اندھی نگری چوپٹ راج!
(تحریر ایس ایم ضیاء)
صدر ضیاء ایجوکیشنل اینڈ ویلفیئر ٹرسٹ سنگھوارہ دربھنگہ،9572249618
اندھی نگری چوپٹ راج،ٹکے سیر بھاجی ،ٹکے سیر کھاج اردو زبان میں یہ مثل بہت مشہور ہے اور اس وقت ملک ہندوستان کی موجودہ حکومت پر یہ مثل پوری طرح صادق آرہا ہے اس سے قبل کہ میں آپ کو اپنے ملک کی داستان سناؤں ،یہاں کے حالات سے باخبر کراؤں، مناسب معلوم ہوتا ہے کہ سب سے پہلے اس مثل کو سمجھا دوں تاکہ آپ کو اپنے ملک ہندوستان اور موجودہ راجا(یعنی وزیراعظم)کی کارکردگی سے واقف کرا سکوں کہاوت کچھ اس طرح ہے کہ ایک ملک کا بادشاہ اپنے آپ کو بہت عقلمند ،انصاف پرور ،دیانتدار ،ایماندار، حق گو، حق شناس سمجھتا تھا بادشاہ کی اس دانشمندی پر وزراء، افسران بادشاہ کی خوب چاپلوسی کرتے تھے ہر لمحہ بادشاہ کی خوشامد کرتے تھے اور یہ ان کا محبوب مشغلہ بن گیا تھا وزراء اور افسران کی اس خوشامد گی سے بادشاہ بہت متاثر ہوا بادشاہ تو تھا ہی خود کو قاضی القضات کے عہدے پر بھی فائز ہوگیا بادشاہ نے سارے ملک میں ہر ایک شئے کے نرخ ایک جیسے مقرر کر رکھے تھے۔ یعنی ہر شئے ٹکے سیر اور اس طرح بادشاہ پورے ملک کی مہنگائی کو کنٹرول میں کئے ہوا تھا قصہ مختصر یہ کہ بادشاہ کے اس اندھی نگری چوپٹ راج کا تذکرہ پڑوسی ملک میں بھی ہونے لگا ۔ گھومتے گھومتے ایک گرو ایک چیلا اس ملک میں آگیا چیلا کو یہاں آکر پتہ چلا کہ یہاں ہر چیز ایک ٹکے میں مل جاتی ہے تو وہ بہت خوش ہوا چونکہ وہ کھانے پینے کا بڑا شوقین تھا حالانکہ گرو منع کرتے رہے انھوں نے کہا کہ جہاں اچھے برے میں فرق امتیاز نہ ہو اور چیز کی قیمت ایک جیسی ہو تو سمجھ لینا چاہیے وہاں کچھ گڑبڑی ضرور ہے وہاں ٹھہرنا مناسب نہیں ہے لیکن چیلا نہیں مانا وہ وہیں قیام پذیر ہو گیا اور خوب کھاتا پیتا رہا یہاں تک کہ وہ خوب فربہ (موٹاتازہ) ہوگیا ایک دن کی بات ہے بادشاہ کے سامنے ایک مقدمہ آیا ایک ساربان کے گھوڑے کے بدکنے سے گاڑی پلٹ گئی اور ایک آدمی اسی میں دب کر ہلاک ہو گیا راجا نے ساربان سے کہا تمھیں پھانسی دی جائے گی اس نے کہا حضور یہ میری غلطی نہیں ہے بلکہ غلطی ایک خاتون کی ہے جس کے پازیب کی جھنکار سے گھوڑا بدک گیا عورت کو بلایا گیا اس سے کہا گیا تمھیں پھانسی دی جائے گی تمھاری وجہ سے اس شخص کی جان گئی ہے اس عورت نے کہا حضور اس میں میری کیا غلطی ہے غلطی تو اس سنار کی ہے جس نے اس پازیب میں گھنگھور لگائی ہے چنانچہ اس سنار کو بھی بلایا گیا سنار نے بھی اسی طرح کسی حیلہ بہانا سے اپنی جان بچائی یہ سلسلہ چلتا رہا بالآخر بادشاہ کا حکم ہوا تمام ملازمین کو باری باری پھانسی کے پھندے پر لٹکا دیا جائے جلاد نے جب پھندا گلے میں ڈالا تو پھندا ڈھیلا پر گیا اس نے بادشاہ کو بتایا اسی اثناء میں وہ گرو چیلا بھی اس پھانسی کے پھندے کو دیکھنے کیلئے وہاں پہنچ گیا