اردو فکشن نگاری کا نیر تاباں مشرف عالم ذوقی بھی مسافران آخرت میں شامل

 

شرف الدین عظیم قاسمی الاعظمی

 

19/اپریل 2021/بروز منگل کی تاریخ اردو ادب کی دنیا کے لئے لمحہ جانکاہ سے کم نہیں ہے کہ اس تاریخ میں اردو نثر نگاری کے ذریعے ادب کی پرورش کرنے والا ایک درویش سفر آخرت پر روانہ ہوگیا، افق علم وادب پر نصف صدی سے اپنی روشنی سے علم کے جزیروں کو روشن کرنے والا خورشید منور بادلوں کی اوٹ میں ہمیشہ کے لیے روپوش ہوگیا، اردو فکشن نگار سے ادبی دنیا محروم ہوگئی، اپنی تحریروں کے ذریعے عصری مسائل،معاشرتی رویوں،اوراہل اقتدار واہل زر کی خود غرض روشوں اور چالوں پر بے لاگ اور دوٹوک الفاظ میں افسانوں اور دیگر اصناف نثر کے پلیٹ فارم سے احتجاجی صدا ئیں بلندکرنے والا زرنگار قلم اب ہمیشہ کے لیے خاموش ہوگیا۔وہ صبا رفتار اور اجتماعی وانفردای زندگی اور اس کے ارد گرد بکھری ہوئی حقیقتوں کو آشکار کرنے والا قلم۔ جس کے بادشاہ کو دنیا مشرف عالم ذوقی کے نام سے جانتی ہے، اور جن کی ذات افسانوی ادب کا استعارہ اور اردو فکشن کا حوالہ ہے۔

 

انھوں نے نصف صدی تک اردو دنیا اور فکری جزیروں کو اپنی علمی، فکری اور ادبی وشعری نگارشات اور تعمیری ومقصدی تحریروں کے ذریعے ارتقاء کی غذائیں اور وسعت واستحکام کے اثاثے فراہم کئے ہیں، اس وقت ناول نگاری ،افسانہ نگاری اور صداقت پر مبنی صحافت کے حوالے سے مشرف عالم ذوقی کی شخصیت مینار نور تھی، جس کی روشنی میں بے شمار ادب کے مسافروں کا کارواں کامیابی کی منزل کی طرف رواں دواں تھا، مذکور اصناف نثر میں اپنی صلاحیتوں کا نقش قائم کرنے والے برصغیر میں آج بھی سیکڑوں اہل قلم موجود ہیں، مگر ذوقی صاحب مرحوم کی انفرادیت یہ تھی کہ انھوں نے اپنے قلم کے سفر کو ابتدائی مراحل میں ہی کبھی تفریح کی راہ پر یا ذہنی عیاشیوں کی رہگذر پر گامزن نہیں ہونے دیا بلکہ ان کا ادبی،تعلیمی اور تخلیقی سفر ہمیشہ اسی سمت میں جاری رہا جہاں معاشرے کی تعمیر،قوموں کے عروج، ملک کی خوشحالی،اور نوجوان نسلوں کے لیے حوصلوں اور ولولوں کا نخلستان آباد ہے،انھوں نے ہمیشہ تعمیری ادب کی طرف توجہ کی، سماجی مسائل کا بڑی باریک بینی سے مشاہدہ کیا، معاشرے میں اہل زر کے روئیے دیکھے، اقتدار کی گرمی دیکھی، اس کے مظالم دیکھے، اس کی چیرہ دستیاں دیکھیں، تعصب ونفرت کے شعلے اور جلتے ہوئے مکانوں کے اٹھنے والے دھوئیں نگاہوں کے سامنے آئے، افلاس کی دھوپ،فقر کے سائے، امیروں کی سفاکیت اور مزدوروں کی بے بس زندگی دیکھی،اور پھر ان مشاہدات کو فن کے حوالے سے دنیا کے سامنے آشکارا کردیا۔

 

