استاذ محترم حضرت مولانا عبدالمؤمن ندوی نقشبندیؒ: کچھ یادیں، کچھ باتیں

 

 

ظفیر الاسلام ندوی

 

روز جمعہ رمضان المبارک کی تیسری سحری کھاتے ہوئے کسی بھی دردناک حادثہ سے بے خبر میں نے کہا کہ پتہ نہیں کیوں کھانے میں بالکل ذائقہ نہیں آرہا، یہ کیا معلوم تھا کہ ایک عالمِ ربانی، ایک مبلغ و داعی، ایک ولی و مصلح اور اہلِ قلوب میں ایک شخص جس کے دم قدم سے چمن میں باغ و بہار تھی، جس کی تڑپ ہزاروں دلوں کے لیے گرمی کا سامان تھی پوری محفل کو سوگوار چھوڑ کر رخصت ہو رہا ہے۔

 

فجر کے بعد جب گہری نیند میں تھا ایک دوست کی کال نے جھنجھوڑا اور ریسیو کرنے پر وہ صاعقہ خیز خبر سننے کو ملی جس کی ذرا بھی توقع نہ تھی کہ مشفق و مربی استاذ محترم مولانا عبد المؤمن صاحب ندوی نقشبندی جن کو اب رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہوئے دل افسردہ ہے اس جہانِ فانی سے کوچ کرگئے، یقین ہی نہیں آرہا تھا سوچا شاید خبر غلط ہو، نیٹ آن کیا تو میسینجر پر وسیم بھائی کا یہی پیغام دکھا کئی جگہ فون کرکے تصدیق چاہی ہر جگہ سے مایوسی ہاتھ لگی، کل نفس ذائقۃ الموت۔

 

استاد محترم رحمہ اللّٰہ کی شاگردی اور تربیت میں گزارے ہوئے اوقات و لمحات کے سارے مناظر ایک فلم کی طرح خیالی نگاہوں کے سامنے پھرنے لگے، کس کس تعلق کو، کس کس احسان کو یاد کیا جائے، محبت و شفقت کی کس کس ادا کو لکھا جائے، انداز تربیت کا ذکر کیا جائے یا طرزِ تدریس کا، حسنِ انتظام کو بیان کیا جائے یا حسنِ کلام کو؟ اللہ رب العزت نے ایسی گوناگوں صفات و خصوصیات مولانا کو عطا فرمائیں جو اس دورِ قحط الرجال میں ملنا مشکل ہیں۔

 

برادرِ اکبر مولانا سیف الاسلام ندوی نے حفظ کے بعد میری تعلیم کے لیے شہر سنبھل میں واقع دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ سے ملحق ادارے مدینۃ العلوم انجمن معاون الاسلام کا انتخاب کیا، اور الحمدللہ یہ بھائی جان کا حسنِ انتخاب تھا کہ میری تعلیم و تربیت ایسی درس گاہ میں ہوئی جہاں تمام اساتذہ کرام مشفق و مربی اور مہربان اپنے طلبہ سے نہایت انسیت رکھنے والے تھے، دوسری بہت سی جگہوں کی طرح یہاں زبردستی اور دکھاوٹی احترام ذرا بھی نہ تھا، نہایت ذوق و شوق اور محنت و لگن سے کام کرنے والے تھے، ان سب میں استاد محترم حضرت مولانا عبدالمومن ندوی رحمہ اللہ کی شخصیت نمایاں اوصاف کی حامل تھی، حضرت الاستاذ رحمۃ اللہ علیہ پر ماشاءاللہ کئی عمدہ تعزیتی مضامین آچکے ہیں، میں اتنا اچھا قلمکار نہیں کہ کوئی مستقل اور مرتب مضمون لکھ سکوں، لیکن مولانا رحمۃ اللہ علیہ کی ذات سے کچھ ایسی یادیں وابستہ ہیں جنہیں ٹوٹے پھوٹے الفاظ میں بیان کرنے کی کوشش کر رہا ہوں۔

 