بادشاہ نے کہا کہ جس کے گلے میں پھندا آ جائے اسے پھانسی دی جائے چنانچہ سب کی گردن پتلی تھی کسی کے گردن میں پھندا سیٹ نہیں ہوا بادشاہ حیران ہوا بہت سوچنے کے بعد اس نے ایک فرمان جاری کیا کہ مجمع میں جتنے لوگ ہیں ان میں تلاش کیا جائے کس کی گردن موٹی ہے تلاش کیا گیا تو اس چیلا کی گردن موٹی تھی اسی کو تختہ دار پر لٹکایا گیا چیلا خوب چیخنے چلانے لگا بچاؤ بچاؤ مگر گرو نے کہا کہ میں نے تمھیں پہلے ہی منع کیا تھا جہاں اچھے برے کی تمیز ختم ہو جائے اس جگہ رہنا مناسب نہیں اس وقت تم نے میری بات نہیں مانی اب بھگتو چیلا کے زاروقطار رونے پر گرو کو ترس آگیا اس نے بادشاہ سے کہا حضور چیلے کی جان بخش دی جائے اور مجھے پھانسی دی جائے بادشاہ حیران ہوا اس نے کہا کیوں تم اپنی جان گنوانا چاہتے ہو تو گرو نے جواب دیا کہا میرے دھیان گیان میں آیا ہے کہ جو اس وقت تختہ دار پر چڑھے گا وہ سورگ(جنت) میں جائے گا پھر کیا تھا اتنا سنتے ہی سارے وزراء افسران تختہ دار چڑھنے کیلئے اپنے آپ کو پیش کرنے لگے بادشاہ نے کہا نہیں میں بادشاہ ہوں اس لئے سب سے پہلے میں سورگ میں جاؤنگا اس طرح بادشاہ تختہ دار پر چڑھا دیا گیا اور گرو چیلا وہاں جان بچا کر بھاگنے میں کامیاب ہوا یہ کہانی ذرا تفصیل سے تھی لیکن میں نے اس مضمون کے طوالت کی وجہ سے مختصر بیان کیا ہے ٹھیک اسی طرح اس ملک کے موجودہ وزیراعظم بھی ایسے ہی ہیں یہاں چوپٹ اور کرپٹ دونوں سکے ہی رائج الوقت دکھائی دیتے ہیں میں ماضی بعید اور قریب میں تو اس طرح کی کوئی نظیر نہیں ملتی ہے تاہم موجودہ مودی اور یوگی حکومت میں یہ مثل پوری طرح صادق آرہی ہے ملک کی موجودہ صورتحال خودہی چیخ چیخ کر اس محاورے کے عملاً رائج ہونے کا اعلان کررہی ہے اور عوام چاروں اور اپنی آنکھوں سے اس طرح کی حکمرانی کا مشاہدہ کررہے ہیں ہمارے اس ملک کے وزیراعظم وزیر داخلہ وغیرہ اپنی مرضی سے اس ملک کی عوام پر نت نئے قانون تھوپ کر خود کو عقلمند بادشاہ تصور کررہے ہیں جبکہ ملک کی عوام ان کے اس قانون سے کافی مایوس دکھ رہی ہے۔اج ہم اپنے ملک کے حالات پر نظر ڈالتے ہیں تو ہمیں بھی اسی اندھی نگری والے بادشاہ کی حکمرانی نظر آتی ہے یہاں بھی انصاف کا معیار ویسا ہی ہے جیساکہ اس کہانی میں پیش کیا گیا ہے ۔ہندوستان میں ظالموں کے ساتھ ہمدردی اور مظلوموں کے ساتھ زیادتی عام بات ہوتی جا رہی ہے حیرت ہے کہ جب ملک کا وزیر اعظم ہی یہ کہے کہ کسی کتے کے پلے کے مرنے جیسے افسوس ہوتا ہے ایسے ہی کسی فرقہ کے لوگوں کے مرنے پر افسوس ہوتا ہے ۔مسلمانوں کے ایک ہاتھ میں قرآن اور دوسرے ہاتھ میں کمپیوٹر کی بات کرنے والے حکمرانوں کی جانب سے جب ایک خاص فرقہ کو ٹارگیٹ کا نشانہ بنایا جائے اور پھر یہ کہا جائے کہ ہم سب کا ساتھ سب کا وکاس کررہے ہیں تو ایسی صورت میں اس ملک کو اندھی نگری سے تعبیر کرنا شاید غلط نہ ہوگا ۔