مولانا وحیدالدین خان : اختلاف و اتفاق کی بنیادیں
ثناءاللہ صادق تیمی
مولانا وحیدالدین خان کا انتقال ہوگیا ۔ دنیا ایک بڑے اسلامی مفکر سے محروم ہوگئی ۔انا للہ و انا الیہ راجعون ۔ مولانا کے سلسلے میں ان کی موت کے بعد بھی کئی طرح کی باتیں دیکھنے کو ملیں ۔ مناسب معلوم ہوا کہ اس سلسلے میں چند باتیں ساجھا کی جائیں ؛
1۔ مولانا کے افکار کا ایک زاویہ مذہب اور سائنس کے تقابلی مطالعہ کا ہے ۔ اس معاملے میں مولانا کی تحقیق اور ان کے طرز استدلال کا دنیا نے لوہا مانا ۔ ان کی کتابیں ” مذہب اور جدید چیلنج ” ” اسلام :دور جدید کا خالق ” اس موضوع پر لکھی گئی چند بہترین کتابوں میں سے ہیں ۔ان سے استفادہ کرنا چاہیے بلکہ کہنا چاہیے کہ یہ دو کتابیں مولانا کی سب سے اہم دو کتابیں ہیں جن سے انہوں نے عہد جدید میں اسلام کی بڑی لازوال خدمت کی ۔ جزاہ اللہ خیرا ۔اس موضوع پر انہوں نے جو کچھ بھی لکھا ہے وہ شاہکار کے درجے میں ہے ۔
2(ا) مولانا کے افکار کا ایک زاویہ دین کی تعبیر وتشریح سے متعلق ہے ۔ اس سلسلے میں جہاں انہوں نے مولانا ابوالاعلی مودودی کے تعبیر دین کی غلطیوں کو واضح کیا وہیں اسلام میں صبر و اعراض کی اہمیت کو اجاگر کرنے کی لگاتار کوشش کی ۔ دین کی تعبیر و تشریح کے معاملےمیں اگر مولانا مودودی کے یہاں سیاسی تعبیر تھی تو مولانا وحیدالدین خان کے یہاں ایک دوسری انتہا یہ نظر آئی کہ انہوں نے دین کو جیسے صرف صبر واعراض ہی بنا کر رکھ دیا ۔ چن چن کر سیرت و تاریخ اور قرآن وحدیث سے انہوں نے وہ باتیں پیش کیں جو ان کے موقف کی تائید کررہی تھیں ۔ اس معاملے میں ایسے بڑے بڑے واقعا ت وحقائق سے بھی وہ صرف نظر کرگئے جو واضح طور پر ان کے موقف کے خلاف تھے ۔ایسا محسوس ہوتا کہ انہوں نے نظریہ پہلے طے کیا ہے اور دلائل بعد میں جمع کرتے جارہے ہیں ۔
2 (ب) دین کی تعبیر وتشریح کا ایک اور زاویہ وہ ہے جسے قرب قیامت کی نشانیوں سے تعبیر کیا جاسکتا ہے ۔ خان صاحب نے دابہ، دجال ، یاجوج ماجوج، مسیح موعود اور مہدی وغیرہ کی جو تعبیر وتشریح کی و ہ بہرحال امت کے عام طریق عقیدہ و نظر کے خلاف تھی اور امت نے اس تعبیر وتشریح کو من حیث المجموع مسترد ہی کیا ۔
2۔ (ج) دین کی تعبیر وتشریح میں کئی مقامات پر انہوں نے وہ رویہ اپنایا جس کی امید کسی مسلم عالم دین سے نہيں ہوتی جیسے ان کا ماننا یہ تھا کہ آج کے دور میں جزوی طور پر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت ناقابل عمل ہے اور اس کے بالمقابل عیسی علیہ السلام کی شریعت زيادہ قابل عمل ہے ۔ اسی طرح وہ مانتے تھے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسوہ حسنہ تھے اسوہ کاملہ نہیں ۔
3۔ ان کے افکار کا ایک زاویہ امت کے قومی اور عالمی مسائل سے تھا جیسےہندوستانی مسلمانوں کا مسئلہ ، مسئلہ کمشیر ، فرقہ وارانہ فساد اور مسئلہ فلسطین ۔ ان تمام مسائل میں وہ مسلمانوں کو یہ مشورہ دیتے تھے کہ وہ یک طرفہ طور پر صبر واعراض کا راستہ اپنائیں ۔ یہودیوں کا حق تسلیم کرلیں ، مسلمان کبھی کسی معاملے میں مشتعل نہ ہوں اور جہاں جہاں فسادات ہوتے ہیں اس کی وجہ مسلمان ہوتے ہیں وغیرہ یہ وہ مسائل ہیں جن پر امت ان کے ساتھ نہ ہوسکی خود ان کے صاحبزادے بھی ان مسائل میں ان کے خلاف ہی نظر آئے البتہ ان کی وجہ سے جہاں وہ غیر مسلموں کے بیچ معتبر ٹھہرے وہیں مسلمانوں کے بیچ ان کی شبیہ متاثر ہوئی لیکن بہر حال ان مسائل میں غور وفکر کے کئی زاویے ہوسکتے ہیں ۔ اسے بہرحال مولانا کے افکار کی قوت ہی سمجھنا چاہیے کہ آج انہیں کی طرح سوچنے والوں کی ایک بڑی تعداد موجود ہے جو ان سے متاثر نظر آتی ہے ۔
