناور تھے لہذا انہوں نے اس موضوع پر ایک مایۂ ناز کتاب عربی زبان میں الیانع الجنی فی اسانید الشیخ عبدالغنی کے نام سے لکھی، یہ ایک ایسی معیاری کتاب ہے جس سے علمِ حدیث کا کوئی بھی معلم بے نیاز نہیں ہوسکتا“ (خطبۂ صدارت، ص 11)

شیخ محسن بن یحیی رح کی گراں مایہ شخصیت اور انکے گراں قدر علمی کارنامے کوئی ایسا موضوع نہیں جس کو ایک مختصر سے مضمون میں قید کیا جا سکے، کہ ”سفینہ چاہیے اس بحرِ بے کراں کیلیے“؛ کیوں کہ انکی پوری زندگی حصولِ علم سے شروع ہوکر اشاعتِ دین پہ جاکر تمام ہوجاتی ہے، کتابیں ہی انکا اوڑھنا بچھونا تھیں، علم ہی انکی روح کی غذا اور اسکی ترویج و اشاعت ہی انکا مقصدِ حیات تھی؛ یہی وجہ ہے کہ ہمیشہ اپنے شیخ (شاہ عبدالغنی محدث دہلوی رح) کے منظورِ نظر رہے، تا آں کہ اپنے شیخ کی طرح وہ خود بھی مدینہ منورہ ہجرت فرماگئے تھے اور وہیں مدفون بھی ہیں؛ البتہ اپنی مختصر سی زندگی میں ہی اپنے معاصرین میں کئی اعتبار سے ممتاز مقام حاصل کرلیا تھا اور آج تک عظمتوں کے چرخ پر آفتاب و مہتاب بن کر چمک رہے ہیں؛ چناں چہ انکی شخصیت علمی جاہ و جلال اور فضل و کمال کا وہ نقشِ دوام ہے جس کی تابندگی سے آج بھی نہ صرف یہ کہ پوری علمی دنیا روشن و منور ہے بلکہ ان کی عظمت و بلند قامتی کی معترف بھی ہے؛ چناں چہ مولانا عبدالحیی حسنی لکھنوی رح نے اپنی شہرۂ آفاق کتاب نزہۃ الخواطر میں شیخ محسن رح کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھا ہے ”الشيخ العالم المحدث: محسن بن يحيي البكري التيمي الترهتي الفرينی صاحب ”اليانع الجني في أسانيد الشيخ عبد الغني“ كان من كبار العلماء، ولد و نشأ ب ”پورنيه“ بلدة من أرض ترهُت“ (نزہۃ الخواطر، ج: 7)

یہاں پر ایک وضاحت نہایت ضروری ہے کہ شیخ محسن کی ولادت کے سلسلے میں مولانا عبدالحیی لکھنوی رح کو اشتباہ ہوا ہے؛ کیوں کہ ان کے مطابق شیخ محسن پورنیہ میں پیدا ہوئے اور پورنیہ بھی ارض ترہت میں شامل تھا جبکہ نہ تو شیخ پورنیہ میں پیدا ہوئے اور نا ہی پورنیہ کبھی ترہت میں شامل رہا ہے؛ البتہ پورنیہ میں شیخ محسن کے والد کی بہت بڑی جائداد تھی اور وہاں وہ ناظر کے عہدے پر بھی فائز تھے، یہی وجہ ہے کہ وہاں آنا جانا بھی لگا رہتا تھا اور اسی مناسبت سے شیخ کی نسبت پورنیہ کی طرف کی جانے لگی؛ جبکہ وہ در حقیقت خضرچک کے رہنے والے تھے اور یہیں انکی ولادت بھی ہوئی تھی ـ

شیخ محسن رح جہاں علمِ حدیث کے بے تاج بادشاہ اور اسماء الرجال کے تعلق سے ایک مستند حوالہ تھے وہیں وہ میدانِ فصاحت و بلاغت کے بھی عظیم شہسوار تھے؛ چناں چہ نزہۃ الخواطر میں ہی آگے چل کر مفکرِ اسلام مولانا سید ابوالحسن علی حسنی ندوی رح بھی —جن کی عربی دانی پر خود عربوں کو بھی رشک آتا تھا— اس پر حاشیہ چڑھاتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں کہ شیخ ایک اچھے انشا پرداز صاحبِ قلم ہیں جو سلیس اور رواں عربی لکھتے ہیں، ان کے زمانے میں شاید ہی ان کی کوئی نظیر مل سکے، ان کی تحریر میں ایسی خوبصورتی اور شیرینی ہے کہ گویا آپ کی مادری زبان ہو اور آپ نے اس میں ماہرانہ رسوخ حاصل کیا ہو ـ

