آہ! قاری سعید احمد صاحب

 

مولانا اطیع اللہ شوکت القاسمی

حضرت حافظ قاری سعید احمد صاحب کی رحلت ہمارے لئے ایک عظیم خسارہ ہے جس کی بھر پائی مشکل ہے، جیسے ہی قاری صاحب کے انتقال کی خبر عزیزی حافظ عصام الحق صاحب کے توسط سے ملی، دل انتہائی مغموم ہوگیا۔ دل پر کوہ گراں کا سا احساس ہونے لگا۔

واہ قاری صاحب! آپ نے اپنی پوری زندگی اجنبیت میں گزار دی اور اجنبیت میں ہی دنیا سے رخصت بھی ہوگئے۔
آپ چلے گئے؛ لیکن ہمارے لئے ایک سبق چھوڑ گئے۔
کہتے ہیں اپنائیت کے ڈسے ہوئے اجنبیت میں پناہ ڈھونڈھتے ہیں، وہی شاید آپ کے ساتھ ہوا؛
لیکن آج میرے ذہن میں میرے نبیؐ کا وہ فرمان بار بار یاد آرہا ہے۔ جس میں فرمایا گیا:
يَا لَيْتَهُ مَاتَ فِي غَيْرِ مَوْلِدِهِ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: وَلِمَ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: إِنَّ الرَّجُلَ إِذَا مَاتَ فِي غَيْرِ مَوْلِدِهِ قِيسَ لَهُ مِنْ مَوْلِدِهِ إِلَى مُنْقَطَعِ أَثَرِهِ فِي الْجَنَّةِ. اور فرمایا کہ ”موت غربة شھادة“
مجھے یقین ہے کہ اس پھیلی ہوئی وبا اور گھر سے دور اجنبیت کے مقام اور دین کی محنت کرتے ہوئے جانا، یقینا آپ کو شہادت کے مقام تک پہنچائے گا۔ ان شاءاللہ
ہمارے قاری صاحب کان پور (یوپی) کے تعلیم یافتہ تھے، بہار ان کی جائے پیدائش تھی۔ دونوں جگہوں کا حسین امتزاج ان کے اخلاق سے جھلکتا تھا۔
وہ انتہائی جواں مرد، شجاعت مند، نڈر اور بے باکی کے ساتھ حاسدین، معاندین اور مخالفین کے سایہ میں بلا کسی خوف و اندیشے کو خاطر میں لائے دینی خدمات انجام دے رہے تھے۔
ناچیز نے بارہا جائے رہائش تبدیل کرنےکی دعوت دی، مگر وہ بچوں کی تعلیم کا بہانہ بناکر ٹال دیتے۔
آج جب کہ وہ ہمارے لئے مرحوم ہوگئے اور مہدپور کا گور غریباں ان کا حقیقی مسکن بن گیا۔ ہم ان کے فراق میں انتہائی افسردہ ہیں۔
باد سموم کے کتنے تھپیڑے سہ گیا وہ مرد آہن، جسے حالات نے جھلسانے بجھانے کی کوشش کی، مگر وہ چلتا رہا، چلتا رہا اور چلتا ہی چلا گیا۔
مدرسہ انوارالقرآن مہدپور کی نظامت کا بار گراں جب کچھ کم ہوا تو ہم دوستوں کے اصرار پر انہوں نے دارالعلوم سبحانیہ (پپلیا، دھار) سے منسلک ہو کر دینی خدمات انجام دینے کا بیڑہ اٹھایا تھا۔ مگر وہ تھکا ہوا مسافر کب تک ہمت باندھتا، آخر مختلف امراض کو نعمت خداوندی سمجھتے ہوئے اور اس پر شکر خداوندی ادا کرتے ہوئے 9 رمضان 1442ھ/ 22 اپریل 2021ء علی الصبح 6 بجے ابدی نیند سوگیا۔
آسماں تیری لحد پر شبنم افشانی کرے

ستم بالائے ستم یہ ہے کہ کووڈ–19 کی وجہ سے یہاں لاک ڈاؤن ہے اور ناچیز خود آج تقریبا چھے دنوں سے بیمار ہے۔
شاید اسے ناچیز کی سُوء قسمتی ہی کہیں گے کہ ان کی تجہیز وتکفین میں شرکت بھی انتہائی مشکل نظر آرہی ہے،
ہم دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالی حضرت قاری سعید احمد صاحب کی مغفرت فرماکر درجات بلند فرمائے۔ پس ماندگان، لواحقین دوست و احباب کو صبر جمیل عطا فرمائے۔ معاندین، حاسدین و مخالفین کو ہدایت عطا فرمائے۔

اطیع اللہ شوکت بلرام پوری
خادم دارالعلوم سبحانیہ، پپلیا ضلع دھار، مدھیہ پردیش

Comments are closed.