طالبان قدم بہ قدم
عبدالرافع رسول
افغانستان میں طالبان نے اب تک افغانستان کے 34 صوبوں میں سے 20 صوبوں کے ہیڈ کوارٹرز کے گرد گھیرا تنگ کر لیا ہے اورعنقریب وہ ان صوبوں کامکمل کنٹرول حاصل کرلیں گے۔طالبان کے قبضے میں آنے والے اکثر علاقوں کی سٹریٹیجک اہمیت اس لیے زیادہ ہے کیونکہ وہ ان اہم شہراہوں پر واقع ہیں جو کابل کو افغانستان کے شمالی، جنوبی اور مغربی علاقوں سے جوڑتی ہیں۔طالبان کی جانب سے یکم مئی2021 کو غیر ملکی قابض فواج کے انخلا ء کے اعلان کے بعد سے متعدد صوبوں کی جانب پیش قدمی جاری ہے۔اکثر شہر جن کا طالبان نے محاصرہ کیا ہے وہ ملک کے شمال میں واقع ہیں جہاں افغانستان کی سرحدیں اپنے وسط ایشیائی ہمسایوں کے ساتھ ملتی ہیں۔طالبان نے گذشتہ چند ہفتوں کے دوران ملک کے جنوب اور مشرق میں واقع اہم شہروں کے گرد اپنے آپریشنز کا دائرہ وسیع کر دیا ہے اور اب وہ افغان دارالحکومت کابل کے قریب پہنچ رہے ہیں اورانہوں نے کابل کے گرد بھی حصارتنگ کر دیا ہے۔ افغانستان میں طالبان نے جن صوبوں پرفتح حاصل کی ہے یافتح حاصل کرنے کے عین قریب ہیں ان کااجمالی جائزہ یوں ہے ۔صوبہ پروان کا چاریکارعلاقہ جسکی ایک سٹریٹیجک اہمیت رکھنے والی وادی غوربند کوطالبان نے فتح کر لیا ہے جس سے صوبے پران کے لئے پوراکنٹرول حاصل کرنا ان کے لئے آسان بن گیاہے۔ دارالحکومت کابل اور بگرام ہوائی اڈہ جسے حال ہی میں امریکی قابض فورسز نے خالی کیا تھا، بھی طالبان کی دسترس سے زیادہ دور نہیں کیونکہ وہ وادی غوربندسے محض60 کلومیٹر کی دوری پر واقع ہے۔صوبہ پروان کو بامیان صوبے تک جوڑنے والی موٹروے بھی اسی وادی سے ہو کر گزرتی ہے۔جبکہ 11 جولائی2021 کو طالبان نے صوبہ بامیان کے ضلع کھمرد کو قبضہ میں لے لیا ہے جو اس صوبے میں طالبان کے قبضے میں آنے والا پہلا ضلع ہے۔
صوبہ قندھار طالبان کی جائے پیدائش کہلاتاہے۔ 1996 میںوہ یہیں سے اٹھے اورپھرپورے افغانستان پرچھاگئے ۔ جنوبی صوبے قندھار کے بعض اضلاع پر طالبان پہلے ہی فتح حاصل کر چکے ہیں جبکہ ملک کے دس بڑے شہروں میں سے کم از کم تین شہروں قندھار، ہرات اور غزنی کے گرد طالبان نے گھیرا تنگ کر لیا ہے۔صوبہ قندھار میں ضلع شورابک، ارغستان، میوند، خاکریز، پنجوائی، معروف، شاہ ولی کوٹ اور گھورک کے بعد اب صوبائی دارالحکومت قندھار شہر کے اردگرد بھی طالبان نے محاصرہ کرلیاہے ۔طالبان سپین بولدک، چمن سرحدی کراسنگ جو قندھار کو پاکستان کے صوبہ بلوچستان سے ملاتی ہے اس مقام پر بھی طالبان فتح حاصل کر چکے ہیں۔ پاکستان کے ساتھ سرحد پر جسے افغان ڈیورنڈ لائن کہتے ہیں،سپن بولدک جنوبی افغانستان کا سب سے بڑا تجارتی مرکز ہے اور یہ کابل، ہرات اور کوئٹہ پاکستان سے شاہراہوں کے سنگم پر واقع ہے۔