اردو تحقیق کا روشن چراغ پھر یاد آیا — قاضی عبد الودودؔ یادگاری تقریب میں ادب کا سمندر اُمڈ پڑا

 

قاضی عبد الودودؔ کاکو کی مٹی کا وہ چراغ جس کی روشنی آج بھی اردو تحقیق کے ایوانوں کو منور کیے ہوئے ہے

✍️ سید آصف امام کاکوی

کبھی کبھی کوئی شخصیت صرف ایک فرد نہیں ہوتی، وہ ایک عہد ہوتی ہے ایک فکر ہوتی ہے ایک چراغ ہوتی ہے جو زمانوں تک روشنی بانٹتی رہتی ہے قاضی عبد الودودؔ بھی انہی نابغۂ روزگار شخصیات میں سے ایک تھے جنہوں نے اردو تحقیق، تنقید اور ادب کو نئی جہت عطا کی۔ ان کا نام اردو دنیا میں صرف ایک محقق کے طور پر نہیں لیا جاتا بلکہ انہیں اردو تحقیق کا وقار، دیانت اور معیار سمجھا جاتا ہے۔جب بھی میرا دل اپنے آبائی وطن کاکو کی گلیوں میں بھٹکتا ہے تو مجھے محسوس ہوتا ہے کہ یہ صرف ایک قصبہ نہیں بلکہ علم و ادب کی ایک مقدس سرزمین ہے۔ یہی وہ کاکو ہے جہاں کی مٹی نے قاضی عبد الودودؔ جیسا عظیم محقق پیدا کیا۔ مجھے اس بات پر فخر ہے کہ میرا تعلق بھی اسی تاریخی بستی سے ہے، اس بستی سے جہاں علم کی خوشبو صدیوں سے سانس لیتی رہی ہے، جہاں لفظوں کی حرمت آج بھی باقی ہے، جہاں ادب صرف کتابوں میں نہیں بلکہ لوگوں کے لہجوں میں بھی زندہ ہے۔ 08 مئی 1896ء کو کاکو کی سرزمین پر آنکھ کھولنے والا یہ بچہ آگے چل کر اردو تحقیق کا وہ آفتاب بنا جس کی روشنی پورے برصغیر میں پھیل گئی۔ قاضی عبد الودودؔ نے صرف کتابیں نہیں پڑھیں بلکہ علم کی روح کو محسوس کیا۔انہوں نے تحقیق کو عبادت کی طرح انجام دیا۔ ان کی تحریروں میں دلیل کی طاقت بھی تھی اور سچائی کی روشنی بھی۔ وہ روایتوں کے اسیر نہیں تھے بلکہ حقیقت کے متلاشی تھے۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے اردو تحقیق کو تقلید سے نکال کر معروضیت اور دیانت کے راستے پر گامزن کیا۔ قاضی صاحب کی شخصیت کا سب سے بڑا وصف یہ تھا کہ وہ حق گو تھے۔ وہ مصلحت کے قائل نہیں تھے۔ اگر کوئی بات غلط محسوس ہوتی تو بڑے سے بڑے ادبی نام پر بھی سوال اٹھا دیتے۔ ان کے نزدیک تحقیق کا مطلب صرف تعریف نہیں بلکہ حقیقت تک پہنچنا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے مضامین پڑھتے وقت قاری کو صرف معلومات نہیں ملتیں بلکہ سوچنے کا ایک نیا زاویہ بھی ملتا ہے۔کاکو کی فضاؤں میں شاید آج بھی ان کے قدموں کی چاپ سنائی دیتی ہے۔ کبھی کبھی دل یہ سوچ کر عجیب سی کیفیت میں ڈوب جاتا ہے کہ اسی مٹی پر قاضی عبد الودودؔ نے بچپن کے دن گزارے ہوں گے، انہی راستوں سے گزرے ہوں گے، انہی فضاؤں میں علم کے خواب دیکھے ہوں گے۔ آج جب دنیا اردو تحقیق کے میدان میں ان کا نام احترام سے لیتی ہے تو کاکو کی مٹی بھی یقیناً فخر سے سر اٹھاتی ہوگی۔ قاضی عبد الودودؔ نے اردو ادب کو صرف تحقیقی سرمایہ نہیں دیا بلکہ ایک فکری وقار عطا کیا۔ انہوں نے غالبؔ، میرؔ، مصحفیؔ، شاد عظیم آبادیؔ اور دوسرے اکابرینِ ادب پر جو تحقیقی کام کیا وہ آج بھی سند کی حیثیت رکھتا ہے۔ ان کی تحقیق میں جذباتیت کم اور حقیقت پسندی زیادہ تھی۔ وہ ہر بات کو دلیل، حوالہ اور تحقیق کی کسوٹی پر پرکھتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا ہر مضمون آج بھی طالب علموں، محققین اور ادیبوں کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ مجھے اکثر یہ محسوس ہوتا ہے کہ اگر قاضی عبد الودودؔ جیسے لوگ نہ ہوتے تو اردو تحقیق شاید اتنی مضبوط بنیادوں پر قائم نہ ہو پاتی۔ انہوں نے تحقیق کو صرف کتابی مشغلہ نہیں رہنے دیا بلکہ اسے فکری دیانت اور علمی جہاد کا درجہ دیا۔ ان کی زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ علم صرف ڈگریوں سے نہیں بلکہ مسلسل مطالعے، سچائی اور اخلاص سے حاصل ہوتا ہے۔کاکو کی یہ دھرتی واقعی خوش نصیب ہے کہ اس نے قاضی عبد الودودؔ جیسا فرزند پیدا کیا۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ نئی نسل ان کے کارناموں کو پڑھے، سمجھے اور ان کے تحقیقی اصولوں سے روشنی حاصل کرے۔ افسوس یہ ہے کہ ہم اکثر اپنے عظیم لوگوں کو صرف تقریروں اور سیمیناروں تک محدود کر دیتے ہیں، جبکہ ان کی فکر کو زندہ رکھنے کی اصل صورت یہ ہے کہ ان کے علمی ورثے کو نئی نسل تک پہنچایا جائے۔ جب میں قاضی عبد الودودؔ کے بارے میں پڑھتا ہوں تو میرے دل میں ایک عجیب سی ادبی وابستگی جاگ اٹھتی ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے کاکو کی مٹی خود مجھ سے کہہ رہی ہو کہ “دیکھو! یہی وہ سرزمین ہے جس نے اردو ادب کے چراغ روشن کیے تھے، اب انہیں بجھنے نہ دینا۔ قاضی عبد الودودؔ کی وفات 25 جنوری 1984ء کو ہوئی، مگر حقیقت یہ ہے کہ ایسے لوگ مرتے نہیں۔ وہ اپنی تحریروں، اپنی فکر اور اپنے کردار کے ذریعے ہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔ پیر موہانی قبرستان میں آسودۂ خاک یہ عظیم محقق آج بھی اردو تحقیق کے افق پر روشن ستارے کی طرح جگمگا رہا ہے۔ دل کبھی کبھی عجیب کرب سے بھر جاتا ہے جب یہ احساس ہوتا ہے کہ ہم اُس سرزمین کے وارث ہیں جہاں قاضی عبد الودودؔ جیسے نابغۂ روزگار نے جنم لیا، مگر آج ہماری نئی نسل اُن کے نام سے بھی پوری طرح واقف نہیں۔ کاکو کی وہ خاموش گلیاں، وہ پرانی فضائیں، وہ مٹی کے ذرے شاید آج بھی اُن کے قدموں کی آہٹ سنبھالے ہوئے ہیں۔ یہی وہ بستی ہے جہاں ایک ایسا چراغ روشن ہوا جس نے اردو تحقیق کے اندھیروں کو اجالوں میں بدل دیا۔ قاضی صاحب نے صرف کتابیں نہیں لکھیں، بلکہ اردو ادب کی روح کو نئی زندگی دی۔ ان کی تحریروں میں علم کی سنجیدگی بھی تھی اور دل کی سچائی بھی۔ وہ جب قلم اٹھاتے تھے تو لفظ صرف جملے نہیں بنتے تھے بلکہ تحقیق کی دنیا میں ایک نیا باب کھل جاتا تھا۔ مجھے فخر ہے کہ میرا تعلق بھی اسی کاکو سے ہے، اُس کاکو سے جہاں ادب سانس لیتا تھا، جہاں علم عبادت سمجھا جاتا تھا، جہاں لفظوں کی حرمت لوگوں کے کردار میں دکھائی دیتی تھی۔ آج جب میں قاضی عبد الودودؔ کا نام لیتا ہوں تو ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے میرے اپنے بزرگوں کی عظمت میرے سامنے کھڑی ہو۔ دل یہ سوچ کر بھیگ جاتا ہے کہ اسی مٹی پر چلنے والا ایک شخص پوری اردو دنیا کا معتبر حوالہ بن گیا، مگر اُس نے اپنی عظمت کے باوجود کبھی غرور کو اپنے قریب نہیں آنے دیا۔ قاضی عبد الودودؔ نے تحقیق کو آسان راستہ نہیں سمجھا۔ انہوں نے عمر بھر کتابوں کی خاک چھانی، مخطوطات ڈھونڈے، پرانی تحریروں کے دھندلے لفظوں میں سچائی تلاش کی۔ یہ کام صرف علم سے نہیں ہوتا، اس کے لیے دل میں ایک آگ چاہیے، ادب سے عشق چاہیے، اور سچائی سے وفاداری چاہیے۔ وہ راتوں کو جاگ کر اردو کے ماضی کو محفوظ کرتے رہے تاکہ آنے والی نسلیں اپنی ادبی شناخت سے محروم نہ ہو جائیں۔ آج اگر اردو تحقیق ایک مضبوط ستون پر کھڑی نظر آتی ہے تو اُس میں قاضی عبد الودودؔ کے خونِ جگر کی خوشبو شامل ہے۔ افسوس یہ ہے کہ آج ہم اپنے اصل محسنوں کو بھولتے جا رہے ہیں۔ ہم اُن لوگوں کو یاد رکھتے ہیں جو شور کرتے ہیں، مگر وہ لوگ نظروں سے اوجھل ہو جاتے ہیں جنہوں نے خاموشی سے پوری قوم کی فکری بنیاد مضبوط کی۔ قاضی عبد الودودؔ بھی انہی خاموش چراغوں میں سے ایک تھے۔ ان کی زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ اصل عظمت شہرت میں نہیں بلکہ علم کی خدمت میں ہے۔ ان کا ہر لفظ، ہر تحقیق، ہر حوالہ اردو ادب کے ماتھے کا جھومر ہے۔ کاکو کی مٹی آج بھی شاید اُن کے نام پر ناز کرتی ہوگی۔ ہوا جب وہاں کے در و دیوار سے ٹکراتی ہوگی تو یوں محسوس ہوتا ہوگا جیسے کوئی خاموش آواز اب بھی کہہ رہی ہو“علم زندہ رہتا ہے قلم کبھی مرتا نہیں 19/05/2026 کی شام پٹنہ کے فنیشر ناتھ رینو ہندی بھون میں ایک ایسی ادبی، علمی اور تہذیبی محفل سجی جس نے دلوں کو عجیب روحانی کیفیت سے بھر دیا۔ بہار حکومت کے کابینہ سکریٹریٹ، اردو ڈائرکٹوریٹ کے زیرِ اہتمام منعقد “قاضی عبد الودود یادگاری تقریب و بزمِ سخن محض ایک پروگرام نہیں تھا بلکہ علم و ادب سے محبت کرنے والوں کے جذبات کا ایک خوبصورت اظہار تھا۔ ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے وقت تھم سا گیا ہو اور اردو تہذیب کا ایک روشن باب دوبارہ آنکھوں کے سامنے کھل گیا ہو۔ جب شمع افروزی ہوئی تو دل کی دنیا میں ایک عجیب سی روشنی اترتی چلی گئی۔ یوں لگا جیسے قاضی عبد الودودؔ کی علمی عظمت آج بھی اسی شان سے زندہ ہے اور ان کے لفظ آج بھی اہلِ علم کے دلوں کو منور کر رہے ہیں۔ پورا ہال اردو سے محبت کرنے والوں سے بھرا ہوا تھا۔ کہیں شعر و ادب کی باتیں تھیں، کہیں تحقیق و تنقید کے چرچے، اور کہیں اردو کی بقا کی فکریں۔ ہر چہرہ اس بات کی گواہی دے رہا تھا کہ اردو صرف ایک زبان نہیں بلکہ جذبات، تہذیب اور محبت کا نام ہے۔ تقریب کی صدارت پروفیسر سید شاہ حسین احمد نے فرمائی جبکہ اردو ڈائرکٹوریٹ کے فعال ڈائرکٹر جناب ایس ایم پرویز عالم نے استقبالیہ خطبہ پیش کرتے ہوئے جس درد، خلوص اور محبت کے ساتھ اردو زبان کی بات کی، وہ سیدھے دل میں اترتی چلی گئی۔ انہوں نے کہا کہ اردو کو زندہ رکھنا صرف حکومت کی ذمہ داری نہیں بلکہ ہر اُس شخص کا فرض ہے جو اردو سے محبت کرتا ہے۔ اگر ہم اپنے گھروں میں اردو کو زندہ نہیں رکھیں گے، اپنے بچوں کو اردو نہیں سکھائیں گے، تو آنے والی نسلیں اپنی تہذیبی شناخت کھو دیں گی۔ ان کی یہ بات سن کر دل بھر آیا۔ مقررین نے قاضی عبد الودودؔ کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ صرف بہار کا نہیں بلکہ پوری اردو دنیا کا فخر تھے۔ انہوں نے تحقیق کو محض حوالوں کی دنیا نہیں رہنے دیا بلکہ اسے سچائی کی تلاش بنا دیا۔ وہ بے باک تھے، حق گو تھے اور دلیل کے ساتھ بات کرنے والے انسان تھے۔ ان کی تحریروں میں علم کی گہرائی بھی تھی اور سچائی کی حرارت بھی۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی اردو تحقیق میں ان کا نام سب سے زیادہ احترام کے ساتھ لیا جاتا ہے۔ جب پروفیسر آفتاب احمد آفاقی نے کہا کہ “قاضی عبد الودود اردو تحقیق کا سب سے بڑا نام ہیں” تو پورے ہال میں ایک خاموش عقیدت سی پھیل گئی۔ ڈاکٹر محسن رضا رضوی نے غالبیات پر ان کی خدمات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ غالب کو جس گہرائی اور باریکی سے قاضی صاحب نے سمجھا، وہ بہت کم لوگوں کے حصے میں آیا۔ ان کی گفتگو سن کر محسوس ہو رہا تھا کہ قاضی عبد الودودؔ صرف ایک شخصیت نہیں بلکہ اردو تحقیق کی پوری ایک درسگاہ تھے۔

ان تمام باتوں کے درمیان میرا دل بار بار اپنے آبائی وطن “کاکو” کی طرف کھنچتا رہا وہی کاکو جہاں قاضی عبد الودودؔ نے جنم لیا اور وہی کاکو جہاں میرا بھی گھر ہے۔ دل عجیب فخر سے بھر جاتا ہے کہ میں اُس مٹی سے تعلق رکھتا ہوں جس نے اردو دنیا کو ایسا عظیم محقق عطا کیا۔ آج بھی محسوس ہوتا ہے کہ کاکو کی فضاؤں میں کتابوں کی خوشبو بسی ہوئی ہے، وہاں کی گلیاں آج بھی علم و ادب کی کہانیاں سناتی ہیں، اور وہاں کی مٹی آج بھی قاضی صاحب کے قدموں کی چاپ اپنے سینے میں محفوظ کیے ہوئے ہے۔قاضی عبد الودودؔ کی زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ علم صرف ڈگریوں سے حاصل نہیں ہوتا بلکہ مسلسل مطالعے، سچائی، دیانت اور عشق سے حاصل ہوتا ہے۔ انہوں نے اپنی پوری زندگی اردو ادب اور تحقیق کے نام کر دی۔ ایسے لوگ دنیا سے رخصت ہو کر بھی کبھی نہیں مرتے، کیونکہ ان کے لفظ، ان کی فکر اور ان کی علمی روشنی ہمیشہ زندہ رہتی ہے۔آج دل کی گہرائیوں سے بس یہی دعا نکلتی ہے کہ اللہ تعالیٰ قاضی عبد الودودؔ کے درجات بلند فرمائے اور ہمیں بھی علم، ادب اور سچائی کے اُس راستے پر چلنے کی توفیق عطا کرے جس پر وہ پوری زندگی چلتے رہے۔آج جب میں قاضی عبد الودودؔ کی زندگی، اُن کی علمی عظمت اور اُن کی بے مثال تحقیقی خدمات پر نظر ڈالتا ہوں تو دل بے اختیار عقیدت سے جھک جاتا ہے۔ یہ صرف ایک محقق کی داستان نہیں، بلکہ اُس چراغ کی کہانی ہے جس نے اپنی پوری زندگی اردو ادب کے نام کر دی۔ انہوں نے شہرت کے شور سے دور رہ کر خاموشی کے ساتھ ایسا علمی سرمایہ چھوڑا جو رہتی دنیا تک اہلِ علم کے لیے روشنی کا مینار بنا رہے گا۔ ایسے لوگ صدیوں میں پیدا ہوتے ہیں، اور جب رخصت ہوتے ہیں تو صرف ایک انسان نہیں جاتا بلکہ علم و ادب کا ایک پورا عہد خاموش ہو جاتا ہے۔ مجھے اپنے آبائی وطن کاکو پر فخر ہے بے حد فخر یہ وہی کاکو ہے جہاں کی مٹی نے قاضی عبد الودودؔ جیسے عظیم فرزند کو جنم دیا۔ جب بھی میں کاکو کا نام لیتا ہوں تو میرے دل میں عجیب سی ادبی حرارت جاگ اٹھتی ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے اس بستی کی فضاؤں میں آج بھی کتابوں کی خوشبو تیر رہی ہو، جیسے کسی پرانی گلی سے قاضی صاحب کے قدموں کی چاپ اب بھی سنائی دیتی ہو۔ میں خود کو خوش نصیب سمجھتا ہوں کہ میرا تعلق بھی اسی سرزمین سے ہے، اُس سرزمین سے جس نے اردو ادب کو صرف شاعر اور ادیب ہی نہیں بلکہ تحقیق کا ایک آفتاب عطا کیا۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے اکابرین کو صرف تقریبات، سیمیناروں اور یادگاری جلسوں تک محدود نہ رکھیں بلکہ اُن کی فکر، اُن کی دیانت اور اُن کے علمی مزاج کو اپنی نسلوں تک منتقل کریں۔ اگر نئی نسل قاضی عبد الودودؔ کو پڑھ لے، اُن کے اصولِ تحقیق کو سمجھ لے، تو یقیناً اردو ادب کا مستقبل زیادہ روشن ہو سکتا ہے۔ کیونکہ قاضی صاحب نے ہمیں یہ سکھایا کہ تحقیق صرف لفظوں کا کھیل نہیں بلکہ سچائی کی تلاش کا نام ہے۔ میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ قاضی عبد الودودؔ کے درجات بلند فرمائے، اُن کی قبر کو نور سے بھر دے اور ہمیں بھی علم، دیانت اور سچائی کے اُس راستے پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے جس پر وہ پوری زندگی چلتے رہے۔ وہ شخص آج بھی زندہ ہے اپنے لفظوں میں جو علم بانٹ کے دنیا سے رخصت ہوا تھا کاکو کی مٹی آج بھی روشن دکھائی دیتی ہے کہیں نہ کہیں قاضیؔ کے قلم کی روشنی باقی ہے.

 

Comments are closed.