پرشوق سفرکاپنچھی

سمیع اللہ ملک
ربّ ذوالجلال کے ایک نہ دکھائی دینے والے ادنیٰ سپاہی ’’کرونا‘‘نے دنیابھرکی تمام طاقتور،لاغرقوتوں کوخاک چاٹنے پرمجبورکردیاہے اورآج انسانیت کراہ رہی ہے اور سب کی زبان پراس کبریاذات سے نجات کی فریادیں اورمناجات کاسلسلہ جاری ہے۔ تمام ذی شعوراپنے بداعمالیوں پربرملاتسلیم کررہے ہیں کہ وہ اس کبریاذات کوناراض کربیٹھے ہیں کہ جس کی وجہ سے اس کی عبات گاہوں ھتی کہ خانہ کعبہ اورمسجدنبوی میں بھی سناٹاطاری ہوگیااورصرف ملائکہ ہی حرمین میں اس کی تسبیح بیان کرنے کیلئے موجودرہے۔ اب توبہ کے سلسلے کے بعدجزوی طورپرسجدہ ریزہونے کی توفیق مل رہی ہے کہ ہم اپنے گناہوں کی معافی طلب کرکے اس کی پناہ میں دوبارہ داخل ہوجائیں کہ عین ممکن ہے کہ میراکریم ،رحیم رب ہمارے عجزوانکسارکوقبول کرکے اس عذاب سے نجات عطافرمادے اورہمیں دوبارہ اللہ کے گھروں کوٓبادکرنے کی توفیق مل جائے اورحرمین کی زیارت کی اجازت مل جائے۔
نجانے کیوں حرمین کے سفرکی رودادکی یادتازہ کرنے کی خواہش ایک دفعہ پھرتڑپ رہی ہے اورجب تک اس کوبیان نہ کرلوں،پرشوق سفرکاپنچھی چین سے نہیں بیٹھے گا۔
اللہ اکبر…….وہ کون ساگھرہے آپ کی نگاہیں جس کی دیوار وں کی بلا ئیں لیکرپلٹ کرلوٹنے کوتیارنہیں،جہاں آپ کاجسم بھی طواف میں تھااورآپ کا دل بھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔دنیاکے بت کدوں میں کل بھی وہ پہلاگھرتھاربِ ذوالجلال کااورآج بھی۔دوچارصدیوں کی بات نہیں بلکہ دنیاکاسب سے پہلاعبادت خانہ!بنی آدم میں کسی کے حافظے میں اس وقت کی یادیں محفوظ ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔اس طویل عرصے میں بے حساب مندرتعمیرہوئے،لاتعدادگرجے آبادہوئے،کیسے کیسے انقلابات سے یہ زمین آشناہوئی،کیسی کیسی بلندیاں پستیاں رونما ہوئیں ،کون کون سی تہذیبیں ابھریں اورمٹیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔چاہے مصروبابل ہوں یاروم وایران لیکن عرب کے ریگستانوں میں چٹانوں اورپہاڑوں کے وسط میں سیاہ غلاف میں لپٹی یہ عمارت جس کورب نے’’اپنا گھر‘‘کہااس کوزمانے کاکوئی طوفان،کوئی انقلاب، کوئی زلزلہ اپنی جگہ سے نہ ہلا سکا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ابرہہ اس کومٹانے اٹھاوہ خوداپنے طاقتورہاتھیوں سمیت بھس کاڈھیربن کرمٹ گیا۔
اللہ کاخاص کرم ہے ان نفوس پرجن کورب العزت اپنے گھرکی زیارت کی توفیق مرحمت فرمادیں۔اس سفرحجازمیں باربارعملی طواف ِ شوق کی تکمیل کہاں ممکن ہے،آپ کی نظروں نے اس گھرکاطواف ابھی مکمل نہیں کیاکہ روح کی ضدکہ یہیں حیات تمام ہوجائے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہرتکلف وتصنع سے مبرایہ سیاہ چوکورگھر۔۔۔۔۔۔۔۔۔آپ کی نگاہ جب پڑتی ہے توجم کررہ جاتی ہے اور روح ایسی سرشار ہوتی ہے کہ عجزوانکساری سے سجدہ ریزہوجاتی ہے!! اوراس موقع پرموسی کلیم اللہ یادآتے چلے جاتے ہیں جب اس کے گھر کی تجلی پرہو ش وحواس قائم رکھنا مشکل ہے تواس گھرکے رب کی تجلی کیاکیاہلچل بپاکرتی ہوگی!جب گھرکی برق پاشیوں کایہ عالم ہے کہ جودیکھتاہے وہ کچھ اوردیکھنابھول جاتاہے اورہمیشہ کیلئے یہی نظروں میں سما جاتاہے توگھروالے کے دیدارکی تاب انسانی بصارت بھلاکہاں لاسکتی ہے!