مولانا رحمہ اللّٰہ اگرچہ مدرسہ کے مہتمم تھے، لیکن اُس وقت تک کہیں بھی اپنے نام کے ساتھ مہتمم نہ لکھتے تھے، بعد میں کچھ وجوہات کی بنا پر لکھوانے لگے، دنیا نے مدرسوں کے ایسے مہتمم بھی نہ دیکھے ہونگے، دفترِ اہتمام کے نام سے آج تک کوئی آفس ہی نہ بنایا، بس ہر وقت چلتے پھرتے، چاق وچوبند ہر کام کی خود نگرانی کرتے بلکہ اکثر کاموں میں خود شریک ہوکر اپنے ہاتھوں سے کام انجام دیتے، ہر استاذ اور ایک ایک طالب علم پر نگاہ، پورے نظامِ تعلیم کی نگرانی کے ساتھ مسجد، دارالاقامہ، لائبریری، مطبخ، تعمیراتی کام غرضیکہ مدرسے کی چھوٹی سے چھوٹی ہر چیز کو خود دیکھتے، صفائی ستھرائی کا ایسا نظام اگر کہوں کہ واقعی ہندوستان کے کسی مدرسے میں نہ ہوگا تو کوئی مبالغہ نہ ہوگا۔

اس زمانے میں ابتدائی درجات میں اگرچہ مولانا رحمہ اللہ کے گھنٹے نہ تھے، لیکن ہماری جماعت کو یہ شرف حاصل ہے کہ ثانویہ ثالثہ (دوم عربی) سے ہی مولانا ہمارے درجے میں اکثر آنے لگے، اس کا سبب یہ ہوا کہ ہماری جماعت میں ایک طالب علم کے بارے میں مولانا کو معلوم ہوا کہ وہ بریلوی خیالات کے ہیں، اور ردّ بدعت مولانا کا ایک مستقل مشن تھا، چنانچہ مولانا جب بھی اسباق سے خالی ہوتے یا ہمارا کوئی گھنٹہ خالی دیکھتے تو درجے میں تشریف لے آتے، اور شرک و بدعت سے نفرت اور عقیدۂ توحید کی پختگی کے مضامین ایسے دلنشیں انداز میں بیان کرتے کہ دلوں میں نقش ہوجاتے، الحمدللہ یوں تو گھر کے ماحول کی وجہ سے پہلے ہی سے بدعات و خرافات سے نفرت تھی، لیکن ان اسباق نے مزید عقیدہ میں پختگی پیدا کردی، اسی وقت استاد محترم کی نظرِ عنایت مجھ نااہل پر پڑی، اور پھر شفقت و محبت میں اضافہ ہی ہوتا چلا گیا، یہ میرے لیے سعادت کی بات تھی کہ مدرسے کی لائبریری کے اکثر کام کتابوں کی صفائی، ترتیب اور مراجع و مصادر سے حوالوں کی تلاش وغیرہ میرے اور برادرم منصور غازی ندوی کے سپرد تھی، لائبریری میں مصادر اور نادر کتب کا اچھا ذخیرہ موجود ہے، اور مولانا اپنے حسنِ ذوق کی بنا پر اس میں اضافہ کرتے رہتے تھے، اس سے مجھے بڑا علمی فائدہ ہوا، بہت ساری ایسی کتب اور مراجع و مصادر سے اسی وقت شناسائی ہوگئی جن تک عام طور سے طلبہ کی فراغت تک رسائی نہیں ہو پاتی۔

مولانا کسی بھی سبق کو پڑھانے سے پہلے بڑی بڑی کتابوں کا مطالعہ کرتے، اسی طرح تقریر و خطاب بھی بغیر مطالعہ کے نہیں کرتے تھے،

میری تحریر ( ہینڈ رائٹنگ) کافی بہتر تھی، اس زمانے میں چونکہ کمپوزنگ کا رواج کم تھا اس لیے لکھنے کے سارے کام مجھ ہی سے کراتے تھے، یہاں تک کہ جو خطوط بھیجنے ہوتے مجھ ہی کو املا کراتے، اور مدرسے کے دوسرے طلبہ کو مجھ سے اصلاح لینے کی تاکید کرتے، اس کی گواہی اس زمانے کے تمام طلبہ دے سکتے ہیں۔

