ایک مخلص رفیق کہنہ مشق مفتی مولانا مجتبی حسن قاسمی ہمارے درمیان نہیں رہے
قاضی محمد حسن ندوی مدھوبنی استاذ حدیث وفقہ دارالعلوم ماٹلی والا بھروچ
ابھی حضرت امیرشریعت مولانا ولی رحمانی اور مفتی اعجازارشد قاسمی کی رحلت کا غم ہلکابھی نہیں ہوا تھاکہ یکایک رمضان المبارک کی ساتویں شب تراویح کی دسویں رکعت کے ختم پر میرے چھوٹے لڑکے محمد احسن ہانپتے کانپتے میرے قریب آ کر یہ خبردی ابو! مفتی مجتبی صاحب انتقال کر گئے اس خبر نے میرےجسم کوجھنجھوڑ کر رکھ دیا،ایسالگا پیروں تلے زمین کھسک گئ،ہمت کرکےحضرت مولانا اقبال صاحب کو اطلاع دی ،اور کواٹر کی طرف نکل پڑا،مسجد سے کواٹر کوئ زیادہ فاصلہ نہیں ہے ،لیکن ایسا لگا زمین دراز ہوگی،مفتی صاحب کے گھر پہنچنے سے قبل مولانا شاہد صاحب پالنپوری سے مواجہت ہوئ ،انہوں نے بھی افسوس کے ساتھ موت کی تصدیق کی،میں نے کہا گھر چلئے پہلے مفتی صاحب کے بچوں سے ملتے ہیں ،یہاں تو کچھ اور ہی منظرتھا،چاروں معصوم بچے اپنے چچا زاد بھائی اسجدحسن کے پاس زاروقطار رورہے تھے ،تسلی اوردلاسہ دیا ،اور صبر کے کلمات کہے،پانی پلایا،اور سبھوں کو وطن بھیجنے کی کوشش شروع ہو گئی
چوں کہ مفتی صاحب کا یہ حادثہ اپنے وطن مدھوبنی میں ہوا تھا،بچے دارالعلوم ماٹلی والا بھروچ میں تھے،اس لئے دارالعلوم کے زمہ داراور مہتمم دارالعلوم حضرت مولانا اقبال صاحب نے بچوں کو جہازکے ذریعہ وطن مدہوبنی چندرسین پوربھیجنے کا انتظام کیا ،سارہ صرفہ برداشت کیا،الحمدللہ بچے اپنے چچازاد بھائی اسجدحسن اور والدہ کے ساتھ بعافیت کل ہوکر عصرسے قبل منزل پرہنچ گیے،اور والدکو آخری دیدار کرنے کا موقع ملا،اس کے لئے ہم حضرت مہتمم صاحب کے ممنون و مشکور ہیں اللہ تعالیٰ آپ کا سایہ درازکرے اور دارالعلوم ماٹلی والا کو ہرشرسے حفاظت فرمائےآمین
مفتی صاحب رمضان سے قبل دواساتذہ کرام کے ساتھ وطن کے ایک مدرسہ کے سالانہ اجلاس میں شرکت اورعلمی کارکردگی کے معائنہ کےلئے تشریف لے گئے تھے،اس کے بعد واپسی کاپروگرام تھا،لیکن اس سے ایک دن قبل آپ کی طبیعت ناساز ہوگئی ،دواجاری تھی ،لیکن جوں جوں دوا کی مرض بڑھتا گیا،شب وروز آپ کی خبر وخیریت آپ کے بچوں کے ذریعہ لےرہا تھا،پہلے معلوم ہوا تھاکہ کمزوری کی وجہ سے بات بہت کم کرتے ہیں ،اس لئے شروع میں فون نہیں کیا،پھرپانچ رمضان المبارک کو میں نے آپ سے بات کرنے کی کوشش کی ،حسن اتفاق آپ نے فون اٹھایا،بات کی،علیک سلیک کے بعدخبروخیریت دریافت کی ،حوصلہ دیا،صحت یابی کی دعابھی، یہ آخری بات تھی ،کوئ خواب وخیال میں نہیں تھا کہ آپ سے پھر ملاقات نہیں ہوگی ،اورمعاملہ ایساہی ہوا، پھر یکایک یہ خبر ساتویں رمضان المبارک کی شب میں آئ کہ حضرت مفتی صاحب اپنے حقیقی رب سے جاملے اناللہ واناالیہ راجعون اناللہ مااخذ ولہ مااعطی وکل شیء الی اجل مسمی
موت اس کی ہے کرے جس کا زمانہ افسوس
یوں تو دنیا میں سبھی آئےہیں ہیں مرنے کےلئے
،اس حادثہ فاجعہ کے بعدمجھ پراتنا اثر ہوا کہ کئ دنوں تک نیند نہیں آئی اور نہ کچھ لکھنے کی ہمت ہوئ،آج کچھ لکھنے کے لئے بیٹھاہوں تاکہ ( قول رسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم اذکروا محاسن موتاکم وکفواعن مساویہم مشکوٰۃ المصابیح) کی بناپر کچھ ان کی نمایاں گوشوں کواجاگرسکوں جوہمارےلئے بالخصوص نسل نو کے لیے مشعل راہ ثابت ہوں.