در مصحف روئے او نظر کن
خسرو،غزل وکتاب تاکے
اس کے چہرے کی زیبائی کودیکھو،اے خسرو،شعروکتاب میں کب تک مشغول رہوگے۔
رب کعبہ کایکتاگھرنظروں کے سامنے تجلیاں بکھیررہاتھاجسے پہلی مرتبہ کسی انجینئر،کسی ماہرتعمیرات نے نہیں بنایا،نہ لا کھوں روپے کاسامان ِتعمیراس پرلگا،نہ جدیدمشینری استعمال ہوئی !!! اللہ کے گھرکامعمار ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟ ہاں وہ معماربھی لمحہ لمحہ ہمارے تصورمیں آرہاہے جواپنے سرپربھاری بھاری پتھراٹھاکرلارہاتھا،جس کے ہاتھ چونے،مٹی اورگارے سے بھرے ہوئے تھے۔عرب کی چلچلا تی ہوئی دوپہروں میں ریگستان کی آگ برساتی دھوپ کی پرواکیے بغیرروپے پیسے کی مزدوری سے بے نیازوہ مزدور۔۔۔۔۔۔۔۔۔جوگویااپنے پورے وجود کو اس گھرکی تعمیرمیں لگارہے تھے اورگھرکامالک بڑے چاسے بڑے پیارسے ذکر کر تاہے ان ”مزدوروں”کا”جب ابراہیم علیہ السلام اوراسماعیل علیہ السلام اس گھرکی بنیادیں اٹھا رہے تھے:
ہاں!اس گھرکی زیارت کرتے ہوئے جب چشم تصورمیں نظریں اس پرٹھہرجاتی ہیں تولگتاہے کہ جوہاتھ اب تعمیربیت اللہ میں مشغول ہیں،پتھرپرپتھررکھ رہے ہیں ہاتھوں میں چونا اورگاراہے اورچشم ِاشکباراشکوں سے لبریز۔۔۔۔۔۔۔۔۔کہ دل کا سوزوگداززبان پر آجا تاہے کہ:اے ہمارے رب ہم سے یہ خدمت قبول فرمالے بے شک توسب کچھ سننے اورجا ننے والاہے۔(البقرہ:127 )
تویہ ہے دوستوں کی شان۔۔۔۔۔۔۔۔۔عشق کی منزلوں سے آگے کی منزلیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔فدائیت کی منزلیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔کہ سب کچھ لگاکربھی دھڑکا یہی لگاہواہے کہ مٹناقبول بھی ہوگاکہ نہیں …..؟
اگرایساگھرنہیں دنیامیں تواس گھرکے ایسے مزدورکب دیکھے ہیں دنیانے!دنیاکے کسی مزدورنے وہ مزدوری مانگی جوبیت اللہ کے مزدوروں نے مانگی تھی اورمزدوری کی طلب تو دیکھئے ، تنہااپنی ذات کیلئے نہیں ہم بھی شریک تھے اس اجرت کی طلب میں کہ’’اے ہمارے رب!ہم دونوں کو اپنافرماں برداربنااورہماری اولاد سے ایک امت اپنی فرماں برداربنا اورہمیں ہمارے حج کے اعمال بتااورہم پررحمت سے توجہ فرمااورتوبے شک رحمت سے توجہ کرنے والاہے‘‘(البقرہ:128))
گھربنانے والے کوجومزدوری ملی وہ مزدورجانے یامالک …..لیکن اس اجرت میں مجھے اورآپ کوجوحصہ ملااوراس گھرکی زیارت کرنے والوں کو،طواف کرنے والوں کو،سفر کرنے والوں کو،اس گھرسے محبت کرنے والوں کو،اس کی تعظیم کرنے والوں کو…..کیاکچھ نہیں ملاکیاکچھ نہیں مل جاتا،برکتوں اورعزتوں کے اس گھرسے۔ہرایک یہی خزانے لے کرپلٹتاہے اور…… ساتھ آپ کادل بھی توانہی خزانوں سے مالامال ہے۔ایک شکرسپاس ہے آپ کے پاس بھی اس وقت کہ آپ کانفس پاک ہوکراپنی خودی(انا) کو مٹا کر اپنے رب کی معرفت کی منزلوں میں سرگرداں ہے۔رب کاگھرہے یہ،مقام تفریح تونہیں؟