نیز تاریخ دعوت و عزیمت میں بھی شاہ عبدالغنی محدث دہلوی رح کے تذکرے کے ذیل میں فرماتے ہیں کہ ”ان کے شاگردِ رشید شیخ محمد یحیی ترہتی نے ان کے اور انکے مشائخ کے حالات میں عربی میں ایک مستقل کتاب لکھی ہے، اسکا نام الیانع الجنی فی أسانید الشیخ عبدالغنی ہے اور وہ ایک ہندوستانی اہلِ قلم کی عربیت و انشا پردازی کا بہترین نمونہ ہے“ (تاریخ دعوت و عزیمت، ج: 4، ص: 390)

اسکے علاوہ الیانع الجنی کی اہمیت و افادیت اور اس کے مؤلف کی علمی قد و قامت اور انکی حیرت انگیز انشا پردازی پر اظہارِ تعجب کرتے ہوئے علامہ کتانی تحریر فرماتے ہیں: ”مؤلفه (اليانع الجني) الشاب المحدث البارع العلامة أبو عبد الله محمد ىحيي المدعو بالمحسن الترهتي الفريني الهندي……. وبالجملة فإن الثبت المذكور هو أحلي إثبات المتأخرين و أوثقها سياقا و أعذبها موردا و أفصحها كتابة و أفيدها في الضبط، و لا أعجب من إنشاء مؤلفه بالعربي مع أنه عجمي اللسان و النسب، ولله في خلقه عجب“ (فہرس الفہارس والأثبات، ج: 2، ص: 1165)

قصہ مختصر یہ کہ شیخ محسن رح کی شخصیت صرف بہار یا ہندوستان میں ہی نہیں، بلکہ عالمی پیمانے پر کئی جہتوں سے ممتاز مقام رکھتی تھی، خصوصا ایشیائی ممالک کے اکثر علما کا سلسلۂ سند چوں کہ شاہ عبدالغنی محدث دہلوی رح کے واسطے سے ہی مسندِ ہند شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رح سے جاکے ملتا ہے اسلیے "الیانع الجنی فی أسانید الشیخ عبدالغنی“ کی حیثیت ایسے گراں قدر علمی کارنامہ کی ہے جس کے بغیر ایشیائی علما اپنی سند بھی مکمل وثوق کے ساتھ بیان نہیں کر سکتے، گویا ان کے لیے اپنی سند بیان کرنے اور اپنے شیوخ کے حالات جاننے کیلیے الیانع الجنی واحد مستند حوالہ ہے، اگر بعد کے ادوار میں اس موضوع پر کوئی کتاب لکھی جاتی بھی ہے تو بہر صورت الیانع الجنی ہی اسکا مرجع ہوگی نیز اسکی اولیت و اولویت میں بھی کوئی فرق نہیں پڑسکتا؛ چناں چہ یہی وجہ ہے کہ علامہ ابراہیم بلیاوی رح، حکیم الاسلام قاری محمد طیب رح، شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا رح سمیت متعدد اکابر علمائے دیوبند کی ذاتی سند بھی الیانع الجنی کے حوالے سے خالی نہیں ملے گی؛ الیانع الجنی کی اسی اہمت و افادیت کے پیشِ نظر مفتی محمد شفیع عثمانی رح نے اس پر اضافہ فرماتے ہوئے ”الازدیاد السنی علی الیانع الجنی“ تصنیف کی تھی ـ

غرضیکہ انکی کتابِ حیات کا ہر ورق انکے محاسن و کمالات اور انکی لازوال خدمات کا آئینہ دار ہے، مجھے یہ کہنے میں کوئی تامل نہیں کہ انہوں نے اپنے آشیانے کو پھونک کر زمانے کو ایسی روشنی بخش دی تھی جس سے علمائے عرب و عجم یکساں طور پر فائدہ اٹھاتے چلے آرہے ہیں اور امید ہے کہ یہ سلسلہ تا صبحِ قیامت چلتا رہے گا؛ کیوں کہ ڈیڑھ صدی پہلے حضرت شیخ نے چمنِ انسانی میں جس نخلِ تمنا کا بیج بویا تھا وہ اب تک بار ور بھی ہے اور شاداب و تازہ تر بھی ـ

Comments are closed.