مولانا وحید الدین خان صاحب کا انتقال ایک عہد اور صدی کا خاتمہ ہے.
محمد قمر الزماں ندوی
مولانا وحید الدین خان صاحب رح (پیدائش ۱۹۲۵ء وفات ۲۲/اپریل ۲۰۲۱ء)کے انتقال سے ایک عہد اور ایک صدی کا خاتمہ ہوگیا وہ بین الاقوامی مذھبی اسکالر اور مفکر تھے، ایک خاص اسلوب اور طرز تحریر کے بانی اور موجد تھے، وہ جدید صالح اور قدیم نافع کے جامع اور اس کے ترجمان و مبلغ تھے،ان کی تحریر میں بلا کی کشش اور جاذبیت اور چاشنی تھی ، مختصر الفاظ میں عظیم و بلیغ معانی اور مفاہیم و مطالب ادا کرتے تھے، سادگی، سلاست اور روانی کیساتھ ایجاز نویسی ان کی تحریر کی خاصیت تھی، چھوٹے چھوٹے واقعات سے عبرت و نصیحت کے بے شمار پہلو نکالتے تھے، ان کی ہر تحریر حشو و زائد سے پاک ہوتی تھی، غیر ضروری الفاظ اور مترادفات کی کثرت ان کے یہاں اس کی گنجائش نہیں تھی، ہر تحریر ریفرینس اور حوالہ کے ساتھ ہوتی تھی۔ میری نظر میں اس دور میں ان کے اسلوب اور طرز تحریر کی ضرورت ہے، تاکہ سامنے والے کو مرعوب و متاثر کیا جائے ، اور ان کا کم سے کم وقت مطالعہ میں صرف ہو ،یقینا ان کا اسلوب اور ان کی تحریر قابل تقلید ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ہی اسلام کے بہت سے احکام کی تشریح اور مبادیات کی تفہیم میں ان سے بھول چوک ہوئی ہے، جمہور اہل علم اور اہل سنت کے متفقہ مسلک سے ہٹ کر انہوں نے اپنی الگ راہ اور روش احتیار کی ہے۔ ان کی کاوشیں یقینا قابل قدر ہیں، لیکن جہاں جہاں ان کے شذوذ اور تفردات ہیں، جمہور سے ہٹ کر ان کا مسلک اور موقف ہے وہاں ہزار اختلاف کی گنجائش ہے۔ مجھے دو بار وفد کے ساتھ ان سے ملنے اور گفتگو کرنے کا تفصیلی موقع ملا ہے انہوں نے کھل کر گفتگو کا موقع دیا، جن موضوعات پر گفتگو ہوئی ان میں سے چند موضوعات یہ تھے۔۔ جنگ بدر دفاعی تھا یا اقدامی؟ اسلام کا رول ماڈل کس کو مانا جائے، جنگ بدر کو یا صلح حدیبیہ کو؟ اورنگ زیب عالمگیر اور اکبر بادشاہ میں کس کی طرز حکمرانی کو بہتر مانا جائے؟ اسلام میں مدعو کی رعایت اور تالیف کس درجہ تک کی جائے؟ اقبال کی شاعری میں مبالغہ آمیزی اور غلو۔
اس وفد میں ہمارے متعدد ساتھی تھے ، ذکی نور عظیم ندوی خالد سیف اللہ وغیرہ وغیرہ مولانا بہت ہی محبت اور خندہ پیشانی سے ملے، ضیافت بھی فرمائی ۔ رخصت کے وقت میرے چہرے کو پکڑ کر خاص طور پر کہا کہ بیٹا تم بہت جری اور ہمتی ہو، یکسوئی کیساتھ مطالعہ کرو اور ٹھوس مطالعہ کرو۔ انہوں نے فرمایا کہ میں نے صرف مستشرقین پر دس ہزار صفحات کا مطالعہ کیا ہے۔۔ انہوں نے بتایا کہ جب میں ندوہ میں مجلس تحقیقات میں تھا تو اکثر ایسا بھی ہوا کہ الماری کے پاس سے کتاب نکالی اور وہیں کھڑے کھڑے پوری کتاب ختم کردی، ملازم سے کہہ دیتا کہ تالا لگا دو بعد میں آکر دروازہ کھول دینا۔ یہ ملاقات دہلی میں ان کے قیام گاہ پر ہوئی تھی، انہوں نے اس موقع پر اپنی اولاد کی تعلیم و تربیت کے حوالے سے بھی گفتگو کی اور بہت کچھ بتایا اور ڈاکٹر ظفر الاسلام خان صاحب ندوی اور ثانی اثنین صاحب اور اپنی بچی کی تعلیم اور ان کے اکٹوٹیز اور فعالیت کے بارے میں بھی بہت کچھ بتایا تھا۔ ان سے دوسری ملاقات لکھنو میں گنگا پرشاد میموریل ہال ہوئی تھی، جہاں ایک پروگرام میں وہ تشریف لائے تھے۔ اس پروگرام میں صرف خواص کی شرکت تھی، ندوہ کے علیا کے کچھ طلبہ کو اجازت ملی تھی۔ مولانا شمس تبریز خاں صاب نے اس موقع پر مولانا سے بہت سے سوالات کئے تھے۔ مولانا نے تفصیل کے ساتھ ان سوالات کے جوابات دئیے تھے۔ درمیان میں کچھ بحثہ بحثی بھی ہوگئی تھی۔۔
