ایک مخلص وبے ضرر استاد ، مشیر ومعتمد کی جدائی

 

 

?️ (حضرت مولانا مفتی) اقبال بن محمد ٹنکاروی صاحب (دامت برکاتہم)

مہتمم و شیخ الحدیث

دار العلوم اسلامیہ عربیہ ماٹلی والا ، بھروچ ، گجرات…

 

*حضرت مولانا مفتی مجتبیٰ صاحب مدھوبنی* (استاد حدیث وفقہ دار العلوم ماٹلی والا بھروچ گجرات) کے انتقال پر آپ کے رفقاء درس وتدریس اور مخلص احباب کی طرف سے بہت کچھ تحریرات آچکی ہیں، جس میں آپ کی علمی مشغولیت ، استعداد اور تصنیفی خدمات کے ساتھ ساتھ آپ کے اخلاق عالیہ و بلند کرداری کے بھی نمونے پیش کیے گئے ، بندے کے ساتھ ان کا تعارف استاد محترم حضرت مولانا مفتی احمد صاحب بیمات رحمہ اللہ کے فتاوی کی نسبت سے ہوا ، پھر ہر ملاقات میں وہ بڑھتا ہی گیا ، اور پھر ایک وقت آیا کہ وہ دار العلوم کرمالی سے دار العلوم ماٹلی والا تشریف لائے ، جس میں استاد ومربئ محترم مفکر ملت حضرت مولانا عبد اللہ صاحب کاپودروی رحمہ اللہ کا اشارہ ، استاد محترم حضرت مفتی احمد بیمات صاحب رحمہ اللہ کی نسبت اور آپ کے صاحبزادے حافظ اسجد سلمہ (مقیم حال کینیڈا) کی ترغیبات بھی شامل حال تھی۔

دار العلوم ماٹلِی والا میں آپ کی تدریسی وتصنیفی مصروفیات ما شاء اللہ تعالی بڑی پُر رونق رہی ، افتاء کے طلبۂ عزیز پر آپ کی بڑی نظر رہتی تھی ، ان سے نرمی و اصول کی پابندی کے ساتھ کام لینے کا آپ کا سلیقہ قابل تقلید تھا ، دار العلوم ماٹلی والا میں آپ کے تقرر کی بڑی وجہ "فتاویٰ فلاحیہ” کی تکمیل بھی تھا ، آپ نے ما شاء اللہ تعالی کام کی رفتار بڑھا کر افتاء کے طلبۂ عزیز کو بھی اس کی تخریج و تحقیق میں شریک کار کیا ، اس طرح ان کو تحقیق و تنقیح کا سلیقہ بھی سکھایا ، جیسے مولانا رشید احمد منوبری صاحب نے طلبۂ عزیز کے پاس "ہدایت المفتی الی ابواب الفقہ” کی ترتیب مرتب فرما کر تمام معروف کتب فقہ وفتاویٰ پر طائرانہ نظر کروائی۔

حضرت مفتی مجتبیٰ صاحب ایک کامیاب مدرس ومربی ہونے کے ساتھ اعلی اخلاق کے بہترین پیکر تھے، حق تعالیٰ نے آپ کی طبیعت میں سادگی ، اخلاص اور تواضع کوٹ کوٹ کر ودیعت فرمائی تھی ، بہت سارے مسائل میں بندہ ان سے مشورہ لیتا تھا ، اور ان کا مشورہ بہت سارے پہلوؤں کو محیط ہوتا تھا ، کسی سے بد ظنی یا خوش فہمی میں حد اعتدال سے تجاوز نہیں فرماتے تھے۔ کسی بھی معاملے کو سامنے والے کے ساتھ حسن ظن پر ہی محمول کرتے تھے ، اسی لیے کسی سے کوئی شکایت بھی نہیں رہتی تھی۔

