"جوانی،نوجوان اور محنت”
"محمد حذیفہ معاویہ تونسوی”
جس قوم کی تعمیر وترقی کی راہ میں نوجوان ہر اول دستہ ہو اس قوم کی تاریخ بدلنے سے دنیا کی کوئی طاقت نہیں روک سکتی۔
مقابل میں تاتاری درندے ہوں یا مشرکین مکہ، ابوجہل جیسے فرعون ہوں یا چنگیز خان جیسے سفاک دشمن۔۔۔۔۔۔ ان کہ راہ میں رکاوٹ نہیں بن سکتے ہے۔
نوجوان اگر راہ حق پر گامزن ہو تو عشق وفا کی لگی آگ سے کئی آتش نمرود کو جلا کر راکھ کر دیتا ہےاور دنیائے کفر کو یہ پیغام دیتا ہے:
تخت و تختا میں سے ایک چنا کرتے ہیں ۔
ہم عجب شام سے دنیا میں جیا کرتے ہیں۔
بندوق کیا چیز ہے؟ توپ کسے کہتے ہیں ؟
ارے ہم تو ٹینکوں کی صفوں کو بھی چیر دیا کرتے ہیں ۔
ہمیں تو ملتا ہے اس وقت سے شہادت کا سبق۔
جب ہم ماں کی گود میں دودھ پیا کرتے ہیں۔
"ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے مطابق 15 سال سے لے کر 24 سال تک کی عمر کو نوجوان کہا جاتا ہے”
نوجوانی کی عمر عموما لا ابالی،گناہوں کی طرف میلان، من مانی، کھیل کود، دولت جمع کرنے کی لگن، عشق و محبت، محنت و جدوجہد، بلندیوں اور مستقبل کے بے بنیاد خوابوں کی عمر ہوتی ہے، جس میں عقل سے زیادہ جذبات کی بادشاہی ہوتی ہے۔
جوانی کی دہلیز پر قدم رکھتے ہی کئی نئی راہیں نوجوان کا استقبال کرتی ہیں۔ اس میں جہاں اچھی ہوتی ہیں وہاں بری بھی پائی جاتی ہیں،جو خواہشات اور جذبات کے رنگین پردوں میں لپٹی ہوتی ہیں۔ اور نوجوان کے دل دماغ پر آسانی سے قابض ہو کر اپنا کنٹرول سنبھال لیتی ہیں۔
جس کی عام مثال آج سوشل میڈیا کے منفی استعمال کی شکل میں ہمارے سامنے ہے۔ فیس بک،وٹس ایپ،ٹیوٹر،یوٹیوب۔۔۔۔ان جیسی کئی ویب سائٹس متعارف ہوئی جو نوجوان کو فحاشی،عریانی،بے دینی،خواہش پرستی، حسن پرستی اور مادر پدر آزاد معاشرے کے نام پر بے حیائی کی دلدل میں دھکیل دیتیں ہیں۔ جہاں سے اگر واپسی نامکن نہیں تو مشکل ضرور ہوتی ہے۔
اس مقام پر پہنچ کر نوجوان ذہنی غلام بن جاتا ہے۔ اس کے جذبات و خیالات ایک مخصوص دائرہ کے اندر اسیر ہو کر رہ جاتے ہیں۔ بالکل اس کنویں کے مینڈک کی طرح جو سارا جہاں اسی کنویں کو سمجھتی ہے۔ جس میں وہ رہتی ہے۔ اس کے علاوہ وہ کسی دریا و سمندر کے وجود کو نہیں مانتی۔ گویا اگر یوں کہا جایے تو غلط نہ ہو گا کہ نوجوان خواہشات کے ایسے گھوڑے پر سوار ہو جاتا ہے۔ جس کی لگام کسی دوسرے کے ہاتھ میں ہوتی ہے اور وہ اسے اپنی مرضی سے جہاں چاہتا ہے لے جاتا ہے۔
نوجوان کی اس پستی کی بڑی وجہ مقصد حیات سے لا علمی ہے۔ بعض نوجوان تو مقصد کو سرے سے تسلیم ہی نہیں کرتے۔ اگر ان سے سوال پوچھا جائے کہ آپ کی زندگی کا مقصد کیا ہے؟ پہلے تو ایسے دیکھتے ہیں کہ جیسے ہم نے کسی ایسی چیز کے بارے میں پوچھ لیا ہو جس کا وجود اس جہاں میں نا ہو، پھر فورا سوال کرتے ہیں کہ ” کیا زندگی کا بھی کوئی مقصد ہوتا ہے ؟
