آہ– مولانا وحیدالدین خان مرحوم!!

 

 

محمد صابر حسین ندوی

Mshusainnadwi@gmail.com

7987972043

 

تو اے مسافر شب خود چراغ بن اپنا

کر اپنی رات کو داغ جگر سے نورانی

امت کی زبوں حالی کا دور جاری ہے، معاندین اسلام کی یلغار زوروں پر ہے، منافقین کی بساط بھی وسیع تر ہوتی جارہی ہے، لمحہ بہ لمحہ زمین تنگ کرنے کی کوششیں ہورہی ہیں، عالمی سازشوں میں مصروف اعلی ترین اذہان روزانہ کوئی نہ کوئی شوشہ چھوڑ دیتے ہیں اور اس امت کے جذبات، احساس لطیفہ اور دلی کیفیت پر زَد لگا کر انہیں رسوا کرنے کی سعی کرتے ہیں، مغربی ممالک نے پائنچے چڑھا لئے ہیں، مستشرقین کی پوری جماعت بال کی کھال نکالنے میں ہمہ تن مصروف ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس اور کلام اللہ کو بھی نشانہ بنایا جاتا ہے، ذرا اندازہ کیجئے کہ کرونا وائرس کی وبا کے درمیان بھی اسلامی اقدار، اشخاص اور تعلیمات کو رسوا کرنے سے توبہ نہیں کی گئی؛ بلکہ بڑھ چڑھ کر مسلمانوں کو بدنام کیا گیا، افسوس کی بات یہ ہے کہ اس چنگاری کو ہوا دینے والے اور ایک معمولی واقعہ کو شعلہ بنا کر پوری مسلم دنیا کو تشویش میں مبتلا کردینے والے بھی ہماری صفوں میں موجود ہیں، علم و عمل کی دنیا میں اپنی ایک خاص پہچان رکھنے والے مگر مصلحت، سیاسی اٹھا پٹک، ملکی احوال، ترجیحات اور واجبات کے مدارج سے غافل لوگ ہیں، جن کی شعلہ بیانی، جوشیلہ پن اور بھڑکاؤ باتیں ناتجربہ کار نوجوانوں کو اپیل کرتی ہیں اور وہ جوش و خروش میں ہوش گنوا کر ملک و ملت کیلئے بدنما داغ بن جاتے ہیں، سیاست ان کا استحصال کرتی ہے، ان کے وقتی جوش کو سلگا کر چناوی ریلیاں کی جاتی ہیں، نفرت کی ہوا عام کر کے مذاہب کے نام پر جوش کا تصادم کردیا جاتا ہے، ایسے لوگوں کے درمیان مولانا وحیدالدین خان (١٩٢٥- ٢٠٢١ء) یکتا، نابغہ روزگار، وحید العصر اور در نایاب تھے، آپ داعیانہ فکر، اصلاح، دعوت اور مثبت سوچ کے حامل تھے، افسوس کہ مولانا نے ایک بھرپور زندگی جینے، ایک صدی پر محیط دین اسلام کی خاطر خواہ خدمت کرنے اور علم کے موتی و گہر لٹانے کے بعد اپنے مالک حقیقی سے جاملے- انا للہ وانا الیہ راجعون اللهم اغفر له وارحمه واسكنه فسيح جناته ويلهم أهله وذويه الصبر والسلوان – آپ کرونا مثبت تھے، اور کئی روز سے وینٹیلیٹر پہ تھے، سیدی أبوالحسن علی ندوی، مولانا سید ابولاعلی مودودی اور مولانا وحیدالدین خان (اصحاب ثلاثۃ) کے گزر جانے سے ایک عہد کا خاتمہ ہوتا ہے.

آپ کی سب سے بڑی خصوصیت یہ تھی کہ وہ عقلی و نقلی دلائل کا حسین سنگم پیش کرتے تھے، نئی نسل کو متوجہ کرتے، فلسفیانہ اور معروضی فکر کے ذریعے مغربی عیاریوں اور ان کی کمزوریوں کو بیان کرتے، بلکہ جدید سائنسی دور کو اسلام کے حق میں مفید قرار دیتے، اس دور کو اسلام کی تائید کا دور کہتے، مذہب اور جدید چیلنج، مذہب اور سائنس، تذکیر القرآن اور اس جیسی سینکڑوں کتابیں ہیں جنہوں نے اپنا خاص اثر چھوڑا ہے، دنیا کو دیکھنے کا ایک انوکھا تصور دیا ہے، انسانیت کو جمع کرنے اور انہیں امن ومان کی صف میں کھڑا کرنے کا گُر فراہم کیا ہے، آپ کی تحریریں پڑھنے والے جانتے ہیں کہ اس دور میں اسلامی نظام کی تشریح و توضیح کی باریکیاں اور خوبیاں جو ان کے نزدیک پائی جاتی ہیں وہ بہت نایاب (Rare) ہیں،چھوٹے چھوٹے جملے اور قافیہ میں پوری بات کہہ دینا گویا کوزے میں سمندر بھر دینا ان کا خاص ہنر تھا، واقعہ یہ ہے کہ انہوں نے نہ صرف تحریر؛ بلکہ فکر و فن ہر لحاظ سے انوکھاپن پیدا کرنے کی کوشش کی ہے، اور یہ حقیقت ہے کہ نئی ڈگر پر چلنے والے، منفرد راہ بنانے والے پگڈنڈیوں سے بھی گذرتے ہیں، ان کا دامن خاردار وادیوں سے بھی الجھتا ہے، ایسا ممکن ہی نہیں کہ آستین، پوستین اور دامن سنبھالے نئی شاہ راہ سے نکل جائیں، انبیاء کرام علیہم السلام اجمعین کی بات نہ کیجئے، وہ معصوم عن الخطأ تھے؛ اگر انسانوں کی بات کریں تو بلامبالغہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ ہر وہ شخص جس نے عقلی کاوشیں کیں اس نے ٹھو کر بھی کھائی ہے، فقہی میدان میں اس کی مثالیں بھری پڑی ہیں، البتہ فکری میادین میں یہ قدرے نازک مسئلہ ہوجاتا ہے؛ لیکن یہ اسلامی مزاج اور اہل دانش و بینش کا ہی کارنامہ رہا ہے کہ وہ معتزلہ کو بھی گالیاں نہیں دیا کرتے تھے؛ بلکہ رازی کو سر پر بٹھاتے تھے، ان کے علم کا اعتراف کرتے ہوئے ان کی اصلاح کی کوشش کرتے تھے؛ مولانا بھی ایک الگ فکر اور طرز تعبیر و تبلیغ میں منفرد اور اپنے اس میدان میں شہ سوار ہیں، اگر ان کے فکری گھوڑے کے ٹاپوں میں کوئی ٹھوکر لگتی ہے تو اس کی طرف متوجہ ہونا اور کرنا دونوں جائز بلکہ مستحسن ہے؛ مگر اس شہ سوار کو میدان سے گرادینا خود اپنی صف کمزور کرنا اور دشمنان اسلام کے ہاتھوں کھلونا بننے کے مترادف ہے.