قدرت نے بے پناہ قوت اظہار سے نوازا تھا، گہرے مشاہدات اور اس کے نتیجے میں نتائج واثرات کے استنباط کی استعداد فطری تھی، احساسات وجذبات کو سلیقے سے لفظوں کی پیکر میں ڈھالنے کا ہنر خداداد تھا اس لیے اس عمر میں بھی جب عموما زندگی شعور کی دہلیز کے قریب بھی نہیں ہوتی ہے،اسی عہد کم شعور میں مشرف ذوقی صاحب کا نہ صرف مطالعہ بلکہ ان کے قلم کا تخلیقی سفر شروع ہوگیا تھا،چنانچہ گیارہ سال کی عمر میں ان کی پہلی کہانی،اس وقت کے ماہنامہ پیام تعلیم میں شائع ہوگئی اور صرف 13/سال کی عمر میں ذوقی صاحب نے پٹنہ ریڈیو اسٹیشن میں برائے نشرواشاعت اپنی کہانی، جلتے بجھتے دن،، کے عنوان سے بھیجی اور بہت پسند کی گئی، ادارے والوں نے اس کہانی کو پڑھنے کی دعوت دی تیرہ سال کے ایک چھوٹے بچے کے لئے آرہ ضلع سے پٹنہ تک کا سفر ممکن نہیں تھا آخر کار بڑے بھائی کے ساتھ جب نشریاتی ادارے میں پہونچے تو لوگوں نے حیرت سے انگلیاں دبا لیں، انہیں یقین نہیں آیا کہ اتنا کم عمر بچہ رومانیت سے بھر پور خوبصورت افسانہ تخلیق کرسکتا ہے، اور پھر اسی حیرت ومسرت کے خوشگوار ماحول میں آپ نے کہانی سنائی،اور پھر یہی کامیابی زندگی کی شاہراہ پر عروج وترقی کا زینہ اور آسمان عظمت تک رسائی کا بال وپربن گئی اس کے کچھ ہی روز بعد اسی سال ان کا دوسرا افسانہ،رشتوں کی صلیب،،کہکشاں میں شائع ہوا، اس کامیابی سے ان کی تخلیقی قوت، ادبی صلاحیت، لفظوں پر گرفت اور زبان پر دسترس کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔

 

مولانا ابوالکلام آزاد یونیورسٹی کی ریسرچ اسکالر پاکیزہ اختر کے انٹرویو کے ذریعے ذوقی صاحب مرحوم سے لکھنے کی وجہ اور ابتدائی کس طرح ہوئی،اس کے بارے میں سوال کیا تھا ذوقی صاحب مرحوم اس کے جواب میں تخلیقی سفر کی پہلی منزل کے بارے میں کہتے ہیں،،شروعات کہانیوں سے ہوئی،گیارہ سال کی عمر میں،میں نے پہلاافسانہ لکھا۔اس کے بعد تیرہ سال کی عمر میں،میں نے ایک افسانہ ’’جلتے بجھتے دن‘‘پٹنہ ریڈیو اسٹیشن کو بھی دیا۔اتفاق سے ان کو یہ افسانہ پسند آیا،اور مجھے افسانہ پڑھنے کے لئے بلایا گیا۔آرا سے پٹنہ کی دوری کافی ہے۔اور میری عمر اس وقت صرف تیرہ سال کی تھی۔ظاہر ہے کہ میں اکیلے پٹنہ نہیں جاسکتا تھا۔میں اپنے بڑے بھائی مسرور عالم ا ور آرا کے ہی ایک مشہور شاعر تانابیانی کے ہمراہ پٹنہ ریڈیو اسٹیشن پہنچا۔ڈائریکٹر مجھے دیکھ کر چونک گئے۔کیونکہ اتنی کم عمری میں پٹنہ ریڈیو اسٹیشن اب تک کسی کو بھی کہانی پڑھنے کے لئے نہیں بلایا گیا تھا۔’جلتے بجھتے دن‘ ایک رومانی کہانی تھی۔اس میں ایک ایسی لڑکی کی کہانی بیان کی گئی تھی جس کا محبوب اس کو چھوڑ کر چلا گیا تھا،پھر بھی اس لڑکی نے اپنے زندہ ہونے کے احساس کوقائم رکھا۔وہ سوچتی ہے کہ محبت میں ناکامی ملنے کے بعد بھی زندگی کا سفر ختم نہیں ہوتا۔تیرہ سال کی عمر میں ہی،میں نے دوسرا افسانہ ’’رشتوں کی صلیب‘‘ لکھا۔یہ افسانہ ممبئی سے نکلنے والے رسالہ ’’کہکشاں‘‘میں شائع ہوا(برقی میڈیا قندیل)

