"وبا کی گھڑی میں عقل کو ہوا دیں”

 

آمنہ جبیں (بہاولنگر)

ایک سال مکمل ہو گیا جب سے ایک ناسور نے پوری دنیا کو وبا کی شکل لپٹ میں لے رکھا ہے۔ ہر طرف سکوت چھا گیا تھا۔ ہر دروازہ بند ہر رستہ ویران ہو چکا تھا۔ بھولی بھٹکی دنیا سکون سے بیٹھنے پہ مجبور ہو گئی تھی کہ یہ کیا ہے۔ یہ عذابِ الٰہی ہے یہ کسی دشمن کی چال ہے۔ہر طرف ہی اس وبا کا حصار تھا۔ اس وبا کی شدید ترین تین لہروں نے پوری دنیا کو ایک وقت میں یوں ہلا کر رکھ دیا کہ جیسے پہلے یہاں کوئی جینے کا مطلب ہی نہ جانتا ہو۔ بہت سی جانیں ضائع ہو گئیں۔ لاکھوں کروڑوں لوگ اس وبا کی بھینٹ چڑھ گئے۔ کبھی یہ طوفان تھما تو کبھی شدت اختیار کرتا ہوا ہر چیز کو کچلتا گیا۔ اور یہاں تک کہ تیسری خطرناک لہر اب بھی پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں کیے ہوئے ہے۔ دن بدن اموات بڑھ رہی ہیں۔ اور زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی ہے۔ ہر کوئی بحث و مباحثے میں پڑا ہے۔ سائنس دان اس وبا کو ختم کرنے کے لیے دوا تیار کرنے میں سرگرداں ہیں۔ اور پوری دنیا سائنسدانوں پہ نظر جمائے کھڑی ہے۔ جو ویکسین بنائی گئی تھی کرونا کی وبا کے لیے وہ بھی اب کم ہوتی جا رہی ہے۔ کیونکہ مریض بہت تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ ہسپتالوں میں قدم رکھنے کہ جگہ نہیں ہے۔لیکن افسوس تو یہ ہے کہ ہم اتنی مشکل گھڑی میں بھی عقل کو سلا کر کسی کال کوٹھری میں بند کر کے جی رہے ہیں۔ ہم نے سائنس پہ اندھا اعتماد کر لیا ہے اور اسی پہ نظریں جمائے بیٹھے ہیں۔ لیکن وہ سارا منظر جو اس وبا نے بدلا ہے ایک نظر اس پہ دوڑائیں تو یہ بات سامنے آتی ہے۔ کہ اس وبا نے انسان کو اس کی اصل سے اس کی حقیقت سے ملایا ہے۔ جو اکٹر کر زمین پہ چلتا تھا اسے اپنا آپ یاد آیا ہے۔ کہ وہ کیا ہے ذرہ خاک یا فلک کا تارہ ہے۔ اس وبا نے لوگوں کو ایک دوسرے کا ہمدرد اور احساسی بنایاہے۔ غریبی امیری کا فرق مٹایا ہے۔ مسجدوں کی رونق بھی چلی گئی تھی ہر چیز رکی اور تھم گئی تھی۔ لوگ چاہتے ہوئے بھی آگے قدم نہ بڑھا سکے اور آج بھی جمود کی زد میں ہیں۔ اس وبا نے لوگوں کے دلوں پہ گہرا اثر ڈالا ہے ان کے اندر سے دنیا کی بھوک مٹائی ہے۔ دنیا کے سازو سامان کہ چاہ ختم کی ہے۔ سادگی ہر انسان کی شخصیت میں آئی ہے۔ لوگوں نے عاجزی سیکھی ہے۔ سب سے بڑھ کر ہسپتالوں میں دن رات مریضوں کے ہجوم نے یہ حقیقت واضح کی ہے کہ ایک اصل ڈاکٹر اور ایک اصل مسیحا کسے کہتے ہیں۔ لوگوں نے اپنی ذات کی پہچان کی ہے اپنے بارے میں غوروفکر کی ہے۔ جو صدیوں سے وہ صرف اس لیے نہ کر پائے کہ زندگی کی دوڑ نے اجازت نہ دی تھی۔ اب رب نے زندگی کا صفحہ پلٹ کر انسان کو اس کا مقام دکھایا ہے۔ اسے اس کی حثیت سے ملایا ہے۔ اوپر بتائی گئی تمام حقیقتیں اس وبا میں صحیح ثابت ہوئی ہیں۔ اللّٰہ پاک نے انسان کو دکھلایا ہے۔ کہ دنیا میری بنائی ہے جتنا بھی آگے چلے جاؤ لوٹنا میری ہی طرف ہے۔ بھول جاؤ بھٹک جاؤ مگر راہِ فرار میری ہی طرف ہے۔ انسان کو اس وبا نے یہ بات صحیح معنوں میں سمجھا دی ہے کہ وہ جتنی مرضی کوشش کر لے جتنی مرضی دنیا تسخیر کر لے چاند پہ پہنچے یا سورج کی شعاعوں کو گرفتار کرے آخر وہ محتاج رب کا ہی ہے۔ لاکھ کوئی رب کی ذات کا منکر ہو جائے۔ لیکن رب نے اب یاد دلایا ہے کہ کون ہے جو تمہیں میرے سوا بچا سکتا ہے۔ مسلم سے لے کر غیر مسلم تک حیرت میں گرفتار اس آفت سے لڑ رہے ہیں۔اگر اپنے حالات واقعات کا جائزہ لیا جائے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ واقعی دنیا پرستی میں کھویا انسان رب کو شعوری طور پر مان کر بھی بھول چکا تھا۔ مگر رب نے پھر یاد کروایا اور ایک چھوٹے سے وائرس نے ساری دنیا میں تہلکہ مچا دیا۔ لوگ کہتے ہیں کہ یہ دشمنوں کی سازش ہے ہو سکتا ہے سازش ہو۔ لیکن یاد رہے کہ اس دنیا کا ذرہ ذرہ بھی رب کے حکم کے بغیر ہوا میں نہیں اچھلتا رب کی مرضی کے بغیر کچھ نہیں ہوتا۔پھر رب وسیلہ چاہے کسی کو بھی بنائے مگر ہوتا وہی ہے جو رب چاہتا ہے۔ کیونکہ ہم سب اپنے رب کے محتاج ہیں جو شاید کہیں نہ کہیں ہم مان کر بھی بھول بیٹھے تھے۔ جب کہ قرآن مجید میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے

