قوم کے مرض کی تشخیص! دلچسپ اور حکیمانہ اسلوب میں حکیم الاسلام قاری محمد طیب صاحبؒ کے منفرد انداز میں

 

 

پیشکش: عبدالاحدبستوی

امام وخطیب مسجد عمر بن خطاب ڈون، ضلع کرنول،آندھراپردیش

 

تفتیشِ اسباب کے میدان میں اتر کر ہم نے یہ بھی دیکھا کہ ایک ہم ہی نہیں بلکہ امت کے سیکڑوں قابل اور منفرد دماغ اسی تگ و دَو اور سراغ رسانئ اسباب میں اپنی پوری ہمت و طاقت کے ساتھ لگے ہوئے ہیں، اور مفتّشوں کی کثرت سے اس پیش پا افتادہ قوم کی مثال بعینہٖ اس مریض کی سی ہو گئی ہے جس کے ہر بُنِ مٗو(بال کی جڑ) میں مرض سرایت کر چکا ہے، گوشت پوست اور ہڈیاں تک سوکھ گئی ہیں۔ رنگ زعفرانی ہے، قویٰ معطل اور ہاتھ پھیر جواب دے چکے ہیں۔ قوم کے ہونہار طبیب اور ماہر ڈاکٹر بالینِ(بالین بمعنی تکیہ، سِرہانہ) قوم پر جمع ہیں، تا کہ مرض اور اس کے حقیقی اسباب کی تشخیص کریں۔اور پھر ازالۂ اسباب کے ذریعہ استیصالِ مرض کی تدابیر عمل میں لائیں۔

ہر ایک نے اپنے اصولِ فکر اور پروازِ عقل کے مطابق اسبابِ مرض کو سمجھا اور علاج تجویز کیا۔

کسی نے قوم کا حقیقی مرض تنگ دستی و افلاس کو سمجھا اس لیے اس نے تجویز کیا کہ قوم کو دولت مند بننا چاہیے، اور دولت کی فراہمی کے ذرائع تجارت، زراعت حتی کہ سودی لین دین اور ربوی بینک بے دریغ استعمال کرنا چاہیئں۔

کسی نے کہا کہ اصل مرض جہالت ہے، اور اس کی دوا کالجوں اور اسکولوں کی چہار دیواری میں مل سکتی ہے۔

کسی نے کہا کہ اس کی بیماری غلامی ہے، جب تک کہ غلامی کی زنجیریں توڑ کر شوکت و رفعت اور حُرِّیت و آقائی کا تاج اس کے سر پر نہ رکھ دیا جائے؛ قوم نہیں بن سکتی۔

کسی نے بتلایا کہ اس کی صحت کو نفاق و شقاق کے جراثیم نے کھو دیا ہے، جب تک کہ قومی اتحاد کی لہر نہ دوڑا دی جائے مریض کے چہرے پر کبھی صحت کی بشاشت نمایاں نہیں ہو سکتی۔

کسی نے کہا کہ اس کے ایوان سے صحت کو بیکاری نے ویران کر دیا، اور اس میں تشویش و تشتت(دونوں کا معنی تقریباً ایک ہی ہے: پریشانی، بے قراری، نا اتفاقی، ٹکڑے ٹکڑے ہونا غیرہ) افکار کا ضعف پیدا کر دیا ہے، جب تک کہ صنعت و حرفت اور دوسرے کارآمد مشغلوں سے اس کی تعمیر نہ ہو گی، قوم کی گئی ہوئی جمعیت اور یکسوئی (جو صحت کی اساس ہے) واپس نہیں آسکتی۔

بہر حال ہے ایک بہی خواہ نے دردمندانہ طریق پر اپنے جذباتِ اصلاح کو سامنے رکھ کر تشخیصِ مرض اور تجویزِ علاج کے متعلق اپنی رائے ظاہر کی۔

لیکن حقیقت یہ ہے کہ حقیقت تک ان میں سے کوئی بھی نہ پہنچ سکا۔ ان ظاہر بین اور سطح نظر اطباء کی نگاہیں مرض کے صرف ظاہری اسباب میں الجھ کر رہ گئیں اور اسباب کی تہ یا علۃ العلل تک ان کی رسائی نہ ہوئی۔ وہ یہ تو دیکھ سکے کہ قوم میں پستی کے نمایاں اسباب افلاس، غلامی، جہالت، نفاق(اور انہی کے ہم معنیٰ اور بہت سے الفاظ) ہیں۔ لیکن اس طرف ان کا پیک عقل نہ دوڑ سکا کہ یہ اسباب بھی بہرحال حوادث ہی ہیں، اور جب کہ ہر حادثہ کے لئے سلسلۂ اسباب میں کسی سبب کی ضرورت ہے تو پھر یہ اسباب آخر کس سبب کی بنا پر امت میں نمایاں ہوئے؟ اور ان اسباب کی تہہ میں وہ کونسا اندرونی سبب ہے جو خفی طور پر اس قسم کے مہلک اسباب کی نمائش کر رہا ہے؟

