کرونا دجالی سازش یا قہر الٰہی،فیصلہ بعد میں تدابیر پہلے

 

تحریر ایس ایم ضیاء

(صدر ضیاء ایجوکیشنل اینڈ ویلفیئر ٹرسٹ ،سنگھوارہ دربھنگہ،9572249618
smzeya123@gmail.com

ان دنوں پوری دنیا کرونا وائرس جیسی مہلک وبا کی چپیٹ (زد) میں ہے ہر طرف افراتفری مچی ہوئی ہے ،نفسی نفسی کا عالم ہے بلکہ یہ کہا جائے کہ اس مہلک وبا نے قیامت صغریٰ کا وہ منظر پیش کر دیا ہے جس کا نام سنتے ہی روح کانپ جاتی ہے، کلیجہ منہ کو آجا تا ہے، بدن پر کپکپی طاری ہو جاتی ہے جسے دیکھئے وہی پریشان ہے اس مہلک وبا کرونا سے سہما ہوا نظر آتا ہے ،ہر چوک چوراہوں پر اسی مہلک وبا کا تذکرہ ہے کوئی اسے عالمی سازش ،دجالی سازش بتارہا ہے،توکوئی قہر الٰہی کہ رہا ہے اور یہ کرونا ہے کہ اپنا کام کئے جارہا ہے ،نہ افواہوں پر کان ہے، نہ لوگوں کے لعن طعن کی پروا بس یہ اپنے کام میں مصروف ہے جب سے اس مہلک وبا کی آمد ہوئی ہے اس نے سینکڑوں نہیں ہزاروں جانیں لے لی ہیں کتنی سہاگنوں کے سہاگ اجاڑ دیئے ہیں، نہ جانے کتنی عورتوں کو بیوہ بنا دیا ہے اور نہ جانے کتنے ہی معصوم بچوں کو یتیم بنا دیا ہے ۔اس کرونا نے لوگوں کے دلوں میں ایسی دہشت پیدا کر دی ہے کہ کیا امراء، کیا غرباء، کیا علماء، کیا دانشوران ،کیا سیاسی لیڈران، کیا عام انسان سب اس سے خوف کھانے لگے ہیں ۔اس کے آنے سے لوگوں نے اپنوں سے رشتہ توڑ لیا ہے، باپ بیٹے سے مصافحہ کرنے کو تیار نہیں ہے ،ماں بیٹی سے ملاقات کو تیار نہیں ہے رشتہ داروں نے ایک دوسرے کیلئے دروازے بند کر دیئے ہیں، کسی کی میت پر جہاں جنازے میں شرکت کیلئے رشتہ داروں کا انتظار کیا جاتا تھا آج حال یہ ہے کہ گھر پڑوسی اس کے جنازے میں شرکت کرنے سے کترا رہا ہے ۔اس کرونا سے پوری دنیا میں ایسا ماحول قائم ہو گیا ہے جو میدان محشر کی جھلک پیش کر رہا ہے جسے قرآن کریم نے کچھ اس طرح بیان کیا ہے کہ وہ دن ایسا ہوگا (یعنی قیامت کا دن) جس دن بھائی بھائی سے جدا ہوگا والدین اور بیوی بچوں سے بھی دور ہوگا ان میں سے ہر انسان کو ایسی فکر ہوگی کہ اس کو دوسروں کا ہوش نہیں ہوگا (سورہ غاشیہ 30) ٹھیک یہی حال ابھی مہلک وبا کی وجہ سے ملک کی راجدھانی دہلی اور عروس البلاد کہے جانے والے شہر ممبئی سمیت ہندوستان کی تمام ریاستوں کا ہے اس مہاماری کی وجہ سے ہاہاکار مچا ہوا ہے ۔دہلی میں ہاسپٹل میں بیڈ نہ رہنے کی وجہ سے اور ادویات و آکسیجن کی کمی سے لوگ دم توڑ رہے ہیں لوگوں کی آسیں اور امیدیں تو اسی وقت ختم ہوگئیں جب ملک کے کئی ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ نے آکسیجن کی کمی کی بات کہ کر لوگوں کی امیدوں پر پانی پھیر دیا ۔ایک رپورٹ کے مطابق دہلی کے بعض ہاسپٹل میں آکسیجن کی کمی کی وجہ سے زندگیاں سسک سسک کر دم توڑ رہی ہیں ۔ ایک طرف لاشوں کے ڈھیر نظر آرہے ہیں تو دوسری طرف مہلوکین کے ورثاء کی سسکیاں اور ان کی آہیں سنائی دے رہی ہیں سب سے تعجب کی بات تو یہ ہے کہ یہ کرونا کیسا جلاد ہے کہ اس نے آتے ہی سب سے پہلے بڑی بڑی ہستیوں کو اپنا لقمہ بنایا ایسے ایسے لوگوں کو اس نے موت کے آغوش میں ابدی ننید سلا دیا جن لوگوں سے اس ملک کو بہت سی امیدیں وابستہ تھیں نئی نسلیں ان سے زانوئے تلمذ حاصل کرنے کے فراق میں تھیں عام انسان ان سے زندگی جینے کے اصول سیکھنا چاہتے تھے ایسے لوگوں اللہ تعالیٰ غریق رحمت کرے ۔ اس مصیبت کی گھڑی میں انسان اتنا بےبس اور لاچار ہو گیا ہے کہ چاہ کے بھی مدد کا ہاتھ نہیں بڑھا پاتا ہے غیر تو غیر اپنے بھی اپنوں کی لاشوں کو اٹھانے سے گھبرا رہےہیں ۔ملک میں اچانک آکسیجن و ادویات کی کمی سے جہاں ایک طرف حکومت پریشان نظر آرہی ہے وہیں عام انسانوں نے بھی جینے کی امید کھو دی ہیں جو لوگ جہاں ہیں ۔وہیں اپنی آخری سانس لینے کو تیار ہیں ابھی حالیہ کچھ دنوں میں جتنی کثرت سے لوگوں کی اموات ہوئیں ہیں لوگوں کے ذہن و دماغ کام کرنا بند کر دئیے ہیں بہر کیف گفتگو طویل ہوتی جا رہی ہے لکھنے کا اصل مقصد یہ ہے کہ کرونا کو لیکر پوری دنیا میں لوگوں کی مختلف آراء ہیں اس وقت میں صرف اتنا کہنا چاہونگا اور ان لوگوں سے درخواست کرونگا کہ اس کرونا کی تئیں آپ کا نظریہ جو بھی ہو ہمیں اس سے کوئی اختلاف نہیں ہے۔ یہ قہر الٰہی ہے یا کسی انسان کی کارستانی اس پر ہم بعد میں بحث و مباحثہ کرلیں گے لیکن یہ وقت ابھی بحث و مباحثہ کا نہیں ہے بلکہ اس وبا سے بچاؤ کی تدابیر کا ہے ان لاکھوں لوگوں کی جان کو بچانے کیلئے کوشش کرنے کا ہے جو کرونا پازیٹیو ہیں اور ہاسپٹل میں موت و زیست کے درمیان جھوجھ رہے ہیں ۔ یا پھر ان لوگوں کو اس مہلک وبا سے مکمل تحفظ فراہم کرنے کا ہے جن کے بداحتیاطی کی وجہ سے اس وبا کی زد میں آنے کا خدشہ ہے اس سلسلے میں حکماء اطباء اور میڈیکل سائنس وٹیکنالوجی کے ماہرین کے مطابق اس سے بچاؤ کی تدابیر یہ ہے کہ گھر کے ہر فرد کو گرم پانی استعال کرایا جائے انھیں اپنے گھروں کی چہار دیواری میں ہی قید رکھا جائے بلا وجہ لوگوں سے میل جول نہ رکھا جائے۔ سماجی دوری بنائے رکھنے کی ترغیب دی جائے ،کاڑھا پینے کی تلقین کی جائے ،اگر مسلمان ہیں تو انھیں اس تدابیر کے ساتھ رجوع الی اللہ کی دعوت دی جائے ،انھیں بتایا جائے کہ دعا مومنوں کا ہتھیار ہے رات کی تاریکیوں میں اللہ تعالیٰ سے اپنے گناہوں کی معافی مانگی جائے ،کثرت سے صدقہ کیا جائے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اگر تمھارے ملک یا شہر میں کوئی بیماری یا وبا پیھل جائے تو ایسی صورت میں تم اس شہر کو چھوڑ کر نہ جاؤ اور دوسرے لوگوں کیلئے بھی ضروری ہے کہ وہ اس شہر کا رخ نہ کریں جہاں یہ وبا پھیلی ہوئی ہے وہیں فرمایا خوب کثرت سے صدقہ خیرات کیا کرو کیونکہ صدقہ اللہ تعالیٰ کے غصہ کو ٹھنڈا کرتی ہے ہمارے یہاں صدقہ خیرات کرنے کا رواج بھی دن بہ دن ختم ہوتا جارہا ہے جب انسان کھلم کھلا اللہ تعالیٰ کے قوانین کو توڑ کر برے خرافات میں ملوث ہوجاتا ہے تو اللہ تعالیٰ کی ناراضگی اسی طرح کرونا وائرس جیسی مہلک وبا کا قہر بن کر برستی ہے اور ہر خاص و عام کو اپنی چپیٹ میں لے لیتی ہے ۔اللہ تعالیٰ ہم سب کی حفاظت فرمائے ۔ یہ چند موٹی اور مؤثر تدابیر تھیں جنھیں میں نے افادہ عام کیلئے تحریر کیا ہے تاکہ لوگ زیادہ سے زیادہ ان تدابیر پر عمل درآمد کریں اور بقیہ معاملات اللہ تعالیٰ کی ذات پر چھوڑ دیں اللہ تعالیٰ پورے عالم سے اس مہلک وبا کا خاتمہ فرمائے اور عام مسلمانوں کے ساتھ ساتھ ہمیں بھی خلوص کے ساتھ عبادات الٰہی کی توفیق عطا فرمائے آمین

Comments are closed.