 

اس کامیابی نے ذوقی صاحب کو شہرتوں کے بال وپر عطا کردئے اس کے بعد انہوں نے پیچھے مڑکر نہیں دیکھا، اور 1982/میں گریجویشن کی تکمیل تک جبکہ ابھی عمر کی بیسویں منزل میں تھے،نیلام گھر،لمحہ آئندہ،

عقاب کی آنکھیں،اور شہر چپ،،کے نام سے چار ناولیں ان کے قلم سے وجود میں آچکی تھی،اورر ادبی دنیا میں آپ کی ادبی اور تخلیقی بلندیوں کا لوہا منوا چکی تھیں۔

 

انھوں نے قلم کے معاملے میں اور ادب کے معاملے میں کبھی ضمیر سے سودا نہیں کیا،جسے حق سمجھا بے خوف خطر لکھتے رہے، انھوں نے مغربی تمدن پر بھی تیشہ چلایا، اور مشرقی اقدار وروایات کا اپنے متعصبانہ طرز عمل سے گلا گھونٹنے والے انسانیت دشمن پر بھی کھل کر تنقید کی،

غریبوں کے استحصال اور مزدوروں کے حقوق پر غاصبانہ کرداروں کو اپنی اپنی تحریروں کا موضوع بنایا، اور آزادی کے بعد ملک میں اہل سیاست و حکومت کے مسلمانوں کے خلاف جارحانہ ومنافقانہ رویوں پر بھی بے باکانہ انداز میں گرفت کی، ان کی تخلیقات کی خاصیت ہے کہ وہ روز مرہ کے معمولی کرداروں میں موجود سنگین نتائج سے باخبر اور واقعات میں پوشیدہ اثرات سے قاری کو آشنا کرادیتی ہیں۔ ان کے ناولوں کی کائینات اور افسانوں کی زمینوں میں عموماً اس ملک کی پسماندگی کے اسباب، شدت پسندی اور اس کے اثرات، ملک کے اصحاب اقتدار کے ظالمانہ سلوک کے ساتھ ساتھ اقلیتوں پر ان کے غیر جمہوری برتاؤ کی تصویروں کے ساتھ ساتھ معاشرے میں طبقاتی کشمکشِ زندگی، انسانوں کے درمیان فاصلوں کی خلیج اور اس کی وجوہات، جاہ و منصب اور مال وزر کی قوتوں کے ذریعے غریبوں کے استحصال کی دلخراش داستان بہت واضح اور تمام تر حشر سامانیوں کے ساتھ نظر آتی ہے۔

 

انھوں نے نثر کی کئی صنفوں میں عظمت کے نشان ثبت کئے، ریڈیو کے زمانے میں ان کی کہانیاں مسلسل اس پلیٹ فارم سے نشر ہوتی رہیں، اور قوم میں تعلیم، اخلاق، انسانیت، ہمدردی اور رحم واخوت کی جوت جگاتی رہیں، ریڈیو کا دور ختمِ ہونے کے بعد ان کی تخلیقات ٹی وی سیریل دور درشن کے حوالے سے منظر عام پر آنے لگیں،

 