یہ آگرہ کے تاج محل، فرانس کے ایفل ٹاوریانیاگرافال کانظارہ تونہیں تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔یہ گھروندے جوسیرتماشے اوردل کے بہلاوے کیلئے صدیوں سے موجود ہیں لیکن وہاں آنے والے لا کھوں لوگ نہ عقیدت مندہوتے ہیں نہ انہیں چومتے ہیں نہ آنکھوں سے لگاتے ہیں نہ والہانہ طواف کرتے ہیں نہ سجدے کرتے ہیں نہ روتے اورگڑگڑاتے ہیں نہ جھکتے اورگرتے ہیں نہ عشق وفدائیت سے سر شارپکارتے رہتے ہیں کہ ’’لبیک اللھم لبیک‘‘ آگیا ہوں مولا، میں آگیا میرے رب میں حاضرہوگیا،تونے بلایاتھامیں کیوں نہ آتا؟میں آگیا سب کچھ چھوڑ کرآگیا،درویشوں اوردرماندہ فقیرکے روپ میں تیرے درپہ آیاہوں، دنیا کی لذتوں کوٹھوکرمارکرآیاہوں۔لاکھوں لوگ….ایک ہی وقت میں ایک ہی لے ہے ایک ہی دھن جس کاسوداسرمیں سمایاہے،دیوانہ وارطواف کرتے ہیں اورہم بھی احرام کا یونیفارم پہنے اس سلطانِ عالم کی فوج کاحصہ تھے اورجب نمازوں کے اوقات میں بھی اورصبح کے تڑکے میں بھی جب ہربلندی اورہرپستی پر لبیک کی آوازیں گونجتی تھیں تومیں اور آپ بھی ایک نشے میں سرشارہوجاتے ہیں،ایک کیفیت میں جذب ہوجاتے ہیں اورایک مرتبہ پھرچشم تصورمیں ہمیں اس خاک پرکبھی اس محبوب علیہ اسلام کے قدموں کے نشان نظرآتے ہوں گے جوکبھی آگ میں کوداتوکبھی عزیزازجان نورنظرکے حلقوم پرچھری پھیردی کہ آسمانوں پرملائکہ بھی ششدررہ گئے اوریک زبان ہوکرپکاراٹھے کہ واقعی اس نے خلیل اللہ ہونے کاحق اداکردیااورپسراطاعت کی معراج کوجاپہنچااور۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور۔۔۔۔۔۔۔۔۔یہ کیاکہ وقت ہمیں چودہ صدیاں پیچھے لے گیایکدم ہماراشعوراسی خاک پراس عظیم ہستی ﷺ پرقربان،اوریوں طواف کرتے کرتے ہماری وارفتگی میں یکبارگی اضافہ ہوتاچلاجاتاہے کہ یکا یک یہ شعرحجاب بن کر نظروں کے سامنے آگیاکہ :
توبردن درچہ کردی کہ درون خانہ آئی
چوبطرف کعبہ رفتم بحرم اہم ندااند
جب میں کعبہ کے طواف کیلئیگیاتومجھے حرم میں داخل نہ ہونے دیاگیاکہاگیاکہ تونے حرم سے باہرتونافرمانی کی اب بیت اللہ کس منہ سے آیاہے؟
تب ہماری سانسیں تھم تھم جاتی ہیں،گردشِ ایام کے جائزے پراورتوبتہ النصوح کامفہوم آپ پرآشکارہوجاتاہے۔دوران سعی آپ کو اس خاکِ پاک پرسیدہ ہاجرہ صدیقہ کے قدموں کے نشان بھی نظرآناشروع ہوجاتے ہیں جونبی کی ماں اورنبی کی بیوی ہونے کے شرف سے مشرف تھیں اوربرسہابرس سے قافلے اس عظیم خاتون کے قدموں کے نشانوں پر دوڑرہے ہیں،کیساشرف ایک عورت کودیاہے اس دین نے کہ رب ذوالجلال نے اپنے محبوب ﷺکوبھی بی بی ہاجرہ کی سنت کی پیروی کرنے کاحکم دیا،کیامنظرہوگاجب رسول اللہ بھی اس مخصوص مقامات پراماں ہاجرہ پرتفاخرکرتے ہوئے تیزتیزبھاگ رہے ہوں گے!یقیناحضرت ام المومنین حضرت عائشہ بھی بی بی حاجرہ کی سنت کی ادائیگی کے مناظراورعظیم عورت کے عظیم کردارپراپنے رب سے مناجات میں رازونیازکرتی ہوں گی،جگرگوشہ رسولﷺ سیدہ فاطمہ بھی حضرت علی کرم اللہ وجہہ کاہاتھ تھامے رب کے حضورسرجھکائے اماں حاجرہ کے نقوشِ پائے کی نسبت پرتیزتیزچل رہی ہوں گی۔یقینایہ سب کارہائے عظیم کتابوں میں ہم درجنوں مرتبہ اکثر پڑھتے ہیں لیکن آج اپنی چشم ترسے ان کاجی بھرکرنظارہ کرتے ہوئے اپنے مقدرپررشک کرتے ہوئے اپنے خالق کے سامنے کئی مرتبہ جبیں سرنگوں ہوجاتی ہے۔