صوبہ قندھارکاسپن بولدک پاکستانی سرحد کے ساتھ بلوچستان کے ضلع چمن کے قریب واقع باب دوستی کے ساتھ افغان سرحد تک پوراعلاقہ طالبان نے پوری طرح فتح حاصل کر لیا ہے۔چمن میں باب دوستی کے ساتھ افغانستان کی جانب افغان طالبان کا ایک بڑا پرچم لہرا رہا ہے۔ تاریخی طور پر بھی یہ صوبہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے اور گذشتہ لگ بھگ 25 برسوں میں دو بڑے واقعات کی وجہ سے یہ صوبہ بین الاقوامی میڈیا کا مرکز بنا رہا ہے۔ ان واقعات میں ایک 1996 میں یہاں سے طالبان تحریک کا جنم لینا اور دسمبر 1999 میں انڈیا کا ایک مسافر بردار طیارہ ہائی جیک ہونے کے بعد قندھار ہوائی اڈہ پہنچنا دوسرا بڑا واقعہ ہے۔
صوبہ بدخشان کی سرحد پاکستان، چین اور تاجکستان سے ملتی ہے ماضی میں طالبان کے لیے سخت ترین صوبوں میں سے ایک تھا اور 2001 میں بھی جب اُنھوں نے افغانستان کے لگ بھگ 90 فیصد علاقوں پر قبضہ کر لیا تھا تب بھی شمالی علاقے بالعموم اور بدخشان بالخصوص اُن کے کنٹرول سے باہر رہا۔اب کی بارصورتحال یہ ہے کہ طالبان نے بدخشان کے مرکز فیض آباد کے گرد گھیرا تنگ کر لیا ہے اوروہ بدخشان کے مرکز فیض آباد سمیت افغانستان کے تمام صوبوں کے ہیڈکوارٹر زپر کنٹرول حاصل کرنے کے قریب ہیں۔صوبہ بدخشان کے مشرق میں واخان کوریڈور واقع ہے جو شمالی پاکستان کے چترال اور گلگت بلتستان اور چین کی سرحد تک پھیلا ہوا ہے۔ اس صوبے کا کل رقبہ تقریباً 44 ہزار مربع کلومیٹر (تقریباً 17 ہزار مربع میل) ہے اور بیشتر علاقے ہندوکش اور پامیر پہاڑی سلسلوں پر واقع ہیں۔بدخشان زمانہ قدیم سے سلک روڈیاشاہراہ ریشم کا راستہ تھا اور اسی وجہ سے چین نے طالبان کے دورِ اقتدار کی واپسی دیکھ کر اس صوبے میں بڑی دلچسپی کا مظاہرہ کررہاہے اور وہاں سڑکوں اور بنیادی ڈھانچے کی تعمیر نو میں مدد کرنے کے لئے تیاربیٹھا ہے۔
صوبہ پکتیکااور خوست پاکستانی سرحد کے ساتھ صوبہ خوست اور پکتیا کے اکثر علاقوں پرطالبان کنٹرول حاصل کرنے کے بالکل قریب ہیں جبکہ پاکستانی سرحد کے ساتھ صوبوں ننگرہار اور کنٹر کو لگنے والے اضلاع بھی طالبان کے کنٹرول میں جلد آنے والے ہیں۔صوبہ خوست جو طالبان کے وزیرسرحدات مولانا جلال الدین حقانی کا مرکز رہاہے، یہاں 80 کی دہائی میں سوویت یونین کے خلاف افغان مجاہدین نے شدید لڑائیاں لڑیں۔خوست افغانستان کے مشرقی حصے میں پاکستانی سرحد کے قریب واقع ہے۔مشرق میں اس صوبے کی سرحد پاکستان کے سابقہ قبائلی علاقے شمالی وزیرستان اور ضلع کرم سے ملتی ہے۔ ماضی میں یہ صوبہ پکتیا کا حصہ تھا اور اب بھی خوست کے آس پاس وسیع و عریض خطے کولویا پکتیا کہا جاتا ہے۔طالبان نے اس کے کم از کم پانچ اضلاع پر کنٹرول حاصل کرلیاہے۔
