مولانا غفران ساجد قاسمی مفتی مجتبی قاسمی رحمہ اللہ دوقالب ایک جان تھے

مظفر احسن رحمانی

مفتی مجتبی قاسمی ہمارے بہت ہی عزیز دوستوں میں تھے ہم نے اپنی آنکھوں سے اس کے بھولے پن کا بھی زمانہ دیکھا ہے ،جب وہ ہمارے پاس اپنی خوشخط کی کاپی لے کر آتے اور بہت محبت سے کہتے مظفر بھائی
دو جملے آپ لکھ دیں
ہم اس پر مشق کریں گے
،وہ بہت ذہین اور صوفی مزاج طلبہ میں شمار کئے جاتے تھے
،لگن اور شوق سے صرف اسے پڑھنا ہی آتا تھا
اور کوئی دوسرا کام بس اپنے ہم مزاج دوستوں کے دل کو رکھنے کے لئے کرلیا کرتے تھے ،
یہ ایک ایسی حقیقت ہے جسے ان کے رفقا خوب محسوس کرتے ہونگے
پھر ایک زمانے کے بعد اسے ہم نے صوبہ بہار کے معروف دینی وتربیتی درسگاہ چشمہ فیض ململ میں دیکھا، میں انہیں دیکھ کر تھوڑی دیر کے لئے سوچنے لگا کہ کیا یہ مجتبی ہیں
میں یہ سوچ ہی رہا تھا
کہ وہ تپاک سے ملے
اور کہنے لگے کہ
مظفر بھائی
آپ نے مجھے پہچانا نہیں؟
میں مجتبی ہوں
جسے آپ اردو کا مشق دیا کرتے تھے ،
یہاں حضرت فقیہ عصر مولانا خالد سیف اللہ رحمانی صاحب دامت برکاتہم کے  تربیت یافتہ شاگردوں کی ایک پوری ٹیم تھی جن میں مولانا غفران ساجد قاسمی ،چیف ایڈیٹر بصیرت آن لائن ،مولانا فاتح اقبال ندوی ،مہتمم مدرسہ چشمہ فیض ململ،مولانا مفتی نافع عارفی کارگذار جنرل سکریٹری آل انڈیا ملی کونسل بہار ،یہ سب لوگ ہم سے عمر میں چھوٹے ہیں لیکن ہر ایک علمی اعتبار سے ہم سے بہت بڑے ہیں ،قربت اور بے تکلفی اسلئے بہت زیادہ ہے کہ ہم سب ایک ہی مربی کے تربیت یافتہ ہیں ہم نے اپنی زندگی میں ایک بہت بڑی بات یہ دیکھی کہ جو بھی حضرت فقیہ عصر مولانا خالد سیف اللہ رحمانی صاحب دامت برکاتہم ناظم المعہد العالی الاسلامی حیدرآباد ،کارگذار جنرل سکریٹری آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ،کے شاگرد ہیں چاہے اس نے جب بھی حضرت استاد محترم دامت برکاتہم سے پڑھا ہو ملاقات پر ایک دوسرے کے گویا بھائی لگنے لگتے ہیں اسی نسبت نے ہم سب کو ایک دوسرے سے قریب کردیا ،اور ایسا بنادیا کہ گویا ایک دوسرے کے غم اور خوشی کے ساتھی ہوں ،
ابھی گذشتہ 3/اپریل کو ہماری ان سے ملاقات رفیق گرامی قدر مولانا غفران ساجد قاسمی صاحب چیف ایڈیٹر بصیرت آن لائن کی بہن کی شادی میں ہوئی تھی انہوں نے جب مجھے دیکھا تو چہک گئے اور کہنے لگے کہ اچھا ہوا کہ آپ سے بھی ملاقات ہوگئی ہم نے ان سے پوچھا کہ اس وقت گجرات سے کیسے آنا ہوا تو انہوں نے بتایا تھا کہ ہمارے آنے کی دو وجہیں ہوئیں ایک یہ کہ گجرات سے ہمارے رفقا بہار کے تعلیمی دورے پر آئے تھے ان کے ساتھ آنا ہوا اور دوسرا غفران کے بہن کی شادی میں شرکت کرنی تھی ،
اسی درمیان انہوں نے کہا کہ ہم سبیل الفلاح جالے بھی گئے تھے تو ہم نے شکایتا کہا کہ پھر جالے میں ہم سے تم نے ملاقات کیوں نہیں کیا ؟
انہوں نے کہا کہ مولانا ہم نے آپ کو فون کیا تھا لیکن آپ سے بات نہیں ہوپائی یہ کیسے ممکن ہو سکتا ہے کہ میں جالے جاؤں اور آپ سے ملاقات نہ کروں ،
اسی درمیان حضرت امیر شریعت مولانا سید محمد ولی رحمانی رحمۃ اللہ علیہ کے انتقال کی خبر موصول ہوئی ہم سب سوگوار ہوگئے سب خاموش اپنی جگہ بیٹھے اندر ہی اندر رو رہے تھے ،وہ ہمارے قریب آئے اور کہنے لگے کہ مولانا ابھی اس کی خبر غفران کو نہ دی جائے تو بہتر ہے ،
