خطبہ صدارت بموقع سہ روزہ اجلاس آل انڈیاملی کونسل،پھلواری شریف،پٹنہ

مولانامحمدعبداللہ مغیثی
صدرآل انڈیاملی کونسل
سب سے پہلے آل انڈیاملی کونسل کے تمام ارکان گرامی کاتہہ دل سے شکرگزارہوں کہ حالات حاضرہ کے تیوروں کومحسوس کرکے دوردرازعلاقوں سے سفری صعوبتیں برداشت کرکے بہارکے دارالسلطنت پٹنہ میں تشریف لاکراپنی دینی وملی حمیت کاثبوت پیش کررہے ہیں۔
آل انڈیاملی کونسل مسلمانوں کامتحدہ پلیٹ فارم ہے جس کاسیاست سے کوئی تعلق نہیں ہے،البتہ مسلمانون میں مثبت طریقہ پرسیاسی شعورضرورپیداکرناچاہتی ہے اوریہ بات مبنی پرحقیقت ہے کہ وطن عزیزمیں بسنے والی قومیں اوران کے حکمراں اکثریت میں انصاف پسند،غریب پرور،مظلوموں کے حامی اورحق وصداقت کے علمبردارہیں،یہ ملک اپنی تہذیب وتمدن،ثقافت وکلچراوررواداری اوروفاداری سے دنیامیں مشہورہے،لہذاموجودہ حالات میں زیادہ ضرورت ہے کہ ملک میں ایساخوشگوارماحول پیداہوجس سے ایک دوسرے پراعتمادآپسی یگانگت،اجتماعیت اوربھائی چارے کوفروغ ملے جس سے وطن عزیزہرشعبہ زندگی میں ترقی کرکے دنیاکی قیادت کرسکے۔
ہزاروں سالوں میں ایسے بزرگوں،درویشوں،ولیوں،سادھو سنتوں،سیاستدانوں اورحکمرانوں نے ملک وملت کوپروان چڑھانے اورترقی دینے میں اپنی ساری زندگی گزاردی،مگرآج کچھ فرقہ پرست،ملک ودشمن عناصراورکچھ لیڈروں نے پیارمحبت کی جگہ نفرتوں کے ایسے بیج بودیئے ہیں جن کے نتیجے میں ہجومی تشدد،علاقائی فرقہ واریت اورباہمی نفرت کوایساپروان چڑھایاکہ بہت سے افرادکوشبہات کی بنیادپرجیلوں میں ڈالاجارہاہے،داڑھی ٹوپی کونشانہ بناکراورٹورچرکرکے باہمی نفرت وعداوت اورملک میں انارکی،بے چارگی اورتعصب کاماحول پیداکیاجارہاہے جس سے اقلیتی فرقوں میں خوف وہراس، دہشت اوراپنے حقوق کی پامالی کااحساس بڑھتاجارہاہے۔
بویاہے کس نے شہرمیں یہ نفرتوں کابیج
پیڑوں پہ الفتوں کاثمربھی نہیں رہا
موجودہ حالات کے تناظرمیں یہ بات واضح ہوجاتی ہے یکہ ہمسایہ قوم مسلم آزاری کی جوتحریکات اورپلاننگ بروئے کارلارہی ہے،اس میں ماب لنچنگ، گھرواپسی،لوجہاداورمسلم دوشیزاؤں کواپنے دامن فریب میں پھنساکراسلامی شفافیت کودھندلاکرکے یونیفارم سول کوڈجیسے مسائل لاکرمذموم حرکت کی کوششیں کی جارہی ہیں جس کے لیے گاؤں گاؤں اورشہرشہرذہن سازی کرکے رائے عامہ ہموارکرنے کی کوشش کی جارہی ہے اوراس کی پشت پناہی میں شدت پسند،فرقہ پرست اورملک دشمن عناصردن رات ایک کئے ہوئے ہیں جس کی وجہ سے مسلم قوم نت نئے مسائل سے دوچارہے بالخصوص نوجوانوں کوممنوعہ تنظیموں سے جوڑکرپابندی سلاسل کیاجارہاہے جس سے سادہ لوح باشندوں کے درمیان ایک فصیل قائم ہوگئی ہے جسے کانٹامشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن سانظرآرہاہے۔
