آہ مفتی اعجاز ارشد قاسمی! 

 

عبید اقبال عاصم علی گڑھ

رمضان المبارک کی آمد کے ساتھ ہی مختلف معروف شخصیات جس طریقے پر دبے پاؤں دنیائے فانی سے رخت سفر باندھ رہی ہیں اس میں تعزیتی الفاظ بھی ساتھ نہیں دے رہے ہیں پئے در پئے ا یسے ایسے حضرات دنیا سے جا رہے ہیں جنکے بارے میں تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ مولانا اعجاز ارشد ایک دور میں ٹی وی کے ناظرین کے لئےمسلم مسائل پر بحث ومباحثہ لینے میں مشہور نام رہا ھے وہ انتہائی ہمت وجرات کے ساتھ اپنا موقف رکھتے تھے اور بوقت ضرورت” رفع یدین” کا بھی مظاہرہ کردیتے تھے ۔ ایک نام نہاد مسلم عورت کی اسلام مخالف بکواس کا مرحوم نے ایسا ہی جواب دیا تھا جسکی وجہ سے انہیں بہت سی آزمائشوں سے بھی گذرنا پڑا ۔ افسوس کہ راقم کا مولانا مرحوم سے کوئ باقاعدہ تعارف نہیں تھا لیکن انتقال کی اطلاع نے دل ودماغ کو بہت زیادہ متاثر کیا ۔ اتنی کم عمری میں اعجاز صاحب کے ساتھ مرحوم کااضافہ کرنا پڑےگا یہ سوچا بھی نہیں جا سکتا تھا لیکن اب یہ لاحقہ لگ گیا ہے تو اب اس کو ہٹایا بھی نہیں جا سکتا بس رب العالمین کے حضور یہ دعاء ضرور کی جاسکتی ھے کہ الہ العالمین ان کی اور تمام متعلقہ مرحومین کی مغفرت کے فیصلے فرماکر ان سب کو جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرما اور اس مظلوم وبے بس وبے کس امت کو ایسی آزمائشوں میں مبتلا نہ فرما جو نا قابل برداشت ہوں ۔

اے اللہ اپنے فضل وکرم سے تمام بیماروں کو شفا ء کاملہ عاجلہ دائمہ مستمرہ عطا فرمااور اپنا خصوصی فضل فرماتے ہوۓ ایسے موذی امراض سے نجات عطا فرما جو انسانیت کے لیے جان لیوا ہوں ۔ آمین یارب العالمین۔

 

Comments are closed.