مفتی صاحب جہاں ایک طرف باکمال مدرس،کہنہ مشق مفتی،حدیث کے استاذ تھے ،وہیں دوسری طرف آپ صاحب قلم تھے،آپ کا قلم بڑارواں تھا،آپ کئ کتابوں کے مصنف تھے،آپ کی قلمی کاوشوں میں سب سے ممتاز فتاوی فلاحیہ کی ترتیب کاعمل ہے، جو ترتیب و تخریج تعلیق اور طباعت کے اعتبار سے فن فتاوی میں ایک منفرد کتاب ہے ،ہندوستان کے ارباب افتاء کے درمیان بیحد مقبول ہے،یہ کتاب دراصل گجرات کے مشہور ومعروف عالم دین مفتی بیمات صاحب رحمۃاللہ علیہ سابق شیخ الحدیث وصدرمفتی دار العلوم فلاح دارین ترکیسر گجرات کی ہے ،گجراتی میں تھی ،اردومیں ترجمہ کے بعد ترتیب وتحقیق کے کام کو مفتی صاحب نے ہی انجام دیاہے،یہ کتاب پانچ جلدوں میں منظرِ عام پرآچکی ہے یہ واقعی مفتی صاحب کی شب وروز کی محنت اور آپ کی فقہی ذوق کی مرہون منت ہے ،خاص طورپربعض مختلف فیہ مسائل کا جواب حوالہ کے ساتھ مفتی احمد بیمات صاحب کی رائے لکھنے کے بعد دلائل کی روشنی میں جمہورکی رائے کو ترجیح دی ہے ،اس سے مفتی مجتبی صاحب کی فقہی بصیرت کا اندازہ ہوتا ہے،یہ کیوں نہ ہو؟ اس لئے کہ مفتی صاحب کو ازھرہند دار العلوم دیوبند سے دورہ حدیث ،تکمیل افتاء کے بعد ایک سال فقیہ عصرحضرت مولانا خالد سیف اللہ صاحب رحمانی مدظلہ العالی کی صحبت میں تصنیف تالیف کے ساتھ تحقیق کا وہ ذوق ملا تھاجس نے مفتی صاحب میں مزید فقہی بصیرت ،بالغ نظری ،درک وکمال پیدا کردیا تھا ،جب مفتی صاحب نئے مسائل پرمقالہ لکھتے تو بڑی گہرائی وگیرائ اور اعتدال کے ساتھ لکھتے اور خوب لکھتے،اسی بناپر حضرت مفتی صاحب کوعلمی تصنیفی خدمات پرچندسال قبل اپنے مشفق استاذ فقیہ عصرحضرت مولانا خالد سیف اللہ صاحب رحمانی کے مبارک ہاتھوں سے اعزازا توصیفی ایک سندملی تھی ،اسی طرح جمیعت علماء کے تحت فقہی سیمنار میں آپ کے مقالات کو ارباب افتاء وقعت کی نگاہ سے دیکھتے،
اس کے علاؤہ مفتی صاحب حسن اخلاق کے مالک تھے،جب بھی ملتے توخندہ پیشانی کے ساتھ ملتے،،آپ ہمارے علمی کام میں بڑے معین تھے،ہماری دوکتاب نقوش احمد اور توجیہ الاخبارشرح مشکل الآثار کی ترتیب اور تزئین میں بڑی مدد کی،خاص طورپرمحکمہ شرعیہ کے تحت مقدمات کے حل اور تصفیہ میں مفتی صاحب کا اہم رول ہوتا،( برداللہ مضجعہ) ، بسااوقات عشاءبعد چہل قدمی کرتے ہوئے علمی یا سیاسی موضوع پر بحث بھی ہوتی ،مفتی صاحب اپنی بات پر اٹل رہتے، اپنی رائے بڑی مضبوطی کے ساتھ پیش کرتے،میرا ان سے اختلاف بھی ہوتا،لیکن یہ اختلاف علمی حدتک رہتا،خلاف کی صورت نہیں ہوتی ،پھردوچاردنوں کے بعد ملتے توبڑےادب واحترم کے ساتھ ملتے ،یہ ان کے حسن خلق،اور وسیع الظرفی کی دلیل تھی اسی طرح ان میں خدمت اورضیافت کا بڑاجزبہ تھا ،ہمیشہ ان کے یہاں مہمانوں کی آمدورفت رہتی کبھی کبھی راقم کوبھی ضیافت کی سعادت حاصل ہوتی.