صحافت کے میدان میں بھی ذوقی صاحب نے قدم رکھا،اور پلیٹ فارم سے نہایت ایماندارانہ اور منصفانہ انداز میں قوم وملت کی ترجمانی کی،ملک وقوم کے مسائل اٹھائے اور خود غرضانہ ومنافقانہ ماحول میں حقائق وصداقت کی صدائیں بلند کیں،انھوں نے ،،سچ بالکل سچ،، دہلی میں بھی صحافیانہ خدمات انجام دیں،اور اخیر میں روزنامہ راشٹریہ سہارا کے ایڈیٹر کی حیثیت سے بھی سماج ومعاشرے کی عکاسی کی، ان کا قلم بہت تیز رفتار اور رواں دواں تھا،اخباری مشغولیت کے ساتھ ساتھ ان کے افسانوں اور ناولوں کا سفر بدستور جاری رہا،اور فکشن نگاری کے ساتھ ساتھ خاکہ نگاری بھی جاری تھی اپنے ہم عصر ادیبوں اور شاعروں کے بہت سے خاکے انھوں نے لکھے، یہی وجہ ہے کہ ان کی مطبوعات کی تعداد پچاس سے بھی زیادہ ہے، ان کے 14/ناول اور افسانوں کے آٹھ مجموعے زیور طبع سے آراستہ ہوچکے ہیں، موجودہ عہد میں سماجی قدروں،

اہل سیاست کے سیاہ کرداروں،اور اہل زر کے مفاد پرستانہ رویوں کے نتیجے میں معاشرے میں پھیلی ہوئی ناہمواریوں کی صورت گری کرنے والے ان کے ناول،مرگ انبوہ اور مردہ خانے میں عورت،، نے مقبولیت کے ریکارڈ قائم کئے،عالمی سطح پر ان کی پذیرائی ہوئی،اسی طرح ان کی شاہکار تصنیف،،آتش رفتہ کا چراغ،،بھی اہل فکر ونظر اور اہل ادب میں ہاتھوں ہاتھ لی گئی اور شوق کی نگاہوں سے پڑھی گئی،اس کے علاوہ ان کے ناولوں میں شہر چپ ہے،،بیان،، مسلمان،لے سانس بھی آہستہ،پروفیسر ایس کی عجیب داستان،نالہ شب گیر،اور ،ذبح، اردو دنیا میں بہت مقبول ہوئیں، ان پر متعدد پی ایچ ڈی کی ڈگریاں تفویض کی گئیں،

سرکاری اور غیر سرکاری ادبی اداروں کی طرف سے مصنف کو متعدد ایوارڈ واعزازات عطا کئے گئے۔

 

ذوقی صاحب 24/ مارچ 1962/کو ضلع آرہ بہار میں پیدا ہوئے، گھر کا ماحول ادبی اور علمی تھا،اس لئے تعلیم کے حصول کی راہیں ہموار تھیں،عمر کے مقررہ وقت پر مسلم روایات کے مطابق مکتب کے مولوی صاحب کے ذریعے تعلیم وتربیت کی ابتدا ہوئی،اور ابتدائی تعلیم گاؤں میں ہی مکمل ہوئی، میٹرک جین ہائی اسکول آرہ اور کالج کی تعلیم مہاراجہ کالج آرہ سے ہوئی، 1982/میں انھوں نے گریجویشن کیا اور پھر مگدھ یونیورسٹی سے ایم اے کی ڈگری بھی حاصل کی، علم وادب کی وادیوں میں سیاحت اور احساسات وجذبات اور تخیلات وافکار کو لفظوں کے پیرہن میں پیش کرنے والے تخلیقی عمل کے لئے والد صاحب کی طرف سے ہمت وحوصلوں کی صورت میں راستے ہموار تھے، ان کے والد ان سے کہا کرتے کہ بیٹا 24/سال کی عمر میں اگر کوئی شاہکار نہیں لکھا تو پھر کبھی نہیں لکھ پاؤ گے،،یہ بات ہمیشہ کے لیے ان کے دل میں گھر کر گئی،اور پھر اس کے نتیجے میں صرف سترہ سال کی عمر میں ذوقی صاحب مرحوم کے ادب ریز قلم سے،،عقاب کی آنکھیں،،نامی مکمل ناول وجود میں آگیا اس کی روداد ذوقی صاحب کے قلم سے،،یہ ناول میری زندگی کا پہلا ناول ہے’اس ناول کو میں نے انتہائی کم عمری میں تحریر کیا،اس وقت عمر ہوگی یہی کوئی سولہ سترہ سال۔خواہش تو تھی کہ سب سے پہلے یہ ناول ہی منظر عام پر آتا،مگر ایسا نہیں ہوسکا،لکھنے کا شوق بہت چھوٹی عمر میں شروع ہوگیا چھٹے ساتویں درجے سے ہی بچوں کے رسائل میں کہانیاں شائع ہونے لگیں،اباحضور فرمایا کرتے کہ بیٹا،24/سال کی عمر تک اگر کوئی شاہکار نہیں لکھا تو پھر کبھی نہیں لکھ پاؤ گے۔بس ان کی یہ بات گانٹھ سے بندھ گئی اور اس طرح ناول کا سفر شروع ہوا (برقی میڈیا تحریر شیفتہ پروین)