اور پھر فورا انہوں نے ہمیں نائب امیر شریعت حضرت مولانا شمشاد رحمانی صاحب دامت برکاتہم سے فون پر میرا تعارف کرایا اور ہم سے کہا کہ انہیں آپ تسلی دے دیں ،
اب سب لوگ حضرت امیر شریعت کے جنازے میں شرکت کے لیے پروگرام ترتیب دینے لگے ،وہاں سے ہم جالے آگئے اور صبح ہوکر مفتی مجتبی قاسمی ،مولانا غفران ساجد قاسمی وغیرہ مونگیر جنازے میں شرکت کےلئے روانہ ہوگئے
ایک دن میں نے غفران سے حال احوال معلوم کئے کہ کیا مجتبی گجرات کے لئے روانہ ہوگئے
تو انہوں نے کہا کہ ان کی فلائٹ کسی وجہ کر کینسل ہوگئی اگلی تاریخ میں جائیں گے اس وقت وہ اپنی بہن سے ملنے گئے ہیں ،ہم اور غفران روز ہی رات کو ایک مرتبہ حال احوال کے لئے بات کرلیا کرتے ہیں تو ایک رات اس نے مجھ سے کہا کہ میں تو آج ہی ممبئی بہت ضروری کام سے آگیا ہوں البتہ مجتبی بیمار تھا تو اس کو اس کے گھر پہونچادیا تھا ،
ہم بہت مطمئن تھے
مرض تو آنی جانی ہے
ٹھیک ہوجائیں گے
لیکن اچانک تراویح سے فارغ ہوکر ہم کھانے پر بیٹھے تھے کہ میرے بڑے فرزند حافظ نوید سلمہ کو فون آیا ہمارے عزیز شاگرد مفتی عامر مظہری سلمہ ناظم تعلیمات دارالعلوم سبیل الفلاح جالے نے کہا کہ مولانا کوئی خبر آپ کو ملی ہے؟
میں نے کہا کیا ہوا
وہ تھوڑی دیر رکے اور کہا کہ
مفتی مجتبی قاسمی بھی اب اللہ کو پیارے ہوگئے
ہمیں تو ایسا لگا کہ گویا قیامت ہو
ہمیں روتا دیکھ کر بچے سب بھی رونے لگے
ایک غم کا ماحول تھا
اسی درمیان ہم نے غفران ساجد قاسمی کو فون کیا وہ نڈھال تھا بس اتنا کہ پایا کہ ہم نے اپنی زندگی کا سب سے قیمتی جوہر کھودیا
یہ ایک سچ ہے ک غفران اور مجتبی دوقالب ایک جان تھے
صبح اس نے ممبئی سے مجتبی کے جنازے میں شرکت کے لئے رخت سفر باندھا ،نہلایا دھلایا ،نیا کپڑا اپنے دوست کو زیب تن کیا ،خود ہی جنازے کی نماز پڑھایا منوں مٹی کے نیچے دفن کیا ،اپنے جگری دوست کو الوداع کہا اور پھر دوبارہ قیامت میں ملنے کے وعدے پر اپنے گھر کو لوٹ آیا
ابھی پھر بات ہوئی کہنے لگا کہ
ایسا غم ہم نے اپنی زندگی میں کبھی نہیں سہا تھا ،مفتی اعجاز ارشد بھی گئے اور مجتبی بھی چلے گئے
اور سب سے بڑھ کر ہمارے محسن مولانا وصی احمد صدیقی بھی چلے گئے
یہ سب کیا ہورہا ہے
موت تو برحق ہے
سب کو مرنا ہے
لیکن اللہ خوف اور ڈر کی موت سے ہم سب کی حفاظت فرمائے
ہم غفران کے اس عزم و حوصلے کو سلام کہتے ہیں ،
اور ان کے ساتھ ان کے دوستوں
مفتی عمر عابدین قاسمی
مفتی ظفر عابدین ندوی
نافع عارفی
فاتح اقبال ندوی
ارشد فیضی قاسمی
ماٹلی والا بھروچ میں ان کے ساتھ رہ رہے اساتذہ، عملہ اور ذمہ داروں
اور سب سے بڑھ کر ان کے افراد خاندان
بھائی
بہن
ماں
رشتہ دار
اقربا
انکی شریک حیات
بچوں
اور ان کے مربی استاد مولانا خالد سیف اللہ رحمانی صاحب دامت،
مولانا محمد اشرف قاسمی
مفتی شاہد قاسمی
مولانا سرفراز قاسمی
مفتی اعظم ندوی
کی تعزیت کرتے ہیں
اور دعا کرتے ہیں کہ اللہ سب کو صبر جمیل عطا فرمائے
اور اللہ مرحوم کی مغفرت فرمائے
مظفر احسن رحمانی
ایڈیٹر بصیرت آن لائن
معتمد رابطہ عامہ دارالعلوم سبیل الفلاح جالے

Comments are closed.