مفتی صاحب ہمارے ہم وطن تھے،لیکن ان سے پہلے شناسائی نہیں تھی ،آپ دارالعلوم کرمالی بھروچ میں تھے راقم دارالعلوم ماٹلی والابھرو چ میں ،لیکن ایک مرتبہ کسی کام سےدارالعلو م کرمالی سے دارالعلوم ماٹلی والا تشریف لائے تھے،مولانا ارشد صاحب نے میراتذکرہ کیا ،وقت نکال کر میرے پاس آئے ،سلام وکلام ہوا ،تعارف ہوا ،اور ان سے بڑی انسیت ہوگئ، پھرغالبااگلےسال ہی آپ کی استاذ کی حیثیت سے دارالعلوم ماٹلی والا میں تقرری ہوگئ،اس کے بعدہم دونوں میں ایسی قربت ہوگئ کہ بعض لوگ یہاں تک کہنےلگے کہ دونوں بھائی ہیں ایسے ہی انکے بچے اور ہمارے بچوں میں قربت تھی،خاص طورپرمفتی صاحب کے چھوٹے فرزند قدامہ حسن مجھ سے اتنامانوس ہوگیا تھا،کہ دوچارروز وہ نظر نہیں آتا تو اسے گھرسے بلاتا پھراس کی باتوں سےمحزوظ ہوتا،مفتی صاحب کے تمام بچے بڑے مؤدب اور ذہین و فطین تھے مدرسہ اور اسکول میں اساتذہ کے محبوب نظرتھے،اللہ تعالیٰ سبھوں کوعالم اور آپ کا جانشیں بنائے.
مفتی صاحب ضلع مدہوبنی کے ایک مردم خیزمشہورگاوں چندرسین پورکے رہنے والے تھے
اس گائوں میں ہردور میں دینی،تعلیمی اورسیاسی وسماجی شخصیات پیدا ہوتی رہی ہیں،مولانا سعید قاسمی بانی مدرسہ بشارت العلوم کھرما پتھرا ،فقیہ عصر مولانا زبیر احمد قاسمی رحمۃ اللہ علیہ مدرسہ اشرف العلوم کنہواں،اور ڈاکٹر فیاض صاحب سابق ایم ایل اے بسفی کا تعلق اسی گاؤں سے ہے اوراس گائوں کے اس دور کے دو چمکتے ستارے تھے جو طلوع ہوتے ہوتے ڈوب گئے، میری مراد مفتی اعجازارشد قاسمی صاحب اور مفتی مجتبی حسن قاسمی صاحب ہیں ،دونوں یک بعد دیگرے دودنوں کے فاصلے کے بعدہم لوگوں سے جدا ہوگئے ،اخیر میں ہم اللہ سے دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ دونوں کی بال بال مغفرت فرمائے اور دونوں کی اولادکو صبر جمیل عطاکرے آمین
آسماں ان کی لحد پر شبنم افشاں کرے
کہ سبزہ نورستہ اس گھر کی نگہبانی کرے
Comments are closed.