"تبدیلی کا سفر”(افسانہ)
عین (ڈاہرانوالہ )
یہ کہانی ہے ایک اُبھرتےہوئے نوجوان سنگر کی جس نے بہت ہی کم وقت میں اپنی محنت، لگن اور جنون سے پوری دنیا میں اپنا نام پیدا کیا اور اپنی پہچان بنوانے میں کامیاب ہو گیا۔ اب پوری دنیا میں اس کے فینز موجود ہیں۔ جن میں بڑے چھوٹے سب شامل ہیں۔ لیکن زیادہ تعداد نوجوان لڑکے اور لڑکیوں کی ہے۔ جو اس کے اتنے دیوانے ہیں کہ اس کے ایک اشارے پر اپنی جان بھی دینے سے بھی گریز نہیں کریں گیں یقینا۔
پوری دنیا میں پھیلی ہوئی وبا کے پیش نظر پچھلے دو سالوں کے بعد آخر کار آج وہ دن آ ہی گیا تھا جس کا تمام فینز کو بے صبری سے انتظار تھا۔ شہر کے ایک بہت بڑے ہال میں سیٹ لگایا گیا تھا۔ جو کہ لائٹوں کی چکا چوند سے جگمگا رہا تھا۔ اندر داخل ہوتے ہی آنکھیں چوندیا جاتیں۔ پورے ہال کی سجاوٹ ریڈ اور گولڈن کلر سے کی گئی تھی۔ ہال کے باہر سے سٹیج تک ریڈ کارپٹ بچھایا گیا تھا۔ جس پر پاؤں رکھتے ہی آدھا پاؤں اندر دھنس جاتا تھا۔ ریڈ اور گولڈن تھیم کی وجہ سے سب فینز نے بھی انھیں دو رنگوں کو زیب تن کر رکھا تھا۔ ہر طرف سرخ گلاب کے پھولوں کی خوشبو بکھری ہوئی تھی۔ سارا ہال فینز سے کچا کچ بھرا پڑا تھا۔ وہ بھی اپنی دوستوں کے ساتھ ان کے اصرار پر آ گئی تھی اور اب سوچ رہی تھی کہ اگر نہ ہی آتی تو اچھا تھا۔ وہ ہسپتال سے سیدھی یہاں آگئی تھی۔ ڈھیلی سی لیئرز کٹ بالوں کی چوٹیا سے بالوں کی چند لٹیں نکل کر اس کے چہرے کو اور بھی پر کشش بنا رہیں تھیں۔ وہ سامنے پڑے ٹیبل پر سر رکھ کر سو گئی کیونکہ وہ پچھلے 24گھنٹوں سے ڈیوٹی پر تھی اس کی ساتھی کولیگ کو کسی ایمرجنسی کی وجہ سے چھٹی لینی پڑ گئی تھی۔ شو شروع ہونے میں ابھی کچھ وقت باقی تھا۔ اور وہ اتنے شور شرابے کے باوجود بھی سو گئی تھی۔ جیسے جیسے وقت کم ہو رہا تھا فینز کا جوش و خروش بڑھتا ہی جا رہا تھا۔ سب لوگ اپنے کیمرے سیٹ کیئے تیار بیٹھے تھے۔ وہ کوئی بھی لمحہ مس نہیں کرنا چاہتے تھے۔ اور جیسے ہی اس سنگر کی آمد کی خبر ملی سب اپنی سیٹوں سے اٹھ کھڑے ہوئے اور واہ، ہوہو، یاہو ہرے، تالیاں اور سیٹیوں سے پورا ہال گونجنے لگا۔ وہ ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھی اور ادھر ادھر دیکھنے لگی۔
اور پھر جیسے ہی اس کی نظر سامنے پڑی تو ایک لمحے کو اس پر سکتہ طاری ہوا لیکن جلد ہی اس نے خود کو سنبھال لیا۔ تمام لڑکے لڑکیاں سٹیج کے قریب جمع تھے اور اپنے فیورٹ سنگر کی لائیو پرفارمنس کو دیکھ کر پاگل ہوئے جا رہے تھے۔ جو سنگر کے ساتھ ساتھ خود بھی بھول گئے تھے کہ وہ کون ہیں اور ان کی پہچان کیا ہے اور وہ کس معاشرے کا حصہ ہیں اور ان کی اقدار کیا ہیں۔ وہ یہی سب سوچ رہی تھی کہ اچانک اس کی نظر سامنے سٹیج پر پرفارم کرتے ہوئے سنگر پر پڑی وہ اس ہی کی طرف دیکھ رہا تھا۔ زرشال نے نخوت اور بیزاری سے منہ موڑ لیا۔ اس سنگر کے ہونٹوں پر ایک دلفریب سی مسکراہٹ رینگ گئی۔ جسے منہ دوسری طرف کرنے کی وجہ سے زرشال تو نہ دیکھ پائی لیکن اس کے فینز پاگل ہو گئے تھے۔ وہ اس کی مسکراہٹ کے دیوانے تھے۔ جیسے ہی شو ختم ہوا وہ سب سے پہلے ہال سے نکلی جب کہ وہ سنگر ابھی تک سٹیج پر موجود تھا اور اسے جاتے ہوئے دیکھ رہا تھا۔ اس کی آنکھوں میں گہری سوچ تھی۔
اس دن کے بعد سب کچھ معمول کے مطابق ہو رہا تھا۔ زرشال ہوسپٹل میں اپنے مریضوں کے ساتھ مصروف اور وہ سنگر اپنے کنسرٹ وغیرہ میں جو کہ ختم ہونے میں نہیں آرہے تھے۔ فینز ہر جگہ اس کی پرفارمنس دیکھنے پہنچ جاتے کیونکہ وہ جلد ہی پرفارمنس کے لیے انگلینڈ جانے والا تھا۔ فینز اسے بار بار دیکھنا چاہتے تھے۔
