تعزیت نامہ بر وفات حضرت مولانا و مفتی مجتبیٰ حسن قاسمی،استاذ حدیث و فقہ دارالعلوم ماٹلی والا بھروچ گجرات
از قلم :
قاری ممتاز احمد جامعی
ناظم و بانی جامعہ اشاعت العلوم سمستی پور
- جنرل سکریٹری الامداد ایجوکیشنل اینڈ ویلفیئر ٹرسٹ
دنیا آئے دن موت کا تماشہ دکھاتی رہتی ہے ،جگہ جگہ سے خبریں موصول ہوتی رہتی ہیں کہ فلاں شخص اس دنیا کو چھوڑ کر آخرت کی طرف کوچ کر گئے اور فلاں شخص اکسیڈنٹ میں اپنے رب سے جا ملے ، ان خبروں سے حیرانگی و پریشانی کا احساس نہیں ہوتا ہے کیونکہ موت برحق ہے لیکن اگر کسی عزیز یا موجودہ وقت میں کسی جواں سال عالم یا داعی و مبلغین کے وفات کی خبر ملتی ہےتو ایک عجیب سی کڑھن اور صدمہ سا لگتا ہے کیونکہ *”موت العالم موت العالم”* (ایک عالم کی موت دنیا کی موت کے مانند ہے) کا مقولہ اس علماء کے بحران اور فقدان کے زمانے میں ایک مبنی بر حقیقت واقعہ اور ناگہانی حادثہ ہے جس کی نظیر حضرت مولانا مفتی محمد اعجاز ارشد قاسمی اور خود حضرت مولانا محمد مجتبیٰ حسن قاسمی کی ذات گرامی ہیں۔
مرحوم مولانا محمد مجتبیٰ حسن قاسمی بہار کے نامور اور علمی و روحانی علاقہ چندر سین پور کے باشی تھے ، *دارالعلوم دیوبند* سے فراغت کے بعد *المعھد العالی الاسلامی* حیدرآباد میں حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی صاحب کی زیر تربیت رہے اور فقہ و فتاویٰ کی تمرین و مشق کو دل جمعی اور سکونِ قلب کے ساتھ انجام دیا پھر درس و تدریس کے کام پر مامور ہوئے جس کا آخری پڑاؤ دارالعلوم ماٹلی والا بھروچ گجرات رہا جہاں دوران اقامت بہت ساری تحقیقات و ترتیبات کے کام حضرت کے دست سے انجام پائے جن میں سب سے مشہور و مقبول ” *فتاویٰ فلاحیہ* ” (افادات حضرت مولانا و مفتی احمد بیمات صاحب)کی ترتیب ہے جو چار ضخیم جلدوں میں شائع ہو چکی ہیں اور باقی زیر طبع ہیں۔
مرحوم بہت ساری خوبیوں کے حامل تھے جن کا اندازہ ان کے متعلقین و محبین کو بخوبی تھا اور ہر آنے والے کا استقبال، خندہ پیشانی سے ملنا ، مفید مشورے دینا اور ہر شخص سے کھل کر گفتگو کرنا ان کا اپنا خاص شعار تھا، کیونکہ مجھے بارہا حضرت سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا، دوران ملاقات بہت کچھ سیکھنے اور سمجھنے کا موقع ملا نیز قلبی تعلق کی بنا پر ہر نئی ملاقات دوسری ملاقات کے لیے رغبت اور پیاس کا سامان تھی سال رواں بھی دو یادگار ملاقاتیں ہوئیں جن میں ایک شکری کے قریب” نظرا محمدا” کے مقام پر نکاح خوانی کے پروگرام میں ملاقات کا موقع ملا اور آخری ملاقات کچھ ماہ قبل سورت میں ہوئی تھی
رب کریم سے میری دعا ہے کہ اللہ حضرت کی مغفرت فرمائے، جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے اور متعلقین و محبین کو صبر جمیل عطا فرمائے (آمین)
Comments are closed.