کعبہ سے غم ِجدائی کاعظیم بوجھ گریہ وزاری کرکے ہلکاکرنے کاوقت بڑاہی مشکل اورآزمائش کاہوتاہے۔طواف وداع کرتے ہوئے دل ملول ومغموم اوررنج وحزن میں غرق ہوجاتا ہے،کیوں نہ ہواب کچھ ہی دیرمیں کعبہ مشرفہ سے وداع جوہوناتھا۔جوں جوں گھڑی کی سوئیاں آگے جارہی ہوتی ہیں،مکہ کی روح پروراورایمان افروزتجلیات رودادِ ماضی بن جائیں گی اوردل ان اندیشوں اوروسوسوں سے لبریزہوجاتاہے کہ عمربھرتمناں میں بسنے والے مرکزہدایت اورقبلہ دل کی ساری دلنوازیاں،جلوتیں اوردلربائیاں اب صرف یادوں، خوابوں اورخیالوں کی جنت بننے والی ہیں۔بہرکیف فرقت ِیارکے غم میں آنکھیں نم،جذبات متلاطم، روح الحاح وزاری میں رقصاں،لب آہ وفغان میں لرزاں دیکھ کرروح کو دلاسہ دیا،بے شک وداع کی یہ دل فگارگھڑیاں اللہ کے چہیتوں پرشاق گزرتی ہیں،انہیں کوچہ جانان سے جدائی کاغم ماہی بے آب کی مانندتڑپاتاہے،ان کی ہچکیاں بندھ جاتی ہیں، اجازت ہوتوسینہ کوبی کوجی چاہتاہے،کیاپتہ اب کبھی یہاں دوبارہ سربسجدہ ہونے کاشرف ملے گا،کیامعلوم اللہ اپنے گھرکاطواف کرنے کاکوئی نیابلاوابھیجے گا،کون سی ضمانت ہے کہ کعبتہ اللہ،حجراسود،رکن یمانی،ملتزم،درِکعبہ،مقامِ ابراہیم،زمزم،صفاومروہ اور مقد ساتِ مکہ کے دیدارکاقرعہ فال ہمارے نام دوبارہ نکلے گابھی۔یہ خیال آتے ہی یہاں پل پل غنیمت لگتاہے،لمحے صدیوں میں بدل جاتے ہیں اورایک مرتبہ پھررب ِ کعبہ سے مانگنے،آہ وزاری کے ساتھ حاجت روائی،وطن عزیزپاکستان میں قرآن کی حکمرانی،گناہوں سے بخشش اورعفو ودرگزر والدین اوردوسرے مرحومین کیلئے گڑاگراکرمغفرت کی دعائیں،اپنوں اورغیروں کی بھلائی کیلئے دعائے خیر،طبیبِ ازلی سے ہرمریض کیلئے اورہرمرض سے شفا یابی،قرضوں کی ادائیگی کیلئے غیبی مدد،بے روزگاری کی ذِلت سے نجات،عذابِ جہنم سے خلاصی،جنت کے انعامات وعطا،بیٹیوں کے موزوں بر،مناسب جوڑطلب اوران کے بہترنصیب،فتنہ ہائے زمانہ میں ایمان وامان کی عافیت،مسجداقصی کی فریاد،غزہ اورمقبوضہ کشمیرکے شہداکی مناجات، ملت کی آبرومندی کی بھیک،پوری انسانیت کی بھلائی،باربار حرمین کی زیارت سے حصولِ فیوضات وبرکات کی اشک باردعاؤں کی درخواستیں اورالتجائیں پیش کرتے ہوئے ساراجسم کپکپارہاہوتاہے۔
دنیاوآخرت میں بہترمعا ملے کیلئے اپنی تردامنی پرندامت کے اشک بہاکروحدہ ولاشریک سے سر گوشی کرنے کاوقت آن پہنچتا ہے:اے ربِ ارض وسما!کعبہ مطہرہ تمہاراگھرانہ، تیرے خلیل کانذرانہ،تیرے حبیب ﷺ کیلئے وجہ قرار،یہ تمہاری شانِ کریمی کہ تمام اہل ایمان بیت اللہ کے وارثین بنادئے ہیں،میں حقیروناکارہ،خطاونسیاں،گناہ وبرائی کامجموعہ، لیکن ہوں توتیراہی بندہ،میری توبہ قبول کرلے،اب سے میرے ایمان وکردارکوایسالعل وگوہربنادے کہ بیت اللہ کے ورثامیں میرابھی نام جڑجائے،میں عمربھر کعبے کی طرف رخ کر کے جیوں،اسی کی جانب رخ کرکے مروں۔اے رحیم وکریم ورحمن اللہ!اپنے اس گھرکومیرے قلب وجگر کے نہاں خانے میں ایسے بسادے کہ کبھی اس سے جدائی کاکھٹکالگے نہ دوری مسافت کی دیوارحائل رہے،میرے اعمال سے ہمیشہ غلافِ کعبہ کی زینتیں اورملتزم وسنگ ِاسود کی عظمتیں جھلکیں۔آمین یارب العالمین!