4۔ مولانا کے افکار کا ایک زاویہ وہ ہے جسے شخصیت سازی سے تعبیر کرسکتے ہیں ۔ جہاں انہوں نے مثبت نقطہ نظر پر زور دیا ۔ پریشانی میں آسانی ڈھونڈنے کی بات کی ۔چھوٹے چھوٹے واقعات سے بڑے بڑے استدلالات کیے اور بڑی تعداد میں لوگوں کو جینے اور زندگی میں آگے بڑھنے کا ہنر سکھایا ۔اس معاملے میں بطور خاص اللہ سے محبت ، آخرت رخی زندگی اور تزکیہ قلب و ذہن پر ان کے یہاں کارگر تلقین نظر آتی ہے ۔اس خاص معاملے میں بہت سے لوگوں کو مولانا کے یہاں سے وہ روشنی ملی جس نے ان کی زندگی کا رخ بدل کر رکھ دیا ۔
5 ۔ مولانا کے افکار کا ایک زاویہ وہ ہے جس کا براہ راست تعلق دعوت سے ہے ۔ اس معاملے میں حالاں کہ ان کے یہاں دعویداری بہت رہی لیکن یہ بھی سچ ہے کہ غیر مسلموں تک آج کی زبان اور اسلوب میں جس تسلسل سے انہوں نے اسلام کو پہنچانے کی کوشش کی اس کی مثال خال خال ہی نظر آئے گی ۔ بر صغیر میں انہیں یہ خصوصیت حاصل رہی کہ انگریزی ہندی کے قومی اخبارات کے مذہبی کالم میں ان کی تحریریں چھپتی رہیں۔ وہ عملی سطح پر بھی داعی کی حیثيت سے سرگرم نظر آئے ۔
یوں اگر ہم اتحاد واتفاق کی بنیادیں تلاش کرنے کی کوشش کریں تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ مذہب وسائنس کے موضوع پر کیا گيا ان کا کام قابل قدر ہے اور عالم اسلام میں اس کی بڑی پذیرائی ہوئی ۔ ان کے یہاں مثبت زاویہ نظر پر تلقین اچھی ہے ، شخصیت سازی میں ان کے اس لٹریچر سے بہت سے لوگوں نے فائدہ اٹھایا اور غیر مسلموں تک اسلام کے آفاقی پیغام کو پہنچانے میں انہوں نے اپنا کردار ادا کیا البتہ دین کی بنیادی تعبیر وتشریح میں صبر و اعراض پر مفرط اصرار اور تلقین نے دین کے دوسرے زاویوں کو کمزور کیا ۔ انہوں نےرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت کو جزوی طور پر ناقابل عمل اور عیسی علیہ السلام کی شریعت کو جزوی طور پر زیادہ قابل عمل کہا جس سے اتفاق کرنے کی غلطی کوئی صاحب ایمان مسلمان تو خیر نہیں کرپائے گا ۔ اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسوہ کاملہ نہ ماننےکی ان کی بات بھی عجیب وغریب ہی رہے گی ساتھ ہی انہوں نے علامات قیامت کی جو تعبیر وتشریح کی اس میں ان سے اتفاق نہیں کیا جاسکے گا ۔اسی طرح اہانت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے معاملے میں بھی و ہ پوری امت سے الگ تھلگ کھڑے نظر آتے ہیں ۔ ہاں قومی اور بین الاقوامی مسائل پر ان کے افکار وتصورات کو حالات اور نتائج کے تناظر میں دیکھ کر رائے قائم کی جاسکتی ہے کہ وہ درست تھے یا نہیں ۔ یوں بھی یہ مسائل ایسے ہیں جن میں صاحبان نظر اجتہاد سے کام لے ہی سکتے ہیں خود خان صاحب نے اپنی زندگی میں یہ کام کیا بھی پوری امت اور ملت کے برعکس انہوں نے جسے درست سمجھا اس کا برملا اظہار کیا ۔
Comments are closed.