روش دہر کا ہر نقش پکارے گا مجھے

 

 

✒️ سالم فاروق ندوی

 

مولانا وحید الدین خان جو مختلف زبانوں میں متعدد کتابوں کے مصنف اور موجودہ دور میں تحقیقی دنیا کے ایک بڑے امام سمجھے جاتے ہیں ، ابھی کچھ دیر قبل اس دار فانی کو الوداع کہہ گئے ہیں ، *إنا للہ وإنا الیہ راجعون* ،

آپ کی ولادت یکم جنوری، 1925ء کو بڈھریا اعظم گڑھ میں ہوئی ، اور مدرسۃ الاصلاح اعظم گڑھ میں آپ نے ابتدائی تعلیم حاصل کرکے فراغت حاصل کی ،

مولانا مرحوم ہندوستان کیلئے عزت کا تاج اور عالم اسلامی کے دانشور طبقہ کیلئے ایک بہترین راہنما اور کامیاب مفکر تھے.

آپ کی زندگی سیرت و سنت اور احیائے امت کیلئے گویا وقف رہی ، آپ کی اکثر کتابیں انقلابی تحاریر و تقاریر پر مشتمل ہیں ، آپ کے اکثر پروگرامز بھی احیائے اسلام اور حقانیت اسلام کے ہی تحت ہوتے تھے، آپ کی زندگی کا ایک بڑا مقصد دعوت و تبلیغ رہا ، بالخصوص برادران وطن میں آپکے دعوتی جذبات قدر کی نگاہوں سے دیکھے جانے کے قابل ہیں ، آپ کا مشن مسلمانوں اور دیگر مذاہب کے لوگوں کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنا تھا ، نیز اسلام کے تعلق سے برادران وطن کے ذہنوں میں جو غلط فہمیاں اور غلط تصویریں ہیں ان کا ازالہ کرنا تو آپ کا اولین مقصد رہا ہے ، اسی کے تحت آپ نے ” *عظمت اسلام ” ، "دعوت اسلام” ، رہبر انسانیت ” اور "دین کامل*” کتابیں بھی تصنیف فرمائیں ،

آپ کے کارہائے نمایاں میں سب سے بڑا کارنامہ *دین کی سیاسی تعبیر* پر معتدلانہ اور منصفانہ تنقید ہے جس میں مصنف کی علمی عبقریت کو سلامت رکھنے کے ساتھ ساتھ آپ نے اس کی علمی سطح پر گرفت کی ہے ، اور نہ صرف یہ کہ تنقید پر بس کیا بلکہ اس کا بدل پیش کیا اور اس موضوع پر مستقل ایک محققانہ کتاب *”تعبیر کی غلطی”* بھی تصنیف فرمائی ہے،

اردو زبان میں *مذہبیات کو ایک عصری اسلوب* دیا مثلا مذہبیات کو تمثیل اور روز مرہ کی عوامی زبان میں بیان کرتے ہیں ، وہ چاہتے تھے کہ مسلمانوں پر دین کی حقیقت واضح کی جائے ، معرفت الٰہی سے ان کو روشناس کرایا جائے اور سیاسی رو سے جو مسلمانوں میں منفی پہلو ہیں ان کی اصلاح کی جائے ، مولانا نے جہاں ایک طرف مسلمانوں کو یہ سمجھانے کی کوشش کی کہ تمہیں اللہ کے سامنے کھڑا ہونا ہے اور آخرت میں حساب دینا ہے ، وہیں پر اگر مولانا کی پوری تحریروں کا تجزیہ کیا جائے تو مذکورہ بالا نتیجہ کے ساتھ ساتھ یہ بھی پتہ چلے گا کہ مولانا نے مسلمانوں کو یہ بھی سمجھایا کہ تمھارا مشن کیا ہے ؟ اس دنیا میں تمہارا وجود کس لئے ہوا ہے ؟ تمہیں ردعمل کی نفسیات سے نکل کر برادران وطن کے ساتھ مثبت اور تعمیری سوچ اور معتدل رویہ اختیار کرنا چاہئے اور پوری دنیا کو اسی نظریہ سے دیکھنا چاہیۓ منفی نظریہ سے نہیں، اس طور پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ مولانا کی ساری تحریروں کا مرکزی خاکہ *دعوت و تبلیغ* ہوتا تھا ،

آپ نے بہت ہی سلیس اور آسان فہم انداز میں قرآن کا انگلش ترجمہ کیا جو انگلش زبان سے تعلق رکھنے والے لوگوں کیلئے بے حد مفید اور دعوتی راہ میں نہایت کار آمد ثابت ہوگا ،

اب تک اسلامی مرکز نئی دہلی کے چیئرمین اور ماہ نامہ "*الرسالہ*” کے مدیر بھی رہے ہیں، آپ کی زندگی مفکرانہ، قلم ادیبانہ اور انداز خطابت نہایت ظریفانہ تھا ، آپ تمام مذاہب کی تقریبات میں رونق اسٹیج ہوتے تھے ، ہندوستان آپ کی ملی و وطنی خدمات کا ہمیشہ معترف اور مرہون منت رہے گا.

حکومت ہند نے آپ کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے حال ہی میں 25/ جنوری 2021 کو ہندوستان کے دوسرے بڑے شہری ایوارڈ *” پدم بھوشن ایوارڈ "* سے نوازا تھا ، اس کے علاوہ بھی ہندوستان اور بیرون ممالک سے آپ کو بہت سے ایوارڈز دئے جا چکے ہیں، 12/مئی 1989ء میں حکومت پاکستان نے آپ کی ایک کتاب، *” پیغمبر انقلاب "* (انگریزی) پر پہلا بین الاقوامی انعام دیا تھا ، آپ کے کارنامے اور انسانیت نوازی کی وجہ سے آپ کو ڈیمورگس بین الاقوامی اعزاز سے نوازا گیا ، یہ ایوارڈ آپ کو گوربہ چیف کے ہاتھوں دیا گیا تھا ، غرض یہ کہ مولانا کی شخصیت ایک عظیم شخصیت رہی ہے ، وہ اپنے آپ میں خود ایک انجمن تھے ، ہر موضوع پر گفتگو کرتے اور لکھتے شاید ہی جتنا انھوں نے لکھا ہے کسی اور نے لکھا ہو ، عالم اسلامی میں آپ کا وجود تمام لوگوں کے لئے ایک افتخار تھا اور آپ کی جدائی تحقیقی دنیا میں شاید حال کا سب سے بڑا خسارہ ہو ، ماضی کے علماء اور ان کے علوم پر آپ کی نادر تنقیحات ہوتی تھیں ،

اپنی سیرت و کردار اپنے اخلاص و للہیت اور ہمدردی و خیر خواہی اور معرفتِ الہی کے ایک سچے طالب کے اعتبار سے نمونہ تھے ، اپنی عمر کے 96 سال اس دنیائے کرب و بلا میں گزار کر آج بتاریخ 21 / اپریل 2021ء بمطابق 8/رمضان 1442ھ اپنے خالق حقیقی سے جا ملے، اللہ تعالیٰ امت کو ان کا نعم البدل عطا فرمائے اور مولانا مرحوم کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے.

روش دہر کا ہر نقش پکارے گا مجھے..!

یہ نہ سمجھو کہ مجھی تک مرا افسانہ ہے..!

 

سالم فاروق ندوی مظفرنگری

Comments are closed.