سال رواں آپ مختلف جسمانی تکالیف سے دوچار رہے ، لیکن جب بھی خیریت دریافت کرتا تو بشاشت کا ہی اظہار کرتے ، گردے کی تکلیف نے کافی پریشان کر رکھا تھا ، پھر بھی اسباق میں حاضر ہو جاتے ، اور شدید تکلیف ہونے پر ہی آرام کرتے تھے۔

فقہی بصیرت اور جدید مسائل کے حل کے سلسلے میں "فتاویٰ فلاحیہ” شاہد ہے ، جس میں حضرت مفتی احمد صاحب رحمہ اللہ کے جواب کے ساتھ آپ کا اضافہ کتاب کا وزن بڑھانے کے ساتھ اس کے تمام پہلوؤں کو محیط ہونے کی وجہ سے اعتدال کی شان پیدا کر دیتا ہے۔

جدید مسائل میں گفتگو کے دوران فقہی عبارتوں کا استحضار بھی آپ کی خصوصیت تھی۔

آپ کے مقالات کو اسلامی فقہ اکیڈمی اور مباحث فقہیہ کے اجتماعات میں بھی بہت سنجیدگی سے لیا جاتا تھا ، اور اس پر توصیفی کلمات بھی کہے جاتے تھے ، ہر فقہی سمینار کے موقع پر اپنے مقالے کی کاپی دفتر اہتمام میں پہنچاتے اور پھر اس پر میرا تبصرہ بھی ضرور دریافت کرتے ، یہ ان کی تواضع اور نفس مضمون کے ساتھ دل چسپی کی دلیل تھی ، عموما ہم دونوں کی رائے ایک ہی ہوتی تھی۔

آپ کی مصروفیات اور علمی کاژ کو دیکھتے ہوئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ عمر مستعار کا جتنا حصہ حق سبحانہ وتعالی کی طرف سے انہیں ملا تھا ؛ انہوں نے اس کو صحیح استعمال کیا۔

اپنی اولاد کی بھی ایسی تربیت فرمائی تھی کہ وہ سب میں ممتاز نظر آتے تھے ، دوسروں کا خیال رکھنا اور کسی کو بد گمانی نہ ہو ؛ اس کا بہت اہتمام کرتے تھے ، دار العلوم ماٹلی والا میں آپ کا تقرر ہوا تو مجھے کہا کہ میرے بچے بہت شریر ہیں، لہذا اگر مجھے تحتانی درجے میں مکان ملے تو زیادہ مناسب ہے ، مجھے ان کی طبیعت ومزاج دیکھتے ہوئے شک ہوا ، اور حقیقت میں آپ کے بچے دار العلوم میں بہت شرافت سے رہے ، چنانچہ چند دنوں بعد میں نے ان کے بچوں کی شرافت کا ذکر کیا ، تو بہت تواضع و متانت سے عرض کیا کہ میری طبیعت میں کسی سے الجھنا نہیں ہے ، اور بالائی منزل میں رہتے ہوئے نیچے والوں سے مسائل رہتے ہیں ، بچے بے وقت شور ہنگامہ کرتے ہیں۔

رمضان المبارک کے برکت والے ایام ، شہادت کی موت ، اہل وعیال سے دوری ، معصوم بچوں کے اداۓ دل نواز سے محرومی اور شاگردوں و باقیات صالحات کا ذخیرہ ان شاء اللہ ان کا رفیق سفر رہیں گے ، ان کے اچانک چلے جانے سے ذہنی الجھن بھی ہے ، لہذا کیا لکھ رہا ہوں اس کا پتہ نہیں ہے ، یہ چند منتشر خیالات جلدی میں رقم طراز کیے ہیں ، اللہ پاک مرحوم کو جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے ، ان کے گھر والوں کو صبر جمیل عطا فرمائے ، اور ان کا غیب سے تکفل فرماۓ ،

وَمَا مِن دَابَّةٍ فِي الْأَرْضِ إِلَّا عَلَى اللَّهِ رِزْقُهَا کا اس نے وعدہ کیا ہے ، وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللّهِ قِيلاً

 

? 9 رمضان المبارک 1442 مطابق

22 اپریل 2021

Comments are closed.