آئیے انسانی جانوں کو بچاتے ہوئے ایک ہمدردومثالی معاشرے کی بنیادرکھیں

آئیے انسانی جانوں کو بچاتے ہوئے ایک ہمدردومثالی معاشرے کی بنیادرکھیں

 

محمد عامر پاشاہ، بیدر۔ کرناٹک موبائل:۔ 8861197540

 

ہم ایسے دور سے گذر رہے ہیں، جس کوبین الاقوامی مہلک وباء کا دور کہاجاسکتاہے۔ آج ہم مانیں یانہ مانیں۔ کورونا کو درست سمجھیں یااس کو مصنوعی بیماری تصور کریں۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر محلہ میں ہردن اموات ہورہی ہیں۔ ایک آدھ نہیں دودوتین تین اموات ہورہی ہیں۔ علاج کے لئے جو لوگ دواخانہ جاتے ہیں تو وہاں سے انھیں جواب ملتاہے کہ دواخانہ میں بیڈ نہیں ہے،یا دواخانہ میں دوائیاں نہیں ہیں،یاپھر دواخانہ سے آکسیجن ختم ہوچکی ہے۔ یعنی انسانی جان کو بچانے والی چیزوں کی قلت کے دور میں ہم اور ہمارے بزرگ جی رہے ہیں بلکہ برانہ مانیں توکہوں کہ ایڑیاں رگڑ رہے ہیں۔ اور آخرکار اموات ہمارے پیاروں اور بزرگوں کامقدر بن رہی ہیں*۔

*کوئی آدمی بھی کس طرح اپنے منہ سے یہ اقرار کرے گاکہ میں اپنے دادا یاوالدہ کو دواخانہ لے گیاتھا۔ دواخانہ والوں نے کہاکہ آکسیجن نہیں ہے، آپ انھیں گھر لے جائیں۔اور میں اتنا بے بس تھاکہ انھیں گھر لے جانے کے علاوہ میرے پاس کوئی چارہ نہیں تھا۔ اور آخرکا رمیرے دادایا میری والدہ میری آنکھوں کے سامنے گذر گئیں۔انھوں نے میرے ہاتھو ں میں دم توڑ دیا۔ یہ کوئی نہیں کہے گا۔ یہ کہنادراصل اپناتماشہ بناناہے یاپھر کوئی پاگل اور مجنون ہی ہوگا جو کہے گاکہ دواؤں، بستر یاآکسیجن کی قلت کے سبب میرے اپنے، میرے مشفق بزرگ،یا میری مہربان ماں گذر گئی۔*

*آ پ اورمیں اچھی طرح جانتے ہیں کہ جو لوگ اپنے پیاروں اور عزیزوں کولے کر دواخانہ پہنچ رہے ہیں وہ اب تک کی سب سے بڑی تکلیف سے گذر رہے ہیں۔ ایسی تکالیف انھوں نے اپنی زندگی میں کبھی نہیں جھیلی ہیں اوروہ لوگ دیکھتے ہی دیکھتے اپنے عزیز وں کی جان سے اپنے ہاتھ دھو رہے ہیں۔ جس کا شدت سے احساس ہمیں ہے اور یہ تمام باتیں مسلم معاشرے تک پہنچ بھی رہی ہیں۔* *ہمارامسلم معاشرہ بھی حیران وپریشان ہے کہ آخر کیاکرے؟حکومت جتنا کرسکتی ہے وہ کررہی ہے یا نہیں بھی کررہی ہوگی۔ لیکن ہمیں ایسا کچھ ضرورکرنا ہے کہ ہم اپنے پیاروں کی قیمتی زندگیوں کوبچاسکیں۔ انھیں موت کے منہ میں جانے سے بچانے کی اپنی سی کوشش کریں۔اب رہی مقدر کی بات تو مقدر کے آگے کس کی چلی ہے؟اور کس کی چلے گی؟ قیمتی جانوں کو موت کے منہ میں جانے سے بچانے کے لئے سب سے پہلے ہم تمام مل بیٹھیں۔ مختلف ملی، مذہبی وسماجی تنظیمیں اور ملی جذبہ رکھنے والے اہل خیر ودردمندحضرات مل بیٹھ کراس بیماری سے چھٹکارا اورمرض سے شفاکی بابت سوچیں۔ اورخصوصیت کے ساتھ اولین مرحلہ میں آکسیجن کی فراہمی پرتوجہ دیں، کیونکہ کہاجارہاہے کہ زیادہ تر اموات آکسیجن کی قلت کے سبب ہورہی ہیں۔ اس کے لئے دوکام کئے جاسکتے ہیں۔ ۱۔ آکسیجن سلنڈر خریدے جائیں۔ 2۔ آکسیجن سلنڈر نہ ہوتو آکسیجن مشینیں خریدی جائیں۔ آکسیجن سلنڈر کے لئے اجتماعی طورپررقم جمع کرکے اجتماعی خدمت انجام دی جاسکتی ہے۔ آکسیجن مشین کے تعلق سے یہ کہنا ہے کہ وہ اہل خیر جو اس مرض سے گذر رہے ہیں، و ہ آکسیجن مشین اگر خریدتے ہیں تو اچھااور فائدہ مند اقدام ہوگا۔ ان کوچاہیے کہ ان کے استعمال کے فوری بعد وہ آکسیجن مشین ضرورت مندوں کو مستعار د ے سکتے ہیں۔ یا کچھ اور بھی منصوبہ بنایاجاسکتاہے، اگر بیڈ وغیرہ نہیں ہیں یا اسپتالوں میں جگہ کی قلت ہے تو شادی خانوں (فنکشن ہال) سے کام لیاجاسکتاہے. سرکاری اور خانگی اسکولوں میں بھی علاج کے مراکز کھل سکتے ہیں ۔*