مانا کے افلاس پستی کا سبب ہے ہے، لیکن پھر افلاس کا کیا سبب ہے اور وہ کیوں پیدا ہوا؟

یہ بھی تسلیم کی غلامی قومیت کے لیے مخرِّب ہے، لیکن آخر غلامی کس سبب کی بدولت ان کی آقائی میں گھس آئی؟

سب جانتے ہیں کہ جہل و نفاق اسبابِ ذلت و مسکنت ہیں، لیکن پھر کس راہ سے یہ مہلک نفاق اس قوم میں دخیل ہو گئے؟

یہ بھی صحیح کہ بے کاری تشویش و تشتت اور پراگندگی کا سبب ہے، لیکن آخر بیکاری نے ان کے کارآمد اشغال کی جگہ کیوں سنبھال لی؟

پس جب کہ ان تمام اطباء میں سے کسی کا دماغ بھی اُس اندرونی اور مخفی دشمن کا پتہ نہ لگا سکا جو ان تمام اسبابِ ہلاکت کی جڑ اور سبب الاسباب ہے تو ضرور ہے کہ ان کی تشخیص ہی پایۂ اعتبار تک نہ پہنچ سکی؛ چہ جائے کی ان کی تجویزِ علاج قابلِ عمل ہو۔ اور جب کی تجویز و تشخیص دونوں ہی مخدوش ہوں تو ایسے مطب سے کس طرح شفایابئ مریض کی توقع باندھی جا سکتی ہے۔

پس جب کبھی ان تمام اطباء ظاہر کی تمام تدابیر تا حال بے سود ثابت ہوتی رہیں، تو آؤ ہم سب مل کر ان باطنی اطباء کی طرف رجوع کریں جو امراض کے مخفی اور تحتانی اسباب پر براہِ راست حضرت مسبب الاسباب جلّ مجدہٗ کی طرف سے مطَّلع ہو کر تمام پیچیدہ امراض کے حقیقی بواعث کا نہایت سہولت سے پتا لگا لیتے ہیں، اور جن کے کامیاب علاج سے کتنی ہی مردہ اقوام نے دوبارہ جنم لیا اور زندگی سے متمتع ہونے لگیں۔

پھر ان میں سے بھی بالخصوص سرخیل اطباء روحانی محمدرّسول اللہ ﷺ کے کامیاب مطب کی دہلیز پر سرِ انقیاد خَم کر دیں، جن کے تیر بہدف علاج نے عرب کی اس جاہلیت زدہ قوم کو زندہ کر دیا تھا، جو جہالت و افلاس، نفاق و شقاق اور غلامئ نفوس کے انتہائی سے انتہائی درجہ میں پھنس رہی تھی، نہ وہ خدا ہی کی رہی تھی نہ مخلوق ہی کی، نہ اس نے ایمان ہی باقی رکھا تھا نہ شائستۂ عمل ہی۔ جو اپنی بد اخلاقیوں اور بد عہدیوں کی بدولت اپنوں کو غیر اور غیروں کو دشمن بنا چکی تھی، جو انتہائی جہالت و سفاہت، نفاق و شقاق،بدکاری و بدوضعی کی سبب اپنی علمی و عملی، مادی و روحانی اور منزلی و مدتی زندگی تباہ کر چکی اور انسانوں کی صفوں سے نکل کر ڈھوروں(مویشی، چوپائے) کے گلہ میں جا ملی تھی۔

اُس وقت اسی مقدس طبیب نے اپنے پرتاثیر معالجوں سے اس ڈوبتی ہوئی قوم کا جہاز طوفانِ ہلاکت سے نکال کر ساحلِ مراد پر پہنچایا، اور اس کی مرضیلی کثافتوں کا تنقیہ کرکے اسے صحت و قوت کی سطح پر لا کھڑا کیا۔

 