غرض مولانا وحید الدین خان ایک عبقری انسان تھے، ان کا علم اور انکی معلومات بہت وسیع تھی ہمہ جہت اور ہمہ گیر تھی، وہ اردو، عربی، فارسی، انگریزی اور ہندی زبان کے ماہر تھے اور ان زبانوں پر ان کو عبور حاصل تھا ۔ عالم عرب میں بھی وہ ایک مفکر، دانشور اور علم کلام کے مدون ثانی کی حیثیت سے جانے جاتے تھے، ان کی کتاب ۔۔علم جدید کا چیلنج ۔۔ایک منفرد اور شاہکار کتاب ہے جس کا کئی زبانوں میں ترجمہ ہوا،عربی میں الاسلام یتحدی کے نام سے اس کا ترجمہ ان کے لائق فائق بیٹے ڈاکٹر ظفر الاسلام صاحب نے کیا ہے ، جس سے عرب دنیا میں مولانا کا خوب تعارف ہوا ۔ لیکن اس تصنیف کے بعدان کی جو کتابیں آئیں، افسوس کہ زیادہ تر کتابوں میں وہ جمہور کے مسلک سے ہٹ گئے اور انہوں نے الگ موقف اختیار کرنا شروع کردیا۔ یہی وجہ ہے کہ بعد کی کتابوں کو وہ مقبولیت نہیں ملی جو علم جدید کا چیلنج نامی کتاب کو ملی۔ مولانا کا جاری کردہ ماہنامہ الرسالہ کو جو مقبولیت ملی وہ بہت کم رسالے اور ماہنامے کو ملی۔ ۱۹۷۶ء میں انہوں نے اس ماہنامے کا اجراء کیا تھا۔۔ مولانا علم و تحقیق کے یقینا بحر بیکراں تھے، وہ اس میدان میں اپنے معاصرین سے کافی آگے نکل گئے تھے۔ ان کے اسلوب اور طرز تحریر پر لوگ رشک کرتے تھے اور ان کی تحریر کے لوگ دیوانے تھے لیکن بقول شخصے کہ سمندر میں بھی جھاگ ہوتا ہے اس لیے اس جھاگ اور شاذ سے بچنا اور بچانا بھی ہماری ذمہ داری ہے۔ ہم لوگ تو ہمہ شما علماء کے درجہ میں آتے ہیں لیکن جو ذہین اور عبقری علماء ہیں ان میں سے بہتوں نے ان کے تفردات پر مواخذہ اور محاکمہ و استدارک کیا ہے اور فکر کی غلطی کے نام سے اس کو پیش کیا ہے۔۔
اب وہ ہمارے درمیان نہیں رہے اس لیے حدیث کی روشنی میں ہم مکلف ہیں کہ ان کی خوبیوں اور ان کی اچھائیوں اور ان کے محاسن نیز ان کی صلاحیتوں و کاوشوں کا تذکرہ کریں، ان کے لیے دعاء مغفرت کریں ۔ لیکن کسی شخص کی تعریف اور مدح میں غلو اور افراط و تفریط سے بچیں۔ علماء نے لکھا ہے کہ کسی بھی شخص کی مرنے کے بعد غیبت جائز نہیں اور ان کو برا کہنا درست نہیں ہے، صرف ایک صورت میں مرنے والے کی برائی بیان کرنا جائز ہے وہ یہ ہے کہ کوئی شخص کوئی غلط بات اور غلط فکر کتابوں میں لکھ کر دنیا سے رخصت ہوگیا، اب اس کی کتابیں ہر جگہ پھیل رہی ہیں ہر آدمی اس کی کتابیں پڑھ رہا ہے۔ لہذا اس شخص کے بارے میں لوگوں کو یہ بتانا کہ اس شخص نے عقائد کے بارے میں جو باتیں لکھی ہیں وہ غلط ہیں اور گمراہی کی باتیں ہیں ، تاکہ لوگ اس کی کتابیں پڑھ کر غلط راہ پر نہ چل پڑیں۔ اس حد تک کسی مرنے والے کے بارے میں لکھنا اور ان کی کتابوں اور افکار و نظریات پر نقد کرنا درست ہے۔۔ اس میں بھی یہ ضروری ہے کہ جس حد تک بتانا ضروری ہو اتنا ہی بتایا جائے، لیکن اس کی ذات کو نشانہ اور ہدف تنقید بنانا یہ درست نہیں ہوگا۔۔
اللہ تعالیٰ حضرت مولانا وحید الدین خان رح کو ان کی خدمات کا بھرپور صلہ دے، جنت الفردوس ان کا ٹھکانہ بنائے ان کے سئییات کو حسنات میں بدل دے اور تمام لواحقین متعلقین وارثین اور اہل تعلق کو صبر جمیل عطاء فرمائے آمین
یقیناً وہ لاکھوں اور کڑروں میں منفرد بے نظیر و بے مثال تھے، ان ہی جیسے لوگوں کے لیے شاعر نے کہا ہے کہ
ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
بہت مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا
ان کا تعلق شیراز ہند کے خطے اعظم گڑھ سے تھا جو ہندوستان کی انتہائی زرخیز اور مردم ساز حصہ کہلاتا ہے، اقبال سہیل مرحوم جو مولانا کے رشتہ دار بھی تھے انہوں نے اس ضلع کے بارے میں کہا تھا
اس خاک کا ہر ایک زرہ نیر اعظم ہوتا ہے
نوٹ باقی پھر کسی موقع پر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
Comments are closed.