وہ روحانی سفر… جس کے مسافر کو اللہ مل جاتا ہے!

 

قسط نمبر 2 – یادِ مرشد | حصہ اول (1)

کچھ تعلق صرف دنیا کے لیے نہیں ہوتے

 

✍🏻 _ایڈوکیٹ محمد یاسین ملک_

کچھ کتابیں پڑھی نہیں جاتیں… محسوس کی جاتی ہیں۔

اور کچھ شخصیات ایسی ہوتی ہیں جن کا ذکر محض تعارف نہیں رہتا بلکہ دل کی کیفیت بن جاتا ہے۔ “یادِ مرشد” بھی ایک ایسی ہی کتاب ہے۔ ایک ایسی کتاب جس کے ابتدائی صفحات ہی یہ احساس دلا دیتے ہیں کہ یہ محض واقعات کا مجموعہ نہیں، بلکہ ایک ایسے تعلق کی داستان ہے جس میں محبت بھی ہے، ادب بھی، تربیت بھی، جدائی بھی، اور وہ روحانی تاثیر بھی جو صرف اہلِ نسبت کی صحبتوں سے نصیب ہوتی ہے۔

قارئین کی نظر جب کتاب کے سرورق پر پڑتی ہے تو نظر اتا ہے، “یاد مرشد یعنی شیخِ طریقت حضرت مولانا محمد ولی رحمانی نور اللہ مرقدہ کے اوصاف، کمالات، بیش قیمت نصیحت و ارشادات کا دل آویز تذکرہ” اور مصنف ہیں حضرت مولانا محمد عمرین محفوظ رحمانی صاحب دامت برکاتہم، جو خود اپنے مرشدِ گرامی کے خلیفۂ اجل ہیں۔ کتاب کے صفحات کی تعداد اگرچہ 272 ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ اس کے اندر صرف صفحات نہیں بلکہ ایک روحانی زندگی سانس لیتی محسوس ہوتی ہے۔ اس کی فہرست بھی غیر معمولی ہے۔ انتساب… اپنی بات… یادِ مرشد… اور پھر حرمین شریفین کا ایک یادگار سفر۔ گویا ابتدا ہی میں قارئین کو یہ احساس ہو جاتا ہے کہ وہ محض مطالعہ نہیں کرنے جا رہیں ہے، بلکہ ایک روحانی سفر میں داخل ہونے والے ہے۔

انتساب کے ابتدائی الفاظ ہی دل کو ہلا دیتے ہیں “اس عظیم المرتبت ہستی کے نام جو اپنے عہد میں بے مثال تھی اور جس کے فیض کا دریا اب بھی رواں دواں ہے…” اور پھر حضرت شاہ فضل رحمٰن گنج مراد آبادی قدس سرہ کے ذکر کے ساتھ مصنف کا یہ شعر

“جن کا سایہ ایک تجلی، جن کا نقشِ پا چراغ

وہ جدھر گزرے ادھر ہی روشنی ہوتی گئی”

یہ صرف شعر نہیں… پورے سلسلۂ نسبت کا تعارف معلوم ہوتا ہے۔ اللہ اکبر

کتاب کا آغاز “اپنی بات” سے ہوتا ہے، اور یہی وہ مقام ہے جہاں قارئین پہلی مرتبہ محسوس کرتے ہے کہ مصنف صرف ایک مصنف نہیں بلکہ ایک ایسا شخص ہے جس کی رگوں میں نسبت، تربیت اور اہلِ اللہ کی محبت بچپن ہی سے شامل رہی ہے۔ اپنے والد ماجد حضرت مولانا محفوظ الرحمن قاسمی رحمۃ اللہ علیہ کا اور ان کے اوصاف کا ذکر کرتے ہیں، پھر اپنے بڑے ماموں حضرت مولانا شعیب مظاہری صاحب کا تذکرہ کرتے ہیں جو حضرت مولانا شاہ ابرار الحق ہردوئی رحمۃ اللہ علیہ سے منسلک تھے اور تقریباً پینتالیس برس تک اپنے شیخ کی خدمت میں رہے۔

پھر اچانک کتاب کا مزاج بدلتا ہے…اور قارئین ایک ایسے باب میں داخل ہوتے ہے جو شاید اس کتاب کا سب سے دردناک باب ہے۔ تاریخ…..3 اپریل 2021…..وہ تاریخ جسے پڑھتے ہی اہلِ نسبت کے دل آج بھی کانپ جاتے ہیں۔حضرت مولانا محمد ولی رحمانی رحمۃ اللہ علیہ کی رحلت۔انا للہ وانا الیہ راجعون