مولانا اپنے شاگردوں سے بہت محبت کرتے تھے، کبھی اپنے گھر لے جاکر کھانا کھلاتے، تو کبھی گھر سے منگواکر مدرسے میں کھلاتے، بسا اوقات خصوصی طور پر بریانی یا کوئی دوسری ڈش بڑے اہتمام سے پکواتے اور طلبہ کو ایک ساتھ دسترخوان پر بٹھا کر خود کھلواتے، ہر موسم کے پھل منگواکر تقسیم کراتے، بالخصوص جب آموں کا موسم ہوتا تو وافر مقدار میں بار بار آم کھلاتے، لیکن اس شفقت کے ساتھ جب تنبیہ کرتے تو بڑی سخت کرتے، اسی لیے آپ کا رعب بھی بہت زیادہ تھا۔

طبیعت میں بڑی نفاست تھی، کھانے، پینے، پہننے الغرض ہر چیز میں، ہر سامان میں اور ہر کام میں اعلی سے اعلی کو پسند کرتے،

 

اللہ رب العزت نے آپ کو تدریس میں امتیازی خصوصیت عطا فرمائی تھی، اندازِ تفہیم ایسا کہ مشکل سے مشکل مسئلہ، پیچیدہ سے پیچیدہ عبارت کسی بھی فن سے متعلق ہو اس کو ہنساتے ہوئے اس طرح سمجھا دیتے کہ وہ بہت آسان معلوم ہونے لگتا، اور ایک خاص بات یہ کہ مولانا کے گھنٹے میں کبھی اکتاہٹ اور سستی محسوس نہیں ہو سکتی تھی، کیونکہ طبیعت میں ظرافت اور خوش مزاجی تھی روزانہ نئے نئے لطیفوں اور چٹکلوں سے ذرا بھی تھکن اور اکتاہٹ کا احساس نہ ہونے دیتے، درس کے علاوہ بھی مولانا اپنی ظرافت اور خوش مزاجی سے ہر مجلس کو باغ و بہار بنادیتے، قابل اور صلاحیت مند اساتذہ تو بہت ہوتے ہیں لیکن تدریسی صلاحیت، ایسا اندازِ تفہیم معدودے چند میں نظر آتا ہے، ہم نے مولانا سے قصص النبیین خامس، شرح قطر الندی، شرح شذور الذھب، قدوری، مشکوٰۃ کے منتخب ابواب، تفسیر قرآن میں منتخب سورتیں وغیرہ پڑھیں، مولانا کے سامنے عبارت خوانی کرنا بڑے دل گردے کا کام تھا، مجال ہے کہ کوئی حرکت یا اعراب ذرا بھی غلط ہوجائے، پھر خیریت نہیں تھی، انشاء پڑھانے کا مولانا کا الگ ہی انداز تھا، اور میں نے اسی طرز سے بہت فائدہ اٹھایا،

استادِ محترم ایک باکمال خطیب تھے، إن من البيان لسحرا” کی سچی تصویر، ہر جمعہ کو مدرسے کی مدینہ مسجد میں خطاب ہوتا جس کو سننے کے لیے قرب و جوار سے بڑی تعداد میں لوگ آتے، دور دراز جلسوں میں تشریف لے جاتے، آپ کے خطاب کا دلوں پر ایک عجیب اثر ہوتا، آج کل ایسے مقررین کی کمی نہیں جو گھنٹوں سامعین کا وقت ضائع کرتے ہیں، ان میں کچھ ایسے بھی ہیں جو گلا پھاڑ پھاڑ کر چیختے چلاتے ہیں اور کوئی پیغام سننے والوں کو نہیں دے پاتے، مولانا کی ہر بات ایک پیغام ہوتی تھی جو دل سے نکل کر دلوں پر اثر کرتی، اکثر و بیشتر سامعین پر رقت طاری ہو جاتی۔

