آہ: ایک اور نوجوان عالم دین مفتی مجتبی حسن قاسمی بھی ہمارے بیچ سے ہمیشہ ہمیش کیلئے رخصت ہوگئے۔

 

محمد شمیم اختر ندوی (ممبئی)

 

موصوف رحمۃ اللہ علیہ سے میری پہلی ملاقات انجمن اسلام ممبئ کے کریمی لائبریری میں اس وقت ہوئ تھی جب موصوف بصیرت میڈیا گروپ کے زیر اھتمام (ملی بصیرت ہفت روزہ اخبار) کے رسم اجراء کے موقع پر منعقدہ پروگرام میں مہمان خصوصی کی حیثیت سے گجرات سے تشریف لائے تھے اور میری بھی حاضری وہاں پروگرام کے روح رواں حضرت مولانا غفران ساجد قاسمی مد ظلہ العالی کی دعوت پر نظامت کے لئے ہوئ تھی۔

 

دوسری ملاقات حضرت مولانا محمد سالم قاسمی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی زندگی پر مرتب کردہ کتاب (حیات سالم )کے رسم اجراء کے موقع پر ہوئ تھی۔ اس پروگرام میں حضرت رحمۃ اللہ علیہ کے فرزند و جانشین حضرت مولانا محمد سفیان قاسمی صاحب مدظلہ العالی بھی شریک تھے۔

 

ممبئ عظمی کی متعدد علمی شخصیات حضرت مولانا ابو ظفر حسان ندوی ازہری ، مفتی عزیز الرحمن فتح پوری،ڈاکٹر ظہیر قاضی،مولانا محمود دریاآبادی اور سرفراز آ رزو کے علاوہ بڑی تعداد میں علماء و ائمہ و دانشوران بھی براجمان تھے۔

 

حضرت مفتی مجتبی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی بھی ایک کتاب جوکہ حضرت مولانا مفتی عبداللہ کاپودری رحمۃ اللہ علیہ کی زندگی پر لکھی گئی تھی اسی پروگرام میں اسکا بھی رسم اجراء ہوا تھا

 

اس موقع پر بہت سارے لوگوں کو اظہار خیال کا موقع دیا گیا تھا ان میں ایک اہم نام مفتی مجتبی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کا بھی تھا۔ آپ کی قلمی صلاحیت کا کچھ اندازہ تو کتاب دیکھ کر ہی ہوگیا تھا لیکن گفتگو کی متانت و سنجیدگی سے اندازہ ہوا کہ خطابت کا ہنر بھی موصوف خوب رکھتے ہیں،ہر جملہ نپا تلا اور مضمون سے ہم آہنگ تھا۔

 

پروگرام کے بعد کچھ دیر باہم گفت و شنید بھی ہوئ جس سے مفتی صاحب کا علمی وقار مزید نکھر کر سامنے آیا۔

 

یقینا آپ اپنی انہی علمی و قلمی صلاحیتوں کی وجہ سے گجرات کے ایک قدیم مشہور دینی ادارہ دارالعلوم ماتلی والا بھروچ میں نہ صرف استاذ حدیث بلکہ مفتی بھی تھے اور طلبہ کے درمیان بیحد مقبول تھے، آپ نے دار العلوم دیوبند سے فضیلت اور حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی حفظہ اللہ کے المعھد العالی حیدرآباد سے تدریب افتاء کیا تھا اور الحمدللہ تاحیات رحمانی صاحب کے اسلوب کے پاسبان و امین رہے۔

 

ابھی تو آپ کی زندگی بہت لمبی نہیں تھی بمشکل42 سال کے رہے ہونگے اس لئے امید تھی کہ مستقبل میں دین کے فروغ اور اسکی سربلندی و سرفرازی کیلئے اللہ آپ سے بہت کام لے گا لیکن کسے معلوم تھا کہ قادر مطلق آپ کو اتنا جلد اپنے جوار رحمت میں بلالیگا۔ انا للہ و انا الیہ راجعون

 

فتاوی فلاحیہ کے نام سے کئی جلدوں کی ترتیب کا کام آپ کرچکے تھے اور کئ جلدوں کی ترتیب پر کام ہو رہا تھا،اس کے علاوہ کئ کتابچے آپ نے مختلف عناوین پر تحریر فرمائے ہیں۔

اگر عمر وفا کی ہوتی تو بہت کچھ امیدیں تھیں۔

 

مجھے پہلےصرف اتنا معلوم تھا کہ آپ کا وطن اصلی بہار ہے لیکن اب معلوم ہورہا ہے کہ آپ بھی مفتی اعجاز ارشد قاسمی رحمہ اللہ علیہ کے گاؤں چندر سین پور ضلع مدھوبنی کے ہی تھے بلکہ آپ ان کے ہم نوالہ و ہم پیالہ تھے۔ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ایک دوست ایک دوست کی جدائی کا صدمہ سدھار نہ سکا اور داعی اجل کو لبیک کہ گیا۔

 

اللہ دونوں دوست کی دینی،علمی اور ملی خدمات کو قبول فرمائے اور بال بال مغفرت کے فیصلے فرمائے اور جملہ پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے آمین

19/4/2021 یوم وفات

Comments are closed.