ڈاکٹر محی الدین غازی نے مولانا کی وفات پر اپنے تاثرات کا اظہار کیا ہے، اپنے خاص مضمون میں انہوں نے لکھا ہے: "ایک بار کی بات ہے ،مولانا آزاد کے بارے میں کہنے لگے کہ میں یہ تو کہہ سکتا ہوں کہ انھوں نے فیصلہ کرنے میں غلطی کی تھی، مگر یہ نہیں کہہ سکتا کہ وہ کانگریس کے ہاتھوں بک گئے تھے۔ کیوں کہ پہلی بات غلط ہوئی تو مجھے گناہ نہیں ملے گا لیکن دوسری بات غلط ہوئی تو میں گناہ گار ہوجاؤں گا۔ پھر انھوں نے کہا کہ لوگ میرے بارے میں بھی یہی بات کیوں نہیں کہتے کہ میں نے فیصلہ کرنے میں غلطی کی، یہ کیوں کہتے ہیں کہ میں بک گیا ہوں؟؟ یہ کہہ کر وہ زار وقطار رونے لگے۔” اسے پڑھ کر کیا آپ کو ایسا نہیں لگتا کہ وہ ایک دل دردمند اور فکر ارجمند کے حامل شخص تے، ملک و ملت کو ترقی و تعمیر کی راہ پر دیکھنا چاہتے تھے، یقیناً ان سے غلطیاں ہوئیں، مگر وہ اپنی کاوشوں متہم نہیں، انہیں لعن طعن کرنا جائز نہیں، حق یہ ہے کہ مولانا کی زندگی اسلام کی سربلندی اور انسانیت کی تعمیر سے تعبیر تھی، یہ بات الگ ہے کہ وہ ایک ایسے طبیب کی طرح تھے جو نشتر کے بجائے دوا پر اکتفا کرنا چاہتا ہے، اخیر میں مولانا محی الدین غازی کے مضمون کا ایک اقتباس پڑھتے جائیے: "مولانا کی باتیں سننے میں بڑی عجیب وغریب لگتیں، لیکن عمل کرو تو بڑی شان دار اور عملی لگتیں۔ ایک بار کہنے لگے کہ بچہ چھوٹا ہوتا ہے تو ماں باپ اپنی تعلیم ، ریسرچ اور بہت سے دیگر مفید کام اس وجہ سے ملتوی کردیتے ہیں کہ بچہ روتا ہے اور انھیں مصروف رکھتا ہے۔ اگر آپ بچے کو گھر میں تنہا چھوڑ جائیں، یا گھر میں رہتے ہوئے اپنے کام کرتے رہیں تو بچہ روتے روتے مر نہیں جائے گا، یا تو تھک کر سو جائے گا یا پھر کھلینے میں مصروف ہوجائےگا۔میں نے اپنی ذاتی زندگی میں اس اصول سے بہت فائدہ اٹھایا۔ یہ مولانا کا انوکھا اور منفردانداز تھا۔ وہ والدین کو مشورہ دیتے کہ بچے کے رونے کو وجہ بناکر اپنی تعلیم وترقی کے عظیم منصوبے موقوف نہ ہونے دیں۔ وہ مسلمانوں کو مشورہ دیتے کہ فرقہ پرستوں کی پیدا کی ہوئی شرپسندی میں الجھ کر اپنے نصب العین سے غافل نہ ہوجائیں۔ان کے نزدیک بچہ رونے سے مر نہیں جاتا ہے اور کوئی قوم دوسروں کی شرارتوں کو نظر انداز کرنے سے ذلیل ورسوانہیں ہوجاتی ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ ان کا مشورہ نہ والدین کو بھاتا اور نہ ہی ملت کو اپیل کرپاتا۔عجیب بات یہ ہے کہ مولانا کے مشوروں پر چراغ پا ہونے والی جذباتی ملت نے جب بھی مولانا کے مشوروں پر عمل کیا کوئی نقصان نہیں اٹھایا۔”

Comments are closed.