 

مشرف عالم ذوقی صاحب مرحوم نے تقریباً پوری زندگی ادب وانشاء کے حوالے سے ٹوتٹی قدروں، بنتی بگڑتی تہذیبوں،اور ان کے درمیان خونریز تصادم، اخلاقی پسماندگی،انسانی رشتوں اور باہمی تعلقات کی شکست وریخت پر مشتمل اپنی گراں قدر تخلیقات کے ذریعے اپنے درد وکرب کا اظہار کیا ہے’اور دیگر ادبی اصناف کے ذریعے اردو زبان کو استحکام اور اس کے دائرے میں وسعت پیدا کی ہے، ان کے اس کارناموں کی وجہ سے یقیناً اردو زبان ثروت مند ہوئی ہے۔

 

وہ کئی روز سے علیل تھے اور دہلی کے ایک پرائیویٹ ہاسپٹل میں ایڈمٹ تھے،، زندگی عارضہ قلب کا شکار تھی، اس کا سفر مکمل ہوچکا تھا، اور 58سال کی عمر میں اردو کی متنوع اصناف میں فکر وفن کے سنہرے نقوش قائم کرکے ہمیشہ کے لیے یہ سورج فنا کے افق میں روپوش ہوگیا، اور ادبی دنیا کو اپنی رحلت سے سوگوار کرگیا،

 

ابھی یہ تحریر تشنہ تکمیل تھی کہ 20/اپریل شام چھ بجے مشرف عالم ذوقی کی اہلیہ فاطمہ تبسم بھی اس دنیا سے چل بسیں، خاوند کی جدائی کا صدمہ اس قدر سخت تھا کہ زندگی اس کی تاب نہ لا سکی، اور دوسرے ہی روز راہی آخرت ہوگئیں، اب اس وقت اکلوتا بیٹا شاشا غم وآلام کے حصار میں قید ہے اس وقت بیٹے پر کیا گذر رہی ہوگی اس کی ترجمانی شاید لفظوں میں ممکن نہیں، فاطمہ تبسم صاحبہ بھی ادیبہ تھیں، بہترین افسانہ نگار تھیں،انھوں نے دور درشن کے لئے بہت سی کہانیاں لکھیں،

سیریل بنائے، وہ صحافی بھی تھیں اور شاعرہ بھی،ان کا شعری مجموعہ،،تمہارے خیال کی دھوپ،،اور افسانوں کا مجموعہ،،لیکن جزیرہ نہیں،، شائع ہوکر اہل ذوق سے داد تحسین حاصل کرچکا ہے، اردو کے دونوں ادیبوں اور دانشوروں کی المناک رحلت سے ادبی دنیا سراسیمہ اور

افسردہ ہوکر رہ گئی ہے، اداسیوں کے سائے دبیز اور خوفناک ہوچکے ہیں

ادبی وشعری دنیا میں زبردست خلا پیدا ہوا ہے،بظاہر اس کی تلافی کی کرن دور دور تک نظر نہیں آتی۔۔

 

شرف الدین عظیم قاسمی الاعظمی

مسجد انوار گوونڈی ممبئی

 

Comments are closed.