جھارکھنڈ کا خواب کبھی شرمندہ نہ ہوتا اگر۔۔۔۔۔۔۔!
جھارکھنڈ کی یوم تاسیس پر خاص
عارف شجر، حیدرآباد، تلنگانہ
8790193834
15نومبر 2000 کو جھارکھنڈ ریاست کی تشکیل عمل میں آئی یعنی جھارکھنڈ کو بہار سے الگ ہوئے 21سال کا عرصہ گذر گیا۔جھارکھنڈ میں یوم تاسیس کی دھوم ہے، ڈھولکوں اور نگاڑوں کی تھاپ پر جھارکھنڈتھر ک رہا ہے۔ الگ ریاست کی تشکیل کی خوشیوں میں یہاں کا ہر ایک فرد جھوم رہا ہے۔’’جوہار جھارکھنڈ’’ کہہ کر ایک دوسرے کو مبارک باد دی جا رہی ہے اور لوگوں کااستقبال کیا جا رہا ہے جھارکھنڈکے باشندوں کا یہ خمار ہفتوں تک جاری رہے گا، لیکن ، ڈھولکوں اور نگاڑوں کی تھاپ کی آواز میں ہمیں ان مسلم مجاہدوں کی آواز نہیں سنائی دے رہی ہے جنہوں نے جھارکھنڈ الگ ریاست کی تحریک میں اپنی جان کی قربانی دی جنکے خوابوں کو آج فراموش کیا جا رہا ہے، مجھے یہ بات کہہ لینے دیجئے کہ جھارکھنڈ الگ ریاست کی تحریک میں جھارکھنڈ کے مسلمانوں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا تھا اگر آدیواسیوں کے ساتھ تحریک میں مسلمان اور دیگر فرقے اور عقیدے کے لوگ نہ جڑتے تو جھارکھنڈ کا خواب کبھی شرمندہ نہ ہوتا ۔ آج برسا تو سب کو یاد ہیں لیکن افسوس شیخ بھکاری کو چھوڑ کر جھارکھنڈ کے سب سے عظیم مجاہد آزادی نادر علی خان کے علاوہ سلامت خان، امانت خان، شیخ امانت، فروز خان، کباب علی، قربان علی، شیخ ڈومن، نتھنی خان ، شیخ پہلوان اور سیف اللہ خان وغیرہ کو آج ہم فراموش کر گئے انکا کوئی نام لیوا نہیں ہے۔ جب صورت حال یہ ہو تو ریاست کے عام مسلمانوں کا کیا ذکر کیا جائے یہ تو ریاست جھارکھنڈ کے قیام کے ساتھ ہی یہاں کے دوسرے درجے کے شہری بن گئے تھے۔
اس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ جھارکھنڈ کے مسلم عظیم مجاہدوں نے جھارکھنڈ کے جس سنہرے خواب کو دیکھا تھا وہ اب تک مکمل نہیں ہوا ہے ، یا یوں کہیں کہ جان بوجھ کر اسے نظر انداز کیا جا رہا ہے ۔جھارکھنڈ کے مسلمانوں کے بنیادی حقوق اب تک نہیں مل پائے ہیں ۔ ان 21سالوں کے دوران جھارکھنڈ کے ایک بھی اقلیتی اداروں کی تشکیل نہیں ہو پائی ہے ایک دو ہوئی بھی ہے تو وہ صرف کاغذوں پر ہے۔ اقلیتی اداروں جیسے اردو اکیڈمی، وقف بورڈ، مدرسہ بورڈ اور اقلیتی مالیاتی کمیشن کا قیام اب تک نہیں ہو پا یا ہے جنکا سیدھا تعلق جھارکھنڈ کے مسلمانوں کے مذہبی، تہذیبی ثقافتی اور روزگار سے ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ ان 21سالوں کے دوران کئی حکومیتیں آئیں اور گئیں جس میں سیکولر حکومتیںبھی شامل تھیں لیکن مسلم اداروں کے تعلق سے کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھایا گیا یا یوں کہیں کہ اس میں کوئی دلچسپی نہیں لی گئی ویسے بھی جب اقلیتوں کے فلاحی منصوبے پر کام کرنے کی بات آتی ہے تو فرقہ پرست حکومتوں کی باتیں چھوڑئے سیکولر حکومت کی بھی ناک اور بھوئیں چڑھ جا تی ہیں انہیں لگتا ہے کہ مسلمانوں کو وہ کوئی خزانہ اپنی جانب سے دینے جا رہے ہیں اور اس سے انکا خزانہ خالی ہو جائے گا۔ ریاست جھارکھنڈ کی خوش قسمتی تھی کہ یہاں تین تین گورنر مسلم رہے لیکن کسی نے اس جانب سنجیدگی سے کام نہیں کیا۔ مجھے شکوہ جھارکھنڈ کی مسلم آبادی سے بھی ہے جنہوں نے صرف مشاعرے، شعری نشستیں، کتابوں کی رسم اجراء اور کبھی کبھی کوئی خالص اردو تو نہ کہیں نیم اردو پر سیمینار کرنے تک ہی محدود رہے اور اپنی خبریں اخبارات میں دیکھ دیکھ کر خوش ہوتے رہے اور خبروں کو ’’کپور‘‘ لگا کر فائل کی زینت بناتے رہے، لیکن چند ایک کو چھوڑ کر کسی نے بھی جھارکھنڈ اقلیتی اداروں کی تشکیل کے سلسلے میں گورنر ہائوس، یا سی ایم ہائوس کا گھرائو نہیں کیا، جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ آج تک مسلم اداروںکی تشکیل کا معاملہ زیر التوا ہے۔مجھے یہ بات بھی کہہ لینے دیجئے کہ جھارکھنڈمیں کانگریس ممبران اسمبلی اور ریاستی سطح پر ریاستی کانگریس کمیٹی کو بھی اقلیتی مسائل اور اقلیتی اداروں کے قیام سے کبھی دلچسپی نہیں رہی۔ ان 21سالوں کے دوران کانگریس نے کبھی ایوان میں مسلم اداروں کے قیام کے سلسلے میں آواز نہیں اٹھائی ، نہ ریاستی سطح پر کوئی تحریک چلائی ، نہ دھرنا ، نہ نوٹس اور نہ اسمبلی میں سوال ہی اٹھایا۔ ظاہر ہے کہ کانگریس بھی یہ دعویٰ نہیں کر سکتی ہے کہ اس نے گذشتہ اکیس سالوں میں کچھ کیا ہے ۔ حقیقت تو یہ ہے مسلم مسائل پر سبھی سیاسی پارٹیوں کا یہی حال ہے۔
جھارکھنڈ حج ہائوس تو بن گیا اس میں حکومت کی مجبوری تھی انہیں بنانا ضروری تھا، تاکہ زائرین حجاج کا سفر آسان ہو سکے ، لیکن اقلیتی کمیشن کا نہ ہونا جھارکھنڈ حکومت پر کئی سوالات کھڑے ہو رہے ہیں۔ستم ظریفی یہ ہے کہ اگر اردو کی فلاح و بہبود کے لئے کوئی آگے آتا ہے تو اسکا ساتھ نہیں دیا جاتا اس پر الزام لگایا جاتا ہے کہ اسکا کوئی مفاد ہوگا ہمیں اس گھنونی ذہنیت سے باہر نکلنا ہوگا اور متحد ہوکر مسلم اقلیتی کمیشن کی تشکیل اور دیگر اردو فلاحی منصوبے نافذ کرانے کے لئے حکومت پر دبائو بنانا ہوگا چونکہ ابھی جوحکومت ہمارے سامنے ہے وہ سیکولر حکومت ہے یعنی جھارکھنڈ مکتی مورچہ کی ہیمنت سورین کی حکومت ہے ہمیں خوشی ہے کہ تلنگانہ حکومت کی طرح ہی جھارکھنڈ میں ایک سیکولر حکومت قائم ہے۔ اس سچائی سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ ان دنوں جھارکھنڈ حکومت کے سیکولرزم کے ڈنکے ملک ہی نہیں بلکہ بیرون ملک میں بھی بج رہے ہیں۔
