بلدیاتی انتخابات میں ایک پارٹی کوووٹ دینے کی حماقت نہ کریں اچھے اور 24×7دستیاب رہنے والے امیدواروں کو اپنا ووٹ دے کر کامیاب بنائیں
محمدیوسف رحیم بیدری
بلدیاتی سطح پرایک پارٹی کو ووٹ دینا غلط:۔ ریاست کرناٹک میں 10تا12مقامات پر بلدیاتی انتخابات27اپریل کومقرر ہیں۔ جن میں بیدر، شیموگہ اور دیگر شہراور پٹن پنچایت شامل ہیں۔ان انتخابات میں رائے دہندگان اپناووٹ کس پارٹی کودیں؟ سب سے پہلے معصوم ووٹر یہی سوچتاہے۔ سچ تو یہ ہے کہ بلدیاتی انتخابات قانون بنانے سے متعلق نہیں ہوتے۔ یہ صرف انتظامات سے متعلق ہوتے ہیں۔ جو کچھ بھی فنڈحکومت کی جانب سے جاری کیاجاتاہے اس میں شہر کی ترقی کے لئے کام کرناہوتاہے۔ انتظامی امور سے کسی طبقہ پر دوررس اثرات پڑتے ہوں ایسا نہیں ہوتا۔جہاں کہیں قانون بناناہوتاہے اس قانون کے دوررس اثرات البتہ قوموں ا ور طبقات ہی نہیں ملکوں کی زندگی پر بھی پڑتے ہیں، قانون بنانے کے معاملات میں پارٹیوں کو دیکھنا ضروری ہوجاتاہے۔ بلدیاتی سطح پرایک پارٹی کوووٹ دینے کاخیال ذہن سے نکال دیناچاہیے۔*
*کس کس کو ووٹ نہیں دینا چاہیے؟:۔ اب سوال یہ ہے کہ پھر کس کوووٹ دیں؟اس سوال سے پہلے ووٹر س کوچاہیے کہ وہ طئے کریں کہ وہ کس کس کوووٹ نہیں دیناچاہتے؟ ۱۔ فسطائی طاقتوں کی جانب سے کھڑے امیدوار کو ووٹ نہیں دیں گے؟ 2۔ ایسے سیکولر امیدوار کو ووٹ نہیں دیں گے جس نے اپنی پارٹی اور وارڈ کے رہائشیوں سے دھوکاکرتے ہوئے سابق میں ہر موڑ پرفسطائی طاقتوں کاآلہئ کار بنارہاہے۔ 3۔جو لوگ زمین مافیا سے جڑے ہیں، یاجن کے تعلقات برے لوگوں سے ہیں انھیں ووٹ دینا دراصل برائی کاساتھ دیناہوگا۔ اس لئے ایسے لوگوں کو بھی ووٹ نہیں دینا چاہیے۔ 4۔ ایسے لوگ جو خواتین اور بچوں پرظلم وستم کرتے ہیں،جن کے پاس شہر کے نوجوان اور شہر کی طاقت گروی ہوتی ہے، جو سودی کاروبار میں ملوث ہیں انھیں بھی ووٹ نہ دیاجائے۔5۔ جو جرائم پیشہ ہیں انھیں بھی ووٹ دینا قانوناً جرم ہے وغیرہ وغیرہ*
*آخر کس کو ووٹ دیں؟:۔ اب تیسرا اور آخری سوال یہ ہے کہ کس کو ووٹ دیاجائے؟ جواب آسان ہے لیکن اس پر چلنا مشکل ہے۔ جواب یہ ہے کہ جو لوگ خدمت کے جذبہ سے سیاست میں ہیں، تعلیم یافتہ نوجوان ہیں، جوبھلے دولت مند نہ ہوں لیکن جن کی سوچ میں انسانیت کی خدمت کا جذبہ ٹھاٹھیں ماررہاہو،ایسے نوجوانوں کوووٹ دے کر انھیں پانچ سال خدمت کا موقع دیاجائے۔ یہ نوجوان چاہے کسی پارٹی سے ہوں۔ فسطائی پارٹی کو چھوڑ کر جس کسی سیکولر پارٹی سے وابستہ ہوں، انھیں ووٹ دیں۔ یوں بھی اب زمانہ اجتماعی طورپر کسی ایک پارٹی کوووٹ دینے کانہیں رہا۔ اقلیتوں نے کانگریس پارٹی کو 70سال تک ووٹ دے کر دیکھ لیا۔ اقلیتوں کے تقریباً تمام مسائل میں کہیں نہ کہیں کانگریس کاوہ زہریلا بیج شامل ہے جس کے زہریلے پھل نہ کسی کو بتا ئے جاسکتے ہیں اورنہ ہی اسکا انکارہی ممکن ہے*۔
*مختلف پارٹیوں کے بہتر امیدواروں کو ووٹ دیں:۔یہ دور مختلف پارٹیوں کو مل جل کر کام کرنے کاموقع دینے کاہے۔ اس میں بھی اچھے سے اچھا نوجوان، جو خدمت کے جذبہ سے مامور ہو، جس کو ہم نے رات دن دیکھا اور پرکھا ہے اس کو ووٹ دے کر کامیاب بناناچاہیے۔بلکہ اگر آپ اس کو کامیاب نہیں بناسکتے تب بھی اسی کوووٹ دینا ضروری اور لازمی ہے کیونکہ وہ اک اچھا ئی کاعلمبردار نوجوان ہے۔ اسی اسپرٹ کو انسانیت پسند کرتی ہے۔اس لئے پسند کرتی ہے کہ ووٹ ایک امانت ہے اور امانتیں اس کے اہل تک پہنچادینے کی تاکید آئی ہے۔ اگر ایسا نہیں ہواامانت اہل تک نہیں پہنچائی گئی توزمین پر فتنہ فساداور وباؤں کانزول ہوتے دیر نہیں لگتی۔لوگوں نے جیت کا تمغہ حاصل کرانے کے خود ساختہ تصور میں شرابیوں، جواریوں، زانیوں، سودخوروں اور مفادپرستوں کو ووٹ دے کر کامیاب بنایاہے جو کہ غلط بلکہ بالکل غلط ہے۔ اسی طرح ہزار پانسو روپئے لے کر ووٹ دینے کی عادت ووٹر کو زندگی بھر شرمند ہ رکھتی ہے۔*
*براہ کرم!اپناووٹ مفت دیں اور تمام اچھے امیدواروں کوووٹ دے کر ایک رنگارنگ گلدستہ جیسی بلدیہ کو وجودمیں لانے کاکارخیر انجام دیں۔ایک پارٹی کے امیدواروں کوووٹ دینے کاتصوریا ایسی اپیلوں پر کان نہ دھریں۔*
Comments are closed.