آپ کی تسلی کے لیے کیا لکھوں کیا نہ لکھوں؟؟

برادر گرامی قدر جناب مولانا غفران ساجد صاحب زیدمجدہ

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ.
مستقل سوچے جا رہا ہوں مگر اب تک کچھ سمجھ میں نہیں آرہا ہے. اس حادثے کی جب مجھے اطلاع ملی تو یقین جانیے کے اس نے مجھے اندر سے ہلا کر رکھ دیا. میں کسی گوشہ عافیت کی تلاش میں سرگرداں ہو گیا. ابھی تو مفتی اعجاز صاحب رحمہ اللہ کا زخم بالکل تازہ تھا کہ اچانک دوسرے نوجوان صالح عالم دین مفتی مجتبی حسن قاسمی نور اللہ مرقدہ بھی ہم سے بچھڑ گئے.
بس اللہ رب العزت ہی اپنے خصوصی فضل سے ان دونوں نوجوان عالموں کو اپنی خصوصی رحمت کے کے سائے میں جگہ عطا فرمائے اور خصوصی فضل کا معاملہ فرمائے. آمین.
مفتی مجتبی صاحب کی رحلت آپ کے ساتھ خود میرے لئے ذاتی طور پر بڑا صدمہ ثابت ہورہاہے. گذشتہ دونوں رات مجھے نیند نہیں آئی. سونے کی ہزار کوشش کے باوجود بھی نہ جانے دیر رات تک میں جاگتا رہا، کروٹیں بدلتا رہا مگر نیند کوسوں دور تھی جبکہ اپنے معمول کے حساب سے میں تراویح کے فورا بعد سوجاتا ہوں.
کیا لکھوں جس سے آپ کی تسلی کے ساتھ خود میری تسلی ہو. بالکل سمجھ میں نہیں آرہا ہے. بس ایک ہی چیز ہے جس پر ہم سب کا ایمان ہے کہ یہ محض اللہ رب العزت کا فیصلہ تھا اور اللہ رب العزت کے فیصلے پر سر تسلیم خم ہو جانا ہی عین ایمان اور عین سعادت ہے. اللہ تعالی نے مفتی صاحب کو جتنا وقت دیا تھا انہوں نے اسے پورا کرلیا. ہمیں ان سے یقینا بہت سی امیدیں وابستہ تھیں لیکن اللہ رب العزت کے علم ازلی میں یہی مقدر تھا اس لیے اس کے فیصلے پر راضی رہنا ہماری ذمہ داری بھی ہے اور ہمارا ایمان بھی. محمد علی جوہر نے اپنے جواں مرگ بیٹی کے بارے میں کہا تھا.
تیری صحت ہمیں منظور ہے لیکن اس کو
نہیں منظور تو ہم کو بھی منظور نہیں.
یہی سوچ کر ہم صبر کریں. ہر آنے والے کے لیے جانے کا دن آنے سے پہلے ہی طے کیا ہوا ہے جس میں سکنڈ کے ہزارویں حصے کا بھی تخلف نہیں ہوسکتا.
آپ اور مفتی صاحب یقیناً یک جان دو قالب تھے. آپ کی ہر گفتگو ہر تذکرہ مجتبی کے تذکرے بغیر ادھوری رہتی تھی. بات بات میں مجتبیٰ یہ مجتبیٰ وہ کا تذکرہ ضرور ملا کرتا تھا. ان کی جدائیگی کے صدمے سے نکلنے میں آپ کو یقینا وقت لگے گا لیکن اللہ رب العزت کے فیصلے پر راضی ہو کر اس غم کو برداشت کریں انشاءاللہ یہ اجر عظیم کا باعث ہوگا.
وہ تو مجتبی تھے آپ کی نگاہ میں بھی اور امید یہی ہے کہ نگاہ لطف وکرم میں بھی. سو رحمت بے کراں نے انہیں چن لیا. اب آپ اپنی پسند کو مولی کی پسند پر قربان کردیں اور کہدیں ترک کار خود گرفتم تا برآید کار او، کیونکہ مرضی مولی از ہمہ اولی.
اللہ تعالی انہیں اجر عظیم سے نوازے اور لغزشوں سے درگذر فرمائے. آمین.
مفتی صاحب تو جوار رحمت میں چلے گئے. اصل مسئلہ ان کے بعد والے ان کے بے سہارا بچوں اور ان کی بیوہ کا ہے. یقینا یہ بڑا نازک مسئلہ ہے. سعادت یتیمی کا سرا براہ راست آمنہ کے لعل (فداہ ابی وامی) سے جڑا ہوا ہے. اس میں کوئی شک نہیں کہ اس نسبت کے بعد یتیمی کی شان ہی نرالی ہوجاتی ہے لیکن یقین جانیے کہ یتیمی کی زندگی جب کہ کسی کا سہارا نہ ہو بڑی دردناک اذیت ناک اور تکلیف دہ ہوتی ہے. جو بڑی بڑی بشارتیں یتیمی سے متعلق ہیں وہ بے وجہ نہیں ہے. اس تکلیف کو صحیح معنی میں وہی محسوس کر سکتا ہے جس کا اس پرخار وادی سے گذر ہوا ہے. ساحل پر بیٹھے تماشہ بینوں کو گرداب کی سختیوں کا کیا اندازہ ہوسکتا ہے. یہ گنہ گار بھی یتیمی کی سعادت سے بہرہ ور ہوچکا ہے. لیکن اس دور سے گزرنے کے بعد ہمیشہ یہ دعا نکلتی ہے کہ اللہ رب العزت کسی بچے کو یتیم اور کسی خاتون کو بیوہ نہ بنائے.
اصل سہارا تو بس اللہ رب العزت کی ذات ہے. وہی قاضی الحاجات کاشف المہمات ہے. اللہ رب العزت مفتی صاحب کے یتیموں کو اور دوسرے یتیموں کو اپنے خزانہ غیب سے ان کی حفاظت وکفالت کا انتظام فرمائے کہ وہی سب کا سہارا ہے. وہی سب کا پالنہار ہے. وہی سب سے آخری سہارا ہے اور اس کا سہارا ملنے کے بعد کسی کے سہارے کی کوئی ضرورت نہیں ہے.
لکھنا بہت کچھ چاہ رہا تھا مگر لکھنے کی کچھ بھی تاب نہیں ہے. دماغ قابو میں نہیں ہے. فون کرنے کی بھی ہمت نہیں جٹا پارہا ہوں. بس یہ بے ربط تحریر لکھ دیا تاکہ آپ کے ساتھ کچھ مجھے بھی تسلی ہوجائے. میں اپنی بھی تعزیت کر لوں اور آپ کی بھی تعزیت ہوجائے.
اللہ رب العزت ہم سب کو اپنی رضا کے ساتھ لمبی زندگی نصیب فرمائے. ہر وبا سے اللہ تعالی حفاظت فرمائے اور اللہ تعالی ہم سب سے اپنی رضا کا کام لیتا رہے.
سوگوار :
محمد روح اللہ قاسمی
مدرسہ فلاح المسلمین گواپوکھر بھوارہ مدہوبنی

Comments are closed.