بعض جو کسی حد تک زندگی کے مقصد کو مانتے ہیں ان کے ہاں مقصد کی تعریف، پیشہ، مقام اور سرمایہ تک محدود ہے۔ اس کے آگے وہ کسی مقصد کو نہیں جانتے۔
اس کی بڑی وجہ قرآن مقدس اور سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے غیر معمولی حد تک دوری ہے۔ کیونکہ قرآن میں واضع تو اعلان ہے جس کا مفہوم یہ ہے :
"ہم نے جنوں اور انسانوں کو اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا”
اس بات سے انکار نہیں کہ پیشہ ، سرمایہ اور اعلی مقام و مرتبہ انسان کی ضرورت ہے۔ لیکن ضرورت کے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑنا،زندگی کی بازی تک لگا دینا، جبکہ مقصد حیات کو مقصد تو دور کی بات قابل عمل ہی نا سمجھنا، یہ انصاف کی واضع خلاف ورزی ہے جس کی شریعت کے ساتھ ساتھ سلیم الفطرت انسان کی عقل بھی اجازت نہیں دے سکتی۔
پستی کی وجوہات میں ایک وجہ محنت سے دوری اور بے جا سستی کی عادت ہے ۔ جو آج ہمارے معاشرے کا مستقل روگ بن چکی ہے۔ جس میں نوجوان صف اول میں نظر آتے ہیں۔ اگر ہم حکماء کے اقول کی روشنی میں دیکھیں تو یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ کامیابی کے لیےذہانت نہیں بلکہ محنت شرط ہے۔ اگر دس فیصد میں سے 2 فیصد کامیابی کا دارومدار ذہانت پر ہے تو باقی 8 فیصد محنت پر۔۔۔ تاریخ انسانیت ایسے کئی شخصیات کے واقعات سے بکھری پڑی ہے۔جن کے پاس کھانے لیے کچھ نہیں تھا، لیکن محنت اور مستقل مزاجی نے انہیں دنیا کاامیر اور کامیاب ترین شخص بنا دیا۔
ایک "آئن سٹائن” کو ہی لےلیں ۔۔۔۔۔۔ ریاضی میں اتنا کمزور تھا کہ روزانہ سکول جاتے ہوئے کنڈیکٹر سےاس بات پر اس کا جھگڑا ہوتا تھا کہ تو نے مجھ سے زیادہ کرایہ وصول کیا ہے۔ کنڈیکٹر لاکھ سمجھاتا کہ میں نے پیسے پورے لیے ہیں، لیکن اس کی سمجھ میں بات نہ آتی تھی۔ ایک دن غصے میں کنڈیکٹر نے طعنہ دیاکہ "تجھے تو کرایے کا حساب نہیں آتا تو کیا پڑھے گا” یہی بات اس کے دل پر لگی اور اس کی کامیابی کا ذریعہ بن گئی۔
پھر اس نے ایسی محنت کی دنیا نے ریاضی میں اس کے قوانین کو قبول کیا۔ اور آج تک اس کا نام ریاضی کے ماہرین میں لکھا جاتا ہے ۔ غور کریں یہ وہ شخص تھا جسے کرایے کے حساب کا پتا نہیں تھا۔محنت نے وقت کا ریاضی دان بنا دیا۔ یہ تو کافرتھا۔ ہم مسلمان ہو کر مقصد حیات کے لیے جب محنت کریں گے تو کیا اللہ رب العزت ہمیں نہیں نوازیں گے ؟
نوجوان کی راہ میں ایک رکاوٹ یہ دعوی بھی ہے :