*تجویز علاج*

حضور ﷺ کے اس روحانی معالجہ میں تم اس پر غور کرو کہ آپؐ نے مبعوث ہوتے ہیں جب ان بیمار انسانوں سے معالجانہ خطاب فرمایا، تو نہ تو یہ کہا کہ لوگو! تم افلاس کی وجہ سے تباہی کے کنارے آ لگے، اس لیے تم دولت جمع کرو۔ نہ آپؐ نے تشریف لاتے ہی فراہمی دولت کے لیے سودی لین دین کے بینک قائم فرمائے، نہ چند کالجوں اور اسکولوں کا سنگِ بنیاد نصیب فرمایا، نہ پوسٹر اور اشتہارات دنیا میں شائع کرکے افواہی پروپیگنڈہ کی بنیاد ڈالی،بلکہ ان تمام امراض کا ایک نہایت ہی مختصر اور دلپذیر علاج یہ بتلایا کہ لوگو! تم سب کے سب مریض ہو اور میں تم سے اور تمہارے سب اگلوں اور پچھلوں سے زیادہ تندرست اور صحیح المزاج، معتدل الاخلاق، مستقیم الاعمال اور ایک پاک روحانیت سے بھرپور انسان ہوں، پس تم میں سے جسے صحت و استقامت منظور ہے وہ مجھ جیسا ہونے کی سعی کرے۔ میرے قول جیسا قول، میرے عمل جیسا عمل، میری عبات جیسی عبادت اور میری عادت جیسی عادت بنائے، گویا اپنی زندگی کو میری زندگی پر ڈھالنے کی کوشش کرے، پس جو بھی ظاہر و باطن میں جس قدر میرے مشابہ ہوتا جائے گا اتنی ہی اس کی ظاہر و باطن کی صحت ترقی کرتی جائے گی، کیونکہ میں عالم کے لئے ہر قسم کی روحانی تندرستیوں، جسمانی پاکبازیوں اور قلبی دانائیوں کا اسوۂ حسنہ اور خدا کے اخلاق و کمالات کا مجسم نمونہ بنا کر بھیجا گیا ہوں، میرے نقش قدم پر چلنا ہی تمام امراض کا قرار واقعی استیصال ہے۔

آپؐ نے ان مریضوں کو یہ بھی بتلایا کہ میں تمہارے لئے ایک تیر بہدف نسخہ (قرآن) لایا ہوں، جو "شفاءلمافی الصدور” ہے، لیکن اس کی ترکیبِ استعمال صرف میرے ہی قول و عمل سے معلوم ہو سکتی ہے، کیونکہ قرآن میں جو چیزیں علوم ومعارف ہیں وہ ہی چیز ہیں میری ذات میں آکر اخلاق و اعمال ہیں، جو بلند پایا انسانیت کے احوال و کیفیات قرآن کی بلیغ معنویت میں مستور ہیں وہ میری روح پر وارِد ہو کر واقعات و مشاہدات ہیں، گویا خدا کا ایک قرآن علمی ہے جس کو میں وحی سے بولتا ہوں، اور ایک قرآن عملی ہے اور وہ خود میں ہوں، پس میں قرآن کی مجسم تفسیر اور اس کا عملی حل ہوں، یعنی میں اور کتاب اللہ دو نہیں؛بلکہ ایک ہی حقیقت کے دو رخ ہیں، کتاب الہی میں علوم کے رسوم و دوال ہیں اور مجھ میں ان علوم کے مناشی و اعمال، اس لیے میرا کہا ہوا قرآن کا علم ہے اور میرا کیا ہوا قرآن کا عمل،(وکان خلقہ القرآن). پس میں قرآنی علوم کا نمونۂ عمل اور اسوۂ حسنہ دکھلانے کے لئے بھیجا گیا ہوں، تاکہ مریض دنیا میرے عمل کو دیکھ کر قرآنی نسخوں کا استعمال سیکھ جائے۔

بہرحال! قرآن جس طرح جامع علوم کتاب تھی، اسی طرح اس کے علوم کے لیے آپؐ کی ذات اقدس ایک جامع اعمال ذات تھی، چنانچہ زندگی کا کوئی شعبہ ایسا نہ تھا جس کی پاک اور مطلوب صورت آپؐ نے عملاً قائم کر کے نہ دکھلا دی۔ صورت و سیرت، عادت و عبادت، آداب و اخلاق، تہذیب و معاشرت، حُبّ و بغض، دوستی و دشمنی، سفروحضر، رزم و بزم، کھانا اور پینا، سونا اور جاگنا اور خلاصہ یہ کی موت و حیات کے تمام اچھے اور معقول نمونے جو قرآنی اور علمی شکلوں میں سربستہ تھے آپؐ نے اپنے عمل سے ان کی صورتیں قائم فرما دیں اور ہر ہر شعبۂ زندگی کے متعلق بتلایا کہ اس کی یہ صورت اچھی ہے اور یہ بری، یہ نقشۂ عمل بھدّا ہے اور یہ خوش نما، یہ حسین ہے اور یہ قبیح۔ غرض آپؐ نے ان جاہلیت زدہ مریضوں کا واحد علاج یہی بتلایا کہ۔۔۔۔۔۔ وہ اپنی زندگی کو آپؐ کی حیات طیبہ پر منطبق کرلیں کہ آپؐ ہی کی زندگی کمالاتِ الہی کا نمونہ ہونے کی وجہ سے تمام عالم کی زندگیوں کے صلاح و فساد اور صحت و سُقم کا ایک حقیقی معیارہے۔ قرآن نے ببانگِ دہل اس دعوی کی تصدیق کی اور اعلان کر دیا کہ: "لقد کان لکم فی رسول اللہ اسوۃ حسنۃ لمن کان یرجو اللہ والیوم الآخر”