لیکن سب رنگینیوں اور محبتوں کے پیچھے بھی ایک کہانی ہے جسے کوئی نہیں جانتا تھا اور وہ اپنی کہانی صرف اس لڑکی کو ہی سنانا چاہتا تھا۔ جسے کہ وہ ایک عرصے سے جانتا تھا۔ کیسے یہ ایک سوالیہ نشان تھا؟ لیکن اس لڑکی کو بلکل خبر نہ تھی۔
تقریبا چھ ماہ اسی طرح گزر گئے تھے اور اس نے لڑکی کو نہیں دیکھا تھا۔ وہ اس سے ملنے ہسپیٹل گیا لیکن اس نے ملنے سے انکار کر دیا۔ وہ واپس آگیا لیکن اس نے ہار نہیں مانی تھی۔ وہ ہر حال میں جاننا چاہتا تھا کہ وہ اس سے نفرت کیوں کرتی ہے۔ اس لڑکی کے بارے میں اس کے جذبات کی وجہ سے اس کے لیے یہ جاننا بے حد ضروری تھا۔
آج اتوار تھا اور وہ بہت تھکی ہوئی تھی اس لیے کافی دیر تک سوتی رہی۔ پھر اسے لگا کہ شاید اسے کوئی جگا رہا ہے۔ وہ ذرا سا کسمسائی اور آنکھیں کھول دیں تو سامنے اپنی ماما کو دیکھ کر ذرا سا مسکرائی اور اٹھ کر بیٹھ گئی۔ انھوں نے اس کے ماتھے کا بوسہ لیا اور جلدی سے فریش ہو کر نیچے آنے کا کہہ چلی گئیں۔ وہ اٹھی ہاتھ منہ دھو کر نیچے چلی آئی۔ آج بہت چہل پہل ہے گھر میں کیا کوئی آ رہا ہے اس نے اپنی دادی کی گود میں سر رکھ کر پوچھا تو انھوں نے بتایا کہ آج اس کے ابو کے دوست آرہے ہیں اسلام آباد سے کسی خاص کام سے بس ان کے لیے ہی یہ سب تیاریاں ہو رہی ہیں۔ شام کو جب وہ لوگ آئے تو زرشال پر تو کچھ لمحوں کے لیے سکتہ طاری ہو گیا۔ صد شکر کہ کسی نے نوٹ نہیں کیا تھا سوائے اس ایک شخص کے جو اسے ہی دیکھ رہا تھا۔ اسے یقین نہیں آ رہا تھا۔ آج بھی اس کے ہونٹوں پر اس دن جیسی ہی مسکراہٹ تھی۔ جسے دیکھ کر زرشال کی سانس ذرا سا رکی لیکن اس نے خود کو سنبھال لیا اور آنٹی،انکل اور انکی بیٹی سے مل کر کچن کی طرف چلی گئی۔ اس کا موڈ بلاوجہ ہی آف ہو چکا تھا۔ وہ لوگ اپنے بیٹے نہال کے لیے اس کا رشتہ لے کر آئے تھے۔ گھر میں کسی کو کوئی اعتراض نہ تھا۔ لیکن زرشال نے انکار کر دیا تھا۔
"وہ عام سی لڑکی سوچ خاص رکھتی ہے
وہ دنیا کو نہیں رب کو پاس رکھتی ہے ”
اور وجہ اس کا سنگر ہونااور شوبز سے تعلق تھا یہ جان کر نہال کا دل کیا کہ اس پر نہال ہی ہو جائے۔ لیکن وہ مسکراہٹ دبائے بیٹھا رہا اور اس نے اسی وقت فیصلہ کر لیا تھا کہ اس نے کیا کرنا ہے۔وہ کسی قیمت پر اسے کھونے کا سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔
"کوئی فلسفہ نہیں عشق کا جہاں دل جھکے وہیں سر جھکے
وہیں ہاتھ جوڑ کہ بیٹھ جا نہ سوال کر نہ جواب دے”
سب لوگوں کے لیے یہ حیران کن بات تھی کہ نہال اسے اپنی زندگی شامل کرنے کے لیے کسی بھی حد تک جانے کے لیے تیار تھا۔ کیونکہ وہ پچھلے کئی سالوں سے اس سے صرف محبت نہیں بلکہ عشق کرتا تھا۔ وہ اس کے لیے کچھ بھی کرنے کو تیار تھا۔ اور پھر شادی سے پہلے ایک پریس کانفرنس کے ذریعے نہال نے سنگنگ کو خیر آباد کہہ دیا تھا۔ اور اب وہ اپنی خوبصورت اور دلوں میں گھر کرنے والی آواز میں نعتیں پڑھتا تھا اس کے فینز پہلے سے بھی زیادہ ہو گئے تھے۔ وہ اس سب کے لیے اپنے رب کا بے حد شکر گزار تھا۔ جس نے اس کے دل میں زرشال جیسی خوبصورت اور خوب سیرت لڑکی کی محبت ڈال کر اسے اپنے بندوں میں شامل کر لیا تھا۔
"کیسے سمجھاوں میں ان کو کہ محبت کیا ہے
جو سمجھتے نہیں کہ مفہوم عبادت کیا ہے”
Comments are closed.