کابل اسکول پرحملہ انسانیت پرحملہ ہے

عبدالرافع رسول
2001 میںافغانستان پرامریکی جارحیت کے بعدگذشتہ 20برسوں کے دوران نیٹوکے بشمول اپنے ہزاروں فوجی اہلکاروں کی ہلاکت اورہزاروں کے اپاہچ بنانے ، کھربوں ڈالرپھونکنے اورنتیجہ صفر،ہرلحاظ سے اورہرسطح پرہزیمت پرہزیمت اٹھانے کے بعد بالآخرامریکہ طالبان کے ساتھ براہ راست مذاکرات کے بعد افغانستان سے کوچ کرکے واپس جارہاہے اور11ستمبر2021تک وہ افغانستان سے مکمل طورپر انخلاء کرے گا ۔ لیکن سوال یہ ہے کہ خطے میںفسادی طینت اورفتنہ پرورذہنیت کاحامل بھارت جس نے افغانستان کی سرزمین پردہشت گردی کاایک بہت بڑانیٹ ورک ترتیب دیاہے اوردہشت گردوں کی پرورش کررہاہے کیاوہ امریکہ کوسرزمین افغانستان سے واپس جانے دے گا؟۔وہ اس امرکوخوب سمجھتا ہے کہ ’’امریکہ یہاں سے جائے گاتوبھارت کاکیابنے گاکالیا‘‘اس لئے وہ افغانستان میںایسے کاربم دھماکے کروارہاہے ۔بھارت چاہتاہے کہ یہ دھماکے اوران کے نتیجے میں ہوئے جانی ومالی نقصان طالبان کے کھاتے میں پڑے تاکہ امریکہ افغانستان واپس چلے جانے کے اپنے فیصلے پرنظرثانی کرنے پرمجبورہو۔اپنے ناپاک منصوبے کی تکمیل کے لئے 8مئی 2021ہفتے کوکابل کے ایک سکول کے باہراس وقت ایک خوفناک کاربم دھماکہ ہوا کہ جب بچیاں سکول سے چھٹی پرجارہی تھیں۔ کاربم دھماکے میں60سے زائد بچیاں جاںبحق جبکہ بیسیوں زخمی ہوئیں۔واضح طورپریہ بھارت کی بدنام زمانہ جاسوسی ادارے ’’RA‘‘کی کارستانی ہے ۔واضح رہے کہ طالبان نے فوراََسے پیشتر اس حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہاکہ وہ ایسے حملے نہیں کرتی جہاں سویلین ہدف ہوں۔
بھارت چاہتاہے کہ امریکہ افغانستان میں الجھتاہی رہے تاکہ افغانستان میں اس کے مفادات پرضرب نہ پڑسکے ۔بھارت افغانستان میں اپنے مفادات کوتحفظ دینے کے لئے افغانستان کی سیاست پر اثر انداز ہونے کی ناکام ونامرادکوشش کررہاہے۔بھارت شرمناک طرزعمل اختیار کر کے اشرف غنی کو پاکستان کے ساتھ مخاصمانہ رویہ رکھنے پرمسلسل اکسارہاہے ۔یہی وجہ ہے کہ جب بھی پاکستان اخوت اسلامی کے جملہ تقاضوں کوبروئے کارلاکرافغانستان سے تعلقات کی بحالی کی تگ ودوکررہاہے توبھارت اس راہ میں روڑے اٹکاتاہے ۔پاکستان امریکہ کو متنبہہ کرتارہاہے کہ بھا رت اس خطے میں فساد چاہتاہے ۔پاکستان امریکہ کوبلیغ اندازمیں باور کرچکاہے کہ بھارت نہیں چاہتاکہ افغانستان میں عمل قائم ہو۔لیکن امریکی شائد ابھی تک بھارتی شروفساد کوسمجھ نہیں پارہے ۔