تین طلاق کا مسئلہ یہ مسلمانوں کا عائلی مسئلہ ہے ہمارے ملک کے قانون نے بھی اس کی اجازت دی ہے پھر موجودہ حکومت نے آئین ہند میں چھیڑ چھاڑ کرکے مسلمانوں کے مذہبی معاملات میں مداخلت کرکے آئین کی کھلی خلاف ورزی کی ہے آج تک اس پر کوئی کارروائی نہیں ہوئی ہے ۔پورا ملک مہنگائی بےروزگاری کی مار جھیل رہا ہے اور موجودہ حکومت کے وزراء افسران بی جے پی اور آر ایس ایس کے غنڈے ایک خاص کمیونٹی کے گھروں میں گائے کا گوشت تلاش کرتے پھر رہے ہیں اور اس کی آر میں قتل و غارت گیری کا بازار گرم کئے ہوئے ہیں ۔دہشت گرد بے خوف ہو کر ہمارے جوانوں کو شہید کررہے ہیں اور حکومت بند کمرے میں بیٹھ کر صرف بیان جاری کر مگرمچھ کے آنسو بہاری ہے ۔ائے دن ہماری ماؤں بہنوں کی عصمتیں لوٹ کر ان کا قتل کیا جا رہا ہے اخبارات کی سرخیاں ہماری ماؤں بہنوں کے خون سے لالہ زار ہیں جسے پڑھ کر روح کانپ جاتی ہے لیکن ہمارے حکمرانوں کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی ہے ابھی پورا ملک کرونا وائرس جیسی مہلک وبا سے جھوجھ رہا ہے ملک میں اس وبا کی وجہ سے قیامت صغریٰ برپا ہو گیا ہے لاکھوں افراد اس مہلک وبا کی زد میں آکر ہلاک ہوگئے اور کروڑوں افراد چیخ چیخ کر حکومت سے اس مہلک وبا سے نمٹنے کیلئے اسباب و وسائل کا انتظام چارہی ہے لیکن موجودہ حکومت اتنی بےشرم ہے کہ وہ انتخابات جیتنے کیلئے پورا دم خم لگائے بیٹھی ہے نہ اسے عوام کی چیخ و پکار کا کوئی اثر ہے نہ ہی اس کے دفاع کیلئے کوئی ٹھوس لائحہ عمل تیار کرنے کا ارادہ ایسے حالات میں جب کہ اس ملک کو ابھی ہاسپٹل کی ضرورت ہے آکسیجن کی ضرورت ہے مزدوروں کو غذا دینے کی ضرورت ہے بیماروں کا صحیح طریقہ سے علاج کیا جائے بروقت دوا دستیاب کرائی جائے اس سمت میں بات کرنے کی ضرورت ہے لیکن ہائے رے اس ملک کی قسمت اس ملک کو کیسا اندھا کانا بہرا گونگا حکمراں مل گیا ہے کہ وہ کچھ اور ہی کر رہا ہے ہاسپٹل بنوانے کی جگہ رام مندر کی تعمیر میں لگا ہوا ہے مریضوں کو آکسیجن فراہم کرنے اور آکسیجن کے انتظام کرنے کے بجائے کئی کروڑ روپے کی لاگت سے بی جے پی کا عالیشان دفتر تعمیر کرانے میں مصروف ہے ابھی کی حالیہ رپورٹ کے مطابق دہلی ممبئی وغیرہ سب سے زیادہ اس مہاماری کا شکار ہے لیکن مرکز کی اندھی بہری سرکار اس ملک پر اپنا تسلط قائم کرنے کے حربے استعمال کررہی ہے ۔ہمیں یہاں نہ کوئی عوام کا پرسان حال دکھا نہ کوئی مرنے والوں کے اہل خانہ کا آنسو پونچھ نے والا ملا ہمارا دیش جسے کبھی سونے کی چڑیا کہا جاتا تھا آج اسی دیش کا حال یہ ہے کہ یہ ایک بار پھر غلامی کی طرف قدم بڑھاتا دکھ رہا ہے اس اندھی نگری چوپٹ راج میں ملک کی سوا سو کروڑ عوام کی زندگی بس اللہ تعالیٰ کے ہی سہارے چل سکتی ہے اس کے علاوہ کسی سے اچھی امیدیں رکھنا فضول ہے
Comments are closed.