پس جونہی کہ عرب کے وحشیوں نے اپنے علم و عمل کا رخ اس قبلۂ علم و عمل ( جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم) کی طرف پھیرا، یعنی اپنے اعتقادات و اعمال اور نیات و افعال کو آپؐ کے نیت و عمل پر منطبق کیا، اور اس اسوۂ الہی اور نمونۂ اخلاق ربانی پر پورے اترے، وُوں ہی وہ دنیا کے علماء سے عالمِ تر، اقویا سے قوی تر، مہذبوں سے فائق اور متمدنوں کے استاد بن گئے۔ الٰہیات میں وہ رشکِ حکماء کہلائے، علومِ ذات و صفات میں عُرفا مانے گئے، علم طبعیات و عقلیات میں رشک ارسطو و افلاطون تسلیم کیے گئے، علمِ اخلاق و عبادات، علمِ معاش ومعاد، علمِ معاملات و سیاسیات میں غبطۂ ارباب دانش پکارے گئے۔ ان کی بدولت ریگستان عرب کی تہذیب نے مشرق و مغرب کی شائستگی کو ماند کر دیا، یہودی و عیسائی، ہندی و چینی اور تمام مذاہب کی ناتمام تہذیبیں خجل ہو کر آتش کدوں، بت خانوں، کلیسوں اور رہبانیت کے تنگ و تاریک زاویوں میں جا چھپیں۔

دنیا کے کتب خانے ٹٹولو اور تصانیف کے دفتروں کو کھنگالو تو نظر آئے گا کہ جہاں بھی شائستگی کا کوئی ذرہ چمک رہا ہے وہ عربی ہی علوم کے آفتاب کی کوئی ہلکی سی تابش ہے، اور پھر معلوم ہوگا کہ یا دنیا ان کے نام سے بک رہی ہے اور یا ان کی ریزہ چینی پر مجبور ہے۔

ادھر جب کہ انہوں نے اپنے اخلاق کو اس خدائی نمونہ کے اخلاق پر منطبق کیا تو ان کے مکارمِ اخلاق، شجاعت و سخاوت، مروت و راستبازی، حِلم وعفو، صداقت و دیانت، غنا و توکل اور ایفاۓ عہد وغیرہ اس درجہ پر پہنچے کہ دنیا کے گردن کشوں کو انہوں نے مسخر کر لیا، وہ ایسے محبوبِ خلائق بنے کہ دنیا ان کے پسینے کو اپنے خون سے توڑنے لگی، ان کے اخلاقی و تمدنی اور اقتصادی کارنامے عالَم کے آفاق پر اس طرح چھا گئے کہ عالَم کی تسلیم و رضا ان کے قدموں میں آ پڑی۔

بہرحال اس اسوۂ حسنہ کی علمی و عملی پیروی کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ دور جو۔۔۔۔۔ ان مریضان عالَم کی بدولت "دور جاہلیت” کہا جاتا تھا، اب صحابہؓ کی اس متقن اور عدول زندگی کی بدولت اس کا نام "خیر القرون” ہوا، اور وہ دین و روحانیت اور وہ عام صداقت آمیز عزائم و اعمال کے خاطر سے دنیا کا زریں عہد اور تمام قرون سے فائق و برتر زمانہ بن گیا۔

وہی تَپِ کُہنہ (پرانا بخار، جان لیوا روگ، بہت بڑی مصیبت) کے مریض جن سے ہلنا جلنا اور کروٹ بدلنا دشوار تھا، ایسے بھلے چنگے بنے کہ انہوں نے اپنی ایک جُنبِش سے کرۂ دنیا کو ہلا دیا اور عالَم ہی کو کروٹ دے دی۔

 

(التشبہ فی الاسلام ص ۵ تا ۱۰۔ از:حکیم الاسلام قاری محمد طیب صاحب رحمۃ اللہ علیہ)

Comments are closed.