حضرت مولانا ڈاکٹر مفتی اعجاز ارشد قاسمی کی وفات حسرت آیات
محمد شمیم اختر ندوی (صدر جمعیہ علماء ضلع پالگھر)
موت ایک اٹل حقیقت ہے جس سے کسی کو مفر نہیں، وہ وقت مقررہ پر آدھمکتی ہے اور اس فیصلہ خداوندی کے آگے بادشاہ و فقیر سب بےبس ہوتے ہیں، لیکن بعض موت ایسی بھی ہوتی ہے جسکا یقین بمشکل تمام ہوپاتا ہے۔کچھ ایسی ہی صورتحال *حضرت مفتی ڈاکٹر اعجاز ارشد صاحب* رحمۃ اللہ علیہ کی وفات حسرت آیات سے پیدا ہوئ ہے، کیونکہ آپ نہ صرف نوجوان تھے بلکہ تندرست و توانا تھے،کہیں دور تک آپ کے اتنا جلد گزر جانے کا اندیشہ نہیں تھا،ہمہ وقت مصروف کار اور مختلف حلقوں میں براجمان نظر آتے تھے، لیکن ہائے افسوس کہ صرف دو دن کے بخار نے آپ کو لقمہ اجل بنادیا اور آپ بہت جلد ہم سب سے منھ موڑ کر رمضان المبارک کے مقدس مہینہ میں اپنے مالک حقیقی سے جا ملے(انا للہ و انا الیہ راجعون)
مولانا موصوف متحرک و فعال عالم دین ہونے کے ساتھ دھن کے بہت پکے تھے،جس کام کی ٹھان لیتے اس کو کئے بغیر تھکنے کا نام نہیں لیتے تھے، صاحب الرائے بھی تھے چنانچہ جو چیز انہیں سمجھ میں آ تی اس کا برملا اظہار کرنے میں ذرہ برابر بھی گریز نہیں کرتے تھے، اپنے موقف کے اظہار میں اپنے بیگانے کیوں نہ ہو جائیں اس کی بھی انہیں کوئ پرواہ نہیں ہوتی تھی، اختلاف رائے کی صورت میں مدلل و مسکت جواب دینے کا ہنر بھی خوب جانتے تھے۔
دار العلوم دیوبند سے فضیلت کے بعد انہوں نے وہیں سے افتاء بھی کیا اور شعبہ صحافت میں درک حاصل کرنے کے بعد مادر علمی ہی کے شعبہ انٹرنیٹ سے منسلک ہوگئے ،بلکہ میڈیا انچارچ اور ترجمان کی اضافی ذمہ داری بھی آپ کے سپرد کردی گئی۔
دیوبند کی ملازمت سے سبکدوش ہونے کے بعد آپ ایک بار پھر اپنی اعلی تعلیم کی متوجہ ہو گئے اور الحمدللہ جامعہ ملیہ اسلامیہ سے بے اے ، ایم اے کرنے کے بعد ملک کی مشہور جواہر لال نہرو یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کرتے ہوئے ڈاکٹریٹ کی اعلی ڈگری سے سرفراز ہوئے۔
آپ اپنی ذمہ داری کے تئیں بہت حساس ہوا کرتے تھے اور مفوضہ کام کو بخوبی ادا کرنے کی بھرپور فکر فرماتے ، آپ کی انہیں سب خوبیوں کو دیکھتے ہوئے *حضرت مولانا سید محمد ولی رحمانی رحمہ اللہ علیہ* نے آپ کو ملک کی سب سے مقتدر و منظم تنظیم آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کا رکن نامزد فرمایا اور پھر آپ اپنی صلاحیت کی بنیاد پر حضرت کے معتمد لوگوں میں شامل ہوگئے۔
آپ نے ملکی حالات کے تناظر میں ایک تنظیم کی بنیاد بھی پیس فاؤنڈیشن کے نام ڈالی تھی جس کے پلیٹ فارم سے امن و سلامتی کا پیغام ملک کے نام جاری کیا کرتے تھے۔
چونکہ آپ کا صحافت سے گہرا رشتہ تھا اور اس موضوع پر آپ کی ایک مشہور کتاب من شہنشاہ جہانم بھی ملک گیر سطح پر مقبول ہوچکی تھی اسلئے آپ مختلف ٹی وی ڈیبیٹ میں بھی مدعو کئے جاتے تھے لیکن صحیح اور حق بات کا کماحقہ کہنے کا موقع میڈیا کی طرف سے نہ دیئے جانے پر آپ بیزار بھی ہوجایا کرتے تھے۔ بلکہ ایک موقع پر آپ کی اسی حق بیانی کے نتیجے میں آپ کے ساتھ میڈیا ہاؤس میں ڈیبیٹ کے درمیان ہی بدتمیزی کی گئی اور جب آپ کی طرف سے اسکا رد عمل ظاہر ہوا تو یک طرفہ کارروائی کرتے ہوئے آپ کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے ڈال دیا گیا اور اس طرح سنت یوسفی بھی آپ کی زندگی کا حصہ بن گئ۔
گزشتہ ایک سال سے کرونا وائرس جیسے وبائ امراض ظاہر ہونے کے بعد سب لوگوں کی طرح آپ بھی محتاط زندگی گزار نے لگے تھے اور علمی و قلمی کاموں میں زیادہ تر مشغول رہا کرتے تھے لیکن قدرت کو یہی منظور تھا کہ کرونا ہی آپ کیلئے وجہ موت بنے چنانچہ آپ دوروز پہلے اسی کے شکار ہوگئے اور بالآخر دو دن کی موت وزیست کی کشمکش کے بعد آپ زندگی سے ہار گئے اور ہمیشہ کیلئے ہم سب سے منھ موڑ کر اپنے مالک حقیقی سے جا ملے۔
موصوف سے ہماری صرف ایک ملاقات بنگلور میں منعقدہ *علم و ہنر کانفرنس* میں ہوئی تھی جس میں بڑے آب و تاب کے ساتھ آپ کی ملی و سماجی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے کانفرنس کے روح رواں حضرت *مولانا مفتی منظور ضیائی* صاحب نے آپ کی خدمت میں ایوارڈ و شال پیش کیا تھا۔
مفتی صاحب مرنجامرنج طبیعت کے مالک تھے،ہر ایک سے بڑی بشاشت و محبت سے ملتے اور مشورہ طلب کرنے پر بہت اچھا مشورہ دیتے بلکہ ضرورت ہوتی تو عملی تعاون بھی کرتے تھے۔
آپ کا آبائی گاؤں مشہور علمی گاوں چندرسین پور ضلع مدھوبنی بہار تھا، مگر آپ مستقل دہلی میں مقیم ہوگئے تھے ۔
بہرحال اللہ کے فیصلے کے آگے ہم سب سرنگوں ہیں اور دعا کرتے ہیں کہ پروردگار ان کی مغفرت فرمائے اور اعلیٰ علیین میں جگہ عطا فرمائے اور جملہ پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے آمین
Comments are closed.