پاکستان اور افغانستان دو برادر ہمسایہ مسلمان ممالک ہیں جو مذہبی، تاریخی اور جغرافیائی لحاظ سے جڑے ہوئے ہیں، ان کے نسلی تانے بانے بھی آپس میں ملتے ہیں اور لسانی مماثلت بھی موجود ہے ۔انہی رشتوں ناطوں کے تقاضوں پرپورااترتے ہوئے افغانستان پرسوویت یونین کی جارحیت کے بعدپاکستان 30 لاکھ سے زائد افغان پناہ گزینوں کاذمہ داری کے ساتھ میزبانی کرتارہا۔اِن تمام رشتوں ناطوں کے باوجود یہ دونوں اپنی جداگانہ حیثیت رکھتے ہیں اور الگ الگ اکائی کے طور پر موجود ہیں ۔ افغانستان اور پاکستان کے مابین سرحد تقریبا ڈھائی ہزار کلومیٹر طویل ہے جو دونوں ممالک کی کسی دوسرے ملک سے طویل ترین سرحد ہے یعنی نہ تو افغانستان کی کسی اور پڑوسی ملک کے ساتھ اتنی طویل سرحد ہے اور نہ پاکستان کی۔ دونوں برادرمسلم ممالک بڑی گہرائی سے اسلام کے پیرو کار ہیں یوں دونوں کے آپس میں مثالی تعلقات ہونے چاہیے تھے لیکن افسوس2001کے بعد ایسا نہیں ہونے نہیں دیاگیااوراس میں بھارت کی چانکیہ سیاست کارفرماہے۔
2001 میںافغانستان پرامریکی جارحیت کے بعد پہلی بار امریکی اور نیٹو افواج کے شیلٹر میں بھارت کو افغانستان میں زمینی طور پر موجود رہنے کا موقع ملا۔اور پہلی بار بھارت نے اپنی پالیسی محتاط اور گریز کی پالیسی کے بجائے مواقع کی تخلیق اور افغانستان میں اس وقت پشت پر کھڑے امریکہ اور پورے مغرب کی موجودگی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے، خطے میں اثرو نفوذ حاصل کرنے،سکیورٹی معاملات میں مداخلت، اور جیو پالیٹکس میں فعال ہونے جیسے خطوط پر مرتب کرنے کی کوشش کی۔اس کوشش میں سب سے اول مقصدیہ تھاکہ امریکی آشیربادکے ساتھ بھارت افغانستان میں قدم جمائے اورخود کو قائم ودائم رکھے۔اس حوالے سے بھارتی چانکیہ پالیسی سازوں نے افغانستان میں انفرااسٹرکچرکی بحالی کے نام پراپنے عمل دخل کاآغازکیا۔دہلی نے افغانستان میں انفرا اسٹرکچر کی بحالی، بڑے معاشی منصوبے، سماجی سطح پر استعداد کار بڑھانے، مواصلات کے شعبہ میں سرمایہ کاری، بھارتی سٹیل اتھارٹی کی طرف سے ایک کنسوریشم کا قیام، بجلی گھروں کی تعمیر کے علاوہ افغان پولیس اور سکیورٹی فورسز کی تربیت اور تعاون کو بھی اپنی پالیسی کا حصہ بنایا ہے۔ جن کے ذریعہ بھارت نے افغان اشرافیہ سے ایک بہتر تعلق پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔
بھارت افغانستان میں اپنی موجودگی سے کئی مقاصدحاصل کرنے کی کوششیں کررہاہے جن میں سے اولاََیہ کہ وہ پاکستان کوباورکرناچاہتاہے کہ بھارت ہی اس خطے کی ایک برتر طاقت ہے۔ثانیاوہ عالمی طاقتوں کے روبرو اپنا ایک مخصوص مقام چاہتا ہے جو جیو پالٹکس میں اسے ایک کردار دلوا سکے۔ثالثاََ خطے کے ہمسایہ ممالک وسط ایشیااور بحرہ ہند کی پٹی پر واقع ممالک سے تعلقات میں ایک توازن چاہتا ہے۔