لگتاتھاکہ کعبہ شریف کے گردجسم نہیں روح بھی چکرلگارہی تھی،اللہ سے پیاراس قدرامڈرہاتھاکہ ساحلوں اورکناروں کے بند ٹوٹ رہے تھے۔طواف سے فارغ ہوئے توملتزم کے سامنے اللہ کے حضوردست بدعاہوگیا،حجراسودکوآنکھوں آنکھوں میں چوما، یادآیاکہ رسولِ کائناتﷺ نے جنت کے اس پتھرکوبوسہ دیتے ہوئے حضرت عمررضی اللہ عنہ سے فرمایا تھاکہ یہ جگہ آنسو بہانے کیلئے ہے۔یہاں جوبھی اپنی نافرمانیوں اورروگردانیوں پہ بلک بلک کرروئے،اس کے گناہوں کے داغ دھبے یکسردھل جائیں گے۔ حجراسودسے گزرکر رکن یمانی کی زیارت سے حریم قلب آسودہ کیا،حطیم سے تھوڑاسالپٹ گئے،میزابِ رحمت پر نظریں مرکوز کیں،غلافِ کعبہ کی کشش وجاذبیت میں کھوگئے۔دعاومناجات سے فارغ ہوئے توزمزم کے جام ِ شریں سے روح کی پیاس بجھائی ۔ یہ پانی اللہ کاعطیہ اورحضرت ذبیح اللہ کاصدقہ ہے،اس کے گھونٹ گھونٹ میں پینے والے کیلئے علم ِنافع،رزق ِواسع اور شفائے امراض کی ضمانت پنہاں ہے۔
اذانِ مغرب ہوئی تودل میں ہوک سی اٹھی کہ یہ کعبہ مشرفہ میں فی الوقت آخری نمازہے،بس کچھ ہی پل بچے ہیں،کچھ گنی چنی سانسیں اس خلدبریں میں لیناباقی ہیں۔بیت اللہ کاصحن ِمبارک جہاں سعیدروح انسانوں کے اژدھام سے ہمہ وقت بھرارہتاہے، وہاں اللہ کے سترہزارفرشتوں کاہمیشہ ہجوم اکھٹاہوتاہے۔خودہی سوچئے برکت ورحمت کے اس منبع ومرکز اورسرکاردوعالم ﷺ کے مولدومسکن سے جب مفارقت کالمحہ قریب آجائے تودل کاکیاحال ہوگا۔بہرحال نمازمغرب کے فرض سے فارغ ہوتے ہی ہم نے طواف ِ وداع کافریضہ انجام دیا۔اللہ کالاکھ لاکھ شکرکہ ساتوں اشواط میں تھوڑاہی وقت صرف ہواکیونکہ کعبہ کے بالکل قریب ہی یہ سعادت پائی۔خوش قسمتی سے سنتیں اداکرنے کیلئے مقام ِابراہیم سے بہت کم فاصلے پرمصلٰی ملا،سنتیں اداکیں،دعاکیلئے ہاتھ اٹھے ضرورمگریکایک روح کی زبان گنگ ہوگئی کہ کعبے سے رخصتی پرافسردہ خاطرتھا،جگرنوحہ کناں تھامگرمدینہ منورہ روانہ ہونے کی مسرت سے شادی مرگ ہونے کااندیشہ بھی بڑھ رہاتھا۔ان کیفیات کی رومیں بہہ کراللہ سے کس منہ سے کہتاکہ الہی!اِدھرکاقیام بڑھادے یاجلدازجلدگنبدِ خضراپہنچادے۔بے شک اللہ رحمن ورحیم کاہم پریہ خاص لطف وکرم تھاکہ اس ذاتِ اقدس ﷺ کے بقعہ نور،پناہ گاہِ مہاجرین اورشہرانصارکی خوشبوں سے مشام ِجان معطرومسحورہونے کازریں موقع ہمیں نصیب ہوا۔خیر کعبہ پرپہلی نظرپڑتے وقت اورپھررخصت لینے کی گھڑی پربصدجان ودل اللہ سے لبوں پردعامچلنے لگتی ہے:بارالہا!مجھے اورمیرے اہل وعیال کواپنے گھراوراپنے محبوبِ کبریاﷺکے شہرشریں میں باربارولگاتاربلانا۔دعاؤں کووردِلب کرتے ہوئے اور نیک خواہشات اورتمناں کانخلستان دل میں سجاتے ہوئے کعبہ شریف پرحسرت بھری نگاہیں مکرر،سہ کررڈالیں اوربوجھل قدموں سے مطاف چھوڑدیا،کئی بارپلٹ کردیکھاتوایسے لگاجیسے کعبہ مہربان رخصت کرتے ہوئے کہہ رہاتھا:میری حیات بخش تجلیات و انوارات ایمانِ قوی،اعمالِ صالح ، خوفِ خدا،جوابدہی آخرت کی نہ ختم ہونے والی عظیم پونجی ہیں،جوبھی اس پونجی سے توحید وسنت کے بازارسے زندگی کاسوداسلف لائے،وہی لاریب زائرالحرمین کہلانے کے لائق ہے،دنیاکی بھلائی اورآخرت کے عزوشرف کابھی وہی حق دار ہے۔