"تم سب اللّٰہ کے درکےمحتاج ہو اور اللّٰہ غنی وحمید ہے” ( سورتہ فاطر آیت نمبر پندرہ)

اور پھر اگر تاریخ پہ نظر ڈالی جائے تو عذاب اور وبائیں پچھلی اقوام پہ بھی آئی ہیں۔ قوم،لوط، عاد اور ثمود کو بھی وبا اور دوسری صورتوں میں عذابات کا سامنا رہا ہے۔ جو کہ ان کی نافرمانیوں کے باعث ان پہ آئے۔ لیکن اللّٰہ نے ان عذابات میں اپنے نیکوکار بندوں کو سزا نہیں دی انہیں محفوظ رکھا۔ کیونکہ قرآن پاک میں ارشاد ہے۔ ” پھر جب ہمارا حکم آ گیا تو ہم نے ہود کو اور ان لوگوں کو جو اس کے ساتھ ایمان لائے تھے۔ نجات دے دی اور ایک سخت عذاب سے انہیں بچا لیا۔” ( سورتہ ہود آیت نمبر58)

آخر کار جب ہمارے فیصلے کا وقت آ گیا تو ہم نے صالح کو اور ان لوگوں کو جو اس کے ساتھ ایمان لائے تھے بچا لیا اور اُس دن کی رسوائی سے ان کو محفوظ رکھا” (سورتہ ہود آیت نمبر66)

اگر یہ وبا بھی ایک عذاب الٰہی ہے تو کوئی شک نہیں رب اپنے نیکوکار بندوں کو اس سے بچا لے گا۔ لیکن تب جب ہمارا ایمان اصل ہو پختہ ہو۔ ہم دل سے سچے اللّٰہ کو اور اللّٰہ کی ماننے والے ہوں گے۔ تب ہم اس عذاب سے محفوظ رہیں گے۔ ہم سب اللّٰہ کے محتاج ہیں اپنی تدابیر جہاں تک مرضی لڑا لیں لیکن جب تک یہ پیشانی سچ کے ساتھ رب کے آگے عاجز اور ناتواں ہو کر نہیں جھکے گی۔ تب تک سکون اس دنیا کو میسر نہیں آئے گا۔ جب تک جو چور اندر بیٹھا ہے جو ایمان کا ستیا ناس کر رہا ہے۔ باہر نہیں نکلے گا یہ وبا ہمارے جسموں پہ وار کرتی رہے گی۔ کوئی میڈیسن کوئی نسخہ کوئی کام نہ آئے گا۔ کیونکہ اب تک ویکسین بننے کے باوجود ہزاروں لاکھوں لوگ موت کے منہ میں جا چکے ہیں اور جا رہے ہیں۔ ہمیں اس وبا سے نجات پانی ہے تو ظاہری نہیں باطنی معملات کو بھی سدھارنا ہو گا۔ رب کے ساتھ جو رشتہ ہے اسے پہچاننا ہو گا۔ رب کو منانا ہو گا۔ اور توبہ التنصوح کو اختیار کرنا ہو گا۔ کیونکہ عقلیں دی ہوئی رب کی ہیں۔ سب کچھ رب کا ہے۔ رب العالمین کے حکم کے بغیر کچھ نہیں ہو سکتا چاہے جتنی مرضی عقلیں لڑا لی جائیں۔ اس لیے حکمرانوں اور سائنسدانوں کی طرف دیکھنے کی بجائے کل کائنات کے بادشاہ کی طرف نظر لگاؤ اس سے مانگو اس سے امید رکھو کیونکہ وہی ہر دکھ پریشانی مصیبت اور وبا کو رفع کرنے والا ہے۔ ہم انسان لاکھ چاہیں کچھ نہیں ہو گا جب تک وہ رب نہ چاہے۔ یہ وہ وقت ہے جب ہمیں دنیاوی طاقتوں کو چھوڑ کر کوشش کے ساتھ ساتھ صرف رب پہ بھروسہ کرنا ہے اس پہ یقین کر کے مانگنا ہے تا کہ ہم اس مشکل وقت سے لڑ سکیں۔ اور زندگی پھر سے اپنے جوبن پہ آ سکے۔ کیونکہ قرآن پاک میں ارشاد ہے

"جو اللّٰہ پہ بھروسہ کرے گا وہ اس کے لیے کافی ہو گا” ( سورتہ الطلاق 03)

Comments are closed.