"میں وقت آنے پر یہ کام کر لو گا”
تو یاد رکھو وہ وقت پھر کبھی نہیں آتا۔ کیونکہ جو ملت،قوم یا شخص اپنی حالات کو بدلنے کی فکر نہیں کرتا،خدابھی کبھی اس کی حالت نہیں بدلتا۔ پھر ناکامی اور نامرادی ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اس کا مقدر بن جاتی ہے۔
بعض نوجوان حالات کی مشکلات سے گھبراکر پیچھے ہٹ جاتے۔ ایسے نوجوانوں کو سمجھنا چاہیےکہ راہ حق کی مشکلات ہی کامیابی کی دلیل ہوتی ہے،کیونکہ لوگ پتھر اسی درخت کو مارتےہیں جن پر پھل زیادہ ہوتا ہے۔ اور جب تندوتیز ہوائیں چلتی ہیں تو سب سے زیادہ ان عمارتوں سے ٹکراتی ہیں جو سب سے بلند اور اونچی ہوتی ہیں۔ کسی شاعر نے ان حالات میں نوجوانوں کو یہ درس دیا ہے۔
تاریخ سے ناواقفیت بھی آج نوجوان کی پستی اور ذلت کےاسباب میں سے ایک ہے ۔ کیونکہ جو قوم اپنے ماضی کو بھلا دے اس قوم کے مسقبل کو ذلت و گمراہی کے اندھیروں سے بچانا تقریبا ناممکن ہے۔ جس قوم کو اپنے اسلاف کے کارناموں کا علم نا ہو وہ ان پر کیا عمل کرے گی؟
اگر اب بھی نوجوان ماضی کے دریچوں میں جھانکے تو قوم کو نئی زندگی مل سکتی ہے۔
تاریخ اسلامی کی ابتداء سے نوجوان میدان عمل میں اترتے چلے آئے ہیں۔
حضرت اسامہ بن زید رض نے جوانی ہی میں عظیم الشان لشکر کی کمان سنبھالی۔۔۔۔۔حضرت خالد بن ولیدرض نے در نبوت سے جوانی میں ہی سیف اللہ کا لقب پایا۔ حضرت علی رض حضرت مصعب بن عمیر رض حضرت عمار بن یاسر رض ابن عمر رض ابن عباس رض ابن زبیر رض ابن عاص رض ، یہ وہ عظیم صحابہ ہیں،جو جوانی میں دین اسلام کی خاطر برسر پیر کار رہے اور دین اسلام کی سربلندی کے لیے ہر میدان میں صف اول پر نظر آتے تھے۔
اسی جوانی میں ابن تیمیہ رح، شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رح اور امام غزالی جسے مجددعلوم کی گہرائیوں میں اترےاور پورے عالم میں اسلام کے چرچے بلند کیے۔
جوانی میں سلطان صلاح الدین ایوبی نے کفر کی جڑیں اکھاڑ کر بیت المقدس کو آزاد کروایا اور جوانی میں ہی طارق بن زیاد اور محمد بن قاسم جیسے جرنیل ہزاروں سسکتی ماءوں بہنوں اور بیٹیوں کی صدا پر لبیک کہتے ہوئے میدان جہاد میں اترے اور کفار کو نیست و نابود کرتے ہوئے آگے بڑھتے چلے گئے۔
یہ ہزاروں واقعات ہمیں دعوت فکر دیتے ہیں کہ اے نوجوان مسلمانوں تم کہاں کھو گئے ہو۔ آج امت مسلمہ تڑپ رہی ہے۔ ظلم کی چکی میں پستی مائیں اور بہنیں کسی طارق بن زیاد اور محمد بن قاسم کی منتظر ہیں۔ جو انہیں اس ظلم کی خوفناک وادیوں سے نکال کر امن کے قلعوں میں پناہ دیں۔ اگر تم نے آج بھی اپنے مقصد، مقام اور مرتبے کو نا پہنچانا تو کبھی نہیں پہچان پاؤ گے۔
###
Comments are closed.