کتاب ِ ہستی کے سرورق پرجونام احمدﷺ رقم نہ ہوتا
تونقش ِہستی ابھرنہ سکتا،وجودِ لوح وقلم نہ ہوتا
اب دل وجاں اورروح تک ایک عجیب سی خوشی سے سرشاراوربے چین ہے کہ آنکھیں بندکرکے کھولوں توسامنے گنبدِ خضرا ہو،جس کیلئے آقائے نامدارﷺکے شہرکی طرف رخصت سفرشروع کیاتواچانک میرے آقاﷺکے فرامین یادآگئے کہ آپ نے فرمایا: تم میں سے جس شخص کومدینہ میں موت آسکتی ہو،اسے چاہیے کہ وہ یہ سعادت حاصل کرے، چونکہ یہاں مر نے والوں کی گواہی میں دوں گا۔(سنن ابن ماجہ)
بہشت ِمدینہ کی عظمت وسطوت ناپنے کا کوئی پیمانہ ہی نہیں مگراس مقدس شہرکی برتری وبالا دستی کا ایک اہم اشارہ یہ بھی ہے کہ خلیفہ ثانی حضرت عمرفاروق دعاکیاکرتے:اے اللہ! مجھے اپنے راستے میں شہادت عطاکراوراپنے رسول کے شہر میں موت عطاکر(صحیح بخاری)
اس پرشوق سفرکاپنچھی دل کی کتاب لئے بیٹھایہ سوچنے لگاکہ یہ دعا مانگنے والی ہستی تاریخ اسلام کی ماتھے کاجھومرتھی، وہ جن کی آر ااورمشوروں کی بارگاہ ِالہیہ میں اتنی پذیرائی ہوتی کہ وحی بن کراللہ کے رسول پرنازل کی جاتی،وہ فاروق اعظم رضی ا للہ تعالی عنہ جس کی تعریفوں میں دوست تودوست دشمن بھی رطب اللسان ہیں۔یہ خاص دعامانگ کراس فنافی الرسول شخصیت نے ہمیں جینے میں ہی نہیں بلکہ مرنے میں بھی ہمسائیگی رسول اختیارکرنے کی آرزوسکھادی۔آپ بالمعنی فرماتے ہیں اپنے نصیبے سے جوبہشت مدینہ میں داعی اجل کو لبیک کہے،سمجھواس کابیڑہ پارہوگیا۔امیرالمومنین کی یہ دعااللہ کی بارگاہ میں یک بارقبول ہوگئی!
حبِ نبیﷺ کے نادرنمونے ہمیں صحابہ کی پاک زندگیوں میں کہاں نہیں ملتے؟ایک برگزیدہ صحابی حضرت ثوبان رضی ا للہ تعالی عنہ کے بارے میں آتاہے کہ آپ اکثربیماررہنے لگے،طبیعت کی ناسازی روزبروزبڑھتی چلی گئی۔صحابہ کباربیمارپرسی کرتے تویہ اپنے دل کاحال ان قدسی صفات پربھی ظاہرنہ کرتے،شکریہ کر کے بات ٹال دیتے۔آخرپیغمبردو جہاں ﷺ نے پوچھاتوصاف صاف عرض کی:یارسول اللہ ﷺ!ایک خیال دل میں آتے ہی طبیعت خراب ہوجاتی ہے۔سروردوعالم ﷺنے پوچھا:کیاخیال آتاہے؟عرض کی:اے اللہ کے رسول ﷺ!اب زندگی میں جب تک آپﷺ کادیدارنہ ہوچین نہیں آتا۔ سوچتاہوں مرنے کے بعدکیاہوگا؟اگراللہ نے اپنے فضل عنایت سے مجھے جنت عطا بھی کی تب بھی معلوم نہیں آپ ﷺ کہاں ہوں گے اورمیں آپ ﷺ کے روئے نازنین کی زیارت کئے بغیرجنت میں کیوںکرتسکین وطمانیت پاؤں گا؟معلوم ہی نہیں وہاں آپ ﷺ کے چہرہ انورکادیدارکرنے کیلئے مجھے کیاکیاپاپڑبیلنے پڑیں گے۔حضورپرنورﷺنے فرمایا:ثوبان!تم جس سے محبت کرتے ہواسی کے ساتھ رہوگے۔پھرآپ ﷺ نے قرآن کریم کی وہ آیت تلاوت فرمائی جواسی موقع پرعرش ِمعلی سے نازل ہوئی:جواللہ اوراس کے رسولﷺ کی اطاعت کر تے ہیں وہ ان لوگوں کے ساتھ ہی رہیں گے جنہیں اللہ تعالی نے نعمتوں سے نوازاہوگا ۔
یہ توصحابہ کبارکے عشق رسول ﷺ کے احوال وکوائف تھے۔اولیائے کاملین نے کامل اتباعِ سنت کرکے اپنے بیدادعشقِ رسول ﷺ کی لاج رکھی۔حضرت بایزید بسطامی نے ایک مرتبہ بڑے اشتیاق سے خربوزہ منگوایالیکن اس خیال سے کہ پہلے یہ معلوم کرناچاہیے کہ آپ ﷺ خربوزہ کیسے تناول فرماتے تھے،پتہ چلاکہ رحمت عالم ﷺ نے کبھی خربوزہ تناول فرمایاہی نہیں۔ بایزید بسطامی نے خربوزہ کھانے سے ہی انکارکردیا۔
