آہ مفتی مجتبٰی حسن صاحب!!! ابھی کھاکے ٹھوکر سنبھلنے نہ پائے کہ پھر کھائی ٹھوکر سنبھلتے سنبھلتے
محمد نعمان
قلندری مسجد رکھیال روڈ أحمد آباد
پندرہ دن قبل کی بات ہے کہ دل
میں خیال آیا کہ لاؤ مفتی مجتبی صاحب سے بات کرلوں، بہت دن ہوگئے کوئی خیر خبر نہیں ملی ہے، میں نے فون لگا یا انہوں نے فون وصول کیا اور کہاکہ میں ابھی کچھ مشغول ہوں بعدمیں بات کرتا ہوں، بات آئی گئی ہوگئی، 17اپریل کو پھر فون لگایا تو اس مرتبہ فون پر بات ہوی لیکن آواز بڑی تھکی تھکی اور سست تھی خود ہی بتانے لگے کہ طبیعت خراب ہے، اور کمزوری بہت آگئی ہے، اٹھا بیٹھا بھی نہیں جاتا، میں نے کہا کہ میں ادھر سے حکیم محمد علی صاحب کا بتایا ہوا نسخہ بھیج دیتا ہوں جس سے آپ کی کمزوری بھی ختم ہوجائے گی اور بیماری میں افاقہ بھی ہوجائے گا، اور میں نے وہ دوائیں لکھ کے بھیج دیں، لیکن اس کے بعد سے مسلسل رابطہ کرنے کی کوشش کی لیکن ہر مرتبہ ناکامی ہی ہاتھ آئی، پھر میسج کیا، میسج وصول بھی کیا گیا لیکن جواب ندارد، اس کے بعد میں نے، مولانا غفران ساجد قاسمی صاحب (جو مفتی صاحب کے دوست ہی نہیں بل کہ ولی حمیم ہیں) سے بات کی اور مفتی صاحب کی خیریت معلوم کی تو انہوں نےبتا یا کہ افاقہ ہے، ان کے پاس رہنے والوں سے پتہ چلاہے، لیکن میری بات نہیں ہوی ہے اور آج 7 رمضان المبارک 1442رات اچانک مولانا فیض اللہ صاحب کے کئی فون آئے تو انہوں نے یہ دل گداز اور جاں سوز خبر سنائی کہ مفتی مجتبی حسن صاحب اللہ کو پیارے ہوگئے ہیں، اس خبر نے حد درجہ متاثر کیا بل کہ اپنے آپ کو قابو میں رکھنے کے لیے دواؤں کا سہارا لینا پڑا، مفتی مجتبٰی صاحب کی ذات سراپا محبت تھی، وہ تعلقات نبھانے کا ہنر جانتے تھے، معاملے کو بگڑنے نہیں دیتے تھے، وہ حساس دل کے مالک تھے ضدی اور ہٹی نہیں تھے کہ جس سے بگڑ گئی تو اس کو ہمیشہ کے لیے خیر باد کہ دیا، کسی بات کا برا نہیں مانتے تھے، بل کہ اپنے خاص انداز ہنس اور مسکرا کر اسے ٹال دیتے تھے،ملنے، جلنے، بات چیت کرنے میں کبھی بوجھ محسوس نہیں کرتے تھے، بڑی ہی صفات کے حامل تھے، ادھر کئی سالوں سے حضرت مولانا قمرالزماں صاحب الہ آبادی کی نگاہ قلندرانہ نے ان کو بدل کے رکھ دیا تھا، مدرسے کو ان سے بہت سی امیدیں وابستہ تھیں، ان کی ناگہانی موت میرے لیے ان کے ہزاروں چاہنے والوں کی طرح ایک حسرت بن گئی، کاش مفتی صاحب کچھ اور دن ہمارے درمیان رہتے،
مگر فیصلہ کرنے والے اپنا ایک الگ اور اٹل فیصلہ کردیا، جس پر کوئی سوال نہیں کیا جاسکتا
اللہ تعالیٰ مفتی مجتبٰی حسن صاحب کی دینی کا وشوں کو قبول فرمائے ان کی کوتاہیوں سے درگذر فرمائے، اعلی علیین میں جگہ عطا فرمائے ان کے بھرے پرے خانوادے کا ولی اور سرپرست بن جائے ملت میں مفتی صاحب جیسے اور مخلص خدمت گا پیدا فرمائے آمین
Comments are closed.