دعوت و تبلیغ سے آپ شروع ہی جڑے ہوئے تھے، جمعرات کے ہفتہ واری جوڑ میں عام طور سے خود بھی مرکز تشریف لے جاتے، اور طلبہ کو بھی بھیجتے، مدرسے سے طلبہ کی چوبیس گھنٹے کی ترتیب سے جماعتیں بھی نکلواتے، سنبھل کے اجتماع کو کامیاب بنانے میں آپ کی بڑی محنتیں شامل رہیں، بڑے بڑے اجتماعات میں آپ کے بیانات بھی ہونے لگے تھے،

کچھ سالوں پہلے آپ نے حضرت پیر ذوالفقار نقشبندی دامت برکاتہم سے اصلاحی تعلق قائم کیا تو پھر آپ تصوف، اصلاح باطن اور اذکار و اوراد کی طرف ایسے متوجہ ہوئے کہ منازلِ سلوک طے کرتے ہوئے جلد ہی اپنے شیخ کی طرف سے اجازت و خلافت کے مستحق قرار پائے ، پھر آپ ہزاروں دلوں کی گرمی کا سامان بن گئے، اور گویا دوائے دل بیچنے لگے

 

"وہ جو بیچتے تھے دوائے دل دوکان اپنی بڑھا گئے”

 

استاد محترم رحمہ اللہ مجھ نااہل سے اور چھوٹے بھائی محمد ضیاء الاسلام ندوی سے بہت محبت کرتے تھے، والد ماجد رحمۃ اللہ علیہ سے بھی بہت تعلق رکھتے، میری تعلیم کے ابتدائی دورمیں جب آبائی گاؤں بھوڑپور موانہ ایک جلسے میں بیان کے لیے تشریف لائے تو ہمارے غریب خانہ بھی تشریف لائے، اور ابھی تین سال پہلے موانہ کلاں میں تبلیغی اجتماع میں شرکت فرمائی تو موانہ پہنچنے سے پہلے جب فون پر بات کی تو خود ہی ازراہِ شفقت فرمایا "کہ پہلے گھر ہے یا اجتماع” یہ حضرت کی خوردنوازی کی اعلی ترین مثال ہے، ورنہ بہت سے بڑے لوگ ہم جیسوں کو کہاں گھاس ڈالتے ہیں، پھر گھر تشریف لائے ناشتہ بھی کیا، اگرچہ اجتماع کے کچھ ذمہ دار اس پر ناگواری کا اظہار کر رہے تھے، اسی سفر میں حضرت کی اپنے چھوٹوں سے انسیت و محبت اس طرح دیکھنے کو ملی کہ اجتماع سے فراغت کے بعد موانہ کے اپنے ایک شاگرد اسرار احمد ندوی سے خود کہا کہ تمہارے گھر بھی چلنا ہے، اور پھر گئے۔

سن 2009 میں فضیلت سے فراغت کے سال حضرت کا اشارہ تھا کہ میں فراغت کے بعد سنبھل آکر مدرسہ مدینۃ العلوم ہی میں تدریسی خدمات انجام دوں، حضرت رحمۃ اللہ علیہ کو مجھ ناکارہ پر اتنا اعتماد تھا کہ تدریس کے پہلے ہی سال مشکوٰۃ المصابیح جیسی بڑی کتابوں کے منتخب ابواب میرے ذمّہ کیے، اور مسجد میں ہر اتوار کو مولانا کا درسِ قرآن ہوتا تھا کئی بار اس ناکارہ کو یہ خدمت سپرد کی، اگرچہ صرف ایک سال ہی مدرسے میں تدریسی سلسلہ جاری رکھ سکا، اور مزید علمی استفادہ کی غرض سے دارِ عرفات رائے بریلی چلا گیا۔

الغرض کس طرح سے استادِ محترم کو یاد کیا جائے کچھ سمجھ نہیں آتا،

"ایسا کہاں سے لاؤں کہ تجھ سا کہیں جسے”

اللہ رب العزت حضرت الاستاذ رحمۃ اللہ علیہ کو اپنے شایانِ شان اجر عطا فرمائے، جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے، لواحقین کو صبرِ جمیل عطا فرمائے، مدرسے کو نعم البدل عطا فرمائے۔ آمین یارب العالمین۔

Comments are closed.