صوبہ غزنی اور زرنج۔یہ وہ صوبہ ہے جہاں طالبان نے صوبائی دارالحکومت کا محاصرہ کر رکھا ہے، وسطی افغانستان میں واقع صوبہ غزنی ہے۔غیرملکی قابض افواج کی موجودگی میںطالبان اس صوبے میں کئی برسوں سے متحرک ہیں اور انھوں نے اس کثیر النسلی صوبے کے دارالحکومت کے بڑے حصوں کا 2018 میں کنٹرول سنبھال لیا تھا۔غزنی شہر کے قریب بھی طالبان پہنچ چکے ہیں۔ صوبائی کونسل کے سربراہ ناصر احمد فقیری کا کہنا ہے کہ طالبان شاید صوبائی دارالحکومت کے50 فیصد حصے پہلے ہی فتح حاصل کر چکے ہیں۔ طلوع نیوز ٹی وی نے یہ خبر 12 جولائی2021 کو رپورٹ کی تھی کہ جون 2021 میں صوبے کے زیادہ تر اضلاع پر طالبان نے قبضہ کر لیا تھا ۔ غزنی کی سرحد آٹھ دیگر صوبوں کے ساتھ ملتی ہے۔ کابل، قندھار ہائی وے جو غزنی کو جنوبی افغانستان سے جوڑتی ہے وہ اسی صوبے سے گزرتی ہے۔جنوبی صوبے نمروز کے ضلع چخانسور اور دلارام پر قبضے کے بعد صوبائی دارالحکومت زرنج اور میلک زرنج سرحدی کراسنگ بھی طالبان کنٹرول حاصل کرچکے ہیں۔میلک، زرنج کراسنگ چاروں جانب سے زمین سرحدوں سے گھرے افغانستان کو ایران کی چابہار بندرگاہ تک رسائی دیتا ہے جسے انڈیا کی فنڈنگ سے بنایا گیا ہے۔ضلع مزار شریف کے قلعہ نو اور پربھی طالبان نے کنٹرول کرلیاہے افغانستان کی شمال مشرقی سرحد پر واقع صوبہ بادغیس کے تمام اضلاع پر قبضہ کرنے کے بعد دارالحکومت قلعہ نو پر طالبان نے فتح پائی ہے۔
تمام مفتوحہ علاقوں کی طرح بادغیس میں طالبان کوپرجوش انداز میں خوش آ مدیدکہاگیالیکن مزارشریف کے دارالحکومت قلعہ نو میں داخل ہوتے وقت طالبان کا نہایت پرتپاک اندازمیںاستقبال کیا گیا اور پھر طالبان نے عوام کی جم غفیرکے ساتھ قلعہ نو کی جیل سے اپنے ساتھیوں کو آزاد کروایا۔دوسری جانب طالبان نے صوبہ بلخ کے دارالحکومت مزار شریف کے قریبی اضلاع پر جون 2021کے آخر میں قبضہ کرنا شروع کر دیا تھا۔
طالبان صوبہ قندوز کے ہر ضلع پر قبضہ کر لیا ہے جس میں تاجکستان کے ساتھ شیر خان سرحدی کراسنگ بھی شامل ہے۔اس صوبے کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہے کیونکہ یہ تخار اور بادخشان صوبوں کو آپس میں ملتا ہے اور تاجک سرحد پر بلخ اور دیگر شمالی علاقوں سے جوڑتا ہے۔صوبہ تخار کے 16 میں سے 14 اضلاع پر طالبان فتح حاصل کرچکے ہیں اور دارالحکومت تالقان کو بھی اب طالبان اپنے حصارمیں لے چکے ہیں۔
اس کے علاوہ طالبان قندوز میں شیر خان بندرگاہ، تخار میں اے خانم، ہرات میں اسلام قلعہ اور تورغندی بندرگاہوں اور پکتیا میں ڈنڈ پٹان بندرگاہ پر کنٹرول حاصل کرچکے ہیں۔طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے بی بی سی کو بتایا کہ تین بندرگاہوں کا کاروبار دوبارہ شروع ہو گیا ہے اور جلد ہی معمولات معمول پر آجائے گا۔
Comments are closed.