زمیں کھا گئی آسماں کیسے کیسے مولانا سید شاہ حسن مانی ندوی رح شریعت و طریقت کے جامع تھے۔
مولانا محمد قمر الزماں ندوی
مولانا سید شاہ حسن مانی ندوی رح سجادہ نشین خانقاہ پیر ڈمریا خلفیہ باغ بھاگلپور بہار شریعت و طریقت اور علم و عمل کے جامع تھے ، ان کی شخصیت ملی، سماجی علمی اور روحانی تھی، ان کے اچانک انتقال سے بہت بڑا خلا پیدا ہوگیا۔ آج اچانک سحر کے وقت ان کے انتقال کی خبر ملی وہ میرے روحانی اور علمی سرپرستوں میں تھے۔ میری دعوت پر جلسہ میں میرے گاوں اپنے والد مرحوم جناب حضرت مولانا سید شاہ شرف عالم ندوی رح سابق سجادہ نشین خانقاہ خلیفہ باغ کے ساتھ تشریف لائے تھے اور رات قیام بھی فرمایا تھا۔ان دونوں ہستیوں کی آمد نے جلسہ کو بہت روحانی اور عرفانی بنا دیا تھا،آج بھی گاوں والے اس جلسہ کو یاد کرتے ہیں۔ان سے بارہاں ملاقاتیں رہیں ، ندوہ میں بھی، کٹولی میں بھی اور بھاگلپور میں بھی، ہمیشہ انتہائی شفقت و محبت سے پیش آتے، اپنائیت کا اظہار کرتے مفید مشورہ دیتے اور علمی اور ملی کاموں کے لیے ابھارتے اور مہمیز لگاتے تھے۔ ایک بار انہوں دوسو روپیہ انعام سے بھی نوازا تھا۔
مولانا سید شاہ حسن مانی ندوی علیگ انتہائی وجیہ و شکیل اور سیرت و سورت کے جامع تھے، نرم دل، نرم طبیعت شگفتہ مزاج ، اورمتحمل و باوقار تھے، سادات خاندان کے روشن چشم و چراغ تھے ، ندوہ کی مجلس شوریٰ کے رکن تھے اور سادات حسنی و حسینی سے ہر اعتبار سے قریب تھے ان سے رشتہ داریاں بھی تھیں۔ اپنے والد ماجد سید شاہ شرف عالم ندوی رح کی وفات کے بعد خانقاہ پیر ڈمریا خلیفہ باغ کے سجادہ نشین ہوئے اور روحانی، علمی اور ملی فیض سے لوگوں کو مستفید کرتے رہے۔ ایک زمانے میں جمعیت شباب اسلام کے پروگراموں میں کثرت سے شرکت کرتے تھے اور نوجوانوں اور نئی نسلوں کی حالات کے تقاضے کے اعتبار سے تربیت کرتے تھے، ہم نے اپنی زندگی میں چند خوش اخلاقی و خوش گفتار و خوش کرار لوگوں کو جو دیکھا ان میں وہ نمایاں تھے۔ ایک بار رمضان میں کسی کام سے بھاگلپور گیا ، دل میں تقاضا ہوا کہ شاہ صاحب ملاقات کروں ، خانقاہ حاضر ہوا ملاقات کی کوشش کی تو دربان نے منع کردیا یہ ملاقات کا وقت نہیں ہے، لیکن جب ندوی نسبت کا حوالہ دے کر دربان کو اطلاع کرنے کی بات کہی تو فورا اجازت مل گئی اندر بلایا اور تقریباً نصف گھنٹے تک ملاقات رہی، مختلف موضوعات پر حضرت سے گفتگو ہوئی۔ اپنی طبیعت کی سستی اور کاہلی ہے کہ ان سے زیادہ ملاقات نہیں کرسکا اور نہ ان سے استفادہ کرسکا۔۔۔ غرض وہ خود بڑے تھے، بڑے روشن اور عالی خاندان کے تھے، غالباً اورنگ زیب عالمگیر رح کے زمانے ہی سے ان کے خاندان میں خلافت اور سجادہ نشینی کا یہ سلسلہ چلا آ رہا ہے، اسی زمانے میں بادشاہ وقت نے خلیفہ باغ کی مسجد بنوائی تھی اور سینکڑوں بھیگے زمین بھاگلپور اور کرسیلا میں اس خانقاہ کے لیے وقف کئے تھے ، جس کی پوری ایک تاریخ ہے۔ اس زمانے ہی سے یہ خاندان بلا فرق مذھب و مشرب انسانیت اور مانوتا کی خدمت میں مصروف ہے اور خلق خدا کو علمی، روحانی اور مادی فائدہ بھی پہنچا رہا ہے، شاہ حسن مانی صاحب ندوی رح کی ابتدائی تعلیم و تربیت خانقاہ میں ہوئی پھر ندوہ سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی اور وہاں سے فراغت کے بعد علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے کسب فیض کیا اور عربی کے ساتھ عصری علوم میں بھی مہارت حاصل کی۔۔ وفات سے قبل انہوں نے اپنے بڑے صاحب زادے سید شاہ فخر عالم ثانی کو اپنا جانشین متعین کردیا تھا اب وہ خانقاہ پیر ڈمریا خلیفہ باغ کے سجادہ نشین ہیں۔ خدا تعالی حضرت شاہ حسن مانی ندوی رح کو کروٹ کروٹ جنت نصیب فرمائے جنت الفردوس ان کا نصیبہ بنائے، لواحقین ، وارثین،متعلقین مسترشدین اور تمام اہل تعلق کو صبر جمیل عطا فرمائے اور اس خانقاہ کی روحانی اور علمی فیض کو تاقیامت باقی رکھے۔ آمین
آسماں ان کی لحد پر شبنم افشانی کرے
سبزئہ نورستہ اس گھر کی نگہ بانی کرے
Comments are closed.