بھارت کے چانکیہ پالیسی سازوں نے افغان پالیسی میں جو اہداف مقرر کئے گئے تھے انکے پیراڈکسز اپنے تزو یراتی مقاصد کا حصول، عالمی سیاست میں ایک ترقی پسند اور پر امن ملک کے تاثر کا قیام اور سب سے اہم پاکستان کے افغانستان پر اثر رسوخ کو غیر فعال حد تک محدود کر نا تھا۔اس میں کوئی دورائے نہیں کہ معاشی اور کچھ سیاسی کامیابیوں کے ساتھ افغانستان میں اپنی زمینی موجودگی حاصل کر لینے کے بعد پاکستان مخالف پروپیگنڈا ،اورپاکستان میں تخریب کاری کرانے کے بیس قائم کرنے میں تو بھارت نے ضرور کامیابی حاصل کی ہے۔ لیکن یہ بھی ایک واضح حقیقت ہے کہ آج تک بھارت کو عالمی افغان پالیسی کے حوالے سے کسی بھی بیٹھک کا حصہ نہیں بنا یا گیا اور نہ ہی کسی فیصلہ سازی کا بھارت حصہ بن سکا۔جبکہ خطے کے دواہم ممالک چین اورروس نے بھی بھارت کی کوششوں کوابھی تک تسلیم نہیں کیا۔بھارت شنگھائی تنظیم کارکن ہے جبکہ شنگھائی تعاون تنظیم کی باگ وڈورپر چائنہ کے ہاتھ میںہے، اس وقت بھارت چائنہ کے ساتھ سخت سرحدی کشیدگی پیدا کر چکا ہے توایسے میں بھارت کے لئے خطے میں اپنی نمبرداری، تزویراتی مفاد اور تحفظ کی یقین دہانی اور امریکی مفاد کے تحفظ کے لئے اپنی دستیابی اور پاکستان پر کسی طرح کا دبائو ڈالنے کو یقینی بنانا کس قدر آسان ہو گا؟ ایک اہم سوا ل ہے۔ اس سوال کامسکت جواب یہ ہے کہ کوشش بسیارکے باوجود بھارت کو ٹھوس تزویراتی کامیابی نہیں مل سکی۔کئی محاذوں پر بھارتی تخمینے نا کام ثابت ہوئے۔اسکے اہداف دھرے کے دھرے رہ گئے نہ تو طالبان کو خاموش کروایا جا سکا نہ ہی پاکستان کی ایک فعال مداخلت کے رول کے آگے بند با ندھا جا سکا۔
حقائق کے پیش نظر بھارت کے عالمی عزائم کی راہ میں جو بڑی رکاوٹیں ہیں ان کا تعلق اسکے ہمسایہ ممالک بالخصوص پاکستان کے ساتھ چلی آرہی مسلسل دشمنی ،کشمیریوں پرزہرناک مظالم ڈھانے،کئی بھارتی ریاستوں میںدرجنوں علیحدگی پسند مسلح تنظیموں کی سرگرمیوں،اقلیتوں پرقیامتیں ڈھانے جیسے اندرونی بحرانوں اور نمو پاتی معیشت کے باوجود خوفناک غربت نے بھارت کے عالمی منظر نامے پر بری طرح ناکام کیا ہے۔اس صورتحال میں بھارت کا عالمی منظر نامے میں کوکردار ادا کرنا ،ناممکن ہو چکا ہے۔اس پرمستزادیہ کہ افغانستان کے حوالے سے اسکی ساری کوششوں کے بعد بھی جو عنصر اسکے حدف کے حصول میں رکاوٹ بنا ہواہے وہ افغانستان میں طالبان کابڑھتاہوااثرونفوذہے جو کسی طور سے بھی بھارتی فساد کے حق میں نہیں ہے۔افغانستان جس کے اندر طالبان جن کے دل میں بھارت کے لئے کونرم گوشہ نہیں ہے ایک بار پھر اپنا وجود ایک سخت ردعمل کے ساتھ ثابت کر رہے ہیں ،جس کے نتیجے میں امریکہ کو یہ اعلانات کرناپڑرہے ہیں کہ طالبان کے ساتھ براہ راست مذاکرات کے سواکوئی چارہ باقی نہیں بچاہے۔

Comments are closed.