یہ تاریخ ان تمام لوگوں کے لیے ایک سیاہ دن کی مانند ہے جن کا دل سلسلہ رحمانیہ سے جڑا ہوا ہے۔ مصنف نے اس واقعے کو صرف لکھا نہیں… جیا ہے۔ حضرت مولانا محمد ولی رحمانی رحمۃ اللہ علیہ۔ ان کی رحلت کی خبر ملتِ اسلامیہ پر بجلی بن کر گری۔ پورے ملک کے مسلمان رنج و غم کے عالم میں ڈوب گئے۔ اور جن پر سب سے بھاری پہاڑ گرا وہ تھے ان کے خلیفۂ اجل، ان کے روحانی فرزند حضرت مولانا محمد عمرین محفوظ رحمانی صاحب دامت برکاتہم،مصنف نے اپنے اس درد کو قلم سے یوں بیان کیا "حضرت مولانا ولی رحمانی رحمۃ اللہ علیہ کے چلے جانے سے ہم پر جو صدمہ پڑا ہے وہ حضرت یعقوب علیہ السلام کے رنجِ عظیم سے کسی بھی طرح کم نہیں انہوں نے بیٹا کھویا تھا، ہم نے باپ کھویا ہے۔” آہ یہ کیسی کیفیت بیان کی جا رہی ہے… مصنف نے اتنا درد بھرا لمحہ کیسے لکھا ہوگا۔۔۔۔ یہ سب کچھ ایسے انداز میں بیان ہوا ہے کہ قاری خود کو اس منظر کے درمیان کھڑا محسوس کرتا ہے۔ گیارہ صفحات پر مشتمل یہ باب دراصل ایک بیٹے کے دل کا نوحہ معلوم ہوتا ہے۔ ایک ایسے شخص کا نوحہ جس کے لیے مرشد صرف شیخ نہیں بلکہ باپ، سہارا، اعتماد اور پوری کائنات تھے۔

خاص طور پر وہ لمحہ دل چیر دیتا ہے جب حضرت مولانا ولی رحمانی صاحب رحمت اللہ علیہ کے صاحبزادے فہد رحمانی صاحب روتے ہوئے مصنف سے کہتے ہیں، “ابو جان فرما رہے تھے کہ دنیا میں اگر مجھے سو فیصد اعتماد کسی پر ہے تو محمد عمرین ہیں… میرے بعد بھی ان سے تعلق رکھنا…” یہ جملہ صرف اعتماد نہیں، بلکہ روحانی امانت کا اعلان محسوس ہوتا ہے۔ یہ وہ الفاظ ہیں جو ایک مرشد نے اپنے مرید کے بارے میں اپنی آخری ساعتوں میں کہے اور یہ محض تعریف نہیں، یہ ایک امانت کی منتقلی تھی۔

————————————————

*مختصر جائزہ*

"”وہ روحانی سفر… جس کے مسافر کو اللہ مل جاتا ہے!”

ایک سلسلۂ مضامین ہے جس میں حضرت مولانا محمد عمرین محفوظ رحمانی صاحب دامت برکاتہم کی تصانیف کے ذریعے تصوف و سلوک، اصلاحِ باطن اور تربیتِ نفس کے مختلف پہلوؤں کو پیش کیا جا رہا ہے۔ پہلی قسط میں عصرِ حاضر کی روحانی بے چینی، حقیقی تصوف کی ضرورت اور اس سلسلے کے مقصد و مزاج پر گفتگو کی گئی تھی۔

اس قسط میں کتاب “یادِ مرشد” کے ابتدائی صفحات، اہلِ نسبت کے ماحول، روحانی تربیت کے ابتدائی اثرات، اور حضرت مولانا محمد ولی رحمانی رحمۃ اللہ علیہ کی رحلت کے دردناک واقعات کو بیان کیا گیا۔

 

اگلی قسط: یادِ مرشد حصہ دوم (2)

جہاں ہم جانیں گے کہ جب مرشد کا سایہ اٹھ جائے تو ایک سالک کی دنیا کیسے بدلتی ہے، اور وہ میراث کیا ہوتی ہے جو ایک رخصت ہونے والا مرشد اپنے مریدوں کے سینوں میں چھوڑ جاتا ہے…

( یہ سفر ابھی جاری ہے…)

 

📚 کتابیں حاصل کرنے کے لیے درجِ ذیل نمبرات پر رابطہ فرمائیں:

عبدالرحمن رحمانی صاحب

https://wa.me/+919028138105⁠�

محمد یاسین (ملک)

https://wa.me/+919146614246⁠�

 

 

Comments are closed.