*ملی، مذہبی، وسماجی تنظیموں اور اہل خیر دردمندحضرات سے میری صرف اتنی گذارش ہے کہ جو لوگ مسجد بنانے میں اپنی رقم خرچ کررہے ہیں، یا کوئی اور کام کررہے ہیں، انہیں اپنی رقم آکسیجن کے حصول کے لئے خرچ کرنا چاہیے۔ مسجد آج نہیں تو کل بن جائے گی لیکن کوئی شخص اگر گذر گیاتو پھر وہ واپس نہیں آئے گا۔ اس کے اہل خانہ اور اس کے بچوں کاجو حال ہوگا وہ ہم اور آپ دیکھ ہی رہے ہیں۔بلکہ معاشرے میں یتیم بچوں اور بیواؤں کی تعداد میں ہردن اضافہ ہورہاہے. کیونکہ اب کی بار نوجوانوں کازیادہ انتقال ہورہاہے۔اسلئے براہ کرم اس وباء سے انسانی جانوں کو بچانے کے لئے اٹھ کھڑے ہوں۔ یہ مسئلہ انسانی جانوں کو بچانے کامسئلہ ہے۔ قرآن نے کہاہے جس نے کسی ایک انسان کوبچایااس نے گویا ساری انسانیت کو بچالیا۔ آئیے ہم اور آپ ایک نئے کام کی بنیاد رکھیں۔ انسانوں کو ہنگامی اموات سے بچانے کے لئے ایک ہمدرداور مثالی معاشرے کی بنیادرکھیں۔اس کام سے متعلق گفتگو کے لئے 8861197540 پر رابطہ کرسکتے ہیں۔*

*واضح رہے کہ میں یہ بھی نہیں کہہ رہاہوں کہ آپ اور میں مل کر کام کریں۔ میرا مدعا صر ف یہ ہے کہ جو جہاں ہے وہ وہاں کے لئے کام کرے۔ اور انسانی جانوں کو بچاتے ہوئے انسانیت کو بچانے کافریضہ انجام دے۔ ہوسکتاہے کہ اللہ تعالیٰ اس طرح بھی ہماراامتحان لے رہاہوکہ دیکھوں کون ہے میرادردمند بندہ جو میرے بے بس بندوں کی مدد کے لئے آگے آتاہے؟وہ اپنے پسندیدہ بندوں کو دیکھناچاہتاہوگا۔ براہ کرم اس وقت کو غنیمت جانیں اور انسانیت کو بچانے کے لئے اٹھ کھڑے ہوں۔ حکومت اپناکام کررہی ہے یا نہیں اس پر توجہ دینے سے زیادہ مرض اس قدر شدید ہوچکاہے کہ اب فوری طورپر ہم اپنے حصہ کاکام انجام دے کر خداکے حضور سُرخرو ہوں۔آخر میں یہی دعا ہے کہ خدایا! یا رب العلمین!تو ہم سب کا اور ساری انسانیت کافوری محافظ ونگران ہوجا۔ہم اپنے گناہوں سے معافی طلب کرتے ہیں۔ تیرے غصہ پر تیری رحمت غالب ہے۔ ہم تجھ سے تیری رحمت کاسوال کرتے ہیں۔ہمیں یقین ہے تو ایک بہتر ین اور لمبی زندگی ہمیں دے گا۔ کیونکہ تو رحیم ہے، کریم ہے اور کرم کوپسند کرتاہے۔ ہم پر رحم فرما مولیٰ، انسانیت کو بچالے مولیٰ۔ آمین یارب العلمین

Comments are closed.