جھارکھنڈ کی ہیمنت حکومت نے جس طرح سے کورونا وباء کے اس دور میں جھارکھنڈی مزدوروں اور یہاں کے باشندوں کے حق میں جو کام کیا اور بدستور کر رہی ہے وہ تاریخ کے سنہرے حرفوں میں لکھے جانے کے قابل ہے، ہیمنت حکومت کی بلند فکر اور اچھے کام کے لئے وہ مبارکباد کے مستحق ہیں ، ابھی جھارکھنڈ کی مسلم آبادی کے لئے بہت اچھا موقع ہے کہ ہیمنت حکومت میں اپنی بات رکھی جائے اردو کے مسائل اوراقلیتی کمیشن کی تشکیل کے سلسلے میں حکومت کا دھیان مبذول کرایا جائے مجھے امید ہے کہ سی ایم ہیمنت سورین اس سلسلے میں ضرور کوئی نہ کوئی مثبت پہل کریں گے۔ بشرطیکہ ان سے ایک مضبوط وفد ملنے چاہئے تاکہ انہیں یہ بات سمجھا یا جاسکے کہ ن مسلم اداروں کا قیام نہ ہونے پر اردو آبادی کو کتنا نقصان ہو رہا ہے۔مجھے خوشی ہے کہ 21 سالوں کے دوران جھارکھنڈ سے اردو روزنامہ اور اردو ویکلی بڑی تعداد میں شائع ہو رہے ہیں جو بہت سارے فائل ہیں اور چند منظر عام پر ہیں ابھی جو جھارکھنڈ سے اردو اخبارات نکل رہے ہیں وہ کافی دیدہ زیب اور معیاری ہیں انکے قارائین بھی بڑی تعداد میں ہیں اور انکی کاپی سی ایم دفتر میں بھی جاتے ہیں ان اخباروں سے ہمیں توقع ہے کہ وہ اردو اور مسلم اداروںکے مسائل پر کچھ نہ کچھ لکھتے رہے ہیں اور اردو کے شیدائیوں سے اس سلسلے میں لکھاواتے رہیں تاکہ حکومت کو بھی یہ سمجھ میں آ جائے کہ ہم مسلم اداروںکے مسائل کو لے کر کتنا سنجیدہ ہیں۔
بہر حال! جھارکھنڈ تحریک سے جڑے مسلم تحریک کاروں کی روح کو تسکین تبھی ملے گی جب جھارکھنڈ میں مسلمانوں کے بنیادی حقوق کی تشکیل ہوگی ۔ مجھے یہ بات کہہ لینے دیجئے کہ غیر منقسم بہار میں مسلمانوں کو جو سہولیات مراعات اور اختیارات حاصل تھے جھارکھنڈ حکومت نے اسے پوری طرح نظر انداز کیا۔اب جبکہ جھارکھنڈ حکومت 21سالہ جشن منا رہی ہے اور اپنی کارگذاریوں کا جائزہ لے رہی ہے اور اپنے اقدامات پر فخر کر رہی ہے تو انہیں یہ بھی چاہئے کہ مسلمانوں کے ساتھ جو ظلم اور بے انصافی ہوئی ہے اسکی جلد از جلد تلافی کرے اور اقلیتی اداروں کا نفاذ کرے ۔مجھے ہیمنت سورین جیسی شخصیت سے امید نہیں بلکہ کامل یقین ہے کہ وہ اقلیتی اداروںکی تشکیل کرکے اپنے سیکولر وزیر اعلیٰ ہونے کا ثبوت ضرور دیں گے۔
Comments are closed.