عاشقی صبرطلب اورتمنابے تاب
دل کاکیا رنگ کروں خون ِجگرہونے تک
جونہی گنبدِخضراپرپہلی نظرپڑی تویقینادل کوتھامنابہت ہی مشکل ہوگیاکہ محسن انسانیت ﷺکے درپرحاضری،اپنی قسمت پررشک آنے لگاکہ ایسی عظیم الشان شخصیت جس پرخوداللہ اوراس کے ملائکہ کثرت سے درودپڑھتے ہیں اوراہل ایمان کوبھی حکم دیاگیاکہ وہ بھی کثرت سے درودپڑھتے رہاکریں۔ایسی فخرکائنات ہستی جس کے بارے میں غیرمسلم بھی کچھ اس طرح رطب اللسان ہیں:
٭مغربی مصنف مائیکل ہارٹ نے اپنی مشہورِزمانہ کتاب میں دنیاکے ان سوعظیم ترین آدمیوں کاذکرکیاہے جنہوں نے دنیا کی تشکیل میں بڑاکرداراداکیا۔اس نے حضورﷺکوسب سے پہلے شمارپررکھاہے۔مصنف ایک عیسائی ہوکربھی اپنے دلائل سے یہ ثابت کرتاہے کہ حضرت محمدﷺ پورے نسل انسانی میں سیدالبشرکہنے کے لائق ہیں۔
٭تھامس کارلائیل نے1840کے مشہوردروس میں کہاکہ میں محمد(ﷺ)سے محبت کرتاہوں اوریقین رکھتاہوں کہ ان کی طبیعت میں نام ونموداورریاکا شائبہ تک نہ تھا۔ہم انہی صفات کے بدلے میں آپ کی خدمت میں ہدیہ اخلاص پیش کرتے ہیں ۔
٭فرانس کاشہنشاہ نپولین بوناپارٹ کہتاہے محمددراصل سروراعظم تھے،15سال کے قلیل عرصے میں لوگوں کی کثیرتعدادنے جھوٹے دیوتاں کی پرستش سے توبہ کرڈالی۔مٹی کی بنی دیویاں مٹی میں ملا دی گئیں،یہ حیرت انگیزکارنامہ تھاآنحضرت کی تعلیم کا۔
٭جارج برنارڈشالکھتاہے: موجودہ انسانی مصائب سے نجات ملنے کی واحدصورت یہی ہے کہ محمد (ﷺ)اس دنیا کے رہنمابنیں ۔
٭گاندھی لکھتاہے کہ بانی اسلام نے اعلی اخلاق کی تعلیم دی جس نے انسان کوسچائی کاراستہ دکھایااوربرابری کی تعلیم دی،میں اسلام کاجتنامطالعہ کرتاہوں اتنامجھے یقین راسخ ہوجاتاہے کہ یہ مذہب تلوارسے نہیں پھیلا ۔
٭جرمنی کامشہورادیب شاعراورڈرامہ نگارگوئٹے حضور(ﷺ)کامداح اورعاشق تھا،اپنی تخلیق دیوانِ مغربی میں گوئٹے نے حضور اقدس کی بارگاہ میں جگہ جگہ عشق محمد(ﷺ)کااظہارکیاہے اوران کے قدموں میں عقیدت کے پھول نچھاورکئے ہیں ۔
٭فرانس کے محقق ڈی لمرٹائن نے اپنی کتاب تاریخِ ترکی میں انسانی عظمت کیلئیجومعیارقائم کیااس ضمن میں فاضل تاریخ دان لکھتاہے:اگرانسانی عظمت کوناپنے کے لئے تین شرائط اہم ہیں جن میں(1)مقصدکی بلندی،(2) وسائل کی کمی(3)حیرت انگیر نتائج،تواس معیارپرجدیدتاریخ کی کون سی شخصیت محمدﷺ سے ہمسری کادعوی کرسکتی ہے ۔
٭فرانسیسی مصنف دی لمرتین لکھتاہے: فلسفی،مبلغ،پیغمبر،قانون ساز،سپہ سالار،ذہنو ں کافاتح،دانائی کے عقائدبرپاکرنے والا ، بت پرستی سے پاک معاشرہ تشکیل دینے والا،بیسیوں ریاستوں کوایک روحانی سلطنت میں متحد کرنے والا….وہ محمد ﷺہیں …. جہاں تک انسانی عظمت کے معیارکاتعلق ہے ہم پوچھ سکتے ہیں کہ ان معیاروں پرپورااترنے والامحمدﷺسے بھی کوئی برترہو سکتاہے؟
٭ڈاکٹرشیلے پیغمبرآخرالزماں کی ابدیت اورلاثانیت کااقرارکرتے ہوئے لکھتے ہیں محمدﷺ گزشتہ اورموجودہ لوگوں میں سب سے اکمل اورافضل تھے اورآئندہ ان کامثال پیدا ہونا
محال اورقطعاغیرممکن ہے۔