وہ فقیروں کی گلی ہویاامیروں کے محل
روشنی کوغیرجانب دارہوناچاہیے
ہذاجہاں بدلتے ہوئے سیاسی وملکی افق نے نوع انسانی کی نظروعقل وشعورکوجھنجھوڑاہے وہیں بہت حد تک اس بات کوبھی سوچنے پرمجبورکیاہے کہ ہم حالات حاضرہ میں سیاسی ملی اورسوشل ورکروں کی کیاذمہ داری ہے،اس سلسلے میں راہ اعتدال وتوازن دورتک نظرنہیں آتا،مشاہدے سے یہ بات مزیدواضح ہوجاتی ہے کہ مفادپرست عناصرنے جس قدرسیاسی قدروں کومخدوش کیاہے،اسی طرح سماجی روایات کے تقدس کوبھی پامال کیاہے اس کے لیے آل انڈیاملی کونسل نے ہمیشہ سے آوازبلندکی اورملک میں مظلوموں،کمزوروں اوردبے کچلے لوگوں کی فریادرسی کی ہے جواس کے قیام کانصب العین ہے،الحمدللہ ماضی میں ملک سے ملی تنظیموں اورجماعتوں نے اپنے اپنے دائرہ کارمین رہ کرملک وملت کے لیے گراں قدرخدمات انجام دی ہیں جب کہ ماضی قریب میں بھی ملک کے دانشوراورقوم وملت کادردرکھنے والے افرادنے ملت کے اتحادواتفاق،بھائی چارہ،یک جہتی اورکلمہ کی بنیادپرملت کومضبوط کرنے کے لیے عملی کوششیں کی ہیں۔
کسی کی بربریت کی کہانی یادرکھنے کو
لہوکاایک قطرہ بھی نشانی چھوڑجاتاہے
ایسے ناگفتہ بہ حالات میں انسانیت کادردرکھنے والے ارباب نظروفکراورمثبت سوچ رکھنے والے افرادکی ذمہ داری ہے کہ وہ ان بدلتے ہوئے حالات کاسنجیدگی سے جائزہ لے کرقوم وملت کی عظمت رفتہ بحال کرنے میں مؤثرکرداراداکریں،آخرمیں اس تاریخی اجلاس کے اسٹیج سے یہ پیغام دیناچاہتاہوں کہ اس وقت دنیاتڑپ رہی ہے اورانسانیت سسک رہی ہے اورپوری دنیامیں نت نئے مسائل پیداہوتے جارہے ہیں،ایسے پرآشوب حالات میں انسانیت کی ترقی اوراس کی جلاکے لیے ہم سب مل کرعہدکریں کہ اپنے اپنے مقامات پررہ کرآپسی اختلافات،مسلکی جھگڑے اورمذہبی تفریق کومٹانے کی سنجیدہ فکرکریں مجھے امیدہے کہ یہاں سے اٹھنے والی آوازیہاں سے دیاگیاپیغام ملک کے ہرصاحب دل کوجھنجھوڑے گا،سبھی ملی تنظیمیں جماعتیں اورسوسائٹیاں متحدہوکراپنے اپنے پلیٹ فارموں سے ملک وملت کے تحفظ کے لیے حتی المقدورکوششیں کریں۔
آخرمیں میں تمام شرکاء اجلاس کاشکریہ اداکرتاہوں اورمبارکبادودعائیں دے کررخصت ہوتاہوں کہ اللہ تعالیٰ شانہ اپنے تمام حضرات کودونوں جہاں کی کامیابیوں سے ہمکنارفرمائے اورملک وملت کی حفاظت فرمائے،آمین یارالعالمین والسلام
ہے عام ہمارے افسانے دیوارچمن سے زنداں تک
یہ اہل جنوں بتلائیں گے کیاہم نے دیاہے عالم کو

Comments are closed.