مدینہ کے شمال میں واقع پہاڑجبل احدکے پاس اس مقام پرحاضری دینے کی جب سعادت ملی توساراتاریخی جنگی منظرآنکھوں کے سامنے آگیاجہاں عاشقان رسول ﷺاپنے آقا کے گردگھیراڈالے پروانوں کی طرح آنے والے تیروں،بھالوں اورزہرآلودتلواروں کے واراپنے سینوں پرروک رہے ہیں کہ میرے آقاکے دندان مبارک اس قدرزخمی ہوگئے کہ منہ مبارک خون سے بھرگیااورایک روایت کے مطابق سیدناجبریل علیہ السلام نے اس خونِ مبارک کوزمین پرگرنے سے پہلے اپنے پروں میں محفوظ کرلیاکہ اگریہ خون زمین پر گر جاتا تویہ زمین مارے ندامت کے بانجھ ہوجاتی۔آج اسی میدان میں کے سامنے کھڑاہوں جہاں نبی کریم ﷺ کے پیارے چچاحضرت حمزہ دفن ہیں۔حضرت حمزہ جنگ احدمیں 70صحابہ کے ہمراہ شہید ہوگئے تھے،اورکفارنے ان کی لاش کی بے حرمتی کی تھی۔رسول کریمﷺ کواپنے اس ہم عمرچچاسے بڑی محبت تھی۔یہی وجہ ہے کہ ان کے شہیدلاشے کودیکھ کرفرطِ غم سے آپ پھوٹ پھوٹ کررودیئے اورجب تک اس دنیامیں قیام فرمایاآپ ﷺ ہربدھ کوشہدئے احدکے مزار پرجاکرفاتحہ کہتے تھے!
زائرالحرمین اگراپنے دل وجاں اورروح کی طرف متوجہ ہوں تواس سفر حجازکاایک پیام ضرورسنائی دیتاہے وہ اک پیام جو مسجد حرام نے بھی رخصت ہوتے ہوئے دیاتھااورمسجدنبوی ﷺسے بھی وہی صداموصول ہورہی ہے جوعرفات کے میدان میں بھی آرہی تھی اورمنی کی قربان گاہ میں بھی،جوزم زم کے قطروں نے بھی ہم سے سر گوشی میں کی ہے اور خاکِ حرم کے ذروں نے بھی آپ کے قدموں سے لپٹ کرکی ہے اوروہ صداتھی،بس ایک صدا،کیسی صداکہ’’کونوانصاراللہ ‘‘جب دنیاظلم سے بھرگئی توکیاتم اپنے حصے کا کام کرنے نہ اٹھو گے!راستہ بھی موجودہے اوراس کی دی ہوئی ٹانگیں بھی موجودہیں اوراس راستے پر چلنے کاقرض بھی موجودہے۔مالک نے جو زمین حوالے کی،مزارع نے اس پرہل نہ چلایااور زمین زہرآلودجھاڑیوں اورکا نٹوں سے بھرگئی۔سفرحجازنے یہی توکہاہے آپ سے کہ جیسے یہاں کے ہرچپے پراللہ کی بڑائی اوراس کاذکرہے اللہ کی ساری کائنات یونہی اس کی بڑائی چاہتی ہے۔معرکہ بدراورواقعہ کربلاآج بھی بپاہے۔ہم نے کبھی سوچاکہ مملکت خدادادپاکستان27رمضان کی مبارک ساعتوں میں کیوں معرضِ وجودمیں لایاگیا،ایسی رات جوہزارمہینوں سے بہتراورافضل ہے؟ہم نے اس کے حصول کیلئے بیش بہاجانوں کانذرانہ پیش کیا،صدی کی سب سے بڑی انسانی ہجرت میں لاکھوں خاندان ایک دوسرے سے بچھڑگئے اوراپنوں کے فراق میں قبروں کارزق بن گئے۔ہم نے اپنے رب سے یہ وعدہ کیاتھاکہ ہم اس ارضِ وطن میں قرآن کی حاکمیت قائم کریں گے۔پچھلی سات دہائیوں سے ایفائے عہدکی تکمیل کرنے سے قاصرہیں۔ماسوائے ایک جماعت، کسی بھی سیاسی جماعت نے اپنے منشورمیں نہ توقرآن کی حاکمیت کے نفاذ کاذکرکیاہے اورنہ ہی بدقسمتی سے مجبور مقہورکشمیرکا کہیں تذکرہ ہے۔ہرسال ہم سے لیلتہ القدرکابرملاسوال ہوتاہے کہ ہمارے اندرکتناعزم ہے اس دین کے نفاذکی سختیاں جھیلنے کا۔۔۔۔۔۔۔۔!
سفرحجازکی یادیں ہم سے سوال کرتی ہیں کہ آج رب کعبہ کے بندوں کوبندوں کی غلامی سے نکال کرخالقِ کائنات کی غلامی میںواپس لانے کیلئے اپنا کردارکب اداکروگے؟
کچھ بھی تو نہیں رہے گا ، کچھ بھی تو نہیں بس نام رہے گا اللہ کا!

 

Comments are closed.